علاقہ چھچھ کے ذاتی کتب خانے

تحریر: عزیرعاصم

علاقہ چھچھ علمی دنیامیں بخارا اور سمرقند کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کی شہرت کی بنیادی وجہ یہاں کی علمی خصوصا دینی فضا اور نامورعلمی شخصیات کا وجود ہے۔ چھچھ کے اس علمی پس منظر میں جہاں شخصیات قابل ذکر ہیں۔ وہاں ادارے خاص طور پر کتب خانے بھی اپنے بھر پورکردار کے ساتھ معروف ہیں۔ چھچھ کے ذاتی کتب خانوں میں حضرو کی نامورعلمی شخصیت خواجہ محمد خان اسد کا قائم کردہ کتب خانہ ادبی دنیا میں خصوصی شہرت رکھتا ہے۔ اس کتب خانہ کا با قاعدہ آغاز 1923ءمیں حضر وشہر کے محلہ عظیم خان میں ہوا۔ اس کے علاوہ کچھ مدارس اور خانقاہوں میں قائم کتب خانوں کا ذکر ملتا ہے۔ جن میں سے چند اہم کا اجمالی تعارف ذیل میں دیا جاتا ہے۔

مولانا نصیرالدین غورغشتوی کا کتب خانہ:

علم حدیث کے حوالے سے دنیا بھر میں شہرت رکھنے والے علاقہ چھچھ کے گاؤں غورغشتی کے شیخ الحدیث مولانانصیرالدین غورغشتوی کے ہاں کتب کا ایک وافر ذخیرہ موجودتھا۔ ان کتب میں زیادہ ترکتب مذہبی اورعلمی ضرورت کی تھیں۔ ان کتب سے نہ صرف طلبہ بلکہ عام آدی بھی استفادہ کر سکتے تھے۔ ان کتب میں کچھ قلمی نسخے بھی تھے جو ان کے مرید خاص خواجہ محمد خان اسد (بانی میرا کتب خان حضرو)نے اٹک کالج کی نمائش میں پیش کیے۔ اورمعروف محقق نذرصابری نے اپنی کتاب “فهرست مخطوطات” میں شامل کیا۔ جن کا حوالہ بعدازاں معروف ایرانی اسکالر محمد حسین تسبیحی  نے اپنی تحقیق نسخہ ہائے خطی پاکستان میں “کتب خانہ نصیریہ غورغشتی” کے عنوان سے کیا۔ اب ان مخطوطات اور کتب کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔

مفتی عثمان شمس آبادی کا کتب خانہ: 

تحصیل حضرو کے ذاتی کتب خانوں میں مفتی محمد عثمان صاحب شمس آبادی کے ذاتی کتب خانے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کتب خانہ میں کئی نادرونایاب اورقیمتی کتب کےنسخے موجود تھے۔ یہ ایک ذاتی اور نجی کتب خانہ تھا جس سے اہل علم استفادہ کرتے تھے۔ اس کتب خانہ کے بعض مخطوطات کا ذکر ڈاکٹر سفیراختر نے اپنی کتاب ” راولپنڈی ضلع اٹک اور ہری پور کے کتب خانے “میں کیا ہے۔ یہ کتب خانہ بھی مرور ایام سے اب قصہ پارینہ بن چکا ہے۔ 

میرا کتب خانه حضرو:

خواجہ محمد خان اسد کا قائم کردہ کتب خانہ بنام “میرا کتب خانه حضر” کے نام سے ایک معتبر شناخت کا حامل کتب خانہ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ کتب خانہ اپنے آغاز سے اب تک مشاقان علوم کی سیرابی میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کتب خانہ میں سولہ ہزار کے لگ بھگ کتب و رسائل موجود ہیں۔ جو سیرت، دینیات سوانخ ، تاریخ ، قران و حدیث ، فقہ وقانون، ادب و سیاست اور مکاتیب و خطبات جیسے اہم موضوعات پر مشتمل ہیں۔ کتب خانہ کا ایک حصہ ڈراموں مختصر افسانوں، تراجم ناول اور دوسرے موضوعات کے لیے وقف ہے۔ اس حصہ میں تقسیم سے قبل کے تمام معروف مصنفین کی کتب موجود ہیں۔ اہم بات ہے کہ تقسیم سے قبل اور بعد کے تمام اہم رسائل کی مکمل جلدیں موجود ہیں۔

