Tag: ہندی

  • عصرِ حاضر کی ایک عہد ساز شخصیت

    عصرِ حاضر کی ایک عہد ساز شخصیت

    عصرِ حاضر کی ایک عہد ساز شخصیت

    تحریر : مقبول ذکی مقبول ، بھکر

    پروفیسر کمال الدین خاکی

    ولدیت : لعل خان

    نام : کمال الدین ۔ تخلص : خاکی

    جاۓ پیدائش : شاہی شمالی ۔

    تحصیل دریا خان ۔ ضلع بھکر

    حال مقیم : شاہ والا جنوبی ۔

    تحصیل نور پور تھل ۔ ضلع خوشاب

    تعلیم : ایم ۔اے اُردوُ + فاضل اُردوُ +

    ایم اے ایجوکیشن ۔

    تاریخ پیدائش : ( 4 جنوری 1966ء )

    ابتدائی تعلیم : اپنے گاؤں شاھی شمالی سے پرائمری پاس کیا ۔ پھر قریبی گاٶں جھمٹ شمالی ( UC ) سے مڈل پاس کرنے کے بعد ہائی سکول دریاخان سے بطور ریگولر سٹوڈنٹ ( سرگودھا بورڈ ) کے انڈر میٹرک کا امتحان 1981ء میں پاس کیا ۔ بعد ازاں گھریلو نامساعد حالات کے سبب مزید ریگولر تعلیم جاری نہ رکھ سکے جبکہ تعلیم کے حصول کا جنون سر پہ سوار رہا ۔ پھر 1982ء میں انھوں نے ایلیمنٹری کالج میانوالی میں پی ٹی سی کلاس میں بطور ریگولر داخلہ لیا اور ٹیچنگ سرٹیفکیٹ ( انڈر سرگودھا بورڈ ) حاصل کرتے ہی فوراََ 9 فروری 1983ء کو گورنمنٹ پرائمری سکول جھمٹ جنوبی پہ تقرری ہوگئ ۔ یہی شعبہ ٹیچنگ کا نقطہ ٕ آغاز تھا ۔

    پھر حصولِ تعلیم کا جنوں ہرگز کم نہ ہوا ۔

    جس کا اظہار انھوں نے اپنے ایک شعر میں کچھ یوں کیا ۔

    جنوں کب حامی ٕ سکوں ٹھہرا خاکی

    بدن زندہ میں بہتےہوۓ خوں کی طرح

    یوں ریگولر نہ سہی مگر ان کی تعلیم جاری و ساری تھی ۔ ایف اے پرائیویٹ ۔ ساتھ ہی پیشہ ورانہ سی ٹی سرٹیفکیٹ پرائیویٹ ۔ پھر بی اے پرائیویٹ پنجاب یونیورسٹی سے 1994ء میں اور ساتھ ہی 1995ء میں بی ایڈ بھی پنجاب یونیورسٹی سےبطور پرائیویٹ پاس کیا ۔ اسی دوران ان کی بطور EST ٹیچر پروموشن ہو گئ اور وہ پرائمری سکول سے ہائی سکول چک 56/ DB ضلع بھکر میں چلے گۓ ۔ وہیں پہ انھوں نے ایم اے اُردوُ 1999ء پنجاب یونیورسٹی سے بطور پرائیویٹ پاس کیا ۔ آپ بہت محنتی اور تعلیم کے رسیا تھے ۔ حضرت علامہ اقبال رح کے روحانی شاگرد کہلواتے ہیں ۔ اپنے روحانی مرشد کی طرح جذبہ ٕ جنوں کو کامیابی کا واحد حل سمجھتے ہیں ۔ جس کا اظہار ایک جگہ یوں کیا ۔

    میرے سب دکھوں کا مداوا ہے خاکی

    الٰہی میں تجھ سے جنوں مانگتا ہوں

    2000ء میں اُردوُ سے لگاٶ کے سبب فاضل اُردوُ بھی سرگودھا بورڈ سے اوّل درجے میں پاس کیا اور یوں کچھ علم عروض اور علمِ بیان کا بھی تعارف حاصل کیا ۔

    عصرِ حاضر کی ایک عہد ساز شخصیت

    اسی دوران انھوں نے مائیگریشن کروائی اور ضلع بھکر سے ضلع خوشاب آ گۓ اور کچھ عرصہ وادی سون کے علاقہ میں گورنمنٹ ہائی سکول پیل میں تعلیمی خدمات سر انجام دیں پھر 2006ء کا سورج جوہر آباد میں طلوع ہوا اور تقریباً دس سال تک نواحی قصبے گورنمنٹ ہائی سکول خالق آباد میں تدریسی فرائض سر انجام دیتے رہے اور ساتھ ساتھ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رھا ۔

    پھر ایم ایڈ 2006ء میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بطور پرائیویٹ اوّل درجے میں پاس کیا ۔ بعد ازاں انھوں نے 2017ء میں 53 سال کی عمر میں قبل از وقت ریٹائر منٹ لے کر پرائیویٹ کالج جوائن کر لیا جہاں انٹر میڈیٹ کلاسز کو اُردوُ اور مطالعہ پاکستان پڑھاتے آ رہے ہیں ۔

