انتظار حسین ساقی سے مکالمہ

انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات، فیصل آباد

انتظار حسین ساقی صاحب،فیصل آباد

انٹرویو کنندہ : مقبول ذکی مقبول، بھکر

دھرتی ساندل بار کے خوبصورت اور نفیس لب و لہجہ کے شاعر۔ ادیب، رائٹر، تنقید نگار، افسانہ نگار، ناول نگار، صحافی، جو کسی تعارف کے محتاج نہیں، کیونکہ آپ ان کی تحریروں کو اکثر رسالوں ، اخبارات، میں پڑھتے رہتے ہیں۔ “محراب عرض”، سلام عرض”، ریشم”، گل دستہ ادب” اور ملک کے بہت سارے رسالوں میں ڈائجسٹوں میں ان کی تحریریں ہماری آنکھوں کی زینت بنتی رہتی ہیں ۔ وہ سٹوری اور افسانہ دونوں میں کمال رکھتے ہیں، سٹوری جب لکھتے ہیں تو قاری کو ایسا معلوم ہوتا ہے۔ جیسے وہ اس کہانی کا خود اک کردار ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس کی سٹوریوں اور افسانوں میں وہ رنگ ہے جو ہر قاری کے دل میں اترتا جاتا ہے۔ اگر ان کے قلم کے بارے میں یوں کہا جائے کہ وہ اپنے قلم کو لہو میں ڈبو کر لکھتے ہیں تو غلط نہ ہوگا، ان کی تحریروں میں، اس وطن اس دیس سے محبت کا وہ جذبہ نمایاں نظر آتا ہے۔ جس کا ذکر وہ اپنی تحریروں اور اپنے اشعار کی صورت کرتے رہتے ہیں، نثر نگاری کے علاوہ وہ بہت اچھے اور نامور شاعر بھی ہیں۔ ان کی شاعری کی کتاب مارکیٹ کی زینت بن چکی ہے اور بہت ساری کتابیں ابھی اشاعت کے مراحل میں ہیں۔ ان کے اشعار میں، محبت، چاہیتں، عقیدت، اور محبتوں کی باتیں ہیں۔ اور انہوں نے، اس دور کے ہنگاموں میں ڈوبے انسانوں کو، مسکراہٹیں تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے ۔ایک شاعر اور رائٹر کے علاوہ وہ ایک بے باک صحافی بھی ہیں، تنقید نگار بھی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بلا کے سٹیجر بھی ہیں۔ کسی قسم کی تقریب ہو تو وہ سٹیچ پر آ کر بہت، اعلیٰ درجے کے مقرر ہیں۔ بولتے ہیں تو بولتے ہی جاتے ہیں ۔ ان کی شاعری اور لب و لہجہ اور نفسات نے ان کو بہت منفرد مقام عطا کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ تمام دوستوں اور حلقہء احباب میں بہت عزت اور شہرت کے حامل ہیں۔

