اگست 17, 2026

میرا ہر لفظ ہر کہانی دُکھ ہے

میرا ہر لفظ ہر کہانی دُکھ ہے

میرا ہر لفظ ہر کہانی دُکھ ہے
میرے شعروں کی روانی دُکھ ہے
جس نے غربت میں ہوں کھولی آنکھیں
اُس کا بچپن و جوانی دُکھ ہے
تو نے دیکھی نہیں حسرت میری
تجھ کو ہر بات بتانی دُکھ ہے
وہ عزیزی ہے رگِ جاں کی طرح
اُس سے بچھڑے کی نشانی دُکھ ہے
دفن خود کرتا ہوں ایسے خواب اسؔد
جن کی تعبیر بتانی دُکھ ہے


کلام: عمران اسؔد

عمران اسد
عمران اسؔد پنڈیگھیب حال مقیم مسقط عمان

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں

کیا      آپ      بھی      لکھاری      ہیں؟

اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

iattockmag@gmail.com