مادری زبان

21 فروری کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری مادری زبانوں میں طاقت کے عدم توازن کے باوجود ہمیں امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئیے۔ ہمیں اپنی مادری زبانوں کا احساس رہنا چاہئیے جنہوں نے ہمیں شناخت عطاء کی ہے جو ہمارا ثقافتی مخزن ہیں اور ہماری شخصیت تعمیر کرتی ہیں مادری زبان کے بغیر شخصیت ادھوری ہے، مادری زبان میں آپ اپنے جذبات کا اظہار جس طرح کر سکتے ہیں کسی اور زبان میں نہیں کر سکتے۔
اقوام متحدہ کے سائنسی و ثقافتی ادارے UNESCO کا کہنا ہے کہ بچوں کو بنیادی علمی تصورات سکھانے کا بہترین ذریعہ ان کی مادری زبان ہے۔ جدید دنیا میں کمزور مادری زبانیں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ کسی قوم کے لیئے اظہار کا سب سے بہترین ذریعہ اس کی مادری زبان ہوتی ہے، جن معاشروں میں لوگ اپنی دھرتی کے ساتھ جڑے رہتے ہیں اور ان کا تعلق اپنی مٹی کے ساتھ مضبوط ہوتا ہے تو ان ممالک کی عوام اپنی ثقافت، اپنی زبان اور اپنی تعریف پر فخر کرتی ہیں۔

photo of woman and her children lying on bed
Photo by Ketut Subiyanto on Pexels.com


مادری زبان وہ زبان ہے جو انسان رحم مادر سے لے کر ماں کی گود تک سیکھتا ہے یا وہ ماحول جس میں انسان پرورش پاتا ہے اس ماحول سے سیکھتا ہے۔
پاکستان میں سب سے زیادہ بولے جانے والی زبان پنجابی ہے۔ زبان ایک ایسا سماجی عطیہ ہے جو زمانے کے ساتھ ساتھ نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے۔ انسان کی یاداشت بدل جاتی ہے لیکن زبان نہیں بدلتی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں 6912 زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے 516 ناپید ہو چکی ہیں۔ مادری زبان میں دی جانے والی تعلیم بچوں کی تعلیمی صحت پر خوشگوار اثرات مرتب کرتی ہے۔ مادری زبان کی تعلیم سے خود زبان کی ترویج و اشاعت میں مدد ملتی ہے۔ زبان کی آبیاری ہوتی ہے، مادری زبان کے ہر لفظ اور جملے میں قومی روایات، تہذیب و تمدن، اور زہنی اور روحانی تجربات پیوست ہوتے ہیں۔
دنیا میں دو زبانیں ایسی ہیں جو ہر شخص بغیر کسی قسم کا علم حاصل کئیے بول یا سمجھ سکتا ہے، ایک مادری زبان اور دوسری اشاروں کو زبان۔
اشاروں کی زبان کو universal language کہا جاتا ہے۔
مادری زبان ایک شناخت ہوتی ہے انسان خواب میں بھی مادری زبان دیکھتا ، بولتا اور سنتا ہے۔ انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کا سب سے بہتر اظہار بھی مادری زبان میں ہی ممکن ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے UNESCO کے مطابق بچوں کی ابتدائی تعلیم کے لیئے موثر زبان مادری زبان ہے۔ مادری زبان میں تعلیم سے بچوں کی تحقیقی اور تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
جو بچے اپنی مادری زبان سے تعلیم کی ابتدا کرتے ہیں ان کی کارکردگی ابتدا سے ہی بہتر ہوتی ہے۔ ماہرین لسانیات کا اس بات پر اتفاق ہے کہ انسان اپنی مادری زبان کے وسیلے سے ہی دوسری تمام منازل اور مرحلوں کا باآسانی طے کرتے ہیں۔

در بارہ ثمانہ زھراء

یہ بھی دیکھیں

iattock

کالا پانی کی سزاء -1857 سے1947

قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی روایت تو بہت قدیم ہے۔مگرانگریزوں کے قید خانوں کی داستانوں میں سب سے بھیانک ”کالے پانی کی سزا“ یعنی