معاشرتی اقدار سے بغاوت اور جنونی انتہاپسندی

تحریر: شہزاد حسین بھٹی
کالم: دُرریز
ملک میں آئے روزدل خراش واقعات جس تیزی کے ساتھ سانحات کی شکل میں جنم لے رہے ہیں یہ ہمارے اسلامی معاشرے کے لیے زہر قاتل ہیں۔ حالیہ واقعہ لاہور کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو ایک طرف اس واقعہ کی پُرزور مذمت کی جارہی ہے تودُوسری طرف کچھ مذہبی طبقہ فکر اس واقعہ کو کسی دوسرے رنگ میں پیش کر رہے ہیں۔پاکستان اس خطے میں پہلی ریاست ہے جو دو قومی نظریئے کی بنیاد پرمعرض وجود میں آئی۔ہمارا کلچر ہماری ثقافت کسی طرح بھی مادر پدر آزاد مغرب سے مطابقت نہیں رکھتی،بلکہ ہمارا ایک علیحدہ تشخص اور پہچان ہے۔ ایک وقت تھا کہ کوئی بھی غیر مسلم،مسلمان خاتون کی بڑی آسانی سے شناخت کر لیتا تھا۔اس کا اسلامی لباس، کلچر اور روایات وہ بنیادی اساس تھیں جو دیگر مذاہب کی خواتین سے مسلمان عورتوں کو ایک جداگانہ حیثیت دیئے ہوئے تھیں۔آج بدقسمتی سے ہم رہنا تو مسلمان چاہتے ہیں لیکن اپنے رہن سہن اور تہذیب و تمدن سے بغاوت کرتے ہوئے مغرب کے دلدادہ نظر آتے ہیں۔ ہماری آج کی پڑھی لکھی خواتین جو خود کو روشن خیالی کے نام پر مغربی ثقافت اور عریاں لباس کے ذریعے یہ بتانے پر بضد ہیں ہم ماڈریٹ کلچر کے ذریعے ہی خو د کو روشن خیال ثابت کر سکتے ہیں،گو کہ غلامی کے اثرات دوسو سال تک دماغوں پر راج کرتے ہیں۔ ہم آزادی کے75 ویں سال میں داخل ہو چکے ہیں لیکن ہمارے ذہنوں سے ابھی تک فرنگی سرکار کی برتری نمایاں نظر آتی ہے۔ ہماری خواتین اپنے روائیتی لباس کے بجائے مغربی لباس پہن کر فخر محسوس کرتی ہیں جو کہ ذہنی غلامی کا ایک واضح ثبوت ہے۔