    شاعری کا شوق انھیں بچپن سے تھا اور کلاس ہفتم سے انھوں نے شعر کہنا شروع کیا مگر پھر چھوڑ دیا پھر میڑک تک پہنچ کر دو بارہ شروع کیا اور کہا جا سکتا ہے کہ 1982ء سے ان کا باقاعدہ شاعری کا آغاز ہوا جو تا حال جاری و ساری ہے البتہ دوران میں 1987ء سے 1994ء تک ایک حرف بھی نہیں لکھا گیا ۔ ان کا یہ دورانیہ خاموشی پر مشتمل ہے ۔ پھر 1994ء سے ان کی نشاة ثانیہ شروع ہوئی ۔ انھوں نے اُردوُ شاعری کا بھی آغاز کر دیا ۔

    شاعری تین زبانوں میں کرتے ہیں۔ اُردُو ۔ پنجابی ماجھی ۔اور سرائیکی ۔ البتہ عربی فارسی اور ہندی تراکیب کا استعمال خوب کیا ۔ بجا طور پہ وہ ایک قادر الکلام شاعر ہیں ۔

    ہر صنف پہ انھوں نےطبع آزمائی کی ۔ دوہڑا ۔ماھیا ۔ گیت ۔ ہیمڑی ۔ غزل ۔کافی ۔ نظم ۔ قطعہ ۔ قصیدہ ۔ ملی نغمے ۔ حمد ۔ نعت ۔ وغیرہ سب پہ کچھ نہ کچھ کام ضرور کیا ۔ البتہ ان کا پسندیدہ موضوع ہمیشہ تصوف ہی رہا ۔ حسن و عشق کا تقابل اور عشق اور عقل کا مقابلہ ان کے بہت دلچسپ ٹاپک رہے ہیں ۔ معاشرتی تفاوت اور ناھمواری ، ناانصافیاں ، جبر ، ظلم اور تشدد کے خلاف بھی خوب لکھا ۔ رومانس بھی ان کے عنوانات میں شامل ہے ۔ سچائی ، خلوص ، محبت ، بھائی چارا ، اخوّت جیسے عنوانات بھی زیرِ بحث رہے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے طنز و مزاح اور حالاتِ حاضرہ پہ بھی خامہ فرسائی کی ہے ۔ غرض شاعری کے چالیس سالہ دور میں وسیع و عریض افکار کو زیبِ قرطاس کیا ۔ یہ امر انھیں ایک اعلیٰ پاۓ کے شعراء میں شامل کرتا ہے ۔

    ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ مختلف قسم کے فوک اور کلاسیکل سنگرز نے ان کا کلام گایا بھی ہے ۔ جن میں طالب حسین درد ، بشیر احمد مخلص ، اللّٰہ دتہ لونے والا ، فرقت سوکڑی ، محمد حسین بندیالوی ، الفت خوشابی ، فتح علی کمالیہ والے ، میڈم انمول سیال ، عابد کنول جوہر آبادی ، امجد ڈھاکہ والے ، لطافت ڈھاڈی ، اشفاق خان شاقی وغیرہ شامل ہیں ۔

    ان کے ہاں شاعری کا بہت زیادہ مواد موجود ہے اور اب کتب چھپوانے کا قصد کیۓ ہوۓ ہیں ۔ سرائیکی کی دو ضخیم کتب جن کے نام ٫٫ ریت دی خشبو ،، اور ٫٫ میڈی جاگیر ،، تجویز کیۓ گۓ ہیں ۔ اس کے علاوہ تیسری کتاب ٫٫ عقل ۔ عشق ۔ حسن دی روئیداد ،، اپنے مخصوص انداز میں زیرِ غور ہے ۔

    اُردُو کی دو کتب جن کے نام یہ ہیں ۔

    ٫٫ جنوں کے تیور ،، اور ٫٫ شعارِ خاکی ،،

    جو زیرِ طباعت ہیں ۔ ہم تو ہر وقت دستِ دُعا ہیں کہ اللّٰہ پاک ان کی اس محنتِ شاقہ اور کاوش پیہم کو کامیابی و کامرانی سے ھمکنار فرماۓ ۔ آمین

    آخر میں چند اشعار ملاحظہ فرمائیں

    ۔۔ھے بچھڑنے میں پوشیدہ لطف خاکی

    وجودِ وصل بھی ہے مرھونِ جدائی

    مومن کو بھی میراث کا کچھ علم ہو خاکی انساں کے بنا بنتا نہیں ابدال و قلندر ضوفشانی کر رہا تھا ہاں وہ اوروں کے لیے ٹمٹماتا زندگی کا اک دیا اچھا لگا

