راجا زاہد حسین : ایک عہدِ خدمت، محبت اور ادب
آج میں اٹک کی ایک ایسی ہمہ جہت اور بھرپور علمی ادبی سماجی شخصیت کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں جسے اٹک کا رہنے والا ہر بندہ بہت اچھی طرح جانتا ہے. جو بھی ان سے ایک دفعہ مل لیتا ہے وہ ایسا گرویدہ ہو جاتا ہے کہ بار بار ملنے کی خواہش کرتا ہے. چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ، پر کشش سانولی رنگت، مسکراتی ہوئی روشن آنکھیں، خوش لباس اور وجیہ شخصیت، گفتگو ایسی کہ پھول جھڑتے ہوں جیسے، کسی تفریق کے بغیر ہر ایک کے کام آنا ان کی فطرت میں جیسے ودیعت کر دیا گیا ہو.
میونسپل کمیٹی اٹک میں کسی بھی شعبے میں کام ہو. آنے والا پہلے ان کے پاس آئے گا اور میں نے کبھی نہیں دیکھا یا سُنا کہ انہوں نے کھلے دل سے مسکراتے ہوئے اس کی راہنمائی نہ کی ہو. اکثر خود اُٹھ کر ساتھ جا کر کام کروا دیتے ہیں. بلدیہ میں جو کام کوئی بھی لینے کو تیار نہ ہو اپنے ذمہ لے لیتے ہیں اور پورا کر کے دم لیتے ہیں.
انہی خصوصیات کی وجہ سے میں اُنہیں کمیٹی کا راجا کہتا ہوں. چلیں جی اب تو آپ جان چکے ہوں گے کہ میں راجا زاہد حسین صاحب کے بارے میں بات کر رہا ہوں.
راجا زاہد حسین، راجا فیض محمد صاحب کے گھر 1966 میں پیدا ہوئے. آپ کا بھائیوں میں چوتھا نمبر ہے. کل پانچ بھائی اور تین بہنیں ہیں. فیض محمد صاحب پاک فوج میں حوالدار تھے. 1947 میں اُن کے خاندان کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پونچھ سے ہجرت کر کے پاکستان آنا پڑا. آپ کے والد صاحب کو اٹک کے موضع سگھری میں زمین الاٹ ہوئی. اور بعد میں وہ اٹک شہر میں آ کر آباد ہوئے.
راجا زاہد حسین صاحب نے 1985 میں گورنمنٹ ایف. جی بوائز ہائی سکول(جمشید) اٹک کینٹ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور اٹک کے تاریخی گورنمنٹ ڈگری کالج کیمبلپور، جو کہ آج کل گورنمنٹ گریجویٹ کالج اٹک ہے، میں داخلہ لیا.
راجا صاحب بچپن سے ہی بہت پھرتیلے اور شوقین مزاج تھے. مختلف کھیلوں میں حصہ لیا. بہت چھوٹی عمر سے ہی اداکاری، گلوکاری اور تقریر کا شوق تھا. جب کالج میں آئے تو ماہر اور شخصیت شناس اساتذہ نے اُن کے اس شوق کو مزید نکھار کر اس ہیرے کو پالش کیا. کالج کی ڈرامہ سوسائٹی میں شامل ہو کر سٹیج ڈرامے پیش کیئے. یہ شو اور ڈرامے گورنمنٹ کالج اٹک کے ہر دلعزیز اُردو کے پروفیسر انور جلال ملک اور پروفیسر ظاہر حسن فاروقی صاحب لکھتے تھے. تقریری مقابلوں میں بھی بھرپور حصہ لیا.
کچھ عرصے کے بعد پی. ٹی وی پشاور مرکز تک رسائی حاصل کی اور چند ہندکو اور اردو ڈراموں میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے. پشاور مرکز کے ڈرامے فریب، بھرم، دو ٹیسٹ اور جیو ٹی وی کے ڈرامے بند گلی میں کردار ادا کیئے. مگر اُس دور میں اس کام کا معاوضہ بہت کم ملتا تھا. یہی وجہ ہے کہ گھر والوں کا دباؤ بڑھا اور زاہد حسین صاحب میونسپل کمیٹی اٹک میں بطور جونیئر کلرک بھرتی ہو گئے. لیکن اپنی محنت، کوشش، ایمان داری اور خوش اخلاقی کی بدولت ہیڈ کلرک تک ترقی پائی. اس کے ساتھ ساتھ کلرک یونین ایپکا اٹک کے جنرل سیکرٹری ہیں. ہمدردی اور خدمت کے جذبے سے سرشار زاہد حسین بینائی سے محروم افراد کی تنظیم کے روحِ رواں اور کونسلر بھی ہیں اور اُن کی فلاح و بہبود کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں.
