وجود کیا حباب کا

سخن کے دھنک رنگ جب اہل قلم بُنتے ہیں تو دل و نگاہ کی دنیا کو تیرہ نہیں رہنے دیتے بلکہ ایک بے کراں نور سے آشنا کر دیتے ہیں جو دلوں کو اک نئی فرحت اور ضیا بخشتے ہیں خدا نے جس کو سخن کی دولت سے نوازا ہے وہ بندہ مرتا نہیں بلکہ دلوں میں زندہ رہتا ہے گویا زندگی کا دوام سخن کے نایاب گوہر سے جنم لیتا ہے ۔حضرت علی مولا کرم اللہ وجہہ نے فرمایا تھا کہ ” گفتگو کرو تا کہ تم پہچانے جاؤ”

کتاب زیست میں ہزاروں ادیب لکھنے کے لیے آئے اور اپنی پہچان بنا کر چلے گئے جس کی وجہ سے وہ اب تک دلوں میں زندہ اور راج کر رہے ہیں ہر تحریر  منبر سے ہونے والی تقریر میں ضیا کے موتی بکھیرتی نظر آتی ہے۔

وجود کیا حباب کا از مشبر حسین سید

سوشل میڈیا پر ایک دن میری نظر ایک کتاب”وجود کیا حباب کا”  کے ٹائیٹل پر پڑی تو میں نے اس پر فورا کومنٹ کیا کہ یہ کتاب کہاں سے ملے گی شاہ صاحب نے جواب دیا کہ اپنا ایڈریس انباکس کریں تو کتاب آپ کو مل جائے گی میں نے اپنا ایڈریس اور فون نمبر انباکس کیا تو دوسرے دن میرے آفس کے باہر محبتوں اور شفقتوں کی پیکر شخصیت پروفیسر مشبر حسین سید موجود تھے میں کتاب اور مصنف باہم دیکھ کر حیران رہ گیا وہ دن اور آج کا دن ملاقات ہوتی رہتی ہے انتہائی مہربان، مہمان نواز، نرم خو اور گرم دم جستجو مشبر حسین سید ہمیشہ اپنی محبتوں میں یاد رکھتے ہیں۔ میں کتاب کو پڑھتا گیا اور ایک نہ ختم ہونے والی طمانیت سے آشنا ہوتا گیا

کتاب کا ٹائیٹل الفاظ کے بے تاج بادشاہ صدارتی ایوارڈ یافتہ سید شاکر القادری کی تخلیق ہے مشبر حسین سید کا لکھا ہر لفظ ان کی فکری نظافت اور بالیدگی ء فکر کا آئینہ دار ہے وہ الفاظ کی صوتی ترنم سے کماحقہ آشنا ہیں میرے لیے اشعار کا چناو خاصا مشکل ہو گیا کیونکہ جن اشعار پر میں تبصرہ کرنا چاہتا ہوں وہ بہت زیادہ ہیں بلکہ ساری کتاب ہی تبصرے کے قابل ہے آیئے ان کے سخن کی فکری عفت پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں :۔

جدا صدمے جدا ہیں غم مسافر

مگر آنکھیں سبھی پر نم مسافر

لہو کی بوند کانٹوں کی زبان پر

گلوں کی آنکھ میں شبنم مسافر

اگر شعر فکر رسا کے حسیاتی دھنک رنگوں میں رنگے ہوئے ہوں تو کس کو اچھے نہیں لگتے روداد غم پرانی ہو تو درد سہنے کی عادت ہو جاتی ہے لیکن شاہ صاحب ایسی حالت میں بھی اپنے مقدر کے تارے تلاش کرتے ہیں:۔

خبریں وہی دردوغم کی پرانی

گو زیست کے ہم ہیں تازہ شمارے

دل کے نگر میں اندھیرا بہت ہے

جانے کہاں ہیں؟ مرے چاند تارے

راہ شوق میں آشفتگی جزبے کی صداقت کا مظہر ہے کانٹے اور دھول راہ شوق میں چارسو بکھرے ہوتے ہیں لیکن جستجو کا عالم رکنے نہیں دیتا مشبر صاحب نے ان کو روند کر منزل کو دیکھا تو سارے در بند دیکھے لیکن دل میں یہ بھی کہا کہ اگر میرے لیے در بند ہیں تو کوئی اور آشفتہ سر راہ شوق میں سرگرداں ہو جائے جسے منزل خوش آمدید کہے جس کا اظہار یوں کرتے ہیں:۔

