Tag: تلہ گنگ

  • وزیر اعلیٰ پنجاب کی تلہ گنگ آمد

    وزیر اعلیٰ پنجاب کی تلہ گنگ آمد

    وزیر اعلیٰ پنجاب کی تلہ گنگ آمد کا آنکھوں دیکھا احوال
    شاہد اعوان، بلاتامل

    20اکتوبر2022ء کا دن نومولود ضلع تلہ گنگ کے وسنیکوں کے لئے ایک تاریخی دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا گو نئے ضلع کا نوٹیفکیشن تو 14اکتوبر کو ہو چکا تھا۔ اس روز جب بندہ فقیر اپنی جنم دھرتی جانے کے لئے موٹروے پر عازمِ سفر تھا تو آسمان پر کالی گھٹا چھائی ہوئی تھے اور طوفانی بارش برس رہی تھی ، مجھے یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ اس خراب موسم میں آج تلہ گنگ کی تاریخ کے اتنے اہم دن وزیر اعلیٰ کا جلسہ کیسے ممکن ہو گا۔ مگر جب دھرابی کے قریب پہنچا تو آسمان بادلوں سے تو بھرپور تھا لیکن بارش کا نام و نشان نہ تھا جیسے قدرت نے عشروں سے منتظر تلہ گنگ کے باسیوں کی بے تابی و بے قراری کے آگے آج کے تاریخ ساز دن موسم کی کروٹ بدل دی ہو۔ جب تلہ گنگ بائی پاس پہنچا تو ہر طرف رنگ ونور کی بہار نظر آئی قد آور بڑے بڑے ہورڈنگز اور سٹریٹ لائٹس کے کھمبوں پر علاقہ کے ہردلعزیز ایم پی اے جو اب ’بانی ضلع تلہ گنگ‘ کے نام سے ہی پکارے جانے کے اصل حقدار ہیں یعنی حافظ عمار یاسر اور اس تحریک کو حقیقت میں بدلنے والے محسن تلہ گنگ چوہدری پرویز الٰہی وزیراعلیٰ پنجاب کی تصاویر آویزاں تھیں جن کے نام کے خیر مقدمی پینا فلیکس اور استقبالیہ بینروں کی چار سو بہار تھی۔ درحقیقت ایسا لگ رہا تھا جیسے عیدین کے موقع پر بازار بند اور چہل پہل نہ ہونے کے برابر ہو تقریباٌ تمام بازار بند تھے اور ماحول خلافِ معمول صاف ستھرا تھا، جو احباب عام دنوں میں تلہ گنگ سے گزرے ہوں ان کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ شہر سے گزرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے ۔ مگر خلافِ توقع اس بار تلہ گنگ میں حال ہی میں تعینات ہونے والے انتہائی فعال، محنتی و ہنس مکھ اسسٹنٹ کمشنر عدنان انجم راجہ نے بہت مختصر وقت میں تلہ گنگ کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے شہر میں صفائی کے اعلیٰ انتظامات پر دل باغ باغ ہو گیا ریڑھیاں اور رکشے لائنوں میں کھڑے نظر آئے، سچ پوچھئے تو اگر کسی کو پنجاب بھر میں تجاوزات سے پاک کوئی شہر دیکھنا ہو تو وہ تلہ گنگ آکر شہر کا نظارہ ضرور کرے میرا دعویٰ ہے وہ ایک اچھے منتظم کے حسنِ انتظام کی داد ضرور دے گا۔ زبانی کلامی دعوے تو ہر کوئی کرتا ہے لیکن عملی طور پر عدنان راجہ جیسے فرض شناس اور قابل آفیسر نے مہینوں یا سالوں نہیں دنوں میں ثابت کر دیا کہ ایک لائق و محنتی آفیسر کسی بھی علاقے کی تقدیر بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔ البتہ شہر سے گزرنے والی سڑک جو کئی ماہ سے زیر تعمیر ہے اور جس پر انتہائی سست روی سے کام جاری ہے متعلقہ محکمہ کو چاہئے کہ وہ جلد ازجلد اس سڑک کی تعمیر مکمل کرے تاکہ شہر میں ٹریفک کی روانی بحال ہو۔
    بات ہو رہی تھی ضلع کے باقاعدہ حتمی اعلان کے بعد تلہ گنگ میں وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے استقبالیہ جلسے کی، اس موقع پر شہر کے جس گھر میں سب سے زیادہ رونقیں تھیں وہ راولپنڈی روڈ پر واقع ممبر صوبائی اسمبلی و بانی ضلع تلہ گنگ حافظ عمار یاسر کی رہائش گاہ تھی جہاں الصبح ہی سے مختلف وفود کی ان سے ملاقاتوں کے لئے تانتا بندھا ہوا تھا۔ وادیٔ سون کی ممتاز شخصیات نے جس طرح سوشل میڈیا پر تلہ گنگ سے الحاق کے لئے مہم کا آغاز کر رکھا ہے اس سے اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ انہیں ضلع کی خوشی تلہ گنگ اور لاوہ والوں سے کہیں زیادہ ہے اور ان کی شدید خواہش ہے کہ تحصیل نوشہرہ (وادیٔ سون) بھی نئے ضلع تلہ گنگ کا حصہ بنے۔ اسی طرح جنڈ کی یونین کونسل تراپ کے مکین جن کی رشتہ داریاں اور برادریاں تلہ گنگ میں ہیں وہ بھی اس نئے ضلع میں شامل ہونے کو بے تاب نظر آتے ہیں، جبکہ اہلیانِ کھوڑ اور احمدال بھی اسی قسم کے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ڈھلیاں کے ممتاز زمیندار گھرانے کے قانون دان و مسلم لیگی راہنما ملک آصف علی خان کئی ماہ سے اسی تگ و دو میں مصروف ہیں اور پنڈی گھیب بار ایسوسی ایشن نے باقاعدہ قرارداد منظور کر کے ضلع تلہ گنگ میں شمولیت کا برملا اظہار کیا ہے۔
    ڈگری کالج تلہ گنگ کے وسیع و عریض گرائونڈ میں وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے استقبال اور جلسے کا بھرپور انتظام کیا گیا تھا ڈپٹی کمشنر چکوال، ڈی پی او چکوال و دیگر افسران بھی تلہ گنگ پہنچ چکے تھے جن کی میزبانی کے فرائض اسسٹنٹ کمشنر تلہ گنگ عدنان ا نجم راجہ کے ذمہ تھے۔ لوگوں کے چہروں پر خوشی و اطمینان کے جذبات کو واضح طور پر دیکھاجا سکتا تھا دن12بجے کے بعد ضلع بھر سے جلوسوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا شہر کے مختلف وارڈوں میں لوگ اپنے طور پر جلسہ گاہ جانے کے لئے پروگرام ترتیب دے رہے تھے سائونڈ سسٹم کے ذریعے ملی نغمے اور ترانے گرائونڈ میں سریں بکھیر رہے تھے جبکہ جلسہ گاہ میں سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے تھے۔ کوٹ شیرا، ملتان خورد، کھوئیاں، ٹمن سے جلوس بڑی تعداد میں رواں دواں تھے سب سے بڑا اور منظم جلوس تھوہامحرم خان سے جلسہ گاہ پہنچا جس کی قیادت علاقہ کے معروف زمیندار ملک ممتاز حیدر اعوان، ملک سجاد حیدر اعوان، ملک اختراور شمیض اعوان کر رہے تھے جو کئی روز سے اس مقصد کے لئے اسلام آباد سے خصوصی طور پر اپنے آبائی گائوں آئے ہوئے تھے ۔ تحصیل لاوہ سے سابق چیئرمین ملک قدیر الطاف ایک بڑا جلوس لے کر تلہ گنگ پہنچے ۔ جلسے میں تلہ گنگ کے وہ باسی بھی شامل تھے جو خاص طور پر ضلع بننے کی خوشی میں اپنے سکونتی دوسرے شہروں سے تلہ گنگ جلسے میں شرکت کے لئے یہاں آئے تھے جن میں تلہ گنگ ویلفیئر ایسوسی ایشن وا ہ کینٹ کے صدر ملک محمد حسین اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جلسہ میں شریک ہوئے۔ پنڈی روڈ پر گہما گہمی عروج پر تھی اسی دوران فضا میں ہیلی کاپٹر نمودار ہوا جس نے شہر کا چکر لگا کر وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کوان کی تلہ گنگ آمد پر شہریوں کی جانب سے ان کے اعزاز میں کیے گئے استقبالیہ انتظامات کا فضائی معائنہ کرایا اور انہوں نے اپنے خیرمقدم کے لئے کیے گئے عالیشان انتظامات کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا جس پر کئی روز سے بانی ضلع تلہ گنگ حافظ عمار یاسر اپنے قریبی ساتھیوں ملک رومان احمد، ملک سعد، حاجی عمر حبیب و دیگر اکابرین کے ہمراہ تیاریوں میں مصروف تھے ۔ چوہدری پرویز الٰہی کو سب سے پہلے ْحافظ عمار یاسر کی رہائش گاہ پر لایا گیا جہاں مہمانوں کے ساتھ لنچ کے اعلیٰ انتظامات کیے گئے تھے اس دوران ڈگری کالج گرائونڈ عوام سے بھر چکا تھا جلسے کی کوریج کے لئے الیکٹرانک میڈیا کے نمائندے سٹیج کے ایک طرف کنٹینر پر کیمرے اپنی پوزیشن سنبھال چکے تھے ۔ ضلع تلہ گنگ کے قیام کی خوشی میں منعقدہ یہ عظیم الشان و تاریخی جلسہ جتنا اہم تھا اور وزیراعلیٰ پنجاب کی آمد پر علاقہ مکینوں نے جتنے اعلیٰ انتظامات کیے گئے تھے ۔ جب بانی ضلع تلہ گنگ حافظ عمار یاسر تقریر کرنے آئے تو فرطِ جذبات سے ان کا باریش چہرہ تمتما رہا تھا اور خوشی کے ان لمحات میں انہوں نے اپنے دل کی باتیں کیں اور حاضرین سے وعدہ لیا کہ میری زندگی رہے نہ رہے وہ اپنے محسن کے ساتھ وفاداری نبھائیں گے کہ ہمارے ساتھ تلہ گنگ ضلع کے خواب اور وعدے تو بہت کیے گئے لیکن تلہ گنگ ضلع بنانے کا کریڈٹ چوہدری پرویز الٰہی کی بے مثال قیادت کو ہی ملا۔ چوہدری پرویز الٰہی اپنے اعزاز میں اتنا بڑا جلسہ اور عوام کا جم غفیر اپنی آنکھوں سے دیکھا جس پر بہت خوش تھے ان کے ہمراہ ان کے چھوٹے صاحبزادے راسخ الٰہی بھی موجود تھے۔ وزیرا علیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے اپنے خطاب میں اس بات کا اعتراف کیا کہ ضلع تلہ گنگ کی وجہ سے انہیں پنجاب میں مزید چار اضلاع بنانا پڑے۔ ابھی ان میں کسی ضلع میں وزیراعلیٰ کا جلسہ نہیںہوا حتیٰ کہ نئے ڈویژن گجرات میں بھی جلسہ منعقد نہیں ہو سکا۔ چوہدری پرویز الٰہی نے بھی ’محسن تلہ گنگ‘ کا خطاب سچ کرتے ہوئے تلہ گنگ کے لئے نئے منصوبہ جات کا اعلان کر کے علاقے کے لوگوں کے دل جیت لیے جس پر حاضرین جلسہ نے بار بار تالیاں بجا کر اپنے محسن کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعلیٰ نے تلہ گنگ کے لئے ایک ختم نبوت کے نام سے ایک عظیم الشان مسجد کی جلد تعمیر کا اعلان کیا، میڈیکل کالج، انجینئرنگ یونیورسٹی، ٹمن اور لاوہ میں دو ڈیم، آنکھوں کے لئے جدید ہسپتال کے قیام علاوہ کچی آبادیوں کو مالکان حقوق دینے اور ضلع کے تمام بنیادی ہیلتھ مراکز کو رورل ہیلتھ سنٹرز میں تبدیل کر نے کا بھی اعلان کیا۔ علاوہ ازیں انہوں نے اپنے خطاب میں تلہ گنگ کو ڈویژن بنانے کی شنید بھی سنائی۔ تلہ گنگ کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ مغرب سے قبل ختم ہو گیا جس کے بعد آتش بازی کا سلسلہ بھی وقفے وقفے سے جاری رہا ۔