    خاکی دلِ ویراں کا کیا بزم سے تعلق

    یکجا بھلا ہوئے ہیں کبھی دشت و انجمن بھی

  • سعودی اردو شاعرہ ڈاکٹر سمیرا عزیز

    سعودی اردو شاعرہ ڈاکٹر سمیرا عزیز

    سعودی اردو شاعرہ ڈاکٹر سمیرا عزیز

    Dubai Naama

سعودی اردو شاعرہ ڈاکٹر سمیرا عزیز

    اردو زبان دنیا کی واحد زبان ہے جس میں ہر زبان کے الفاظ بآسانی سما جاتے ہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی زبان دان کو اردو سے تھوڑا بہت شغف بھی پیدا ہو جائے تو وہ اسے اپنی ماں بولی جان کر سمجھنے اور سیکھنے لگتا ہے۔ چونکہ اردو زبان کا جنم متحدہ ہندوستان کے ایسے ماحول میں ہوا کہ آغاز میں یہ زبان مختلف النوع زبانوں کے حامل مغلیہ فوجیوں میں رابطے کے طور پر بولی جاتی تھی اسی وجہ سے شروع میں اسے "لشکری زبان” بھی کہا جاتا تھا۔ جبکہ تیرویں صدی سے اٹھارویں صدی کے آخر تک جس زبان کو آج "اردو” کے نام سے جانا جاتا ہے اسے ہندی، ہندوی، ہندوستانی، دہلوی اور لاہوری زبان بھی کہا جاتا تھا۔ تب اردو زبان میں دیگر قدیم و جدید زبانوں مثلا سنسکرت، آریائی، ہندکو، عربی، فارسی اور انگریزی وغیرہ کے علاوہ درجنوں علاقائی زبانوں کے الفاظ بھی تیزی سے سماتے چلے گئے۔ آج اردو رسم الخط سے بالاتر ہو کر صرف اردو مافی ضمیر کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس میں چینی، فرانسیسی، جاپانی اور دیگر سینکڑوں زبانوں کے الفاظ بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔

    مسلم عروج کے زمانے مثلا عثمانیہ اور مغلیہ عہد اپنے زمانے کی سپر طاقتیں تھیں، اور زبانوں کے بارے مقولہ مشہور ہے کہ "زبان صرف حکمران قوم کی چلتی ہے۔” لھذا چونکہ عثمانیوں کی زبان عربی اور ترکش تھی اور مغلوں کی زبان فارسی تھی لھذا ان تینوں زبانوں کے اشتراک سے اردو زبان نے جنم لیا۔ اسلام کی روشنی عربی زبان میں پھوٹی تھی۔ جب اسلام برصغیر میں پہنچا اور یہاں مسلمان مغلیہ خاندان کو بھی عروج حاصل ہوا تو عرب ممالک کے باشندوں کو بھی اردو زبان سے خصوصی دلچسپی پیدا ہوئی۔ عرب ممالک کے بہت سے طلباء ماضی اور حال میں ہندوستان اور خاص طور پر پاکستان میں کراچی اور پنجاب یونیورسٹی لاہور میں حصول علم کے لیئے آتے رہے ہیں۔ چونکہ بھارت، پاکستان، نیپال، سری لنکا، بنگلہ دیش اور بھوٹان وغیرہ میں بھی عوام کی اکثریت اردو زبان کو سمجھتی اور بولتی ہے اور ان ممالک کی افرادی قوت بھی عرب ممالک میں موجود تو اس سے معاملہ کرنے کے لیئے حسب ضرورت عرب ممالک کی 80فیصد سے زیادہ آبادی میں بھی اردو زبان کی بول چال موجود ہے۔

    ایک عام اندازے کے مطابق اردو اور ہندی کے بولنے والوں کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ اردو زبان دنیا کی تیسری سب سے زیادہ بولے جانے والی زبان ہے۔

    سعودی اردو شاعرہ ڈاکٹر سمیرا عزیز
    ڈاکٹر سمیرا عزیز

    اردو لسانیات سے عربوں کی اس کرم فرمائی نے خود عربوں میں اردو زبان و ادب کے مشاہیر کو جنم دیا ہے۔ اس سے قبل اماراتی اردو شاعر ڈاکٹر فاروق العرشی کا انہی سطور میں ذکر کیا تھا۔ ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی کراچی میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس (MBBS) کی ڈگری لینے گئے مگر انہیں اردو شاعری سے ایسی دلچسپی پیدا ہوئی کہ وہ آج تک اردو شاعری کی 103 کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان کی اردو شعر و ادب کی خدمات کے عوض سنہ 2013ء میں صدر پاکستان آصف علی زرداری نے انہیں "تمغہ امتیاز” سے نوازا۔ اسی طرح سعودی عرب کی قومیت رکھنے والی ڈاکٹر سمیرا عزیز میرے لیئے ایک نئی دریافت ہیں جو اردو زبان کی مصنفہ اور شاعرہ ہیں جن کے نام کو گوگل کریں تو شاعری اور دیگر موضوعات پر ان کی اردو زبان میں بے شمار ویڈیوز نظر آئیں گی۔

    گزشتہ دنوں سعودی حکومت نے دنیا بھر کے علماء، دانشوروں اور دیگر شعبوں میں نمایاں مقام رکھنے والے افراد کو شہریت دینے کا اعلان کیا۔ اس سے قبل گرمی کی وجہ سے حجاج کی بھی شہادتیں ہوئیں۔ اب سعودی عرب نے دنیا میں نیا اعزاز حاصل کیا کہ سعودی عوام کے حوالے سے ایک سروے کیا گیا تھا، جس میں عوام کی پسندیدگی کے اعتبار سے سعودی حکومت دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آ گئی ہے جہاں 86فیصد شہریوں نے حکومت پر اعتماد کا اظہار کیا۔ سالانہ اعتماد انڈیکس رپورٹ ایڈلمین 2024 کی جانب سے یہ فہرست جاری کی گئی ہے، جس میں سعودی عوام نے حکومت پر فیصلہ سازی اور قومی مفادات کے حصول کے حوالے سے اعتماد کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