 ملک اور بیرون ملک سے اکثر سکالرز ریسرچ کے لیے اس کتب خانہ میں آتے رہتے ہیں۔ ان زائرین کتب کی خدمت اور مہمان نوازی کے لیے بانی کتب خانہ کے جواں ہمت فرزند معروف ادیب جناب راشد علی زئی عمدگی سے سرانجام دیتے ہیں۔ ان کی محنت اور کاوش کی بدولت آج اس کتب خانہ کا شمار ملک کے چند اہم کتب خانوں میں ہوتا ہے۔

 حافظ نثار احمد الحسینی کا کتب خانہ:

 تحصیل حضرو کے ذاتی کتب خانوں میں ایک اہم کتب خانہ حافظ نثاراحمد الحسینی کا بھی ہے۔ یہ کتب خانہ ان کی خانقاه” خانقاہ امدادیہ” میں قائم ہے۔ اس کتب خانہ میں تمام علوم پر نہ صرف اہم کتب موجود ہیں بلکہ الگ الگ عنوانات سے کتابیں ترتیب سے ہیں۔ ان کتب کی کمپیوٹرائزڈ فہرست بھی موجود ہے۔ اس کتب خانہ کا تمام انتظام وانصرام حافظ نثار احمد خود ہی سرانجام دے رہے ہیں۔ اس کتب خانہ سے استفادہ کی سہولت تمام خاص و عام کے لیے ہے۔

ملک حق نواز خان کا کتب خانہ: 

تحصیل حضرو کی ایک اہم علمی شخصیت ملک حق نواز خان صاحب کی ہے۔ جو ہیڈ ماسٹر کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنا تمام وقت مطالعہ کے لیے مخصوص کیا ہوا ہے۔ ان کے کتب خان کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کے پاس غالبیات اور اقبالیات پر کتب کاوسیع ذخیرہ موجود ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صاحب کتب خانہ کو خودان دونوں موضوعات سے دلچسپی ہے لیکن عام آدی کی رسائی اور استفادہ کرنے کی سہولت موجودنہیں ہے۔

کتب خانه حافظ زبیرعلی زئی مرحوم: 

اہل حدیث مکتب فکر کے نامور عالم دین حافظ زبیرعلی زئی مرحوم کا ذاتی کتب خان بھی علاقہ چھچھ کے بڑے کتب خانوں میں شمار ہوتا ہے۔ ان کے کتب خانہ میں بھی ہزاروں کی تعداد میں کتب موجود ہے۔ اس میں زیادہ مواد دینی کتب پرمشتمل ہے خصوصا کتب احادیث بے شمار ہیں۔ یہاں عام آدمی کے استفادے کی سہولت موجود ہے۔ بانی کتب خانہ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ اس لیے اس کتب خانہ کی حفاظت اور بقاء کی خصوصی ضرورت ہے۔ 

سید کفایت بخاری کا کتب خانه: 

تحصیل حضرو کی معروف علمی و ادبی شخصیت سید کفایت بخاری کا کتب خانہ کی اس علاقہ کا ایک اہم کتب خانہ ہے۔ ذاتی نوعیت کا یہ کتب خانہ بھی مختلف موضوعات پرمشتمل کتب پرمشتمل ہے۔ جن میں قران وحدیث شعر وحکمت ، تاریخ و ادب سفرنامہ غرض ہرموضوع پر بے شمار کتب موجود ہیں۔ یہ کتب خانہ بھی گھر میں قائم ہے۔ عام آدی براہ راست تو استفادہ نہیں کر سکتا مگر بخاری صاحب کے ذاتی تعلق والے آدی ہر وقت استفادہ کرسکتے ہیں ممکن ہے جلد اس کتب خانہ کی توضیحاتی فہرست تیار ہوجائے اور شائقین کتب اس نادر و نایاب کتب پرمشتمل کتب خانے کی اہمیت سے واقف ہوسکیں۔

محمد عزیز عاصم

نصرت بخاری

مدیر اعلی (اٹک ویب میگزین،آئی اٹک ڈاٹ کام)-- ایم فل --پروفیسر اردو --گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج اٹک

Next Post

عقیدتوں کا سفر - اوّل

اتوار جنوری 24 , 2021
میرے میزبان؛ میرے محسن؛ میرے مہربان دوست جنابِ علامہ مومن حسین قُمی صاحب تھے جب کہ ہماری یہ محبت بھری دوستی قُم ایران سے 1985 سے آج تک قائم و دائم ہے
Monis Raza, [24.01.21 00:14] عقیدتوں کا سفر گزشتہ دنوں میں نے اپنے آباء و اجداد کی تاریخ کے حوالے سے جنوبی پنجاب یعنی اوچ شریف اور ملتان شریف کے ساتھ ساتھ ڈیرہ غازی خان کاایک تحقیقی و مطالعاتی سفر کیا مقصد اس سفر کا یہ تھا کہ میں سادات نقوی البہاکری اور خصوصاً تاریخِ کاملپور سیداں پر کچھ تفصیلات کتابی شکل میں لکھنا چاہتا ہوں، اس کا آغاز تو سندھ، روہڑی، سکھر، سیہون شریف، بِھٹ شاہ، حیدر آباد اور کراچی کے مطالعاتی سفر سے 2006 میں ہو چکا تھا مگر بالوجوہ آگے نہ بڑھ سکا، اب تائیدِ ایزدی سے توفیق عطا ہوئی اور میں اتنے طویل سفر پر آمادہ ہو گیا، محترم آغا جہانگیربُخاری صاحب نے حکم دیا ہے کہ سفر نامہ لکھیں، میں نے عرض کی کہ یہ معلومات تو کتابی شکل میں لاؤں گا البتہ سفر کی روداد پیشِ خِدمت ہے، سب سے پہلے یہ عرض کر دوں کہ 2006 کے سفر میں بھی اور اس سفر میں بھی میرے میزبان؛ میرے محسن؛ میرے مہربان دوست جنابِ علامہ مومن حسین قُمی صاحب تھے جب کہ ہماری یہ محبت بھری دوستی قُم ایران سے 1985 سے آج تک قائم و دائم ہے اور ان شآء اللہ اگلی ابدی زندگی میں بھی قائم دائم رہے گی، میں 17 جنوری بروز اتوار شام 6 بجے گھر سے روانہ ہوا، اور اڈے سے ویگن ٹھیک 7 بجے روانہ ہوئی جبکہ میری پہلی منزل علی پور ضلع مظفر گڑھ تھی ، انڈس ڈائیوو سروس پر 18 نمبر سیٹ میرے نام سے بُک تھی اور بس نے 8:30 پر جھنگی سیداں سے روانہ ہونا تھا، جی ٹی روڈ پر ٹریفک کا بہاؤ شدید تھا لہٰذا ویگن کی رفتار بھی بہت آہستہ تھی اور میں پریشان کہ وقت پر کیسے پہنچوں گا، وہی ہوا جس کا ڈر تھا میں 8:50 پر پہنچا اور گاڑی جا چکی تھی مگر بھلا ہو اڈے کے ملازم محمد حنیف کا جس کے ساتھ میں مسلسل رابطے میں تھا اس نے پچھلی بس میں میری وہی سیٹ پہلے ہی بُک کروا دی اور ٹھیک دس بجے ہم بس میں سوار ہو گئے، جب بس پر سوار ہو رہے تھے تو ڈرائیور اپنی سرائیکی زبان میں سب سے کہہ رہا تھا کہ جلدی کرو جلدی کرو دھند کی وجہ سے موٹر وے بند ہونے والی ہے، میں نے ہنستے ہوئے سرائیکی میں ہی کہا کہ آج ان شآء اللہ بند نہیں ہو گی یوں ٹھیک 10 بجکر دس منٹ پر گاڑی روانہ ہوئی، آس پاس گُپ اندھیرا اور میرا یہ مسئلہ ہے کہ مجھے دورانِ سفر نیند بالکل نہیں آتی کچھ دیر تو انٹرنیٹ پر گزارہ مگر پھر اس ڈر سے بند کر دیا کہ بیٹری ختم نہ ہو جائے، کچھ ہی دیر میں بس ہوسٹس نے کچھ نمکین چیزیں اور پیپسی دی کچھ شغل ہوا اور پھر پوری بس سو گئی، دھند کی وجہ سے باہر تارے بھی دکھائی نہیں دیتے تھے کہ گِنتے اور رات گزر جاتی بس اللہ اللہ کر کے آدھا سفر مکمل ہوا اور گوجرہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں قیام و طعام پر بس رکی اور ہم نیچے اُترے، واش روم گئے، واپس چائے والے کے پاس آئے تو ڈرائیور صاحب نے بڑی محبت سے چائے اور بسکٹ اپنی جیب سے پیش کیے اس نوازش کی وجہ پوچھی تو بولے آپ کی دعا سے 11 دن کے بعد ہم بغیر کسی رکاوٹ کے مسلسل موٹر وے پر جا رہے ہیں اور آخر تک ان شآء اللہ ایسا ہی موسم ہے، لہٰذا پیر سئیں کو چائے پلانا تو بنتا ہے نا ! بہر حال صبح ٹھیک 6 بجے آزانیں ہو رہی تھیں تو ہم علی پور پہنچے، مولانا قُمی صاحب کا چھوٹا فرزند حسن رضا ڈرائیور کے ساتھ اڈے پر موجود تھے، گاڑی میں سوار ہو کر قبلہ کے دولت کدے پر پہنچے نماز پڑھی دو عدد اُبلے ہوئے انڈے کھائے مزیدار گھر کے دودھ اور گھر کے گُڑ سے بنی چائے پی مولانا سے گپ شپ کی، اب قبلہ مولانا کی خواہش تھی کہ میں کچھ دیر آرام کروں، سو جاؤں مگر میں نے عرض کی کہ میرے پاس وقت کم ہے لہٰذا ابھی ناشتے کے بعد نکلتے ہیں، انتہائی پرتکلف ناشتہ اور پھر قبلہ سئیں کا اصرار کہ سب کچھ کھانا ہے ، بس یہی کہہ سکتا ہوں کہ خوب سیئر ہو کر ناشتہ کیا اور پھر مولانا کے ساتھ ان کی خُوبصُورت بالکل نئے ماڈل کی ٹویوٹا کرولا گاڑی میں علی پور سے اوچ شریف کی طرف روانہ ہوئے، جو کہ جنوبی پنجاب کے ضلع بہاولپور میں واقع ہے، یہ ہائی وے کراچی تک جاتی ہے سو اس پر بڑے بڑے ہیوی ٹرالر اور بہت زیادہ ٹریفک ہوتی ہے اوپر سے گنے کا سیزن بھی ہے گنے کی ٹرالیاں اس قدر لدی ہوئی ہوتی ہیں کہ سنگل روڈ پر دو طرفہ ٹریفک چلنا مشکل ہو جاتی ہے اور پھر گاڑی کا کراس کرنا تو محال ہی ہے، میں نے اپنی زندگی میں اس سے زیادہ بےہنگم ٹریفک کا اژدھام کبھی نہیں دیکھا تھا، بس اللہ اللہ کر کے دن ایک بجے اوچ شریف محلہ بخاری سادات میں واقع مدرسہ انوارِ فاطمیہ پہنچے، مولانا مومن قُمی صاحب نے ٹیلی فون کر کے پہلے سے میرے آنے کا مقصد بیان کر دیا تھا، لہٰذا پرنسپل مولانا سجادحسین خان صاحب نے محمد احسن عابدی صاحب کو اور مولانا مشتاق حسین صاحب کو مدرسے میں بُلا رکھا تھا، مولانا کے کھانے کے بےحد اسرار اور پھر بچتے بچاتے مدرسے میں چائے پی نماز ادا کی اور احباب کے ساتھ اولیاء اللہ سے ملاقات کے لئے نکل پڑے، سب سے پہلی حاضری اپنے جدِ امجد سلطان سید بدرالدین بدرِ عالم ابنِ سلطان سید صدرالدین صدرِ عالم کے مزار Monis Raza, [24.01.21 00:14] پر دی ، ایک بلند ٹیلے پر اُن کا مزار مقدس نئے سرے سے تعمیر ہو رہا ہے ، اس کے ساتھ ہی شیر شاہ سید جلال الدین سُرخ پوش بُخاری رَحمَۃُ اللہِ علیہ کی پوتی سیدہ جیونی بی بی کا مقبرہ ہے جس کی ہیئت اور ڈیزائن بالکل حضرت شاہ رکنِ عالم رحمۃاللہ علیہ کے مزار جیسا ہے اس کے بعد ہم شیر شاہ سید جلال الدین سُرخ پوش بُخاری رحمۃاللہ علیہ کے مزار مبارک پر حاضر ہوئے، حضرت سرخ پوش بُخاری رح کے ہم عصر بزرگانِ دین میں سلطان سید بدرالدین بدرِ عالم آلبہاکری ، شیخ بہاؤالدین ذکریا ملتانی رحمۃاللہ علیہ ، شیخ فریدالدین مسعود گنجِ شکر رح اور سید عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر تھے ؛ اس سے کچھ فاصلے پر حضرت سید مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃاللہ علیہ کا مزار ہے اور اس کے ساتھ ہی مولا علی علیہ السلام کی قدم گاہ مبارک ہے اور کچھ ہی فاصلے پر سید بہاول حلیم اور حضرت سید کبیر الدین حسن دریا اور سید جلال الدین سُرخ پوش بُخاری سرکار کے پوتے سید صدرالدین راجن قتال رحمۃاللہ علیہم کے مزارات ہیں ان تمام مزارات پر حاضری اور فاتحہ خوانی میں ہی شام ہو گئی، اس کے بعد مدرسے میں بیٹھ کر تاریخی معلومات حاصل کیں اور انہیں نوٹ کیا، اور نماز مغرب کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا اور رات 10 بجے علی پور واپس پہنچے کھانا کھایا اور سو گئے اگلے دن 19 جنوری بروز منگل صبح ملتان کے لیے روانہ ہوئے ایک مرتبہ پھر اوچ شریف انٹرچینج تک ہیڈ پنجند کو کراس کرنا اور پھر اسی اذیت سے گزرنا پڑا، موٹر وے سے اتر کر ملتان شہر میں داخل ہوتے ہی سب سے زیادہ بلندی پر شاہ سید رُکنُ الدین رُکنِ عالم رحمۃاللہ علیہ کے مزار پر نظر پڑتی ہے، تیرہویں صدی عیسوی کے عمارتی شاہکار کو دیکھ کر آج بھی آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں، سوچ دنگ رہ جاتی ہے، اس سے کچھ فاصلے پر حضرت شیخ بہاؤالدین ذکریا رحمۃاللہ علیہ کا مزار ہے ، خوبصورت طرزِ تعمیر کا ایک شاہکار ہے ؛ اور پھر اس سے کچھ فاصلے پر سلطان العارفین حضرت شاہ شمس تبریز ابنِ علاؤالدین رحمۃاللہ علیہ کا مرقد ہے اور اسی روضہءِ اقدس کے احاطے میں علامہ ناصر عباس شہید کی قبر بھی ہے اور اس کے علاوہ نامی بزرگ شخصیت حضرت یوسف شاہ گردیزی رحمۃ اللہ علیہ کا مزار بھی موجود ہے، یہ سب صاحبانِ کرامت اور مستجاب الدعوات بزرگ شخصیات تھے کہ جن کے دستِ حق پرست پر بےشمار غیر مسلم دائرہءِ نُور ِ اسلام میں داخل ہوئے اس کے علاوہ شاہ حسین درگاہی کے دربار پر بھی حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور رات گئے تک جتنا ممکن تھا ملاقاتیں کیں اور پھر واپس علی پور آدھی رات کو پہنچے، اگلے دن یعنی 20 جنوری بروز بدھ ہم نے ڈیرہ غازی خان جانا تھا اور جاتے ہوئے تحصیل جتوئی کے مرکزی شہر سے میرے قُم ایران کے دوست جو کہ میرے کلاس اور روم فیلو بھی تھے ان کو ساتھ لینا تھا، ہماری 36 سال کے بعد ملاقات ہوئی ، علامہ مومن حسین قُمی صاحب اور مولانا منتظر مہدی جتوئی صاحب نے ڈیرہ غازی خان میں ایک مجلس سے خطاب کرنا تھا، اور میں نے اپنے پیارے دوست، باکمال خطیب لاجواب شاعر سید مُحسؔن نقوی شہید سے