    Shahid-Bla-Ta-Amul

وزیر اعلیٰ پنجاب کی تلہ گنگ آمد
  • ضلع تلہ گنگ۔۔۔مختصر داستان

    ضلع تلہ گنگ۔۔۔مختصر داستان

    شاہد اعوان، بلاتامل

    امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں ٹانگوں سے معذور ایک شخص نے اعلان کر دیا کہ وہ ساری دنیا گھومے گا ۔ اس اعلان نے سب کو چونکا دیا اور لوگوں نے طرح طرح کے تبصرے شروع کر دئیے ۔ ایک صحافی نے اس سے سوال کیا کہ آپ تو ٹانگوں سے مفلوج ہیں یہ سب آپ کیسے کریں گے؟ جس پر اس نے جواب دیا ’’میں ذہن سے مفلوج نہیں ہوں!‘‘ دراصل کامیابی اور ناکامی کے سفر میں ہمارے دل ، دماغ اور ارادوں کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے بہت سے جسمانی مفلوج دنیا میں بڑے بڑے کارنامے انجام دے کر گزر گئے ۔ کامیابی کا سفر ارادوں سے شروع ہوتا ہے، ایک کامیاب شخص نے بہت خوبصورت فقرہ کہا تھا ’’میں کر سکتا ہوں میں کر کے دکھاؤں گا‘‘۔ بالکل یہی بات بظاہر کم گو اور متین طبع نوجوان سیاستدان تلہ گنگ کے عظیم سپوت حافظ عمار یاسر نے کہی اور بالآخر وہ اپنے قول و فعل اور پختہ ارادوں سے وہ کام کر گیا جو بظاہر ناممکن خیال کیا جا رہا تھا ۔ انسان کی شخصیت پر اس کے نام کا بڑا گہرا اثر ہوتا ہے ، موصوف کے والدین نے جب ایک جلیل القدرصحابی رسول کے نام پر اپنے بیٹے کا نام رکھا ہو گا تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا کہ ہمارا یہ بیٹا بڑا ہو کر اپنے علاقہ کے لئے اتنا بڑا کام کر گزرے گا ۔ اس نوجوان نے اپنے نام کی لاج رکھی اور عام نوجوانوں کی طرح عیش و مستی میں مشغول رہنے کے بجائے بڑے بڑے کام کرنے کی ٹھانی اور پھر اسے سیاسی استاد بھی وہ میسر آئے کہ پہلی ہی بار اسمبلی میں پہنچنے پر اسے وزارت مل گئی ، وہ چاہتا تو وزارت کے مزے اڑاتا سرکاری وسائل کو ذاتی مقاصد کے لئے استعمال میں لاتا مگر اس نے روایتی سیاست کرنے کے بجائے سب سے پہلے اپنے علاقے کو محرومیوں سے نجات دلانے کے لئے دوڑ دھوپ شروع کر دی جن کی مثال ماضی میں شاید ہی ملے۔ اس ’’سیاسی نووارد‘‘ نے اپنے حلقے میں سڑکوں کا جال بچھا یا، سوئی گیس پائپ لائنیں ہوں یا بجلی کے منصوبے ، ہر موقع پر یہ نوجوان بازی لے گیا ۔ 2018ء کے انتخابات میں چوہدری پرویز الٰہی نے تلہ گنگ کے باسیوں کو ایک بات ببانگ دہل کہی تھی کہ تلہ گنگ کو ضلع کا درجہ ضرور دلاؤں گا۔ تلہ گنگ والوں سے ایسا ہی ایک وعدہ میاں نواز شریف نے بھی ایک جلسے میں کیا تھا لیکن وہ وعدہ بس وعدہ ہی رہا ۔ دراصل یہ اپنے اپنے نصیب کی بات ہوا کرتی ہے اور اللہ کے حکم کے بغیر تو پتا بھی نہیں ہل سکتا۔ تلہ گنگ ضلع کی بات کی جائے تو اس تحریک کے پیچھے ایک لمبی داستان ہے جس پر لکھتے لکھتے بندہ فقیر کو دودہائیاں ہو چلی ہیں قومی اخبارات اور ماہنامہ اعوان کے صفحات اس بات کے گواہ ہیں کہ ’’بلاتامل‘‘ ضلع تلہ گنگ تحریک میں عملی اور قلمی جدوجہد میں کبھی پیچھے نہ رہا اور دل میں یہ عہد کر رکھا تھا کہ جب تک تلہ گنگ ضلع نہیں بن جاتا میں اٹک ہی میں رہوں گا اور صد شکر اللہ نے میری زندگی ہی میں یہ خواہش بھی پوری کر دی۔ ابتدائی دور میں تلہ گنگ کو ضلع بنانے کی خواہش بڑے بڑے عظیم لوگوں کی تھی 1985ء میں ایئر مارشل نورخان نے اپنے بیچ فیلو جنرل جیلانی سے تلہ گنگ کو ضلع بنانے کا وعدہ لے لیا تھا لیکن اس کی تکمیل سے پہلے ہی ضیاء الحق نے چکوال سے تعلق رکھنے والے اپنے سینئر جرنیل عبدالمجید ملک کو خوش کرنے کے لئے ضلع کا تحفہ دے دیا تھا ۔ خیر یہ تو ایک تاریخی واقعہ ہے ۔ ہم بات کر رہے تھے ان شخصیات کی جو اپنی زندگیوں میں تلہ گنگ کو ضلع بنتے نہ دیکھ سکیں ان میں میرے محسن و مربی بابائے اعواناں الحاج ملک اللہ یار خان اعوان کا فقیر کے ساتھ عقیدت و احترام کا گہرا رشتہ تھا وہ اکثر ضلع کی بات کیا کرتے تھے آج یقینا ان کی روح کو سکون مل گیا ہو گا۔ اسی طرح درویش صفت بزرگ سیاسی شخصیت و سابق ایم این اے سردار ممتاز خان ٹمن کی ذاتی خواہش بھی رہی ہے کہ تلہ گنگ ان کے دور میں ضلع بن جائے مگر اللہ کی مشیت کے سامنے سب فیصلے ہیچ ہیں اور یہ سہرا تلہ گنگ کے نوجوان سپوت حافظ عمار یاسر ہی کے سر بندھنا تھا جس کی تکمیل چوہدری پرویز الٰہی کے ہاتھوں ہونا تھی ان کا یہ احسان علاقے کے لوگ ضرور یاد رکھیں گے جب وہ وزیراعلیٰ بنے تو انہوں نے اپنے آبائی علاقہ گجرات کو ڈویژن کا درجہ دیا تب فقیر نے لکھا تھا کہ اگر گجرات آپ کا پہلا گھر ہے تو تلہ گنگ دوسرا ، اب دوسرا گھر آپ کے ہاتھوں ضلع بننے کا منتظر ہے۔ خیر اس سفر میں ہمارے علاقے کا مان اور شان سالارِ صحافت جناب خوشنود علی خان نے ہر موقع پر خوب لکھا اور ٹھوک بجا کر لکھا۔ اسی طرح تلہ گنگ کے ہمارے سینئر صحافی دوست جن میں عبدالقیوم شیخ، ملک فاروق خان، ملک میاں محمد، چوہدری غلام ربانی، ملک محمد افضل اعوان کے علاوہ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے تعلق رکھنے والے نوجوان صحافیوں میں محسن قیوم، نذر محمد چوہدری، شمیض اعوان، ملک لیاقت اعوان، ملک شوکت اعوان، ملک حسن ناصر، ارشد کوٹگلا، برادرِ اکبر مزدور لیڈر ملک محمد حسین اور دیگر شامل ہیں۔ اسی طرح تحریک صوبہ پوٹھوہار کے بانی چیئرمین ملک امریز حیدر اعوان جو ان دنوں انگلینڈ میں ہیں انہوں نے جہاں پوٹھوہار کو صوبہ بنانے کی تحریک کا بیڑا اٹھا رکھا ہے وہاں وہ ضلع تلہ گنگ کے لئے بھی پیش پیش رہے ہیں ، انہیں مبارک ہو کہ اب پوٹھوہار کے چار اضلاع کے بجائے چھ اضلاع بن چکے ہیں اور ہم سب اس مطالبے کو پہلے سے زیادہ زور دے کر دہرائیں گے کہ اب راولپنڈی کو صوبہ بنایا جائے تاکہ پوٹھوہار والے لاہور کے بجائے اپنے نزدیک ترین صوبائی ہیڈ کوارٹر میں ترقی کی منازل طے کر سکیں۔ تھوہامحرم خان کے ملک صفدر علی اعوان ہوں یا شمیض اعوان ، ملک سجاد حیدر، ملک ممتاز حیدر سب نے ضلع بنائو تحریک میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے ۔ 1977ء میں جس شخصیت نے سب سے پہلے تلہ گنگ ضلع کی بات کی تھی وہ تلہ گنگ کے ممتاز و سینئر قانون دان محمد صدیق علوی تھے جنہوںنے یہ نعرہ مستانہ لگا یا تھا بعد میں مسلم لیگی راہنما و ممتاز قانون دان ملک محمد کبیر ایڈووکیٹ نے اس مشن کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا۔ ممتاز ٹرانسپورٹر ملک حاکم خان، ڈاکٹر آفتاب حیات کی محنتوں کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ دیارِ غیر میں رہنے والے تلہ گنگیوں میں نثار اعوان ددھیال، جی ایم اعوان اور دیگر احباب بھی اس مشن کی تکمیل میں کارواں کا حصہ رہے ۔ حافظ عمار یاسر کی معاونت کرنے والوں میں ملک رومان احمد اور سعد ملک کی کوششیں بھی قابل تحسین ہیں، حافظ صاحب کے بھائی عمر حبیب اور ان کے خاندان کا ہر فرد اس مشن میں برابر کا شریک رہا ۔ جبکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلانے والوں میں ملک محمد حسین دھولر نے نہ دن دیکھا نہ رات وہ اپنے علاقے کے ہر مسئلے کو اجاگر کرتے رہے ان کے ہر اول دستے میں جبی سے تعلق رکھنے والے نوجوان دلاور شاہ ، مزدور راہنما ملک شمیض اعوان اور ان کی پوری ٹیم نے اس تحریک میں جان ڈالے رکھی اور بالآخر حکمرانوں نے تلہ گنگ ضلع کا اصولی اعلان کر دیا ۔ تلہ گنگ ضلع تحریک میں ہر وہ شخص جس نے اس مشن میں ایک قدم اٹھایا وہ سب مبارکباد کے مستحق ہیں۔ حال ہی میں یہاں تعینات ہونے والے ہنس مکھ اور محنتی اسسٹنٹ کمشنر عدنان انجم راجہ کا حصہ بھی اس تحریک میں یوں شامل ہو گیا کہ انہوں نے تلہ گنگ کو پنجاب کا مثالی اور خوبصورت شہر بنانے میں پیشرفت کا آغاز کرد یا ہے، میری ذاتی رائے تو یہ ہے کہ ان کا تقرری بطور تلہ گنگ کا پہلا ڈپٹی کمشنر عمل میں لائی جائے تو ان کا سابقہ ریکارڈ اس بات کا گواہ ہے کہ وہ تلہ گنگ کو مثالی ضلع بنا دیں گے اور یہ کام حافظ عمار یاسر بخوبی کر سکتے ہیں اس کے علاوہ دیگر تقرریوں میں بھی عدنان راجہ جیسے قابل اور ایماندار افسران کو لگایا جائے۔ ہمارے علاقے کا مان سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض جیلانی نے تلہ گنگ ضلع بننے کی خوشی میں ایک تاریخی جملہ کہا کہ ضلع کی تعمیرو ترقی میں صرف سیاسی لوگوں نے نہیں بلکہ ہر تلہ گنگی نے اپنی اپنی جگہ کردار ادا کرنا ہے اور یہاں کے باسیوں نے یہ ثابت کرنا ہے کہ جس مشن کو انہوں نے پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے یقینا وہ اس کے مستحق تھے اب انہیں یہ ثابت کرنا ہو گا کہ اس عظیم خطے کے لوگ مزید محنت کر کے اسے ایک مثالی ضلع بنائیں گے ورنہ ہمارا تمسخر اڑایا جائے گا ۔ تلہ گنگ کے سرمایہ کاروں کو بھی چاہئے کہ وہ یہاں سرمایہ کاری کر کے صنعتی اداروں کا قیام عمل میں لائیں اور اپنے علاقے کی ترقی و خوشحالی کو مزید چارچاند لگانے میں اپنا بھرپور کردار کریں۔ وفاقی سیکرٹری سردار آصف ٹمن بھی ضلع تلہ گنگ کو فعال بنانے میں پہلے کی طرح اپنا کنٹری بیوشن ڈالتے رہیں گے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی سے ہمیں امید ہے کہ وہ اس ضلع میں فوری انڈسٹریل زون کا اعلان کریں جس کے لئے بہترین مقام تراپ اور ملتان خورد کا وسیع و عریض رقبہ موجود ہے جبکہ تاریخی قصبہ ٹمن کو تحصیل کا درجہ دے دیاجائے ۔

