’’منتہائے فکر‘‘…شہیدان کربلا سے عشق کی معراج

تحریر : ڈاکٹرمختار ظفر(ملتان)
جناب مقبول ذکی مقبول کے نعتیہ مجموعے’’منتہائے فکر‘‘کے نام سے مجھے یہ مقبول عام شعریاد آرہا ہے ۔

مری انتہائے نگارش یہی ہے
ترے نام سے ابتداء کررہا ہوں

زیرنظر شعری مجموعے میں بھی شاعر کی انتہائے نگارش کے کرشمے نظرآرہے ہیں اوراس کی وجہ یہ ہے کہ شاعر کے دل میں شہدائے کربلاسے عشق بسا ہوا ہے۔متحرک ہے اور ولولہ ساماں ہے۔مضطرب ہی نہیں’اضطراب انگیز بھی ہے۔

’’منتہائے فکر‘‘…شہیدان کربلا سے عشق کی معراج

ذکر ہوگا اس شہادت کا زباں پہ حشر تک
صاف گوئی کی بدولت‘ہوگیا بالا خلوص

سانحہ کربلا’انسانی تاریخ کا انتہائی دردناک سانحہ اور اندوہناک واقعہ ہے پھریہ واقعہ کسی انسانی محرومی یا ظالمانہ چیرہ دستی کی بنیاد پر رونما نہیں ہوابلکہ ناانصافی پر اوربہمیتیت کی بنیاد پر تاریخ کا حصہ بنا۔اصل بنیادطاغوتی قوتوں سے حق نیابت کو بچانے کا حق ادا کرنا تھا۔ایک طرف نواسہ رسول اور خاندان کے چند افراد تھے ا ور دوسری طرف حکومت وقت کی اسلحہ بردار کثیرالتعداد فوج…بالآخر حق کے علمبردار شہید ہوئے اورحریت وابتلاء کی وہ داستان رقم کرگئے جس پر ہرحساس انسان دکھی اور رنجیدہ بھی ہوتا ہے ‘مشوش اور مضطرب بھی اورنعرہ حق بھی بلند کرتا ہے۔اسی لیے شاعروں نے اس سانحے کو اپنے جذبوں اوراس کے اضطرابوںکے اظہار کا ذریعہ بنایا۔مقبول ذکی مقبول نے بھی’’منتہائے فکر‘‘میں یہی کام کیا۔جس کااشارہ ساغر صدیقی نے یوں کیا تھا۔

نہ شان قیصروکسریٰ‘نہ سطوت کیٰ لا
غم بشر(ع) جسے کہتے ہیں جلدوہ شے لا

شاعر نے اپنے اس شعری مجموعے میں پوری کوشش کی ہے کہ غم بشر(بحوالہ شہیدان کربلا)کواپنے محسوسات کے اضطراب واضطرارکے ساتھ پیش کریں۔مثلاً

دل جگر کو چھورہی ہےاک مجاہد کی صدا
خون پر مظلوم کی رونے لگی طیبہ الگ

حسینؑ ابن علیؑ کو جو ہے دیکھا زیرخنجر تو
نبیؐ‘زہراءؑ حسن مولا ، علیؑ صلوٰۃ پڑھتے ہیں

حسینؓ ابن علیؓ اور شہدائے کربلا سے محبت اور عشق تومسلمانوں کی گویا گھٹی میں متحرک رہتا ہے اور شعرائے کرام کا تویہ محبوب ترین موضوع ہے اس لئے بھی کہ اس مضمون میں شعری تقاضوں کی بھرپورکائنات موجود ہے۔شاعری میں بنیادی کردار طرزاحساس کا ہے اور طرز احساس کی تشکیل اور تاثیر میں زندگی کے بنیادی تصورات کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔مثلاً دکھ‘درد اور کرب‘زندگی کے بنیادی تصورات اور معمولات ہیں۔واقعہ کربلا دردوغم اور حزون وملال کا ہی مجموعہ ہے۔اس لئے اس حوالے سے پیش کردہ شاعری موثر اور دلستان ہوتی ہے۔جناب مقبول ذکی مقبول کو شہدائے کربلا سے جو عشق ہے۔وہی ان کی منتہائے فکر‘‘میںجولانیاں دکھارہا ہے۔کبھی واقعات کی صورت میں‘کبھی مکالماتی رنگ میں‘کبھی پس منظر کے حوالے سے مثلاً چند شعر:

حسینؑ ابن علیؑ کا نام ہر دل پر ہوا ہے نقش
ہر اک مومن کی آنکھوں میں وہی منزل بنا ہے نقش

کرب وبلا میں نور کی پھوٹی تھی اک کرن
دیکھی جہاں نے وہ ضیاء کیوں نہ کیا لحاظ؟

حسینؑ ححبت‘اصول برحق
حسینؑ شکل رسولﷺ برحق

’’منتہائے فکر‘‘میں مقبول ذکی مقبول کی 114تخلیقات(نظمیں) ہیں۔ہر اک نظم میں ان کے موجزن محسوسات یہ بتارہے ہیں کہ شاعر کو اپنے ممدوحین سے جووالہانہ لگائو ہے وہ انھیں مضطرب اور بے چین رکھتا ہے۔جذبوںیہی اضطراب محسوسات کاقالب اختیار کرلیتے ہیں۔ضروری نھیں کہ ایسی شاعری اپنے ضوابط کی حدوں کی پاس داری کرے۔جذبے’جذبے ہوتے ہیں۔حدبندیوں کا کہاں لحاظ رکہتے ہیں۔بے چینی اور اضطراب کے یہیریلے ہوتے ہیںجن کا وفور اپنا اخراج چاہتا ہے اوراپنا اظہار چاہتا ہے۔جیسا کہ یہ شعر۔

شیر(ع) نے اٹھائے دکھ درد کے پہاڑ
کرب وبلا میں آئے دکھ درد کے پہاڑ

اکبرؑ عباسؑ قاسم ؑ’اصغرؑ ہوئے شہید
بھاری سروں پہ آئے دکھ درد کے پہاڑ

مقبول ذکی مقبول‘میدان کربلا میں خانوادہ رسول اللہ کی شہادت کا جواز بھی پیش کرتے ہیں۔ان کے مطابق نبیؐ کے دین کیلئے خون اطہر کی قربانی ضروری تھی۔دین حق کی تکمیل قربانی کے بعدہی ہوتی ہے۔کربلا کا تقاضا تھا کہ ہاشمی اپنا خون دے کر دین حق کو سربلند کریںچنانچہ حضرت مرتضیٰ کے لعل نے اپنے خون سے فکرونظر کے وہ رستے استوار کئے جن پر چل کر حق وصداقت کی وہ منزلیں آتی ہیںجہاںباطل کی قوتوں کا یزیدی خوف دنیا سے اٹھ جاتا ہے۔انھی کے خون کی حرمت سے محبت کے رشتے قائم رہیں گے اور نوع انسان کو یہ سبق ملتا رہے گا۔

انسان پر کھلا جو مفہوم کربلا کا
وہ درس دے رہا ہے مظلوم کربلا کا

قرآن پڑھ کے دیکھو تفسیر کہہ رہی ہے
قصہ جو ہو گیا ہے مرقوم کربلا کا

مجموعے کا انتساب اپنے باپ کی جن خوبیوں کے نام ہے وہ ذیل میں دیکھیئے۔

سلیقہ سکھایا مجھے زندگی کا
مجھے باپ اقبال نے دیں سکھایا

نبیؐ کی ‘علیؑ کی ثناء بھی سناتا
حسنؑاور شبیرؑ کا درس دیتا

وہ رزق حلال آکے مجھ کو کھلاتا
اسی سے یہ چہرہ جو میرا ہے نکھرا

کتاب کی اشاعت2020ء میں ہوئی200صفحات کی اس کتاب کی قیمت500روپے فی نسخہ ہے۔

mukhtar zafar

ڈاکٹرمختار ظفر

ملتان

سونیا بخاری

Next Post

7مارچ ...تاریخ کے آئینے میں

پیر مارچ 7 , 2022
7مارچ ...تاریخ کے آئینے میں
7مارچ …تاریخ کے آئینے میں