ملنے کربلا ڈیرہ غازی خان جانا تھا، کیا ہی بے مثل و بے نظیر شخصیت تھے جسم میں 45 گولیاں پیوست تھیں مگر ایمبولینس یہ آخری چار مصرعے پڑھے لے زندگی کا خُمس علی کے غُلام سے اے موت آ ضرور مگر احترام سے عاشق ہوں گر ذرا بھی اذیت ہوئی مجھے شکوہ کروں گا تیرا میں اپنے امام سے بہت دیر تک شہید کے پاس بیٹھا لاہور اور اٹک کی ملاقاتوں کو یاد کیا اور دعاؤں کے ساتھ رخصت ہوا ، ہم شام کو ڈیرہ غازی خان سے نکلے راستے میں مولانا منتظر مہدی جتوئی کے بےحد اصرار پر کچھ دیر ان کے گھر پر رکے اور چائے پی، اور رات 9 بجے واپس علی پور پہنچے ، اگلے دن یعنی 21 جنوری کو صبح اسلام آباد کے لئے روانہ ہونے سے پہلے قبلہ علامہ مومن حسین قُمی صاحب کے خواتین کے لئے زیرِ تعمیر مدرسہ جامعہ خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیہا دیکھنے گئے کیا ہی خُوبصُورت اور شاندار وسیع و عریض عمارت بن رہی ہے میرے لیے زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ مدرسہ میں دینی و دنیاوی دونوں طرح کی تعلیم دی جا رہی ہے کمپیوٹر لیب بھی موجود ہے مدرسہ کی سات بچیاں ماسٹرز کر چکی ہیں اور ڈاکٹریٹ کی تیاری بھی کروائی جا رہی ہے، اللہ تعالیٰ قبلہ کی توفیقاتِ خیر میں اضافہ عطا فرمائے اور جلد تکمیل کے لیے وسائل میسر ہوں، آمین اور اس کے بعد ایک ایسے مقام پر گئے جہاں بڑا روحانی سکون ملا اس جگہ کا نام بین الحرمین رکھا گیا ہے بالکل اسی طرز پر مولا غازی عباس علمدار علیہ السلام کے روضے کی شبیہ تیار ہو چکی ہے، Monis Raza, [24.01.21 00:15] اور مولا اِمامِ حسین علیہ السلام کے روضے کی شبیہ کی تعمیر کا کام جاری ہے، مالک اس کام میں حصہ لینے والوں کی توفیقاتِ خیر میں اضافہ عطا فرمائے، آمین ثم آمین، اور آخر میں علی پور ضلع مظفر گڑھ میں پہلے علمی مرکز جامعۃ الھُدی محمدیہ میں گئے مدرسہ کے بانی مؤحد اور عظیم عالمِ دین اُستاذُالعلماءِ والمجتھدین قبلہ علامہ حافظ یار محمد شاہ صاحب قبلہ کی مرقدِ انور پر حاضری دی، قبلہ کے دائیں بائیں اُن کے دو فرزند علامہ حافظ سید سبطین علی شاہ اور علامہ حافظ ثقلین علی شاہ صاحب ابدی نیند سو رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سمیت تمام علماءِ حق کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی منازل قبر و حشر کو آسان فرمائے آمین، اور پھر ہم اسلام کے لیئے روانہ ہوگئے اور شام 7:30 بجے مولانا کے گھر پہنچ گئے، رات کو آرام کیا اور 22 جنوری بروز جمعہ دن 2 بجے اٹک اپنے گھر پہنچے ، اس علمی اور تحقیقی سفر میں اگر قبلہ علامہ مومن حسین قُمی صاحب کا پر خلوص تعاون نہ ہوتا تو یہ سب کچھ ممکن نہ تھا، قبلہ کی محبت اور بہترین مہمان نوازی میری زندگی کا بہترین سرمایہ ہے Monis Raza, [24.01.21 19:21] حضرت سید یوسف شاہ گردیزی رح