    Shahid-Bla-Ta-Amul

ضلع تلہ گنگ۔۔۔مختصر داستان
  • بابِ کھوئیاں، نئے دور کا آغاز

    بابِ کھوئیاں، نئے دور کا آغاز

    شاہد اعوان، بلاتامل

    بابِ کھوئیاں

    تمام تعریفوں کے لائق ہے وہ ذاتِ لاشریک جس کے قبضۂ قدرت میں ہر ذی روح کی جان ہے۔ تعریف سننے کی تمنا بنی نوع انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے بعض اوقات اس کمزوری کے اندر انسان کی طاقت پنہاں ہوتی ہے ۔ تعریف سننے کی آرزو میں انسان کے اندر کا خوابیدہ فنکار بیدار ہو جاتا ہے اور تعریف نہ ہو تو فن افسردہ ہو جاتا ہے ۔ انسانی صفات تعریف کی متقاضی ہیں ، تعریف سننے والے انسان کی اصلاح اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تعریف کرنے والے کی اصلاح نہ ہو۔ خیال رہے تعریف حد سے بڑھ کر خوشامد کا روپ نہ دھار لے ، تعریف کے باب میں سب سے زیادہ خطرناک مقام وہ ہے جب کوئی کم ظرف اپنی ہی زبان سے خود اپنی تعریف کر رہا ہو یہ بھی ایک عذاب ہے کوئی آئینہ اسے اس عذاب سے نہیں بچا سکتا ۔ تعریف جہاں انعام ہے وہاں سزا بھی ہے ، تعریف صفت ساز بھی ہے اور صفت شکن بھی لیکن اپنے منہ سے اپنی تعریف انسانیت کی تذلیل ہے۔ امید ایک فوارہ ہے جس سے جرأت پیدا ہوتی ہے امید کے سہارے کے بغیر ہم اپنے حوصلے پست کر بیٹھتے ہیں۔ روح جس خوراک پر زندہ ہے وہ امید ہے، اچھا ڈاکٹر اپنے مریض کو صحتیاب ہونے کی امید ہر حال میں دلاتا ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے مقاصد حاصل کرنے کے لئے امید نے ہی حوصلہ اور جرأت دی اور کئی ناکام لوگ کامیاب ہوئے۔ تعریف اور امید کا یہی فلسفہ حکیم الامت ڈاکٹر محمد اقبالؒ نے نوجوانوں سے وابستہ کیا :
    کبھی اے نوجوانِ مسلم! تدبر بھی کیا تونے
    وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
    تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبت میں
    کچل ڈالاتھا جس نے پاؤں سے تاجِ سرِ دارا
    مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آباء کی
    جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ
    قریباٌ نصف صدی پیچھے جاؤں تو تلہ گنگ کے انتہائی پسماندہ اپنی جنم دھرتی ’کھوئیاں‘ کو تمام بنیادی سہولیات سے محروم پاتا ہوں مگر آج گاؤں کے ان روشن دماغ سپوتوں کی ہمت اور کامیابیوں کو دیکھ کر پھر سے جوان ہو گیا ہوں۔ میرے گاؤں میں اس زمانے میں کوئی بنیادی سہولت موجود نہ تھی ہماری سب سے بڑی تفریح ’منجالہ‘ میں والی وال یا کبڈی کے کھیل ہوا کرتے تھے ہاں گلی ڈنڈا کے ’’میچ‘‘ بھی ہوا کرتے تھے۔ سچ پوچھئے تو میٹرک کے بعد اخبار پڑھنا نصیب ہو اتھا سوائے ریڈیو کے کوئی دوسرا میڈیا ہمارے زمانے میں نہ تھا، جب آج کے زمانے سے اپنا موازنہ کرتا ہوں تو ہمیں وہ سہولتیں لائل پور جیسے صنعتی شہر میں جا کر حاصل ہوئیں جو آج پہلی جماعت کے بچے کو بھی میسر ہیں۔
    6ستمبر2022ء کو علاقہ کے نوجوان صحافی عزیزم حسن ناصرملک اور اتحاد ویلفیئر سوسائٹی کھوئیاں کے سرگرم راہنما ملک مختار احمد کی جانب سے اپنے گاؤں میں ’’بابِ کھوئیاں‘‘ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی خلوص و محبت بھری دعوت ملی تو دل میں اڑ کر گاؤں پہنچنے کی خواہش پیدا ہوئی کیونکہ سوائے غمی خوشی کے چند روز سے زیادہ گاؤں میں قیام کرنا میری قسمت میں نہیں، سوچا اس بہانے پرانے دوستوں اور نئی نسل کے ان پرعزم نوجوانوں سے ملاقات ہو جائے گی ۔

    بابِ کھوئیاں، نئے دور کا آغاز

    نماز عصر کے بعد اپنے آبائی گاؤں میں منعقدہ ’’بابِ کھوئیاں‘‘ کی شاندار تقریب اور دل آویز بڑا دروازہ جو اتحاد ویلفیئر سوسائٹی کھوئیاں کے ان نوجوانوں کی ہمت و ولولے کی زندہ مثال ہے جو اس سڑک سے گزرنے والے ہر شخص کی نظروں کو خیرہ کرے گا اور وہ اس خوبصورت دروازے کو آنکھ بھر کر دیکھیں گے۔ اس دروازے کی تعمیر میں سوسائٹی کے ان جوانوں کے سنہری خواب اور مستقبل کے روشن ارادوں کے راز پنہاں ہیں جو اپنے گاؤں کی تعمیر وترقی کے نئے در وا کرنے کی آرزو سینوں میں سجائے ہوئے ہیں ۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت رسول پاکﷺ سے ہوا گاؤں کا محمد حسان نامی نوجوان کا طرزِ بیاں اور اشعار کی ادائیگی اس بات کا غمازی تھا کہ اب میرا گاؤں وہ نہیں رہا جو ہمارے زمانے میں تھا غمِ روزگار اور فکرِ معاش نے ہم کو گاؤں سے تو دور کر دیا مگر خوشی اس بات کی ہے کہ ہمارے بعد اس عظیم گاؤں کی باگ دوڑ ان نوجوانوں کے ہاتھ میں آ چکی ہے جو کسی قوم قبیلے ، ذات برادری کے مرہون منت نہیں بلکہ گاؤں کا ہر فرد چاہے وہ غریب ہے یا امیر ، سب کے سب تسبیح کے دانوں کی طرح ایک دھاگے میں پروئے ہوئے ہیں۔ یہ اتحادو اتفاق دیکھ کر دل سے دعا نکلی کہ مرے مولا! اس اتحاد کو ہمیشہ اسی طرح قائم و دائم رکھ اور اس گاؤں کو نظر بد سے محفوظ بنا۔ برادر ملک محمد سلیم، ملک ظفر، میرے انتہائی محترم انگلش ٹیچر ملک محمد اسلم، برادر اکبر سابق لیبر لیڈر ملک محمد حسین، میرے خاندان کے بزرگ اور نوجوان بچے اور سب سے بڑھ کر ہمارے گاؤں کا فخر اور سرمایۂ دین و ملت علامہ حافظ صابر ایوب جو راولپنڈی ڈویژن میں علم و معرفت کے روشن مینار اور تلہ گنگ کی پہچان ہیں۔ گزشتہ دنوں ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او چکوال نے ان کی زیر نگرانی قائم بچیوں کے ایک مدرسے کا دورہ کیا اور وہاں جدید تعلیمی سہولتیں دیکھ کر اتنے خوش ہوئے کہ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ دینی مدارس کے بارے ہمارے خیالات یہاں آکر بدل گئے ہیں۔ حافظ صاحب کے درجنوں مدارس تلہ گنگ و گردونواح کے لئے مثالی درسگاہوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تقریب میں لاوہ اور ملتان خورد کے قلم قبیلے کے نوجوان ساتھیوں کو دیکھ کر دلی تسکین ملی علمائے کرا م ہوں یا دیگر سماجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی تقاریر سن کر گاؤں میں چھپے ٹیلنٹ کااندازہ لگایا جا سکتا ہے جن کی شبانہ روز کی کاوشوں کی بدولت گاؤں کو متعارف کرانے میں ان کا کردار واقعی قابل ستائش ہے جنہوں نے بغیر کسی حکومتی سپورٹ کے اپنے ہی لوگوں کی مدد سے وہ کارہائے نمایاں سرانجام دئیے ہیں جن کی تعریف کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ جاوید اقبال ملک جنہیں’’سہارا‘‘ کا لقب دیا گیا، ملک مختار احمد نے اپنی تیرہ رکنی ٹیم کے ساتھ گاؤں کے لوگوں کے لئے وہ کچھ کر دکھا یا ہے جو بڑی بڑی این جی اوز بھی نہیں کرسکتیں۔ تقریب میں 25سلائی مشینیں بھی نظر آئیں جو گاؤں کی ان ہنر مند بچیوں کو دی جانی تھیں اور یہ سن کر تقریب میں موجود ہر فرد کا آنکھیں نم ہو گئیں کہ یہ مشینیں باعزت طریقے سے ان بچیوں کے حوالے کی جائیں گی جس کی خبر نہ کسی پڑوسی کو ہو گی نہ ہی سوسائٹی کے عہدیداروں کو۔ گزشتہ ماہ سوسائٹی نے لاہور سے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کو اپنے گاؤں مدعو کیا اور ناصرف مریضوں کا مفت چیک اپ کرایا بلکہ ادویات بھی فری تقسیم کیں۔ اسی طرح سوسائٹی ممبران نے خون عطیہ کر کے ہسپتالوں میں موجود افراد کو بلامعاوضہ خون دیا۔ موجودہ سیلابی صورتحال میں جب ملک کا60%حصہ سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے انہوں نے اپنے گاؤں کے لوگوں میں شعور پیدا کیااور لاکھوں روپے کا راشن ، کپڑے، بستر و دیگر سامان سیلاب زدہ علاقوں تک خود پہنچا کر ثابت کیا کہ اس مقصد کے لئے شہر ہی نہیں دیہاتوں کے لوگ بھی زندہ قوم ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں۔ قومی تہواروں پر نوجوانوں میں شعور اجاگر کرنا بھی تنظیم کے عہدیداروں نے خوب نبھایا ۔ تقریب کا آخری پروگرام ’بابِِ کھوئیاں‘‘ کی افتتاحی تقریب تھا جس کا فریضہ سوسائٹی ذمہ داران نے بندہ عاجز، حافظ صابر ایوب اور مولانا محمد ادریس کو سونپا ۔
    اٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
    مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