14 اگست کو یوم آزادی پر گریٹر اقبال پارک میں مینار پاکستان پر جو واقعہ رونما ہوا انتہائی قابل مذمت ہے اس کی کسی طرح بھی حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی لیکن ہمیں یہ بھی سوچنا ہو گا کہ اس سے پہلے لاکھوں، کروڑوں خواتین مینار پاکستان کا دورہ کرچکی ہیں اُن کے ساتھ کبھی کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آتا۔مینار پاکستان کی تعمیر کے بعد ترپن سالوں میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ ایک خاتون ٹک ٹاکر نے مینار پاکستان پر جا کر بقول عوام قابل اعتراض لباس میں وڈیو شوٹ کی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مینار پاکستان ہمارے لیے ایک مقدس جگہ ہے جہاں 23 مارچ 1940 کو قراردار پاکستان منظور ہوئی اور یہ قرار داد دو قومی نظرئیے پر مشتمل تھی۔ سب سے پہلے تو یہاں دو قومی نظرئیے کی نفی کی گئی ایسا لباس پہن کر،جو ہمارے اسلامی کلچر سے مطابقت نہیں رکھتا، دوسری یہ بات کہ اس مقدس جگہ پر قابل اعتراض لباس میں وڈیو شوٹ کرناکسی طرح بھی مستحن عمل نہیں۔ اگر ایسا سلسلہ چل نکلا تو کل کلاں اس سے سنگین واقعات بھی رونما ہو سکتے ہیں۔مقدس مقامات کی حرمت کے تقاضے کو بھی مد نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ کئی غیر مسلم خواتین جب بادشاہی مسجد میں داخل ہوتی ہیں تو وہ اپنے سروں کو ڈھانپ کرحجاب کی صورت مسجد کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھتی ہیں۔یہاں پر مینار پاکستان کے تقدس کی پامالی بھی عیاں ہے۔
ٹک ٹاکرز کایہ سلسلہ ہماری مساجد تک کی بے حرمتی کا سبب بن چکا ہے اور مساجد میں گانے اور رومانوی سین فلم بند ہو چکے ہیں جس پر ایف آئی آرز بھی درج ہوئیں۔ اسی طرح اسلام آباد ایکسپریس وے پر قائد اعظم کے مانومنٹ پر ایمان اتحاد تنظیم کے زیر سایہ بے ہودہ اور قابل اعتراض سین بنا کر قائد اعظم کے افکار کی توہین کی گئی جس پر اسلام آباد میں ایف آئی آردرج ہوئی لیکن نہ تو ملزمان گرفتار ہوئے اور نہ ایسے تمام واقعات پر کسی کو کوئی سزاء دی جا سکی۔اب یہ ٹک ٹاک کا سلسلہ ہماری تاریخی مساجد، ہمارے مقدس درباروں اور تاریخی عمارات کو بھی اپنی لپیٹ میں لیے جا رہا ہے۔ آخر اس سلسلے کو لگام کس نے ڈالنی ہے۔ جب بھی قوانین کمزور پڑ جاتے ہیں تو پھر جنونی صفت قانون کو اپنے ہاتھ مین لے کر خود فیصلہ سازی پر اُتر آتے ہیں۔ مینار پاکستان کا واقعہ بھی ایسی سوچ اور ردعمل کا نتیجہ ہے جس کے ذریعے ہمارے آزادی کے دن سوچی سمجھی سازش کے تحت ملک پاکستان کی بدنامی مقصود تھی اگرچہ حکومت نے ٹک ٹاک ایپ پر کچھ عرصہ پابندی بھی لگائی مگر مغرب زدہ بااثر اشرافیہ جس میں کچھ غیر ملکی این جی اوز بھی شامل ہیں نے اپنا دباؤ بڑھا کر اس سلسلے کو رواں دواں کر لیا۔ سوچنے کی بات ہے کہ ٹک ٹاکر ملک کی کیا خدمت کر رہے ہیں ماسوائے اسلامی تشخص، کلچر، روایات، اخلاقیات کو تباہ اور بے راہ روی کو تقویت دینے کے؟۔
جب بھی کوئی قوم اپنی روایات، ثقافت اور تشخص سے بغاوت کرتی ہے تو کچھ جنونی لوگوں کو بھی جنم دیتی ہے جو بندر کے ہاتھ استرا لگنے کے مصداق قوانین کو اپنے ہاتھ میں لے کر سربازار فیصلہ کرنے پر تُل جاتے ہیں۔بدقسمتی سے بڑی سوچی سمجھی سازش کے تحت ہمارے معاشرے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ ایک طرف مذہبی جنونی طبقہ ہے تو دوسری طرف دین سے بے زار مغرب پسند طبقہ ہے۔ ان دو طبقاتی کشمکش میں آئے روز تصادم برپا رہتا ہے۔ کہیں میرا جسم میری مرضی کا نعرہ مستانہ بلند کر کے ایک طبقہ سڑکوں پر نکل آتا ہے اور دوسری طرف مذہبی طبقہ اس بغاوت کو کچلنے کے لیے پُرتشدد کاروائیوں سے بھی گُریز نہیں کرتا۔ ہماراپڑھا لکھا سنجیدہ اور اعتدال پسند طبقہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ شاید اس سوچ میں کہ وہ دو طبقات کے بیچ میں پِس کر نہ رہ جائے۔حالیہ واقعات میں سوشل میڈیا میں بھی ایک طرف ٹک ٹاکر کے حمایتی اپنے دلائل دیتے نظر آتے ہیں تو دوسری طرف مذہبی اور اپنے اسلامی کلچر سے جڑے لوگ ایسے واقعات کے خلاف اپنے دلائل دینے مصروف ہیں۔اس سارے معاملے میں ہمیں ریاست کہیں نظر نہیں آر ہی جو کہ ایک ماں کا کردار ادا کرتی ہے۔ ایسے اختلافات معاشروں کو پارہ پارہ کر دیتے ہیں۔ ایسی تفریق معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔ اس کی اگر روک تھام بروقت نہ کی گئی تو یہ ہمارے لیے انتہائی ناسور بن کر ہمیں لاعلاج مرض کی طرف دھکیل دے گی۔ لہذا حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے ملک کے لباس، کلچراورروایات کی پاسداری کرتے ہوئے ایسے قوانین واضح کریں جس میں عریاں لباس پہننے پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔ ایک مسلمان خاتون کا لباس ہی ثابت کرے کہ وہ ایک مسلمان خاتون ہے۔ اس کے لیے علماء کرام اور اہل دانش لوگ مل بیٹھ کر ضابطہ لباس مرتب کریں تاکہ کہیں پر ایسا واقعات رونما نہ ہوں۔ ساتھ ساتھ جنونی لوگوں کو بھی لگام دینے کی ضرورت ہے جو ہر چیز کا فیصلہ اپنے ہاتھ میں لے کرہمارے لیے جگ ہنسائی کا باعث بنتے ہیں۔ یہ اس صورت میں ہی ممکن ہے کہ ہم اپنی اسلامی روایات اور کلچر پر سختی سے کاربند ہو کر متنازعہ چیزوں کو اپنے معاشرے سے حذف کریں۔

social values

شہزاد حسین بھٹی

ایم ایس سی ماس کیمونیکشن، ایل ایل بی
مصنف،صحافی و کالم نگار   لاہور
سیکرٹری انفارمیشن، پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ,پنجاب،
سابق ایڈیٹر ہفت روزہ “سین “
مصنف  “کمرہ نمبر 109” کالموں کا مجموعہ ممبرنیشنل پریس کلب اسلام آباد،ممبرانٹرنیشنل پاور آف جرنلسٹس(آئی، پی، او ، جے)، ممبر آل پاکستان جرنلسٹس کونسل(اے پی جے سی)، ممبر ایمنسٹی انٹرنیشنل (اے آئی)

شہزاد حسین بھٹی

Next Post

طالبان کی واپسی

اتوار اگست 22 , 2021
گزشتہ چالیس برس سے افغانستان میں چوہے بلی کا کھیل جاری ہے ۔ چوہے نے ہار مانی اور نہ ہی بلی تھک کر بیٹھی ہے اس کھیل کی تاریخ ، فاتح عالم سکندر یونانی تک جاتی ہے
taliban