وطن سے محبت

محبوب ِربِ دو جہاں ، قاسمِ علم و عرفاں ، راحت ِ قلوب ِ عاشقاں ، سرور ِکشوراں ، راحت ِعاصیاں ، راہبرِ انس و جاں ، ہادی گمراہاں ، راحت ِ قلب و جسم و جاں ، قرار ِ بے قراراں اور غم گسار ِ دل فگاراں حضرت محمد مصطفی ﷺ کا یہ فرمانِ ذیشان ، حب الوطنِ من الایمان یعنی وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے میری نظروں سے گزرا تو میری فکر و نظر و طنِ عزیز پہ مرکوز ہو گئی کہ جس کا جسم کرچی کرچی ہے اور اس سے لہو ٹپک رہا ہے وطن عزیز کے اس دکھ پر قلم اٹھایا کیونکہ دیسِ نگاراں ، پاک وطن ، بے اماں ہے ، نہتے ، معصوم اور بے خطا لوگوں کے لہو سے بنایا ہوا ہے ۔ یہاں کی برف پوش چوٹیاں خواہ وہ جنوبی وزیرستان کی ہوں یا کشمیر کی اور خوشبو سے لبریز دلکش وادیاں ، نو عمر بچوں کی دلدوز چیخوں سے گونج رہی ہیں ۔ وطن کی بستیاں معصوم عصمتوں کا قبرستان بن چکی ہیں ۔ یہاں گھروں ، مسجدوں ، نہروں ، چشموں ، گلیوں ، میدانوں اور ہر جگہ گولیوں سے چھلنی اور بموں سے دریدہ لاشیں برآمد ہوتی ہیں ۔ نائن الیون کے واقعہ کے بعد جتنا فائدہ ہمارے دشمنوں کو ہوا ہے شاید ہی کسی اور کو ہوا ہو ۔ کیونکہ وطن کے گوشے گوشے میں دہشت گرد ہمارا لباس اوڑھ کر ارضِ وطن کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں ۔ یہ سب کچھ کئی سال سے ہو رہا ہے لیکن کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہے صرف ہماری بہادر افواج دشمن کی پھیلائی ہوئی کدورتوں بھری فضا کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنی ہوئی ہیں لیکن کب اور کہاں تک ؟ یہ تنہا فوج کب تک لڑے گی اسلامی ممالک یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی کہ یہاں نہ کسی کی کوکھ محفوظ ہے اور نہ کسی کا سہاگ ، نہ کسی کے بابل کی جاں محفوظ ہے اور نہ ہی کسی کی بیٹی ۔ یہاں گھر میں اور گھر سے باہر پھرتی ہوئی دوشیزاؤں کے دوپٹے وڈیرے نوچ لیتے ہیں ۔ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی ہمارے حکمران آنکھیں بند کر کے بیٹھے ہیں ۔ اُنہیں کیا پتہ کہ یہ دیس شہیدوں کا نوحہ ہے ۔ شہید خواتین کی آہ ہے بے آبرو کی گئی بیٹیوں کے مدفن کی فریاد ہے یہ دیس اُن ماؤں کا آنسو ہے جن کی عزتیں تار تار کر دی گئیں ۔ انسانیت سر چھپا رہی ہے ۔ مروّت کفن پوش ہے ۔ وضح داری اور شرافت بے اماں ہے ۔ کون کسی کی فریاد سُنے ۔ کس سے سفارش چاہے اور کس کا گریباں پکڑے ۔
اے دیسِ آشوب پاکستان !
تیرا رونا کس سے روئیں کس سے بات کریں ۔ امن اور آزادی سے رہنے کی کس سے اپیل کریں امن کی اپیلوں اور صلح کی کانفرسوں کا سہارا تب لیں جب تیرے اپنے حکمران تجھے ایک دریدہ لاش کی طرح نہ دیکھنا چاہتے ہوں ۔ تیرے حکمران اپنے ذاتی مفاد کیلئے تیرے مکینوں کو اشیائے خوردونوش اتنے مہنگے داموں مہیّا کرتے ہیں کہ عوام ملک سے بیزار ہو جائیں سیلاب سے بچنے کیلئے حفاظتی بند تعمیر نہیں ہونے دیتے تاکہ بیرونی امداد لے کر اپنے خزانوں کو بھر سکیں ۔