    AWAN

    شاہد اعوان

  • وزیراعلیٰ صاحب! اور اب ضلع تلہ گنگ۔۔۔۔۔

    وزیراعلیٰ صاحب! اور اب ضلع تلہ گنگ۔۔۔۔۔

    شاہد اعوان، بلاتامل

    اللہ کے تقرب کا ثبوت مخلوق سے محبت میں پنہاں ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ سے محبت کرنے والا اللہ کی مخلوق سے محبت نہ کرے ۔ خالق نے اپنی ذات کو مخفی رکھا ہے اور صفات کو آشکار فرمایا ہے ۔ مقربینِ حق کی زندگیوں کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ وہ ہمیشہ انسانوں کی خدمت میں پیش پیش رہے ۔ مولا علی علیہ السّلام فرماتے ہیں کہ اللہ کی ایک صفت ہر انسان کے اندر موجود ہوتی ہے۔ اگر ہم دنیا میں دیکھیں کہ جس انسان نے مخلوق کی خدمت کی وہ ہر مقام پر معتبر ٹھہرا چاہے وہ سماجی شعبہ ہو یا سیاست کا میدانِ کارزار ، مخلوق کو اس کا جائز مقام دلانے والے کی شہرت کے چرچے دنیا میں ضرور عام ہوتے ہیں اور یہ سلسلہ قیامت تک اسی طرح جاری رہے گا ۔
    ہمارا آج کا موضوعِ سخن وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی ہیں جو اس سے قبل بھی مشرف دور میں اس عہدہ جلیلہ پر فائز رہ چکے ہیں انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں پنجاب کے لوگوں کی بھلائی کے بہت سے منصوبے دئیے جن میں عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لئے1122جیسا ادارہ قائم کیا ، مختلف اضلاع میں ہسپتالوں کا قیام ، شہروں میں وارڈن سسٹم جبکہ دور دراز دیہی علاقوں میں پولیس چوکیاں اور فورس بنائیں۔ 18سال گزر جانے کے باوجود بعد کی حکومتوں نے ان کے قائم کردہ نئے اداروں پر جان بوجھ کر زیادہ توجہ نہ دی اور سرکاری فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث ان اداروں کی صلاحیتوں میں کمی آتی چلی گئی تاہم ان اداروں کی اہمیت و افادیت سے بہرطور انکار نہیں کیا جا سکتا۔ انہیں دوبارہ اقتدار میں آئے ہوئے ابھی ایک ماہ بھی نہیں ہوا اور وہ مکمل طور پر اپنی ذمہ داریاں بھی سنبھال نہیں سکے کہ انہوں نے اپنے آبائی ضلع گجرات کو ڈویژن کا درجہ دے کر ثابت کر دیا کہ وہ اپنے علاقے سے کس قدر محبت رکھتے ہیں ان کا یہ اقدام لاکھوں انسانوں کے دل کی آواز تھا۔ ضلع منڈی بہائوالدین جو اس سے قبل گجرات کی ایک تحصیل تھی اس کو ضلع کا درجہ بھی انہوں نے دلایا تھا اسی طرح ضلع حافظ آباد اور گجرات پر مشتمل اس ڈویژن کی بہت سی قدریں یکساں ہیں ، اگر اس ڈویژن میں جہلم کو بھی ملا لیا جاتا تو ڈویژن کی قدر و قیمت مزید دوچند ہو جاتی۔ چوہدری پرویز الٰہی نے وسعت قلب کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی آبائی دھرتی کا قرض اتارکر اس علاقے کی تعمیر و ترقی کے نئے دروا کرد ئیے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو تلہ گنگ سے بھی کئی بار انتخاب لڑنے کا موقع ملا ہے اور اس علاقے کے لوگوں نے انہیں کبھی مایوس بھی نہیں کیا، موجودہ قومی اسمبلی کی سیٹ بھی انہی کے گھرانے میں چوہدری شجاعت حسین کے صاحبزادے چوہدری سالک حسین کے پاس ہے ۔ 1985ء سے تلہ گنگ کے باسیوں کے ساتھ وعدہ خلافی ہوتی آرہی ہے کہ وعدہ تھا تلہ گنگ کو ضلع بنانے کا مگر تان چکوال کو ضلع بنا کر ٹوٹی جس میں غیر فطری طور پر تلہ گنگ کو اٹک سے الگ کر کے چکوال میں شامل کر دیا گیا جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ ترقیاتی کاموں میں تلہ گنگ کو ہمیشہ دوسرا درجہ دیا گیا۔ اعوان کاری کے اس تاریخی خطے کو الگ شناخت کی قدرتی طور پر بھی اشد ضرورت ہے یہاں کی زبان ، رہن سہن، کلچر، جغرافیائی حیثیت اس بات کے متقاضی ہیں کہ تحصیل تلہ گنگ اور تحصیل لاوہ پر مشتمل ایک نیا ضلع معرض وجود میں آئے جو وقت کی ضرورت بھی ہے اور اس کے لئے کافی عرصہ سے مقدور بھر کوششیں بھی کی جاتی رہی ہیں اور اپنی جگہ تلہ گنگ کا ہر باسی ’تلہ گنگ ضلع بنائو تحریک‘ کے لئے اپنی آواز بلند کرتا رہا ہے اور اس مشن میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ اس ضمن میں سرفہرست جرنیلِ صحافت خوشنود علی خان سے لے کر تلہ گنگ کے مقامی میڈیا نمائندگان میں ملک میاں محمد، محمد افضل اعوان، فاروق علی خان ، محسن قیوم ، چوہدری غلام ربانی اور نوجوان صحافی دوستوں کی ایک بڑی تعداد اس مطالبے کی بازگشت میں شامل رہی، فقیر بھی اپنی جنم بھومی کے عشق میں اپنے کالموں کے ذریعے اس قلمی جدوجہد کا حصہ بنا رہا۔اسی طرح سماجی شعبے میں ممتاز ٹرانسپورٹر ملک حاکم خان ، ڈاکٹر آفتاب حیات اور ان کے دوست احباب کے علاوہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر ملک محمد حسین اور ان کی ٹیم گلے پھاڑ پھاڑ کر ’تلہ گنگ ضلع بنائو مہم‘ میں ہراول دستہ کا کردار ادا کرتے رہے ۔ ضلع کا وعدہ تو میاں نواز شریف نے 2013ء کے انتخابی جلسے میں تلہ گنگ کی سرزمین پر خود کیا تھا جس کے جواب میں تلہ گنگ والوں نے انہیں اس علاقہ سے بھاری مینڈیٹ دے کر اقتدار میں لایا مگر حکومت ملتے ہی میاں صاحب اور ان کی پارٹی کے مقامی لیڈران کو اپنا وعدہ وفا کرنا بھول گیا۔ چونکہ چوہدری پرویز الٰہی تلہ گنگ کو اپنا دوسرا گھر بھی کہتے ہیں اور اپنے اصلی گھر گجرات کوڈویژن کا درجہ دینے کے بعد اب دوسرے گھر تلہ گنگ کی باری ہے جس کے لئے انہیں تکنیکی موشگافیوں میں پڑنے کے بجائے جس طرح گجرات کو آناٌ فاناٌ ڈویژن بنا دیا اسی تلہ گنگ کو ضلع کا درجہ دینے میں دیر نہیں لگانی چاہئے۔ بابائے سیاست سردار ممتاز خان ٹمن ، سردار منصور حیات ٹمن ، بزرگ لیگی راہنما ملک سلیم اقبال، کرنل سلطان سرخرو اعوان، شہریار اعوان اور دیگر سیاسی شخصیات کو ذاتی سیاست سے بالاتر ہو کر صرف تلہ گنگ کی خاطر ایک ہونا ہو گا اور ہر ایک کو اس اجتماعی مقصد کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا۔ اس حوالے سے سب سے بڑھ کر چوہدری صاحب کے دستِ راست سابق صوبائی وزیر حافظ عمار یاسر تلہ گنگ کی حقیقی آواز بن کر وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی سے تلہ گنگ ضلع کا مطالبہ منوانے کی خاطر لاہور میں ڈیرے ڈال لیں اور اس وقت تک تلہ گنگ واپس نہ لوٹیں جب تک ضلع تلہ گنگ کا نوٹیفکیشن ان کے ہاتھ میں نہ آ جائے۔ یقینا ان کا یہ ’’کارنامہ‘‘ ناصرف ان کے سیاسی قد کاٹھ میں اضافے کا باعث ہو گا بلکہ مستقبل کی سیاست میں ان کے لئے ایک نیا سنگ میل ثابت ہو گا ۔ علاقے کی تعمیروترقی تب ہی ممکن ہے جب وہاں کے باسیوں کو اپنے نزدیک ترین انتظامی دفاتر میسر آجائیں۔ ٹمن تحصیل ہیڈکوارٹر کی تمام سہولتوں سے پہلے ہی مزین ہے یہاں صرف ٹی ایچ کیو ہسپتال اور ڈی ایس پی آفس کی سہولت دے کر اسے تحصیل بنانے میں کوئی امر مانع نہ ہے، جبکہ ضلع میں ایک اور مجوزہ تحصیل ہیڈکوارٹر تھوہا محرم خان بھی نئی دریافت ہو سکتا ہے۔ جب ضلع بن جائے اور اگر ضرورت محسوس کی گئی تو خوشاب اور اٹک اضلاع کے ملحقہ موضع جات بھی ضلع تلہ گنگ میں شامل کیے جاسکتے ہیں۔ یقینا تلہ گنگیوں کے لئے ضلع کی یہ نوید کسی عید سے کم نہ ہوگی ۔ امید واثق ہے کہ تلہ گنگ میں نو تعینات اسسٹنٹ کمشنر اور ہمارے دیرینہ دوست عدنان انجم راجہ اپنی سابقہ شاندار روایات کو قائم رکھتے ہوئے ضلع کے لئے درکار دیگر سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے اور اگر وہ ترقی پا کر تلہ گنگ کے پہلے ڈپٹی کمشنر بھی بن جائیں تو ایک خوشگوار اضافہ ہو گا۔

