کرسیِ جناح تا مینار پاکستان

برصغیر کے مسلمانوں نے 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک لاہور میں پاکستان بنانے کے لیئے قرارداد منظور کی، یہ دنیا میں ایک انوکھا واقع تھا کہ قرارداد منظور ہونے کے بعد صرف سات سال میں ایک پورا ملک معرضِ وجود میں آگیا۔

اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی

ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد

دنیا کی ہر قوم اپنا ایک تاریخی پس منظر رکھتی ہے، اس قوم کی آزادی کا تعلق برائے راست اس پس منظر سے وابستہ ہوتا ہے، کوئی جذبہ خیال یا لمحہ ایسا ہوتا ہے جو تبدیلی کا باعث بنتا ہے۔ جب یہ جذبات انسان کی تاریخ کو جنجھوڑتے ہیں تو  تحریکیں جنم لیتی ہیں۔

23 مارچ وہ عظیم دن ہے کہ جب ایک آزاد ریاست کے خواب کے شرمندہ تعبیر کی خاطر محنت کرنے کی ٹھانی گئی۔

کئی دہائیوں سے جدوجہد کرتی ہوئی وہ قوم اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتی ہے اور وہ دن ہمیشہ کے لیئے یادگار دن بن جاتا ہے اس لیئے اس کو منانے کے کچھ مقاصد ہوتے ہیں۔

ایک تو ان لوگوں کی قربانی اور جذبے کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، دوسرا آنے والی نسلوں کو بتانا ضروری ہے کہ کسی بھی ملک کو حاصل کرنے یا بچانے کے لیئے کن کن قربانیوں سے گزرنا پڑتا ہے اور قربانی جذبے کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔

اگر ہم برصغیر پاک و ہند کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو 1875 کی جنگ آزادی سے لے کر 1947 قیام پاکستان تک بہت سے یادگار دن آئے مگر ان دنوں میں ایک دن ایسا دن بھی آیا جب برصغیر پاک و ہند کے تمام مسلمان قائدِ اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں دو قومی نظریہ کی چھاوں تلے اکٹھے ہو گئے۔

قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے خیالات، تصورات اور معاشرتی طور پر تہذیبوں میں بہت فرق پایا جاتا ہے لہزا ان کے لیئے الگ ملک کا ہونا اشد ضروری ہے۔

آج بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا امتیازی سلوک یہ واضح کرنے کے لیئے کافی ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح صاحب کا فیصلہ درست تھا۔

سلام ہے قائد کی دور اندیشی کو۔شاعر نے ایسے ہی افراد کے لیئے کہا ہے

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

23 مارچ 1940 کو قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں نعرہ تکبیر بلند ہوا،

قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں

جذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیں

23 مارچ کا دن ایسا دن ہے جس نے سچے جذبوں، آہنی ارادوں کے سفر کی بنیاد رکھی جس نے برصغیر کے مسلمانوں کے الگ وطن کے لیئے سیاسی جد وجہد کو پوری دنیا کے لیئے مثال بنا دیا۔

23 مارچ وہ عظیم دن کہ جب ایک آزاد ریاست کے خواب کی تعبیر پر محنت کرنے کی ٹھانی گئی۔

دل سے نکلے گی نہ مر کر وطن کی الفت

میری مٹی سے بھی خوشبو وفا آئے گی۔

یہ بات کسی المیہ سے کم نہیں کہ موجودہ نسل خداوند متعال کی عطاء کردہ اس نعمت کی قدر نہیں کر رہی جسے ہمارے بزرگان نے بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے۔

لیکن آج بھی ایسے جوان موجود ہیں جو وطن عزیز کے لیئے تن من دھن کی بازی لگا رہے ہیں شاید ایسے ہی جوانان کے لیئے علامہ محمد اقبال نے کہا تھا

نہیں ہےناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے

زرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

اس دعائیہ شعر کے ساتھ آج کے مضمون کا اختتام کروں گی

خدا کرے میری ارض پاک پہ اترے

وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

ثمانہ زھراء

Next Post

23 مارچ دے ناں

منگل مارچ 23 , 2021
اج اساڈی عیدالوطنی اج یوم پاکستان
iattock