intizar


گذشتہ دنوں ملاقات ہوئی جو ادبی گفتگو ہوئی وہ نظر قارئین ہے۔
سوال : آپ کا نام ۔؟
جواب : انتظار حسین
سوال : قلمی نام ۔؟
جواب : انتظار حسین ساقی
سوال : آپ کہاں پیدا ہوئے ۔؟
جواب فیصل آباد کی تحصیل تاندیانوالہ کے گاؤں 594گ ب باسی کچیاں بھٹیاں۔
سوال : آپ کی سالگرہ کا دن ۔؟
جواب : 15/10/1979بروزجمعہ
سوال : آپ کی تعلیم ۔؟
جواب : ابھی تو جاری ہے، دیکھیں کہاں تک حاصل کر پاتا ہوں
سوال : آپ کی شادی ہوئی ہے ۔ ؟
جواب : جی ہاں ہوئی ہے ۔ ؟
سوال : آپ کی شادی پسند کی شادی ہے ۔؟ کہ گھر والوں کی پسند کی ہے ۔ ؟
جواب : جی میرے گھر والوں کی پسند کی ہے ۔ میرے والدین کی پسند
سوال : آپ کی شریکِ حیات کا نام۔؟
جواب : رخسانہ انتظار
سوال : آپ کے بچے۔ ؟
جواب : ماشاءاللہ میرے دو بچے ہیں۔ ایک بیٹی، اور ایک بیٹا،
سوال : ان کے نام کیا ہیں ۔؟
جواب : بڑی بیٹی ہے ۔ قراۃ العین عینی، اور چھوٹا بیٹا، شاویز حیدر ساقی
سوال : بچوں کے نک نیم۔؟
جواب : بیٹی کو پیار سے عینی کہتے ہیں۔اور بیٹا کو گھر والے سب پیار سے، علی جی کہتے ہیں۔
سوال : آپ اپنی بیگم سے زیادہ پیار کرتے ہیں کہ وہ ۔؟
جواب : وہ مجھ سے بہت کرتی ہے، مگر ہم دونوں کی محبت ہمارے بچے ہیں۔
سوال : آپ کو کھیل کونسا پسند ہے ۔؟
جواب : مجھے، گولف، اور شطرنج، بہت پسند ہیں۔
سوال : آپ کیا کرتے ہیں ۔ فقط کام کیا کرتے ہیں۔ ؟
جواب : جی میں صحافت سے منسلک ہوں اور، زمین دار بھی ہوں
سوال : آپ کی ذات کیا ہے۔ ؟ کس برادری سے تعلق ہے ۔؟
جواب : زمین دار، کچھی، جٹ
سوال : اگر آپ کو ملک کا صدر بنا دیا جائے تو ۔؟
جواب : مجھے سیاست، پسند نہیں
سوال : آپ کو کھانے میں کیا پسند ہے ۔؟
جواب : اپنی ماں کے ہاتھ سے بنی ہوئی ، دودھ کی کھیر،
سوال : آپ کو گلوکار کونسا پسند ہے ۔ پاکستانی، انڈین،
جواب : نصرت فتح علی خان، استاد غلام علی، میڈم نور جہان، محمد عنریز انڈیا ۔
سوال : میوزک کونسا پسند ہے۔؟
جواب : کلاسک میوزک۔
سوال : آپ نے شاعری کب شروع کی۔ ؟
جواب : میں 8 کلاس میں تھا جب شعر کہنا شروع کیا۔
سوال : آپ کی شاعری کی پہلی کتاب کونسا ہے۔ !
جواب : میری شاعری کی پہلی کتاب، محبتیں بکھرنے نہ دینا “ہے
سوال : اس کے علاوہ آپ کی کتابیں کتنی ہیں ۔؟
جواب : اس کے علاوہ، میری، دو پنجابی، ” وکھرے وکھرے دکھ”، “اوکھے پینڈے عشق دے،” افسانوں کی کتاب، “جنت رورہی ہے،” اور ایک ناول بہت جلد مارکیٹ میں ہو گا ۔
سوال : آپ نے کہاں کہاں؟ کس رسالے، ڈائجسٹ، میں لکھا ۔؟
جواب : میں نے “جواب عرض، “سلام عرض، “ریشم، “شہری دفاع، “حنا، روز نامہ، ڈیلی رپورٹ، خبریں، ایکپریس میں لکھا اور لکھ رہا ہوں۔
سوال : کوئی ایسا لحمہ جو آپ کو کبھی نہ بھولاہو۔
جواب : جب میری کتاب، محبتیں بکھرنے نہ دینا، مارکیٹ میں آئی تو بہت سارے لوگوں نے دوستوں نے مبارک باد دی اورحوصلہ افزائی کی بہت خوشی ہوئی۔ مگر جس شخص کے نام میں نے اپنی ساری کتاب کی تھی۔ کتاب کا ایک ایک لفظ جس کے نام کیا تھا ۔ اور کتاب کے پہلے صفحہ پر انتساب اس کے نام کیا تھا ۔ اسی شخص کو جب کتاب دی تو اس نے لینے سے انکار کر دیا ۔ وہ لمحہ مجھے کبھی نہیں بھولتا ، جب بھی یاد آتا ہے ۔ بے اختیار آنکھوں سے آنسوں چھلک پڑ تے ہیں ۔