    اسی انڈیکس میں بتایا گیا ہے کہ 78 فیصد شہری کاروباری سیکٹر کے حوالے سے حکومتی کارکردگی پر اعتماد رکھتے ہیں، جبکہ دور جدید کے حوالے سے 80 فیصد شہری سعودی لیڈرز اور سائنسدانوں پر یقین رکھتے ہیں۔
    تاہم 56 فیصد شہری ملک میں سرکاری اقدامات برائے ٹیکنالوجی پر حکومت پر اعتماد رکھتے ہیں۔ اس سروے میں 28 ممالک شامل تھے، جس میں سعودی عرب نے امریکہ، فرانس، جاپان، برطانیہ، جرمنی اور کوریا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

    ان مذکورہ موضوعات پر ڈاکٹر سمیرا عزیز کی ویڈیوز عربی زبان کی بجائے اردو زبان میں گوگل پر دیکھی جا سکتی ہیں جو اردو زبان کے لئے کسی سعودی شہری کی ایک قابل فخر کارکردگی ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر سمیرا عزیز کا اردو لب لہجہ اتنا نیچرل ہے کہ انہیں سنتے ہوئے لگتا ہے کہ اردو ان کی "مادری زبان” ہے۔ یہ اردو زبان و ادب، شاعری اور ثقافت کی خدمات کی صرف ایک بدیسی مثال ہے۔ خود پاکستان کا حال یہ ہے کہ اردو کو قومی زبان قرار دینے کے باوجود اسے ابھی تک سرکاری اور دفتری زبان کے طور پر رائج نہیں کا جا سکا ہے۔۔۔!

  • خدیجہ خان کی غزل کا فنی و فکری مطالعہ

    خدیجہ خان کی غزل کا فنی و فکری مطالعہ

    خدیجہ خان کی غزل کا فنی و فکری مطالعہ

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی*
    (ورلڈ ریکارڈ ہولڈر)
    rachitrali@gmail.com

    خدیجہ خان ہندی، اردو دونوں میں لکھتی ہیں، نظم نگاری میں خاص مہارت رکھتی ہیں، اب تک آپ کی چار کتابیں شائع ہوچکی ہیں جن میں سپنا سے لگی (ہندی غزل)، سنگت (ہندی نظم)، فکر و فن (ہندی، اردو) شامل ہیں۔ کئی کتابوں کی ایڈیٹنگ کرچکی ہیں اور کئی کتابوں پر تبصرے لکھ چکی ہیں، ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے بھی وابستہ رہی ہیں۔ دو ہندی رسائل ساہتیہ سرانش اور وانپریا کی ایڈیٹر ہیں۔ خواتین کی مرکزی آرگنائزیشن کادمبری کی صدر نشین ہیں۔
    آپ کی غزل کے اس شعر "مطمئن ہم ترے رابطے میں رہے/جبکہ طوفان سب راستے میں رہے” میں جذباتی تحفظ، وجودی ہنگامہ خیزی، اور ذاتی خواہشات اور معاشرتی اصولوں کے درمیان تعامل کے موضوعات کو پیچیدہ طریقے سے باندھا گیا ہے۔

    خدیجہ خان کی غزل کا فنی و فکری مطالعہ


    ابتدائی شعر میں شاعرہ نے زندگی کی راہوں کے ہنگاموں سے تعلق کی یقین دہانی کو بیان کیا ہے۔ یہ اختلاف انسانی حالت کی عکاسی کرتا ہے، جہاں تعلقات میں یقین بیرونی قوتوں کی غیر متوقع صلاحیت سے متصادم ہو۔
    جیسے جیسے غزل آگے بڑھتی ہے، خدیجہ خان اپنے پیغام کو قارئین تک پہنچانے کے لیے شاعرانہ آلات کو مہارت سے استعمال کرتی ہے۔ یہ شعر "دل ہمارا گیا جاں بھی جائےگی اب/ایک بس تم سدا فائدے میں رہے” سے پرہیز نہ صرف عقیدت کے اعلان کے طور پر کام کرتا ہے بلکہ انحصار کے احساس کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے، جو رشتوں کے اندر طاقت کی حرکیات پر سوال اٹھاتا ہے۔
    مزید برآں، شاعرہ نے ایک استعاراتی عنصر کو متعارف کرانے کی کوشش کی ہے، جس میں نظم کی تشکیل میں تحمل کی تاکید کی گئی ہے۔ شاعرہ کا یہ اسلوب خود آگاہی گہرائی میں اضافہ کرتی ہے، اور جمالیاتی خوبصورتی کے حصول کے درمیان فنکارانہ سالمیت پر غور کرنے کی تجویز دیتی ہے۔