الیاسؑ کہیں ملے’ نہ کہیں پر خضرؑ ملے

مجھ کو تو جستجو کے سبھی بند در ملے

کوئی تو بڑھتے قدموں کی ہو دھول سے اٹا

کوئی تو راہ شوق میں آشفتہ سر ملے

مادیت پرستی کے دور میں غرور اور تکبر نسلیں بگاڑ رہا ہے آپ تکبر کرنے والے سے یوں مخاطب ہوتے ہیں:۔

اتنا مت اترا کے چل یہ دیکھ لے

تو گرے گا منہ کے بل یہ دیکھ لے

خواب بھی تو دیکھ پائے گا نہ پھر

آنے والی ہے وہ کل یہ دیکھ لے

سیرت نبویؐ سے دوری موجودہ نسل کا ایک بہت بڑا روگ ہے موجودہ معاشرے میں بڑوں کا احترام ،بھائی چارہ اور برداشت کے سبھی در بند نظر آتے ہیں ایسے حالات میں خون سفید ہو گیا ہے جس کا عملی نمونہ جائیداد کی تقسیم میں دیکھا گیا ہے مشبر صاحب نے ان اشعار میں ماں کی دعا اور مکان کو ٹکڑوں میں منقسم ہوتے ہوئے منظر کو اتنی خوبصورتی سے قلم بند کیا ہے کہ معاشرے کی بے حسی پر دل کے ساتھ قلم بھی روتا ہے:۔

کیوں نہیں برداشت ہم میں اب رہی

کیوں ہمارے لفظ تیکھے ہو گئے

ماں نے بیٹو ں کو دعا رو رو کے دی

جب مکاں کے چار ٹکڑے ہو گئے

مشبر حسین سید تصوف کے آدمی ہیں آپ جانتے ہیں کہ انسان کی صورت میں کون ہے تلاش خودی میں سرگرداں ہر مسافر جب اپنا بھید پا لیتا ہے تو اسے رب مل جاتا ہے اس خوبصورت احساس کو شعر کے رنگ میں یوں تراشتے ہیں :۔

اپنی خبر ہے مجھ کو نہ اپنا ہے ہوش کچھ

چپکے سے کون یہ  مرے اندر اتر گیا

خودی کی تلاش میں شب خیزیاں انسان کو معراج سے ہمکنار کرتی ہیں لیکن تدبر کون کرے روحوں پر چھا جانے والی سوچ کہاں سے آئے انسان کی بے بسی کے تار چھیڑ کر اسے یہ باور کراتے ہیں کہ تیرا چہرہ اسم اعظم “اللہ” سے منور تو ہے لیکن دل کی حالت بت پرستی میں بری طرح جکڑی ہوئی ہے تجھے اپنی سمجھ کیسے آئے اگر خود شناسی چاہتا ہے تو دل کے مندر کو مسجد بنا تو معراج دور نہیں ہے سہل ممتنع میں اتنی بڑی بات کو کس سادگی سے قاری کی روح میں اتارتے ہیں ملاحظہ کیجیئے:۔

گہری نیندیں تان کے جب سو جاتے ہیں

میں پلکوں پر بھاری رات لیے پھرتا ہوں

چہرے پر تو  رونق اسم اعظم کی ہے

دل میں لیکن لات و منات لیے پھرتا ہوں

یہاں شاہ صاحب لفظ کاری کو اعجاز کہہ کر لفظوں کی اہمیت تسلیم کر کے  رب سے مناجات کرتے ہیں جس میں اٹک کی محبت بھی یوں چھلکتی ہے:۔

لفظ کاری کا سلیقہ دے مجھے

مجھ کو بھی تو کچھ عطا اعجاز ہو

ہر جگہ تو ساتھ رہتا ہے مرے

شہر اٹک ہو یا کہ وہ شیراز ہو

آخر میں دعاگو ہوں کہ مشبر حسین سید کا قلم یوں ہی رواں دواں رہے اور وہ اپنی فکری عفت اور ندرت سے اردو ادب سیراب کرتے رہیں

سید حبدار قائم آف اٹک

13 جولائی 2020ء

حبدار قائم
حبدار قائم

حبدار قائم

میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے ١1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے

Next Post

انداز بدلے گئے

جمعرات دسمبر 10 , 2020
بچپن سے ابتک یہی دیکھتا آیا کہ کھانا چائے وغیرہ ہاتھوں سے ہی بنتی ہے اور بنائی جاتی ہے۔
Jahangir Bukhari

مزید دلچسپ تحریریں