تیرے حکمران لوڈ شیڈنگ جیسا بحران پیدا کر کے اپنے کالے کرتوتوں سے توجہ ہٹانے کیلئے عوام کو سکھ کا سانس لینے نہیں دیتے ۔ اے ارضِ وطن تیرے حکمران آٹا اور چینی مہنگی کر کے غریب اور مفلس عوام سے جینے کا حق بھی چھین لیتے ہیں ۔ ٹیلی وژن پر تبصرے سنیں تو محسوس ہوتا ہے کہ جیسے گدھ وطنِ عزیز کا گوشت نوچ رہے ہوں ۔ تعمیر ِ وطن کیلئے حکومت سے مل کر چلنا تو درکنار وطن کا نظام تک روکنے کی بات کرتے ہیں سابقہ حکمرانوں کی شہ خرچیاں دیکھیں تو شرم سے نگاہیں جھک جاتی ہیں ۔ پتہ نہیں کیا ہو گیا تھا ان حکمرانوں کو ۔ کیوں سو گئی تھی ان کی غیرت ۔
اے ارضِ وطن !
جن حکمرانوں کے سامنے تیری معصوم بیٹیوں کو بے آبرو کیا جا رہا ہے کیوں اِن میں احساسِ ذمہ داری ختم ہو گیا ہے ۔
اے دیس پیارے دیس پاکستان ! کئی نفوس کو اپنے دامن میں ایک شفیق باپ کی طرح سمیٹے ہوئے مہربان ماں کی طرح ان کے دکھ کو بانٹتے بانٹتے آخر تجھے کیا ہوا ۔ کس کی منحوس بد نظری تیرے سکون کو تباہ کر گئی ۔ تیری رگوں میں چنگاریاں اور تیرے سر میں راکھ بھر گئی کہ آج تیرے دامن میں تیرے بیٹوں ، تیری بیٹیوں کیلئے امان نہیں ہے ۔
اے نہروں کی ملکہ ، اے آبشاروں اور چشموں کی سر زمین سوات ! تیری آغوش کے پالے تجھ میں شب خیزیوں اور سحر انگیز و فسوں ساز شاموں کیلئے ترس گئے تھے ۔ تیری خون آشامیوں کو روک کر پاک فوج نے امن و سکون اور رنگ و نور کی بہاریں دکھا کر زندگی کے شعلے جھلکا دیئے ۔ آج اسلامی ممالک خصوصاً پاکستان ، افغانستان اور ایران اتحاد کی رسی کو پکڑ کر جنوبی وزیرستان اور بلوچستان کو یہ مژدہ جانفراء سُنا سکتے ہیں کہ آج کوئی دشمن کا جاسوس بلوچستان ، سوات اور جنوبی وزیرستان کی کسی سڑک ، کسی گلی ، کسی محلے ، کسی نہر اور کسی گاؤں میں قدم رکھنے کی جرأت نہیں کر سکتا اور نہ ہی کوئی ڈرونز وطنِ عزیز کی فضاؤں میں کوئی کاروائی کر سکتے ہیں ۔ ے جو دشمنان ملک و ملت ان وادیوں میں قابض تھے اُن کو طاقت ِ بازو سے فوج نے دھکیل کر ایسا بھگا دیا کہ وہ آنے والی نسلوں کو بتا سکیں کہ مسلمانوں کے ساتھ کسی وقت ، کسی دور اور کسی حالت میں بھی زور آزمائی نہ کریں لیکن یہ کیسے ہو ۔ جنوبی وزیرستان اور ملک کے دوسرے شہریوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی خاطر ہاتھوں میں ہاتھ دے کر مسلم ممالک معاہدہ کریں تو کس کی مجال ہے کہ وطنِ عزیز میں کسی چیونٹی کو بھی کوئی زخمی کر جائے ۔
یہ سب ہو سکتا ہے ! مگر ہو کیوں نہیں رہا ؟ صرف اس لیے کہ ہم نے حقوق العباد کا درس بھلا دیا ہے ۔ غیر ملکی اور خصوصاً مغربی میڈیا نے ہمارے ایک ہونے کا نعرہ کھو کھلا کر دیا ہے غیر ملکی میڈیاز نے ہماری جوان نسل کے اعمال کو اتنا گندہ کر دیا ہے کہ حقیقت میں ہم مسلمان نہیں رہے صرف نام کے مسلمان رہ گئے ہیں ۔
ہمارے اسلاف نے تو کفار کے بتوں کو پاش پاش کر دیا تھا ۔ تاریخ شاہد ہے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کی کفار پر یلغار کا جذبہ ، ہسپانیہ کے فاتح موسیٰ بن نصیر کا حملہ ۔ خالد بن ولید کا پورے عراق کو شکست دینا ۔ فاتح خیبر کا مرحب کو جہنم رسید کرنا ۔ حضرت عمر بن العاص کا مصر کی فوجوں کو شکست دینا ، سعد بن وقاص کا ایران کے شہنشاہ یزد گرد کو شکست دینا ، محمود غزنوی کا سومنات کے مندر کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا ۔ محمد بن قاسم کا سندھ کے مظلوم عوام کو جبر و استحصال کی چکی سے باہر نکالنا اور طارق بن زیاد کا اپنی ہی کشتیاں جلا کر دشمن کو نیست و نابود کرنا ۔ یہ سب ہمارے لیے مینارۂ نور ہیں لیکن ہم سب بحیثیت قوم باتیں کرنے کے عادی ہیں ۔ عمل ہم سے کوسوں دور ہے اور ہم نے خالقِ دوجہاں کے اس فرمان کو