    یہ شعر "سوچتے سوچتے سوچ ٹھہری رہی/ سب خیال اس کے کیوں زاویے میں رہے” سوچ کی دائمی نوعیت کو سمیٹتی ہے، جو خود شناسی کی استقامت کو اجاگر کرتی ہے۔ یہاں خدیجہ خان قارئین کو مدعو کرتی ہیں کہ وہ دیرپا خیالات کی اہمیت اور انفرادی تصورات پر ان کے اثرات پر غور کریں۔
    غزل کی منظر کشی فطرت کے مناظر تک پھیلی ہوئی ہے، جہاں پہاڑوں کا استحکام طوفانوں کے اتار چڑھاؤ سے متصادم ہے۔ اس استعارے کے ذریعے خدیجہ خان مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے لچک کو تلاش کرتی ہے، اور زندگی کے طوفانوں کے درمیان ثابت قدم رہنے کی وکالت کرتی ہے۔
    بعد کے اشعار میں شاعرہ بیرونی خلفشار کی طرف متوجہ ہونے سے انکار کرتے ہوئے اپنی غیر متزلزل عزم کا اظہار کرتی ہے۔ شاعرہ کا یہ دعویٰ خود مختاری اور خود انحصاری کے موضوعات کو بیان کرتا ہے اور سماجی توقعات کو چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ ذاتی خودمختاری پر بھی زور دیتا ہے۔
    خدیجہ خان کی غزل کا اختتامی شعر سماجی ڈھانچے کے حوالے سے ایک سماجی و سیاسی جہت کا تعارف کراتا ہے۔ خدیجہ خان نے درجہ بندی کے نظاموں میں عام فرد کے پسماندگی پر باریک بینی سے تنقید کی ہے، جو مساوات اور شمولیت کے لیے تڑپ کا مشورہ دیتے ہیں۔
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ خدیجہ خان کی غزل روایتی شاعری کی حدود سے ماورا بہترین شاعری کی ایک عمدہ مثال ہے جو جذبات، عقل اور سماجی تبصرے کی بھرپور سیریز پیش کرتی ہے۔ میں شاعرہ کو اتنی اچھی شاعری تخلیق کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اہل ذوق قارئین کے مطالعے کے لیے خدیجہ خان کی غزل پیش خدمت ہے۔

    *
    غزل
    *
    مطمئن ہم ترے رابطے میں رہے
    جبکہ طوفان سب راستے میں رہے

    دل ہمارا گیا جاں بھی جائےگی اب
    ایک بس تم سدا فائدے میں رہے

    تم غزل جب کہو شرط اتنی رکھو
    شعر کا حسن بھی قافیے میں رہے

    سوچتے سوچتے سوچ ٹھہری رہی
    سب خیال اس کے کیوں زاویے میں رہے

    لوَ لرزتی نہیں ہے دِیوں کی مرے
    آندھیوں سےکہو قاعدے میں رہے

    تم نظر سے کبھی دور جانا نہیں
    ہر تصور مرے دایرے میں رہے

    کیا خدیجہ جمہوری نظام ہے یہاں
    عام انسان بس حاشیے میں رہے

  • اچھی ہمسائیگی

    اچھی ہمسائیگی

    اچھی ہمسائیگی

    Dubai Naama

اچھی ہمسائیگی

    یہ پروگرام دبئی ‘تاج ہوٹل’ بزنس بے میں تھا۔ اس پروگرام کو ‘انٹرنیشنل ہندی ڈے’ کا نام دیا گیا تھا جس کا اہتمام ہندی زبان کی اشاعت و فروغ کی خاطر انڈین کونسلیٹ دبئی نے کیا تھا۔ شائد میں یہ پروگرام اٹینڈ کرنے نہ جاتا مگر ہمارے دوست و مربی اردو کے اماراتی شاعر ڈاکٹر محمد زبیر فاروق العرشی صاحب نے دعوت نامہ بھیجتے ہوئے حکم دیا کہ میں ہر حال میں اس پروگرام میں شرکت کروں۔ ہم پاکستانی اور انڈین لاشعوری طور پر خود کو ایک دوسرے کا دشمن سمجھتے ہیں۔ لیکن امارات میں 14سال کے عرصے سے رہتے ہوئے میں نے کبھی انڈین اور پاکستانیوں کو آپس میں جھگڑا کرتے دیکھا ہے اور نہ ہی انہیں دل میں ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہوئے محسوس کیا ہے۔ اس پروگرام میں شامل ہو کر بہت اچھا لگا۔ میں وقت مقررہ پر شام 6بجے پہنچ گیا۔ حال میں جا کر دیکھا تو ابھی صرف اکا دکا مہمان آئے تھے۔ میں نے موقعہ کو غنیمت جان کر اپنا ایک موبائل استقبالیہ پر چارجنگ پر لگا دیا اور دوسرا موبائل پکڑ کر لابی میں بیٹھ گیا۔

    اگرچہ یہ پورا پروگرام شروع سے لے کر آخر تک ہندی زبان کی اہمیت و تاریخ اور ترویج ہی کے گرد گھومتا رہا مگر دلچسپ بات یہ ہے پروگرام شروع ہونے کے بعد جتنے بھی مقررین سٹیج پر آئے تقریبا ہر ایک نے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا آغاز اردو زبان سے کیا۔ سب سے پہلے انڈین قومی ترانہ بجایا گیا۔ انڈین ترانہ میں نے پہلی بار کھڑے ہو کر سنا۔ یہ ترانہ ہندی زبان میں تھا جس میں پنجاب، سندھ اور گجرات کے نام بھی آئے۔ کچھ عرصہ پہلے ہندوستان کی سپریم کورٹ نے ملک کے قومی ترانے ‘جن گن من ادھینایک جے ہے’ سے لفظ ‘سندھ’ خارج کرنے کی ایک درخواست مسترد کر دی تھی۔ عرضی گزار نے کہا تھا کہ قومی ترانے میں ملک کے بعض علاقوں کا ذکر ہے اور اس میں سندھ بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ سندھ اب ایک دوسرے ملک پاکستان کا صوبہ ہے اس لئے اسے ہندوستان کے قومی ترانے سے خارج کیا جانا چاہئے۔ لیکن عدالت نے کہا تھا کہ قومی ترانے کو اختیار کرنے والی قانون ساز اسمبلی نے ایک قراردار منظور کی تھی جس کے تحت قومی ترانے میں کسی تبدیلی کا اختیار صرف پارلیمان کو دیا گیا ہے۔ بھارت کی عدلیہ ہو یا پارلیمان شائد ان کے دل میں انڈیا کے قومی ترانے میں موجود لفظ ‘سندھ’ ہندوستانی سرکار کو "اکھنڈ” بھارت کی توسیع پسندی کی یاد دلاتا ہے جسے وہ تبدیل کرنے کی غلطی نہیں کرنا چاہتے ہیں۔