    Shahid-Bla-Ta-Amul
  • میرا گاؤں میری جنت

    میرا گاؤں میری جنت

    شاہد اعوان، بلاتامل

    پاکستان کی 70%سے زائد آبادی دیہاتوں میں آباد ہے جس میں بیشتر کو بنیادی سہولتیں میسر نہیں ۔ دیہات کے جفاکش کسان محنت کر کے غلہ اگاتے ہیں اور پورے ملک کے لئے اناج فراہم کرتے ہیں۔ جہاں جہاں وسیع رقبے ہیں وہاں کے بڑے زمینداروں کو جاگیردار یا سردار کہاجاتا ہے، کچھ ریٹائر فوجی افسران کو جاگیریں الاٹ ہوتی ہیں، جاگیرداروں کے علاوہ کم زمین کے مالکان کو زمیندار کہاجاتا ہے جو بمشکل اپنی زندگی گزر بسر کرتے ہیں ان کی معاشرتی زندگی بڑی دشوار گزار ہوتی ہے۔ بقول شاعر:
    دہقاں ہے کسی قبرکا اُگلا ہوا مردہ
    کفن جس کا ابھی زیر زمین ہے
    ابتدائیہ تو دیہاتی زندگی کا ایک اجمالی نقشہ ہے اصل موضوع تو میرا گاؤں اور خدمت کے جذبے سے سرشار گاؤں کے بے لوث نوجوانوں کے ایک گروپ کا تذکرہ ہے جن کے دلوں میں قدرت نے اپنے گاؤں کی محرومیوں اور ناہمواریوں پر ماتم کرنے اور حکومتوں کے آگے دست نگر ہونے کے بجائے اپنی مدد آپ کے تحت اپنی مٹی کا قرض اتارنے کی امنگ پیدا کی ۔ اس سے قبل کہ ان بہادر اور غیور دیہاتی نوجوانوں کے کارنامے بیان کروں اپنے گاوں کے تعارف کے لئے چند سطریں لکھنا ضروری ہیں۔ میرا آبائی گاؤں’کھوئیاں‘ تحصیل تلہ گنگ کے پسماندہ ترین دیہاتوں میںشمار ہوتا ہے یہ گاؤں تلہ گنگ کے معروف قصبہ’ ٹمن‘ کی حدود ختم ہوتے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ اسی گاوں میں میرا بچپن اور لڑکپن گزرا تاہم باقی کی ساری زندگی پردیس کی خاک چھانتے گزر گئی ہے۔ کھوئیاں کا شمار ان تاریخی دیہاتوں میں ہوتا ہے جہاں مغلیہ دور یا اس سے قبل کے زمانے کے آثار نمایاں ہیں، شیر شاہ سوری نے جہاں پشاور سے کلکتہ تک جی ٹی روڈ کی بنیاد رکھی وہاں اطراف میں جی ٹی روڈ تک پہنچنے کے لئے رابطہ سڑکوں کی تعمیرات بھی کی۔ دریائے سواں کے پار واقع موضع تراپ جو اب ’سی پیک‘راہداری کی وجہ سے معروف ہو چکا ہے وہاں شیر شاہ سوری کے زمانے کی ایک ’’باؤلی‘‘تھی جسے ہم مقامی زبان میں ’’واں‘‘ کہتے ہیں ، یہ دراصل ایسا اندھا کنواں ہوتا ہے جسے انسانوں کے علاوہ گھوڑوں اور ہاتھیوں وغیرہ کے پینے کے پانی کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا جس میں اترنے کے لئے سینکڑوں سیڑھیاں بنائی جاتی تھیں جہاں سے انسان بھی آسانی سے پانی بھر لیتے تھے اور جانور بھی خود نیچے اتر کر پانی نوشِ جاں کرلیتے۔ تراپ سے آگے ملتان خوردمیں بھی ایسی ہی ایک ’’واں‘‘ موجود تھی جب ہم بچپن میں ملتان خورد پڑھنے جایا کرتے تھے تو یہ ہمارے راستے میں آتی تھی اور مقامی لوگ وہاں سے پانی حاصل کیا کرتے تھے اب شاید اسے بند کر دیا گیا ہے۔ البتہ ہمارے دوست اسسٹنٹ کمشنر جنڈ عدنان انجم راجہ نے ایک ملاقات میں بتایا کہ انہوں نے تراپ کے مقام پر اس تاریخی کنویں کو محفوظ کر کے دلکش بنا دیا ہے ۔ ہم ان سطور کے ذریعے اسسٹنٹ کمشنر تلہ گنگ ندیم بلوچ سے بھی درخواست کریں گے کہ وہ ملتان خورد کے اس قدیم تاریخی ورثے کو محفوظ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
    خیر بات ہو رہی تھی میرے گاؤں کی، تو ٹمن سے شروع ہونے والا ایک برساتی نالہ ’’منجالہ‘‘ کھوئیاں اور ملتان خورد سے گزر کر شاہ محمد والی کے مقام پر دریائے سواں میں جا گرتا تھا اب ’’منجالہ‘‘ بھی تاریخی ورثہ نہیں رہا قبضہ گروپوں نے اس ورثے کو یرغمال بنا لیا ہے۔ میری عمر یا اس سے زائد عمر کے لوگوں نے اس برساتی نالے کے جو نظارے اپنی آنکھوں سے دیکھ رکھے ہیں وہ اب خواب معلوم ہوتے ہیں۔ اپنی جنم بھومی کے بارے لکھتے لکھتے شاید جذباتی ہو گیاہوں، کالم کے آغاز میں گاؤں کے ان ہونہار نوجوانوں کا ذکر کیا تھا جنہوں نے اپنے گاؤں کی پسماندگی کو ختم کرنے کے لئے 2018ء میں ایک فلاحی تنظیم کی بنیاد رکھی جس کو ’اتحاد ویلفیئر سوسائٹی کھوئیاں‘ کا نام دیا گیا یہ تنظیم ان نوجوانوں کے زرخیز ذہنوں کی اپنی اختراع تھی جس کا پہلے پہل لوگوں نے مذاق بنایا جیسا کہ رفاعی کاموں کے آغاز میں عموماٌ ہوا کرتا ہے اس تنظیم کے بانیوں میں ملک جاوید اقبال سیارا، ملک مختار احمد، ملک منیر احمد، حمزہ اوردیگر شامل تھے۔ اس ویلفیئر سوسائٹی کی سرپرستی گاؤں کی معروف فیملی کے ملک شہبا ز خان جو عرصہ دراز سے امریکہ میں مقیم ہیں اور پیشے کے اعتبار سے طب کے شعبے سے منسلک ہیں ، جبکہ اس خاندان کی ہونہار بیٹی ڈاکٹر عابدہ ملک نے کرنا شروع کی جو اب بھی جاری ہے ۔ چند ماہ قبل جب بذریعہ سوشل میڈیا ان سے رابطہ ہوا تو انہوں نے بھلائی کے اس کام میں ’’شریک کار ‘‘ ہونے سے انکار کیا اور کہا کہ سب کچھ گاؤں کے نوجوان کر رہے ہیں۔ ان کی اس بات نے میرے چودہ طبق روشن کر دئیے کہ اصل صدقہ جاریہ اور ثواب کمانے کا یہی انداز ہونا چاہئے کہ بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چلے کہ دائیں ہاتھ نے کسی کی مدد کی ہے۔ بہرکیف یہ ان کا بڑا پن ہے اور اپنے گاؤں سے عقیدت و محبت کا ایک انوکھا اظہار ہے اللہ ان کے عمل و کردار کو مزید دوام بخشے۔ مذکورہ تنظیمی نوجوانوں نے سب سے پہلے گاؤں کی گلیوں کو ایسا پختہ کیا کہ وہ کئی سالوں تک مرمت کی محتاج نہیں رہیں جسے گاؤں کے ’’سیانوں‘‘ نے سیاسی رنگ بھی دینے کی کوشش کی ہو گی مگر ان نوجوانوں کی نیت صاف اور ارادے پختہ تھے اور ان کے دل میں صرف اللہ کی خوشنودی اور اپنی جنم دھرتی کے لئے کچھ کر گزرنے کا جنون سوار تھا۔ اس تنظیم کے تحت انہوں نے گاؤں کے چند نادار بے گھر افراد کو مکان بھی بنا کر دئیے اور یہ سلسلہ ابھی رکا نہیں بلکہ اس میں مزید رنگ بھرنے میں مصروفِ عمل ہیں۔ گاؤـں کو ماحولیاتی پاکیزگی کے لئے روڈ کے اطراف سایہ دار درخت لگانے کے کام کا آغاز کیا گیا، قبرستان میں درخت لگائے جا چکے ہیں، گاؤں کی حدود میں لاری اڈے کے اطراف میں کھجور کے خوبصورت پودے لگائے گئے ہیں اور ان کی آبیاری کا خاطر خواہ انتظام بھی کیا گیا ہے اب وہاں سے گزرنے والے ہزاروں افراد اس خوشگوار تبدیلی کو دیکھ کر پوچھنے پر مجبور ہیں کہ اس سب کے پس پردہ آخر کون ہے؟ کیونکہ یہاں پر کسی سیاسی شخصیت کے نام کی تختی نظر نہیں آتی یقینا یہ سب ان بے لوث نوجوانوں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔
    زمانہ قدیم میں اس تاریخی گاؤں کی واحد گزرگاہ یقینا برساتی نالہ ’’منجالہ‘‘ ہی رہا ہوگا جو تلہ گنگ تک جاتا ہو گا اس سے آگے ٹمن کا نالہ ’’انڈکر‘‘ بھی ہے جہاں موسم برسات میں اتنا پانی آجاتا کہ کئی کئی روز یہ علاقہ تلہ گنگ سے کٹ کر رہ جاتا تھا۔ چند روز قبل اتحا دویلفیئر سوسائٹی کھوئیاں کے روحِ رواں ملک مختار احمد اور عزیزم حسن ناصر نے فقیر کو دعوت دی کہ وہ17جولائی کو گاؤں میں فری میڈیکل کیمپ لگا رہے ہیں جس میں سپیشلسٹ ڈاکٹرز لاہور سے تشریف لائیں گے، دنیاوی جھمیلوں کے باعث اس کیمپ میں شرکت کے لئے نہ جا سکا۔ یہ تنظیم اب صرف ضلع چکوال تک محدود نہیں بلکہ پنجاب بھر میں اپنی مثال آپ ہے جس کے لئے گاؤں کے مکینوں نے ایسی مثال قائم کی ہے جو دیگر دیہاتوں کے رہنے والوں کے لئے ایک مثال ہے۔ کھوئیاں کے یہ نوجوان علاقہ کے لئے باعث صدر افتخار ہیں ان کی تعریف و توصیف ہم پر لازم ہے، البتہ گاؤں پر تحقیق کی ذمہ داری میرے عزیز بھتیجے نوجوان صحافی حسن ناصر اور ان کے دوست ملک لیاقت اعوان کے سپرد کرنا چاہتا ہوں کہ وہ گاؤں کے بزرگوں سے رابطہ کر کے اپنے گاؤں پر ایک تحقیق مرتب کریں اس مقصد کے لئے ہمارے استاد محترم ملک فتح خان مرحوم و مغفور کے خانوادے کے ملک محمد اسلم سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ اللہ ہماری نوجوان نسل کے اس نیک مشن میں مزید برکتیں اور ثابت قدمی عطا فرمائے ۔