’’ کہ اگر تم نے عمل کو چھوڑ دیا تو ہم تم پر کسی اور قوم کو مسلط کر دیں گے ‘‘ کو بھول گئے ہیں ۔
دیس کی سحر خیزیاں لوٹ کر آ سکتی ہیں ۔ یہاں کی جھیلوں کی رنگینیاں اور پہاڑوں پر موجود شہروں کی جل ترنگ بحال ہو سکتی ہے ۔ یہاں انسانوں سے محبت کے شہد آ گیں گیت پھر گائے جا سکتے ہیں ۔ یہاں کے جوان چین کی بانسری پھر بجا سکتے ہیں ۔ ضرورت ہے تو صرف امت مسلمۂ اور اہلِ وطن کا محنت ، عزم صمیم ، کوشش پیہم ، بلند نصب العین اور ثابت قدمی سے راہِ عمل کی راہ استوار کر کے حقوق اللہ اور حقوق العباد کے درس پر عمل پیرا ہو کر دشمنان ملک و ملت کی دھمکیوں کا منہ توڑ جواب دے کر وطنِ عزیز کے مظلوموں کی داد رسی کرنا کیونکہ بھیڑیا شیر کی منطق کو سمجھتا ہے وہ شیر کے فولادی پنجے کا احترام کرتا ہے نہ کہ بھیڑ کی امن پسندانہ چال سے ۔
جس طرح موجِ صبحِ نشاط دلوں کو تازگی بخشتی ہے بالکل اسی طرح پاک وطن کی مٹی کی خوشبو ہمارے دل و دماغ میں گُندھی ہوئی ہے اور اس کا تقدس دلوں کی رونق ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اِس درخشاں وطن کا ہر فرد اپنی سوچ کو بدل دے ۔ میڈیا پر دکھایا جانے والا ظلم و بربریت کا مثبت اثر دلوں پر لے نہ کہ منفی ! یعنی ہماری سوچ میڈیا ایسے نہ بدل سکے کہ ہم کہہ اٹھیں کہ پاکستان نہ ہی ہوتا تو ٹھیک تھا ( معاذ اللہ ) بلکہ ہمیں تو یہ کہنا چاہیے کہ
وطنِ عزیز کے دشمنو سنو ! تم ہم سے روٹی کا آخری نوالہ اور خون کی آخری بوند بھی لے لو ۔ تو بھی پاکستان نہیں ٹوٹے گا کیونکہ پاکستان بنا ہی قائم رہنے کیلئے ہے ! انشاء اللہ ۔
پاکستان کا ہر فرد پاکستان ہے اور دیسِ نگاراں کی مٹی کو خون دینے کیلئے ہر فرد اب بھی تیار ہے چاہے مودی کی دھمکیاں ہوں یا دہشت گردی کی فضا ، فرقہ پرستیاں اور ان سے پھیلی ہوئی کدورتیں ہوں یا سیلاب کی تباہ کاریاں ، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ ہو یا ڈینگی کے حملے یا کوئی اور آسمانی آفت ، ملک میں پھیلی ہوئی بے حیائی اور لا قانونیت ہو یا سوشل میڈیا کی پھیلائی ہوئی منافرت ، حکمرانوں کی ملک فروشی یا دولت اکھٹی کرنے کی ہوس ہو یا ہمارے بچوں کی بموں سے دریدہ لاشیں اور گلیوں کوچوں میں بارود کی پھیلی ہوئی بو ۔
ہمیں متزلزل نہیں کر سکتی کیونکہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان کا ہر فرد پاکستان ہے اور پاکستان کا ہر فرد اقبال کا شاہین ہے جو کہ بلند پرواز کو ہی ترجیح دیتا ہے ۔ ہماری قوم کبھی گھبرا کر ہندوؤں کے عزائم پورے نہیں ہونے دے گی کیونکہ بقول شاعر ۔

تو ماں باپ سے بڑھ کے پیارا ہے مجھ کو
میں قربان تجھ پر ہر اِک مان کر دوں
میں اولاد کا خوں ! مرے دیس دے کر
ترے ذرے ذرے کو ذیشان کر دوں

hubdar qaim

سیّد حبدار قائم

آف غریب وال


حبدار قائم

میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے ١1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے

Next Post

3جنوری ...تاریخ کے آئینے میں

پیر جنوری 3 , 2022
3جنوری ...تاریخ کے آئینے میں
January 03 in History