    اتفاق ایسا ہوا کہ پروگرام کے استقبالیہ خطبہ میں مسٹر سریش کمار نے اپنا آدھا خطاب اردو زبان میں کیا اور اس میں علامہ اقبال کا نام لیئے بغیر ان کے لکھے ہوئے ‘ترانہ ہندی’ کا ایک مصرعہ پڑھا: ‘سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا’۔ انڈیا سے آئے خصوصی مہمان سادھو اکشار پریماداس کو سٹیج پر بلانے سے پہلے سٹیج کے پچھلی اور بائیں جانب لگی سینما سکرین پر دو سادھووں کی ایک مختصر فلم چلائی گئی جس میں وہ ایک کرین میں بیٹھ کر بلندی سے ایک زیر تعمیر بلڈنگ کے مزدوروں پر پھولوں کی پتیاں پھینک رہے تھے۔ اس کے فورا بعد مجلس ھذا کے چیف گیسٹ اور دبئی میں انڈیا کے کونسل جنرل شری ستیش ساؤن نے ہندوستان کے پردھان منتری نریندر مودی کا خصوصی پیغام پڑھ کر سنایا۔ جب سادھو جی تقریر کرنے آئے تو انہوں نے سب سے پہلے یہ مصرعہ پڑھا: ‘چھوڑو پرانی کہانی مل کر لکھتے ہیں نئی کہانی’۔ سوامی سادھو نے ترانہ ہندی کا پہلا مصرعہ بھی دہرایا جس کے بعد انہوں اپنے خطاب میں یہ شعر بھی پڑھا: ‘کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری، صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا’۔

    سادھو سوامی اپنے ایک اور ساتھی کے ساتھ حال میں آئے تھے۔ ان دونوں نے خصوصی قسم کا مالٹا رنگ کا دھوتی نما لباس پہنا ہوا تھا۔ فائیو سٹار تاج ہوٹلز، ریسارٹس اور پیلسز کے مالکان ٹاٹا گروپ آف کمپنیز IHCL والے ہیں۔ یہ کافی ہائی فائی پروگرام تھا۔ سادھو ہندوستان میں ہندو مذہب کے پاسبان تصور کیئے جاتے ہیں۔ سادھو جی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ‘سادھو’ تین سال کی خصوصی مذہبی ریاضت اور تربیت کے بعد بنتا ہے۔ انہوں نے 1857 کی جنگ آزادی کا بھی ذکر کیا۔ ان کی اس پروگرام میں جتنی عزت افزائی کی گئی وہ حیران کن تھی۔ پاکستانی علماء کو بھی بہت پروٹوکول ملتا ہے مگر جب یہ سادھو حال میں آئے تو پورا حال کھڑا ہو گیا۔

    میرے فرنٹ دائیں طرف ایک ہندوستانی بیٹھے تھے اور بائیں جانب ڈاکٹر نیلم گویئل بیٹھی تھیں۔ جب سٹیج پر ڈاکٹر صاحبہ کا تعارف پروفیسر اور مشہور لیکھت کے طور پر کرایا گیا اور وہ کھڑی ہوئیں تو میری توجہ ان کی طرف مڑ گئی۔ میں نے موقع پا کر ان کے ساتھ محو گفتگو ایک صاحب کی طرف کلر نوٹ کھول کر اپنا موبائل پکڑایا تو انہوں نے اس پر اپنا نام اور نمبر لکھ دیا۔ ان کا نام وپرا گوئیل تھا شائد یہ ڈاکٹر صاحبہ کے دوست عزیز یا جیون ساتھی تھے۔ جونہی انہوں نے موبائل مجھے واپس کیا تو ڈاکٹر صاحبہ نے پیچھے مڑ کر مجھے غور سے دیکھا۔ میں اس پروگرام میں واحد پاکستانی تھا۔ لھذا میں سوچنے لگا کہ شائد وہ سوچ رہی ہوں گی کہ "نواں ای لگنا ایں سوہنیا”۔ لیکن تھوڑی ہی دیر بعد ڈاکٹر صاحبہ نے اپنا وزٹنگ کارڈ نکال کر ایک مسکراہٹ کے ساتھ میرے سامنے رکھ دیا۔ میری بائیں طرف بھی دو انڈین بیٹھے تھے۔ ‘خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے’۔ انہوں نے بھی ہمت کی، محمد رفیع نے اپنا کارڈ دیا اور کے چندرا (نام غلط ہوا تو گستاخی معاف) نے کاغذ پر پنسل سے لکھ کر اپنا موبل نمبر پکڑایا۔

