اوپیک اجلاس اور تیل کی قیمتوں میں کمی کا امکان
ایک اچھی خبر پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے بارے میں یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات نے "آرگنائزیشن آف دی پیٹرولیم ایکسپورٹنگ کنٹریز” (OPEC) سے نکلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ امارات کا یہ اعلان "گلف کوآپریشن کونسل” (GCC) کے 28اپریل 2026ء کو جدہ میں منعقدہ سربراہی اجلاس کے بعد سامنے آیا۔ اب چونکہ امارات نے اوپیک کو الوداع کہہ دیا ہے تو لازمی بات ہے کہ وہ اپنی تیل کی پیداوار میں اضافہ کرے گا جس سے اکنامکس کے اصول سپلائی اور ڈیمانڈ کے اصولوں کے تحت لازمی طور پر تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہونے کا امکان ہے۔ اس وقت تک متحدہ عرب امارات 50 لاکھ بیرل یومیہ تیل پیدا کر رہا تھا اور اوپیک سے نکلنے کے بعد اب منصوبے کے مطابق، اس کا ارادہ 75 سے 80 لاکھ بیرل یومیہ تک پیدا کرنے کا ہے، جس سے عالمی منڈی میں پیٹرول اور اس کی مصنوعات کی قیمتوں میں خاطرخواہ کمی واقع ہو گی۔
تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم "اوپیک” تیل پیدا کرنے والے رکن ممالک کو مخصوص مقدار میں تیل نکالنے کا فیصلہ کرتی ہے اور تیل کی عالمی قیمتوں کا تعین بھی کرتی ہے جس سے تیل کی قیمتوں میں استحکام رہتا ہے۔ اوپیک کے ممبران اپنی پیداوار کا خود فیصلہ نہیں کرتے ہیں بلکہ اس سلسلے میں ہر ممبر ملک اوپیک کی متعین کردہ مقدار تک ہی اپنی پیداوار رکھنے کا پابند ہے جس سے دنیا میں جہاں تیل کا بحران پیدا نہیں ہوتا وہاں تیل کی قیمتوں میں بھی ایک توازن قائم رہتا ہے۔ خلیج تعاون کونسل کے اجلاس کے بعد اب جی جی سی کے دیگر ممالک بھی تیل کی پیداوار میں اضافہ کریں گے۔
اوپیک پٹرول برآمد کرنے والے ملکوں کی ایک عالمی تنظیم ہے، جو سنہ 1960ء میں قائم ہوئی تھی، جس کا ہیڈ کوارٹر جدہ میں ہے۔ یہ تنظیم دنیا بھر میں تیل کی پیداوار، رسد اور قیمتوں کو کنٹرول کرتی ہے۔ اس کے رکن ممالک عالمی خام تیل کا تقریباً 30 فیصد حصہ پیدا کرتے ہیں۔ اس کے رکن ممالک میں
الجزائر، انگولا، انڈونیشیا، ایران، عراق، کویت، لیبیا، نائجیریا، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور وینیزویلا شامل ہیں۔ اوپیک کا بنیادی مقصد تیل کی عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کو متوازن کرنا اور مناسب مقدار تک بڑھانا شامل ہے۔ ستر کی دہائی میں تیل کی عالمی منڈی میں اوپیک نے بڑی طاقت حاصل کر لی تھی مگر اسی کی دہائی میں یہ طاقت کم ہو گئی اور اوپیک ایک کمزور ادارہ بن کر رہ گیا تھا، اور اب تیل کی پیداوار بڑھانے کے فیصلے سے اس میں نئی جان پیدا ہوئی ہے۔
متحدہ عرب امارات کے علاوہ اوپیک کے دیگر ممالک نے بھی تیل کی پیداوار بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ حتی کہ روس بھی تیل کی پیداوار میں اضافہ کرے گا۔ یہ ممالک مئی میں روزانہ کی بنیاد پر 2 لاکھ بیرل سے زائد تیل کی پیداوار بڑھائیں گے، تیل کی پیداوار بڑھانے کا مقصد توانائی کی مارکیٹوں میں جاری ہلچل کو روکنا ہے۔ 28 فوری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد خلیج تعاون کونسل کا یہ پہلا اجلاس تھا۔ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور ٹرمپ کی جانب سے ایران پر مزید حملوں کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئی تھیں، برینٹ خام تیل 6 فیصد اضافے کے بعد 107 ڈالر فی بیرل پر اور امریکی خام تیل کی بھی 110 ڈالر تک جا پہنچی تھی۔ جی سی سی کے اجلاس اور تیل کی پیداوار بڑھانے کے اس فیصلے سے امید پیدا ہوئی ہے کہ دنیا میں تیل کے بحران سے آسانی کے ساتھ نپٹا جا سکے گا۔
سعودی عرب کے مغرب میں واقع شہر جدہ میں سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے زیرِ صدارت خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سربراہان اور وفود کا مشاورتی اجلاس خطے میں کشیدہ صورتحال میں ایک اچھی پیش رفت ہے۔ اس اجلاس کا مقصد خلیجی ممالک کے درمیان ہم آہنگی، مشترکہ عمل کو فروغ دینا اور موجودہ سکیورٹی و معاشی بحران کے اثرات سے نمٹنے کے لیے رابطہ کاری کو مضبوط بنانا تھا۔اجلاس میں علاقائی اور بین الاقوامی صورت حال سے متعلق متعدد موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور ان کے حوالے سے کوششوں کو مربوط کرنے پر زور دیا گیا۔ اس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ موجودہ بحران کا کوئی بھی حل خلیجی ممالک کے مفادات، سلامتی اور استحکام کو مد نظر رکھ کر طے کیا جائے۔ سعودی عرب کی جانب سے اس مشاورتی اجلاس کی میزبانی ایک ایسے انتہائی حساس موڑ پر کی گئی ہے جس کے اثرات نے علاقائی سلامتی کے نظام میں ایک نمایاں تبدیلی کو ظاہر کیا ہے۔ اس صورت حال نے خلیجی ممالک کے مشترکہ کام کو مزید مضبوط بنانے اور ایک ایسی مربوط حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے جو موجودہ نازک حالات کے تجربات اور چیلنجوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بحرانوں سے نمٹنے کے طریقہ کار کو بہتر بنا سکے۔
سعودی عرب نے خطے کے ممالک کے درمیان مسلسل مشاورت اور بھرپور رابطہ کاری جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے، تاکہ بدلتی ہوئی صورت حال کا جائزہ لے کر مشترکہ موقف تیار کیا جا سکے اور ریاستوں کے تحفظ و استحکام کے لیے تمام ضروری اور قانونی اقدامات اٹھائے جا سکیں۔
سعودی وزارتِ خارجہ کے مطابق خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک پر ہونے والے ایرانی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی خطے کے امن و استحکام کو بگاڑنے پر ایرانی حملوں، بین الاقوامی معاہدوں اور قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں اور عالمی امن و سلامتی کے لیے پیدا کیے جانے والے خطرات کی بھی بھرپور مذمت کی گئی۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |