دو گاہک، پچیس بھکاری اور 48 فیصد غربت
تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
قوم کو معاشی پالیسی دینے کے بجائے جب امداد پر چڑھا دیا جائے اور چلتے کاروباروں کو ایسے فیصلوں سے متاثر کیا جائے جن سے ان کی بقا مشکل ہو جائے تو غربت صرف ایک معاشی اصطلاح نہیں رہتی، بازاروں کی ویرانی بن جاتی ہے۔ میرے شہر سمیت ہر شہر میں بیوٹیفکیشن کے نام پر راستے بند اور بازار تقسیم کیے گئے۔ ہمارے دوست طارق بنگش اس صورتِ حال کو ایک جملے میں یوں بیان کرتے ہیں: ’’دن بھر میں دو گاہک اور پچیس بھکاری آ جاتے ہیں۔‘‘ یہ جملہ دراصل ہمارے مقامی کاروبار کی حالت کا نوحہ ہے۔ اسی پس منظر میں ورلڈ بینک کی چشم کشا رپورٹ ہمارے لیے سنجیدہ سوال چھوڑتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان پر مشتمل خطے میں تین ڈالر یومیہ سے کم آمدنی پر زندگی گزارنے والے انتہائی غریب افراد میں تقریباً 48 فیصد پاکستان میں رہتے ہیں۔ یہ پاکستان کی کل آبادی کے 48 فیصد غریب ہونے کا عدد نہیں، بلکہ مذکورہ خطے کے انتہائی غریب افراد میں پاکستان کے حصے کو ظاہر کرتا ہے، تاہم یہ صورتحال ہماری معاشی ترجیحات پر غور کی متقاضی ہے۔ مہنگائی، کمزور روزگار، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور معاشی بے یقینی نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو متاثر کیا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم غربت کا علاج اکثر امداد میں تلاش کرتے ہیں، جبکہ مستقل حل روزگار اور معاشی سرگرمی میں ہے۔ ریاست کا کام صرف مستحق کو امداد دینا نہیں بلکہ ایسا ماحول پیدا کرنا بھی ہے جہاں دکاندار کا کاروبار چلے، صنعت ترقی کرے، کسان کو اپنی محنت کا مناسب معاوضہ ملے اور نوجوان کو روزگار یا کاروبار کا موقع حاصل ہو۔ ترقی کے منصوبے ضرور بننے چاہئیں، مگر ان کا ایک پیمانہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ ان سے مقامی معیشت اور روزگار کو کیا فائدہ پہنچا۔ ہمیں امداد کے ہاتھ کم اور روزگار کے دروازے زیادہ کرنے ہوں گے۔ ورلڈ بینک کا 48 فیصد محض ایک عدد نہیں، یہ ان خاندانوں کی کہانی ہے جن کے لیے مہینے کا بجٹ، بچوں کی تعلیم اور گھر کا چولہا ایک مسلسل آزمائش بن چکے ہیں۔ اعداد ہمیں آئینہ دکھاتے ہیں، مگر آئینہ چہرہ نہیں بدلتا؛ چہرہ بدلنے کے لیے معاشی پالیسی بدلنا پڑتی ہے۔ حقیقی خوشحالی اس دن ہوگی جب بازاروں میں گاہک بڑھیں گے، کاروبار پھلے پھولے گا، نوجوان باعزت روزگار پائیں گے اور غربت کے اعداد کم ہونے کے ساتھ عام آدمی کے خواب بڑے ہونے لگیں گے۔

صحافی، کالم نگار، مصنف
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