    پروگرام کے آغاز میں تعارفی خطاب پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر صاحتیا چترویدی نے کیا تھا مگر کالم میں پہلے ان کے نام اور کام کے بارے ذکر اس لیئے نہ کر سکا کہ ان کا نام بہت مشکل تھا اور یاد کرنے میں بہت وقت لگ گیا۔

    یہ پروگرام کی تقریبا آدھی کہانی کا احوال تھا باقی ماندہ آدھی کہانی جس ہستی نے اپنے نام کی ان کا نام ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی ہے جو اردو زبان کے اماراتی شاعر ہیں جنہوں نے اردو شاعری کی 103 کتابیں لکھی ہیں۔ انہوں نے کراچی سے میڈیکل یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی اور وہیں سے انہوں نے اردو شاعری کا آغاز کیا۔ 1913 میں حکومت پاکستان نے انہیں تمغہ امتیاز پیش کیا جو انہوں نے صدر آصف علی زرداری سے وصول کیا تھا۔ چونکہ انہوں نے کم و بیش درجن بھر ہندو شاعری کی کتابیں بھی لکھی ہیں۔ لھذا وہ پاکستان اور ہندوستان دونوں ملکوں میں برابر شہرت رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر زبیر فاروق صاحب نے اپنا کلام پڑھ کر اور گا کر سنایا۔ انہوں نے جتنی دیر تقریر کی یا اپنا کلام پڑھا اتنی دیر پورا حال داد و تحسین اور تالیوں کی گونج سے جھولتا رہا۔

    پروگرام کے آخری حصے میں موسیقی اور سلو ڈانس بھی ہوا اور ساتھ ہی ڈنر بھی چلنا شروع ہو گیا۔ یہ صرف تین گھنٹے کا پروگرام تھا۔ لیکن جن چند ہندوستانیوں سے بات ہوئی ایسا لگا ہم ایک دوسرے کو سنہ 1858ء سے جانتے ہیں۔ سنہ 80 کی دہائی میں پاکستان اور انڈیا میں ادبی وفود کا تبادلہ ہوتا رہا جنہوں نے دونوں طرف سے دوستی اور اچھی ہمسائیگی کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ ہم متحدہ ہندوستان میں ہزاروں سال اکٹھے رہتے رہے ہیں ہمیں آج پرامن اور ایک دوسرے سے محبت کرنے والے ہمسایوں کی طرح رہنے کی ضرورت ہے اسی میں دونوں ملکوں کی بقا اور سلامتی کا راز پوشیدہ ہے۔

    Title Image by PublicDomainArchive from Pixabay

  • اردو کا دیس نکالا

    اردو کا دیس نکالا

    اردو کا دیس نکالا

    تقسیم پاک و ہند سنہ 1947 انسانی تاریخ میں سب سے بڑی ہجرت تصور کی جاتی ہے جس میں کم و بیش 12 سے 15 ملین لوگ در بدر ہوئے جو صاحب حیثیت تھے ہوائی اڈوں سے کہیں چلے گئے کچھ سمندری جہازوں کے ذریعے ، ریل گاڑی کے زریعے اور کئی لاکھ افراد نے وسائل نا ہونے پر پیدل ہجرت کی ۔ تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کے سب کو منزل نہیں ملی بلکہ کئی لاکھ مہاجرین تو راستے میں ہی بلوائیوں کے حملے میں لقمہ اجل بنے ۔ 

    سعادت حسن منٹو نے اس تقسیم سے رونما ہونے والے حوادث و واقعات پر کئی مضمون لکھے جسمیں ٹھنڈا گوشت اور ٹوبہ ٹیک سنگھ بہت مقبول ہوئے ۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے جو ناواقف ہیں وہ اسے کسی شخصیت کا نام سمجھیں گے درحقیقت یہ ایک علاقے کا نام ہے اس کی وجہ تسمیہ پر پھر کبھی بات ہوگی ، تو اس وقت ٹوبہ ٹیک سنگھ موجودہ پاکستان کے ڈویژن فیصل آباد سے منسلک ہے تقسیم ہند سے پہلے یہاں دیگر مذاہبِ کیطرح سکھ قوم بھی آباد تھی ۔ خیر منٹو کے اس مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ تقسیم ہندوستان کے چند سال بعد جب دونوں ملکوں کے ادارے اپنے کاموں پر بحال یا فعال ہوئے تو آپس میں املاک اور دیگر امور میں نفری کا تبادلہ بھی شروع ہوا کیونکہ یہ ملک دو قومی نظریہ پر بنا تھ تو اسی نظریے کے تحت پاکستان کے ایک پاگل خانے میں مقید غیر مسلم پاگلوں کو بھی ان کے مذہب کے مطابق اس بانٹ میں شامل کیا گیا دونوں ممالک سے لسٹیں بھیجی گئیں کہ فلاں فلاں ہندوستان سے پاکستان جاہیں گے اور فلاں فلاں پاکستان سے ہندوستان جائیں گے اور واہگہ کی پھاٹک سے انہیں ایک تقریب کے بعد اپنے اپنے ممالک کے سپرد کیا جائے گا جسمیں بھیشن سنگھ نامی ایک سکھ جو ٹوبہ ٹیک سنگھ کا رہاشی تھا جو یوں تو دنیا اور اس کے معاملات سے ماوراء تھا کہنے کو کاغذات میں اس کے کوائف بطور پاگل کے درج تھے لیکن وہ پاگل اپنے وطن کو اپنی مٹی کو پہچانتا تھا اور جب اسے زبردستی اٹھا کر لیجانے لگے تو وہ بارڈر کی خاردار تاروں کے بیچ نو میں لینڈ ( بارڈر پر دونوں ممالک کی حدود کے درمیان وہ حصہ جو دونوں ممالک کی ملکیت نہیں ہوتی ) پر لیٹ گیا روتا تھا بلکتا تھا چیختا چلاتا تھا کہ میں اپنا وطن نہیں چھوڑوں گا مجھے کیوں اور کہاں لے جا رہے ہو اس کے نالوں کو اس تحریر میں اتنے درد بھرے انداز میں لکھا ہے منٹو نے کہ یہ تحریر امر ہوگئی ایک طرف ہندوستان تھا ایک طرف پاکستان اور بیچ میں ٹوبہ ٹیک سنگھ تھا ۔ 