ادب سے فطری لگاؤ کی وجہ سے شاعروں، ادیبوں اور اہل قلم کے ساتھ ان کی محفلیں اور بیٹھکیں ہوتی رہیں. راجا زاہد حسین صاحب کے ساتھ میری پہلی ملاقات 2018 میں ہوئی. اور تب سے آج تک انہوں نے مجھے اپنی محبت میں جکڑ رکھا ہے. مجھ سے پہلے طاہر اسیر اور پروفیسر نصرت بُخاری بھی اُن کے گرویدہ تھے. اتنے برس بیت گئے شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو کہ میری اُن سے ملاقات نہ ہوئی ہو. ان سالوں میں میں نے اُنہیں صبح سے شام تک لوگوں کے کام آتے دیکھا ہے. لیکن آج تک کبھی اُن کے ماتھے پر بل نہیں دیکھا.
2021 میں بلدیہ اٹک میں دو پروگراموں کی ابتداء ہوئی ایک ماں بولی کا عالمی دن اور دوسرے کتاب میلہ، اُس وقت کے چیئرمین بلدیہ شیخ ناصر صاحب، وائس چیئرمین طاہر اعوان اور سی. او بلدیہ عظمت فرید وڑائچ صاحب کی کوششیں اپنی جگہ قابلِ ذکر و ستائش ہیں. مگر تب سے اب تک کتاب میلے اور دیگر ادبی پروگراموں کی کامیابی کا سہرا راجا زاہد حسین صاحب کے سر ہی سجتا ہے. اب تک پانچ کتاب میلے کامیابی سے انعقاد پذیر ہو چکے ہیں اور امسال 11 نومبر کو چھٹا کتاب میلہ سجنے جا رہا ہے. اٹک میں پہلی سرکاری ادبی تنظیم (اکادمی ادبیات کیمبل پور اٹک) کے قیام میں بھی ان کا کردار قابلِ ستائش ہے.
زاہد حسین صاحب بہترین منتظم اور پروگرام آرگنائزر ہیں. ہماری کوئی بھی ادبی تقریب، مشاعرہ، مذاکرہ یا تنقیدی اجلاس ہو اُس کے آرگنائزر اور مہمان نواز راجا صاحب ہی ہوتے ہیں. بلکہ ضلع کونسل اور میونسپل کمیٹی کے زیر انتظام ہونے والے تمام پروگراموں کو سجانے کے ساتھ ساتھ نظامت کے فرائض بھی نہایت احسن طریقے سے نبھاتے ہیں. اکادمی ادبیات کیمبل پور اٹک کے بانی رکن ہیں اور روحِ رواں ہیں.
1988 میں شروع ہونے والی بلدیہ اٹک کی نوکری آج 13 اکتوبر 2026 کو اختتام پذیر ہوئی. راجہ زاہد حسین نے زندگی کے تقریباً 38 سال لوگوں کی خدمت میں گزارے اور آج باعزت اور باوقار انداز میں اپنی سروس سے سبکدوش ہو گئے ہیں. آج بھی پہلے دن کی طرح مکمل محنت اور جانفشانی سے کام کرتے رہے. میں کہہ سکتا ہوں کہ کل سے آنے والا ہر شخص زاہد بھائی کو اچھے لفظوں میں یاد کرتا رہے گا اور یہی کامیابی کی علامت ہے. میری بلکہ ہم سب کی دعا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اللہ تعالیٰ راجا صاحب کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے اور صحت و سلامتی کے ساتھ طولِ عمر عطا فرمائے. علم و ادب ،ثقافت کے فروغ اور عوامی خدمت کا جذبہ ہمیشہ اسی طرح جوان رہے اور اکادمی ادبیات کیمبل پور اٹک کے پلیٹ فارم پر ہم سب اسی طرح اکٹھے رہیں. آمین ثم آمین
ریٹائرڈ او رینٹل ٹیچر
گورنمنٹ پائیلیٹ ہائر سیکنڈری اسکول
اٹک شہر
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