جون کا تیسرا اتوار بطور فادرز ڈے

دوستان جون کا تیسرا اتوار عالمی طور والد سے منسوب کر کے نیک خواہشات کا اظہار کے اظہار کے طور پر منایا جاتا ہے اور دعاٸیہ اور مغفرت والے کلمات سے یاد کیا جاتا ہے۔
اس دن کی ابتدا اور تاریخ کے حوالے سے بات کی جاے تو یہ بھی مغرب دنیا کی اختراع ہے یا باالفاظِ دیگر ایک اچھی بدعت ہے جس میں ایک دن کروڑوں لوگ اپنے والد کو سوشل میڈیا پہ دعاٸیں دیتے نظر آتے ہیں جبکہ عام زندگی کا تو بس اللہ کریم ہی بہتر جانتے ہیں۔
یومِ والد کے ابتدا کے حوالے سے 2 روایات ملتی ہیں اور دونوں کا سن ایک صدی قبل کا ہے۔ ایک روایت کے مطابق پہلی مرتبہ فارد ڈے 5 جولاٸی 1907 کو مونوگا(امریکہ) میں کان کنی میں ساڑے تین سو کے قریب محنت کشوں کے ہلاک ہونے کے بعد ایک محنت کش کے بیٹے کلیٹن نامی لڑکے نے منایا اور غم زدہ الفاظ میں ان محنت کش والدین کی یاد میں پوسٹرز بناے۔

جون کا تیسرا اتوار بطور فادر ڈے
Image by Olya Adamovich from Pixabay


دوسری روایت کے مطابق سپوکانے(امریکہ) میں ہی 5 جون 1909 کو سونورا ڈوڈ نامی لڑکی نے فارد ڈے منایا۔ سونورا نے یہ دن اپنے والد کی اس محبت و ایثار کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منایا جو اسکے والد نے چھٹے بچے کی پیداٸش کے بعد اسکی ماں کے گزر جانے کے بعد اپنے چھ بچوں کی پرورش بطور ماں اور باپ کر کے نبھایا۔
فادر ڈے کی اہمیت ایک صدی قبل صرف پرنٹ میڈیا کی بدولت پورے امریکہ میں پھیلتی گٸی اور عوام میں سراہا جانے لگا۔ 1924 میں امریکی صدر نے اس دن کو سرکاری سطح پہ منانے کا اعلان کر دیا جبکہ 1956 میں امریکہ کے دونوں ایوانوں میں مشترکہ طور قراردار منظور کر کے منانے کا اعلان کیا گیا اور جون کا تیسرا اتوار اپنے والد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ان سے منسوب کر دیا گیا۔ جبکہ 1972 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن کی کاوش سے یہ دن عالمی تہواروں میں شامل ہوا۔
یوں تو ہمارے ملک میں والد کے لیے کوی بھی دن منسوب نہیں اور ہمارے معاشرے میں بھی ایسا کوٸی دن نہیں جسے فادر ڈے یا مادر ڈے نہ کہا جاسکے۔ جن کے والدین حیات ہیں وہ تو خوش قسمت ہیں اور جنکے رضاۓٕ ربی سے گزر گۓ وہ روز اپنے بچوں کی دعاوں میں شامل رہتے ہیں جس وجہ سے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہمارے ملک میں ہر دن یومِ والدین ہے۔ ہاں یہاں ایک تلخ پہلو یہ بھی ہیکہ جو بچے شفقتِ پدری سے محروم ہیں وہ جب کسی کو اپنے باپ کے ساتھ چلتے بیٹھتے یا معاشرتی و ثقافتی پروگرامز میں دیکھتے ہوں گے تو انکے دل پہ کیا بیتتی ہوگی؟
راقم کی طرح کوی بھی انسان اپنے والد کی جتنی خدمت کرے، انہیں جتنا خراجِ تحسین پیش کرے کم ہے۔ اکثر جوان اولاد مختلف سماجی و گھریلو معاملات میں اپنے والد سے یا والدہ سے اختلاف کی شدت تک بھی چلی جاتی ہے اور بات محبت و شفقت کو پیچھے چھوڑ کر بس صرف احترامِ پدری تک رہ جاتی ہے اور اس حالت کے محرکات جو بھی ہوں مگر میری اپنے آپ سمیت ہر پڑھنے والے کو یہ ضروری گزارش ہیکہ کچھ معاملات میں آپ جتنی بحث کرلیں کبھی بھی اس نہج پہ نہ جاٸیں کہ جب آپ بزرگی عمر کو پہنچیں تو یا تو مکافات کو دیکھیں یا شدید احساسات دل میں لیے گزر جاٸیں۔
بس!
باپ سِراں دے تاج محمد!
تے ماواں ٹھنڈیاں چھاواں

tauseef

توصیف نقوی

19 جون 2022

توصیف نقوی

Next Post

سلیقہ سکھایا مجھے زندگی کا

اتوار جون 19 , 2022
سلیقہ سکھایا مجھے زندگی کا مجھے باپ اقبال نے دیں سکھایا
سلیقہ سکھایا  مجھے  زندگی کا