سوال : آپ اس شخص کا نام بتا نا پسند کریں گے ۔ ؟
جواب : نہیں سوری میں اس کا نام نہیں بتا سکتا، مگر اتنا ضرور کہوں گا۔
اب آخری سطروں میں کہیں نام ہے اس کا
احباب کی فہرست میں پہلا تھا جو اک شخص
سوال : آپ محبت پر یقین رکھتے ہیں۔
جواب : جی ہاں،
محبت کے دم سے یہ دنیا حسین ہے
محبت نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے
مگر آج کی محبت پر یقین نہیں ہے۔
سوال : آپ کو کسی محبت ہوئی ۔ ؟
جواب : جذبات اور احساسات کو محبت نہیں کہتے ۔ جذباتی رشتے جذباتی فیصلہ، کبھی محبت نہیں ہوسکتا ۔ بقول شاعر
محبت کے ایسے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیں
یہ وہ نغمہ ہے جو ہر ساز پہ گایا نہیں جاتا
سوال : کوئی ایسا خوشی بھرا لمحہ جو آپ کبھی نہ بھولے ہوں
جواب : جب اللّٰہ تعالیٰ نے بیٹی سے نوازا تھا اور پھر بیٹا کی خوشی اور جب پہلی دفعہ ۔ ایک مشاعرے میں غزل پڑھی، تھی میرے والدین نے مجھے 500 روپے انعام دیا تھا، وہ اب بھی میرے پاس ہیں ۔
سوال : اس غزل کا کوئی شعر ۔
جواب : جب سے بنی ہے دشمن پھر دوستوں کی سنگت
دل سے اتر گئی ہے ان موسموں کی سنگت
سوال : آپ نے کوئی ایوارڈ جیتا ۔ ؟
جواب : غزل ایوارڈ، شیخوپورہ، غزل ایوارڈ تاندیانوالہ، جواب عرض ایوارڈ، لاہور، ایوارڈ، اسلام آباد، بیٹ کمپنٹیٹر ایوارڈ، نقیبی کاروان ادب فیصل آباد، بزمِ شمسی ایوارڈ ، قائم پور ، پرس کلب ایوارڈ ، حاصل پور، ایوارڈ سکاٹ کمپ ، لاہور ، ایوارڈ، ماہنامہ اوج ڈائجسٹ، ملتان اور اپنے پرستاروں کی محبت کی میرے پیشے بہت بڑے ایوارڈ ہیں ۔
سوال : آپ کس کس شاعر کو پسند کرتے ہیں ۔ جواب : شہید محسن ۔ بہت بہت پسند کرتا ہوں ۔ ان کے علاوہ ۔ پروین شاکر، فاخرہ بتول، میر تقی میر، داغ دہلوی، علامہ محمد اقبال، سید وارث شاہ اور قتیل شفائی ۔
سوال : آپ کا پسندیدہ شعر کونسا ہے ۔؟
جواب : چاند تنہائی کے پاتال میں تھک جاتا ہے
سو جیتے ہوں گے بہت ہم سے بچھڑنے والے
سوال : آپ کب لکھتے ہیں ۔ ؟
جواب : جب ہر طرف خاموشی ہو، سکوت ہو، رات ڈھل جائے اور تاروں کو جب نیند آ نے لگے ۔
سوال : کونسی روشنی میں لکھنا پسند ہے ۔ ؟
جواب : کسی مٹی کے مکان میں، چراغ جلا کر
سوال : فارغ وقت میں کیا کرتے ہیں ۔ ؟
جواب : بچھڑنے والوں کو، بے وفا، لوگوں کو، جھوٹے اور کم ظرف، لوگوں کو دل سے دعائیں دیتا ہوں کہ وہ جہاں بھی رہیں خوش رہیں ۔
سوال : موسم کونسا آپ کو پسند ہے ۔؟
جواب : موسم تو دل ہوتا ہے، دل کا موسم اچھا ہو تو سب کچھ اچھا ہوتا ہے، ویسے مجھے، سخت سردی، دھند اور برف باری والا موسم بہت بہت پسند ہے ۔ سردیوں کی رم جھم بھی مار دیتی ہے ۔
سوال : زندگی میں کوئی کمی کوئی ادھوری خواہیش ۔ ؟
جواب : کوئی کمی نہیں اللّٰہ تعالیٰ کا سب کچھ ہے مگر میری یہ دلی خواہش ہے کہ میں اپنی پوری فیملی کے ساتھ، حج اور زیارات پر جاؤں ۔
سوال : پھول کونسا پسند ہے ۔؟
جواب : وہ جو اپنے ہاتھوں سے محبوب کی زلفوں میں سجا ہو، پھولوں کے گجرے بھی پسند ہیں ۔ گلابوں کے اور اچھے لگتے ہیں ۔
سوال : آپ کو کتاب کونسی پسند ہے ۔؟
جواب : قرآن پاک
سوال : شہر کونسا پسند ہے ۔؟
جواب : مدینہ شریف، ایران، عراق، شام
