مقبول ذکی مقبول

تحریر : دلبر حسین مولائی

مقبول ذکی مقبول منکیرہ کے رہائشی ہیں ۔ محکمہ صحت میں چھوٹے ملازم ہیں ۔ محب آل محمد صﷺ ہیں ۔ شعر و شاعری سے شغف ہے ۔ ان کی کئی کتب شائع ہو چکی ہیں ۔
” منتہاۓ فکر” ان کی حسنیت کا عنوان لیئے شاعری پر مشتمل کتاب 2020ء میں منظر عام پر آئی ۔ ناصر ملک کے ادارے اردو سخن پاکستان نے چوک اعظم لیہ سے شائع کی ۔ اس کے 200 صفحات ہیں ۔ اس کتاب کا انتساب ان کے والد” اقبال”سے منسوب ہے جو منظوم شکل میں ہے ۔ اپنے والد صاحب کی تربیت کا اس طرح اعتراف کررہے ہیں کہ

نبی ﷺ کی علیؑ کی ثناء بھی سناتا/حسن ؑ اور شبیر ؑکا درس دیتا
وہ رزق حلال آ کے مجھ کو کھلاتا/اسی سے یہ چہرہ جو میرا ہے نکھرا
میرے پیارے ابو نے مجھ سے کہا تھا/سدا ذکر آل محمد ﷺکا کرنا
ان کی شاعری
مولاحسین علیہ السلام اور کربلا کے گرد گھومتی ہے ۔
مقبول ذکی مقبول کربلا کو اسلام کی بقا کا ضامن جانتا ہے ۔ نبی پاک ﷺ کے وصال کے بعد نبی ﷺ کی آل علیہ السلام پہ مصائب ٹوٹ پڑے ۔ بی بی فاطمہ الزہرا علیہم السّلام تین مہینے کے اندر شہید ہو گیئں ۔ مولا علی علیہ السلام کو کوفے میں شہید کیا گیا ۔ مولا امام حسن علیہ السلام کو مدینے میں شہید کیا گیا ۔ مولا حسین علیہ السلام نے صبر و استقامت کی شمع روشن کی ۔ ان کا لہو قندیل کربلا ثابت ہوا ۔

شمشیر نہ چلائی فرمان تھا نبی ﷺکا/پیغام ہے بچایا مفہوم کربلا کا
فرمان مصطفیٰ ﷺکا تکمیل کربلا ہے/ شبیر ؑکا لہو ہے قندیل کربلا ہے
نبی پاک ﷺ کا گھرانہ پاک و پاکیزہ ہے ۔ اس گھرانے کو پاکیزگی کی سند خود اللّٰہ تعالیٰ نے”انما یرید اللّٰہ” ۔۔۔ کی آیت میں بیان فرمائی ہے ۔ اسی گھرانے کے ہر فرد نے شجاعت ، عبادت ، اخلاقیات ، شہادت صبر و تحمل اور صداقت کی بے مثال مثالیں پیش کی ہیں ۔ یہی وجہ ہے صدیوں سے ان اذوات مقدسہ کے روضوں کی زواری اور سلام کا سلسلہ جاری وساری ہے جو تاقیامت قائم رہے گا ۔ فرشتے ، انبیاء علیہ السلام صحابہ رض مومنین ہمیشہ یہ شرف حاصل کرتے آئے ہیں ۔ مقبول ذکی مقبول بھی اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ملتمس ہے کہ اس صدیق گھرانے کی زیارت کا موقعہ اسے بھی نصیب ہو جائے

اللّٰہ سے اک اور دعا ہے/ گھر مولاؑ کا ہم کو دکھلا
ہے الفت کے قابل نبیﷺ کا گھرانہ/ہے مقبول کے بھی لہو میں مودت
صداقت ، لیاقت، شجاعت، شرافت/ حقیقت میں مولا ولایت کا چشمہ
حضرت امام حسین علیہ السلام کو نبی پاک ﷺ نے یہ سند عطا فرمائی تھی کہ”حسین علیہ السلام مجھ سے ہے اور میں حسین علیہ السلام سے”آپ علیہ السلام نے آپ ﷺ کے فرامین پر سو فیصد عمل کیا ۔ اپنا سب کچھ قربان کر دیا مگر اللّٰہ کی توحید ، نبی ﷺ کی نبوت اور مولا علی علیہ السلام کی ولایت کی حفاظت فرمائی ۔
بقول مقبول ذکی مقبول
سر کٹوا کر کہہ گئے مولا ؑ/واحد اللّٰہ اللّٰہ اللّٰہ
وہ زیر خنجر نماز پڑھنا/مچادی ہلچل حسین مولا ؑ
نوک سناں پہ بولا سچ مچ/اللّٰہ والا سارا سچ مچ
نانا ﷺ سے جو عہد کیا تھا/کر دیا آپ ؑ نے پورا سچ مچ

مقبول ذکی مقبول کا یہ عقیدہ ہے۔ نبی پاک ﷺ سے لے کر امام زمانہ عجل حضرت امام مہدی علیہ السلام تک سب کے سب”مولا ؑ”ہیں ۔ سب امام نبی پاک ﷺ کے وارث ہیں ۔ ان کا پیغام خالصتاً توحید و رسالت کا پیغام ہے ۔

احمد ﷺمولا علیؑ مولا/مولا گھر کا گھر ہے سارا
ہیں دیں کے مولا حسین ؑوارث/رسول ﷺنانا حسین ؑوارث
خم پہ یہ پیغام سنا ہے/بالکل خالص اعلیٰ ہادی
حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے لہو سے حق کے چراغ روشن کئے غازی ؑ کا علم دراصل اسلام کا علم ہے ۔ یہ علم تاقیامت لہراتا رہے گا ۔ مولا حسین علیہ السلام آپ کی اولاد اور آپ کے صحابہ کی شہادت کا ذکر بھی تاقیامت ہوتا رہے گا ۔

ڈوبے تھے سب اندھیروں میں دشمن حسین ؑ کے/ابنِ علی ؑ نے تو وہاں روشن کیئے چراغ
قیامت تلک بس یہی ذکر ہو گا/خدا کا نبی ﷺکا تیری ہی شہادت
ازل سے ہے اونچا حشر تک رہے گا/عدو سے بچایا ہے دیں کے محافظ

کربلا کے دردناک سانحے میں محمد ﷺو آلؑ محمد ﷺ کے بچوں کی شہادت اور ان پر کیا جانے والا ظلم اور مصائب ہر دور میں بیان ہوتا رہے گا ۔ اس دردناک صدمے کا ذکر زمین و عرش تک کو اداس کر گیا ہے ۔

دنیا لٹ گئی مولا ؑ کی/اکبر ؑ کے اس قتل کے بعد

کٹائے عباس ؑ نے جو بازو تو رو دیا تھا وہ علقمہ بھی
زمیں سے عرشِ بریں تلک یہ سبھی کو صدمہ کھٹک رہا ہے

نوری شعاع زمیں سے پہنچی تھی عرش تک جو
نوحہ کناں ہے ہر اک گھرانہ اداس ہے

مقبول ذکی مقبول ایک غریب قلم مزدور ہے مگر ان کا دل غنی ہے یہ مودت آلؑ محمد ﷺ کی دولت سے مالا مال ہے ۔ ان کی فکر اور زبان سدا ذکر اہل بیت علیہ السّلام میں مستغرق رہتی ہے ۔ اس نے امام حق کے فضائل و مصائب بھی لکھے ہیں اور اپنے اشعار عوامی پروگراموں میں پیش بھی کرتا رہتا ہے ۔ یہ برملا کہتا ہےکہ مومن وہی ہے جو آئمہ حق کی تعلیمات پر عمل کرتا ہے اور ان کی زندگی کا مشن ہے کہ آخری دم تک حق سچ لکھنے کی جسارت کرتا رہوں گا ۔

امام حق کا تقویٰ ہے عمل صالح ہی اعلیٰ ہے/ شرافت میں لیاقت میں شجاعت میں یہ دم نکلے
سخی شبیر ؑ کے نوحے سدا مقبول لکھتا رہ/شبانہ روز ایسی ہی جسارت میں یہ دم نکلے

مقبول ذکی مقبول کو زیادہ سے زیادہ مبارک ہو ۔ اس کی زندگی کے بیشتر لمحے آل ﷺ کی قصیدہ خوانی اور مصائب بیانی میں بسر ہوتے ہیں ۔ یہ محمد ﷺو اہل بیت علیہ السّلام کے دیئے گئے دروس کو نہ صرف اپنی زبان میں سجائے ہوئے ہیں بلکہ خود بھی عامل ہیں ۔ اپنے خاندان ، ہمسائیوں اور دیگر مومنین کو بھی اپنے قلم سے متوجہ کراتے رہتے ہیں کہ کربلا کی قربانی کا مقصد یہی ہے کہ خالص اسلام پر اپنی زندگیاں استوار کی جائیں ۔اور قیامت کے دن محمد ﷺ و آل علیہ السلام محمد ﷺ کے سامنے سرخرو ہوں

dilbar hussain

دلبر حسین مولائی

ڈیرہ غازی خان، پنجاب، پاکستان

سونیا بخاری

Next Post

1مئی ...تاریخ کے آئینے میں

اتوار مئی 1 , 2022
1مئی ...تاریخ کے آئینے میں
1مئی …تاریخ کے آئینے میں