    Shahid-Bla-Ta-Amul

    شاہد اعوان

  • حرف حرف چراغ کی آپ بیتی

    حرف حرف چراغ کی آپ بیتی

    شاہد اعوان، بلاتامل

    چیختے ہیں حیات کے لمحے
    ٹیس زخموں میں پھر اٹھی ہے شاید
    شوق و غم کے ملے جلے جذبات کو الفاظ کے آئینے میں اتارنا بڑا دشوار ہوتا ہے کیونکہ ایسے مقام پر گویائی کے قرینے ساتھ چھوڑ جاتے ہیں، اظہار کی جرأتیں دم توڑ دیتی ہیں۔ جب کبھی بھی ساز پر چوٹ پڑتی ہے تو وہ اپنے ظرف کے مطابق کوئی نہ کوئی آواز ضرور نکالتا ہے ایسی صورتحال میں جب دل ونظر کی تاروں کو چھیڑا جائے تو جہاں خوشی کے نغمے پھوٹتے ہیں وہاں چیخوں سے مشابہ سُریں بھی نکلتی ہیں ۔ اشک غم کی علامت ہوتے ہیں اور تبسم خوشی کا ثبوت ، صدف کی قدرو قیمت موتی کے دم سے وابستہ ہے ان موتیوں کو کوئی صاحبِ دل جوہری ہی سمجھ سکتا ہے۔ اس تمہید کو طوالت دینے کے بجائے اس دل فگار شخصیت کا تعارف مطلوب ہے۔
    اہلِ نظر بھی پڑھ نہ سکے اقتباسِ غم
    چہرہ اَٹا ہوا تھا یوں گردوغبار میں
    اُن کی شخصیت ہشت پہلو ہے وہ جہاں خالص فوجی ہیں وہاں ماہر تعلیم بھی ہیں۔ راہوں میں پڑا ہوا سنگلاخ پتھرمحرضِ شکل میں کس طرح نمودار ہوتا ہے؟ عامی یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ قلمکار اپنے فن کو تخلیق کرنے کے لئے شب و روز احساس و فکر کی صلیب پر لٹکا رہتا ہے تب کہیں شاہکار بنتا ہے عامیوں کو یہ شاہکار بنا بنایا ملتا ہے اس لئے تماشائی داخلی کیفیات کے اس لطفِ کرب سے عاری ہوتے ہیں، جہاں کہیں اچھی تخلیق دیکھیں سمجھ لیں کہ کوئی نہ کوئی سچ مصلوب ہوا ہے۔ یہی کیفیت پروفیسر ملک محمد نواز کی شاہکار ’’سرگزشتِ دلنواز‘‘ کے 495صفحات میں آپ کو نظر آئے گی کتاب کے ورق ورق پر افکار کی سسکیاں اورا ٓہیں سننے کو ملیں گی، انہوں نے روایتی اور افسانوی اسلوب کو ترک کر کے تحریر میں حقیقی رنگ بھرے ہیں اور کوئی تصنع یا بناوٹ کہیں نظر نہیں آتی۔ بندہ فقیر کی پروفیسر ملک محمد نواز سے 21فروری2022ء کو اُن کے دولت خانے تلہ گنگ میں پہلی بالمشافہ ملاقات تھی انہوں نے مجھے جتنی محبت اور شفقت دی وہ میرے لئے قیمتی اثاثہ ہے۔ گھر واپس لوٹ کر ان کی عنایت کردہ ’آب بیتی‘ کا مطالعہ شروع کیا تو جی یہی کرتا تھا کہ ایک ہی نشست میں ختم کر لوں لیکن کتاب میں شامل واقعات اور کہانیاں اتنی دلچسپ اور سبق آموز ہیں کہ انہیں بار بار پڑھنے کو جی چاہتا ہے ۔ آپ بیتی اور جگ بیتی میں فرق یہ ہے کہ آپ بیتی میں کئی مقامات پر انسان جھول کھا جاتا ہے اور کہیں کہیں افسانوی رنگ بھی بھرنا پڑتا ہے، جبکہ جگ بیتی چونکہ دوسرے کی ہوتی ہے اس میں چسکے لے لے کر اور غیر ضروری چیزوں کو شامل کرکے کسی کو اونچا یا نیچا دکھایا جاسکتا ہے۔ حق گوئی ایک مشکل کام ہے تاہم پروفیسر صاحب کی حقائق پر مبنی کہانیاں خود پکار پکار کر اپنی سچائی کی گواہی دے رہی ہیں کہ موجودہ صدی میں جب انسان محض دولت کے زور پر یا عہدوں کے پیچھے چھپ کر اپنی ذات بدلنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے ، ایسے میں موصوف نے کھلے دل و دماغ سے سچ اور صرف سچ ہی بیان کیا ہے ۔ تلہ گنگ اور وادیٔ سُون کی بہت سی جہتیں ناصرف ملتی ہیں بلکہ زبان، کلچر، طرزِ بودوباش سب ایک جیسے ہیں اس دھرتی کے مکین اپنا مافی الضمیر چھپانا بھی چاہیں تو چھپا نہیں سکتے کہ ان کا چہرہ الفاظ کا ساتھ نہیں دیتا، دشمنیاں بھی کھلم کھلا ہوتی ہیں اور دوستیاں بھی قبرستان تک جاتی ہیں۔ پروفیسر صاحب جہاں جہاں بھی رہے ان علاقوں کے جغرافیے اور تاریخ کو سپردِ قرطاس کر دیا یہی وجہ ہے کہ قاری کوکتاب کا مطالعہ کر کے بہت سی معلومات ملتی ہیں۔ مصنف نے دوستوں یا خونی رشتوں میں ذرا کوتاہی یا جھول دیکھا تو اسے تحریر میں لانے میں بالکل بھی بخل سے کام نہیں لیا ۔ یقین جانئے ان کی دکھ بھری کہانیاں پڑھ کر کئی بار اشکبار بھی ہوا، انہوں نے اپنے والدین کی جس طرح خدمت کا حق ادا کیا وہ بھی نوجوان نسل کے لئے ایک نمونہ اور سبق ہے۔ ملک صاحب اپنی پیاری بیٹی ڈاکٹر فرزانہ کا بار بار ذکر کر کے اور اس کی کامیابیوں کی داستان بیان کر کے باپ بیٹی کے ازلی محبت بھرے رشتے کو اجاگر کرتے ہیں، بلاشبہ وہ بہادر اور سچے باپ کی ہونہار صاحبزادی ہیں دعا ہے اللہ انہیں مزید کامیابیوں سے نوازے اور ان کی طرح سب بیٹیوں کو ماں باپ کے لئے قرار و سکون کا باعث فرمائے۔ صاحبِ کتاب نے جس طرح اپنے دوستوں کو کھلے لفظوں میں خراج پیش کیا ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے دوست احباب کے لئے کس قدر نیک جذبات رکھتے ہیں اور اسے بیان کرنے میں کنجوسی کا مظاہرہ ہرگز نہیں کرتے ۔ پروفیسر ملک محمد نواز کی تحریریں اتنی عمدہ اور اردو ادب کا ایسا خوبصورت شاہکار ہیں جنہیں نصاب کا حصہ بننا چاہئے تاکہ وہ طلبا کے لئے زندگی کے سفر میں چراغِ راہ ثابت ہوں۔ پروفیسر صاحب ایک بے ضرر انسان ہیں وہ پہلی ملاقات ہی میں ایسا تاثر چھوڑتے ہیں جو دیر تک اپنے حصار میں جکڑے رکھتا ہے ۔ میرے پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ پروفیسر ملک محمد نواز کی آپ بیتی کا ضرور مطالعہ کریں یہ معلومات کا بیش بہا انمول خزانہ ہے۔

    Shahid-Bla-Ta-Amul

    شاہد اعوان