سوال : جاگنا کب اچھا لگتا ہے ۔؟
جواب : شب عاشور
سوال : آپ کی کونسی سٹوری نے آپ کو بہت شہرت دی ۔؟
جواب : 1 جنت رورہی، 2 عشق محبت ہار گئے ہم، 3 وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا
سوال :سونا کب اچھا لگتا ہے ۔؟
جواب : اپنی ماں گود میں سر رکھ کر سونا، بہت اچھا لگتا ہے ، جب وہ لوریاں دیتی ہے تو سارے غم بھول جاتے ہیں ۔
سوال : گرمیوں میں کیا اچھا لگتا ہے اور سردیوں میں ۔؟
جواب : گرمیوں میں محرا کی چاندی، اور سردیوں میں چودھویں کا چاند
سوال : سورج اچھا لگتا ہے کہ چاند ۔؟
جواب : سورج کی پہلی کرن، اور چاندی کی جوانی۔
سوال : ہر انسان کی کامیابی کے پیچھے کسی کا ہاتھ ہوتا ہے ۔ آپ کے پیچھے کون ۔؟
جواب : میرے والدین، جن کی دعاؤں سے آج میں اس مقام پر ہوں اور اتنی عزت ملی ہے کہ ان کے بعد میرے استاد محترم جناب نصیر احمد امیر بلوچ مرحوم ، اور میری شریکِ حیات جو میری حوالہ افزائی کرتی ہے۔
سوال : کسی سے کوئی گلہ ہو آپ کو ۔ ؟
جواب : مجھے کسی سے گلہ نہیں کیونکہ بقول شاعر
دل کے لٹنے کا سبب تو پوچھونہ سب کے سامنے
نام آئے گا تمہارا یہ کہانی پھر سہی
سوال : نئے سال کے محرالے سے کچھ کہنا چاہیں گے ۔
جواب : تیرے ہجراں سے تعلق نبھانے کے لیے
اس سال بھی جینے کی قسم کھائی ہے
سوال : زندگی کا کوئی خطرناک واقعہ ۔؟
جواب : ہم کالج ٹور گروپ تاندیانوالہ سے سوات گئے تھے۔ جب ہم وہاں جہلم جبا پہاڑ پر گئے تو اوپر جاکر ہماری گاڑی میں کوئی خرابی پیدا ہو گئی جس کی وجہ ہماری گاڑی نیچے آنے لگی، ہم سب لوگ ڈر گئے، اور ہم نے چیلانا شروع کر دیا۔ ہماری آوازیں سن کر لوگ بھا گے، اور ہماری گاڑی کے ٹائیروں کے آ گے پتھر وغیرہ رکھتے اور ہماری گاڑی رک گئی، اور ہماری سانس میں سانس آئی ۔ وہ وقت جب بھی یاد آتا ہے، رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔
سوال : آپ اگر شاعر، ادیب، رائٹر نہ ہوتے تو کیا ہوتے ۔ ؟
جواب : میں ایک فوجی کیپٹن ہوتا ۔ آرمی میں ہوتا۔
سوال : آخر میں اپنے پیارے پاکستان کے لیے کچھ کہنا چاہیں گے ۔؟
جواب : جی اس کے نام سے تو ہمارا نام ہے ، مجھے اس دھرتی سے بہت پیار ہے اور اس کے لوگوں سے بہت پیار ہے۔ مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو اس دھرتی کے دشمن ہیں۔ اس کے لوگوں کے دشمن ہیں۔ خدا را ان لوگوں کو تلاش کرو۔ جو اس ہستے مسکراتے دیس کو ہستا مسکراتا نہیں دیکھ سکتے، جو اس دیس اس دھرتی کے لہو کے پیاسے ہیں ۔ ان سے بچنے کی ضرورت ہے۔

intizar


وہ ہمارے دوست نہیں دشمن ہے فرق صرف اور صرف محسوس کرنے کا ہے ۔ دعا ہے کہ خدا اس دیس کو ہمیشہ سلامت رکھے ۔ اور اس کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے والوں کی کبھی آنکھیں سلامت نہ ہوں۔
اتنا خائف ہوں اس دور کے ہنگاموں سے
اب ہوا سانس بھی لیتی ہے تو ڈر جاتا ہوں

maqbool zaki

مقبول ذکی مقبول

بھکر، پنجاب، پاکستان

مقبول ذکی مقبول

Next Post

اکیسویں صدی کی داستانِ عشق

اتوار فروری 20 , 2022
یہ8اور9فروری کی نصف شب کا عمل تھا بندہ فقیر کی خواب میں محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم تشریف لائے۔۔۔
اکیسویں صدی کی داستانِ عشق