    تقسیم جو کہ نام سے ہی واضح ہے کہ کسی چیز کے حصے کر کے اسے برابر بانٹ دیا جائے تو اس بانٹ میں تو پھر ہر شہ شامل ہوتی ہے وہ انسان ہوں حیوانات ہوں جمادات یا نباتات ۔ میری اس مختصر تحریر کا مقصد بھی اس تقسیم اور اس سے رونما ہونے والے واقعات میں سے ایک واقع آپ کے گوش گزار کرنا تھا اور وہ نا تو کسی انسان کا تھا نا حیوان نا جمادات و نباتات بلکہ ہماری موجودہ قومی زبان اردو کا تھا ، ماں بولی کے بعد قومی زبان جو ہماری شناخت ہے یہ بھی تقسیم ہندوستان کے مہاجرین میں شامل تھی نا جانے کون اسے اپنی جنم بھومی ہندوستان سے پکڑ کر بالوں سے گھسیٹ کر پوٹلی میں باندھے کبھی پیدل تو کبھی بیل گاڑی پر لاد کر ہزاروں میل دور بارڈر کے اس پار چھوڑ گیا جو کبھی دہلی ، لکھنؤ یا دکنی لہجوں میں راج کرتی تھی اب اسے سندھ ، پنجاب اور خیبرپختونخواہ نے پناہ دی ۔ 

    دراصل اسے ایک دیرینہ سازش کہہ لیں یا دو قومی نظریے کی کاوش کے تحت اردو زبان جسے خسرو کی پہیلی کہاجاتا ہے اس دربدری کا شکار ہوئی کیونکہ یہ صرف مسلمانوں کی زبان نہیں تھی بلکہ اسے تمام مذاہب کے لوگ بولتے تھے ۔ مثال کے طور پر اردو کے مشہور شاعر فراق گورکھپوری کا نام لیجئے تو ان کے کلام اور طرزِ بیان سے وہ ہمیں اپنے ہم مسلک لگتے ہیں لیکن ان کا اصل نام رگھوپتی سہائے تھا اور ایسا اس لئیے محسوس ہوتا تھا کہ وہ اردو زبان میں رچ بس گئے تھے یہاں مجھے منیر نیازی کا ایک شعر یاد آ گیا 

    کل دیکھا اک آدمی اٹا سفر کی دھول میں
    گم تھا اپنے آپ میں جیسے خوشبو پھول میں

    اردو جو ایک مشترکہ زبان تھی لیکن کیوں کہ اسے اس وقت کا ایک مخصوص طبقہ اور سیاسی پارٹی میاں بھائی کی زبان کہنے لگے کہ اس میں عربی ، فارسی اور ترکش زبان کے الفاظ شامل ہیں بقول اقبال اشعر ، 

    کیوں مجھ کو بناتے ہو تعصب کا نشانہ
    میں نے تو کبھی خود کو مسلمان نہیں مانا 

    تو اس لسانی مقابلے میں ہندی جو کے سنسکرت سکرپٹ پر مبنی ہے اسے اردو کے مقابلے میں ایک عرصے سے پس پردہ تیار کیا جارہا تھا اور ساتھ ساتھ اردو پر پہ در پہ حملے بھی جاری تھے اس تبدیلی سے قبل کئی نئے الفاظ علاقائی لہجوں کے سبب کچھ رد و بدل کا شکار ہوئے کہنے کو ہندی کے الفاظ تھے لیکن یہ الفاظ ہندی زبان سے اخذ نہیں کئیے گئے بلکہ یہ تو سازش تھی جس کے سبب دھیرے دھیرے زندگی کو جندگی ، ضروری کو جروری ، زیادہ کو جیادہ اور اس طرح کئی دیگر الفاظ کو فیشن بنا کر اس دور کا نیا ٹرینڈ بنا کر کیوٹ نس کا لبادہ اوڑھا کر شامل کیا گیا جو کہ آجکل زبان زد عام ہیں بقول رئیس امروہوی ،

    اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے 

    تو یوں اس دو قومی نظریے کے کامیاب ہوتے ہی ہندی کو ملکہ ہندوستان کا تاج پہنا کر تخت پر بٹھا دیا گیا اور اردو کو اس تخت سے اتار کر ہوا دیس نکالا ۔ 

    Title Image by vined mind from Pixabay