ڈاکٹر محسن مگھیانہ سے گفتگو

انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات، جھنگ

ڈاکٹر محسن مگھیانہ صاحب

انٹرویو کنندہ: مقبول ذکی مقبول بھکر

سوال: آپ کا مختصر تعارف۔۔۔۔۔؟

جواب : میرا ادبی نام ڈاکٹر محسن مگھیانہ ہے۔ پریکٹس میں نام ڈاکٹر نیاز علی محسن مگھیانہ ہے اور سرکاری نام ڈاکٹر نیاز علی احمد خان محسن ہے۔ بنیادی طور پر سرجن ہوں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جھنگ سے بطور چیف سرجن اور سربراہ شعبہ سرجری یکم جنوری 2016ء کو 20 ویں گریڈ میں باعزت ریٹائرہوا ہوں۔ اردو پنجابی اور انگریزی میں لکھتا ہوں۔

سوال : اعلیٰ تعلیم کہاں کہاں سے حاصل کی۔۔۔۔۔؟

جواب : گورنمنٹ کالج جھنگ سے ایف ایس سی کرنے کے بعد بی ایس سی میڈیکل کالج فیصل آباد سے ایم بی بی ایس اور بعد میں ماسٹر آف سرجری کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی ( پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ لاہور)

سوال : ملازمت کا سلسلہ کہاں کہاں رہا۔۔۔۔۔؟

جواب : پہلے پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد میں انائمی (علم اللابدان)

میں ڈیمانسٹریڑ کام کیا۔(1981ء میں ہاؤس جاب کے بعد)

بعد میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال (ڈویژنل) فیصل آباد میں اور الائیڈ ہسپتال میں رجسٹرار رہا کچھ عرصہ  لاہور میں نارتھ سرجیکل میں کام کیا۔ پھر الائیڈ ہسپتال بی ایم سی میں سینئر رجسٹرار اور اسسٹنٹ پروفیسر سرجری رہا۔ بعد میں بطور سرجن ٹوبہ ٹیک سنگھ، چنیوٹ اور پھر جھنگ کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں سرجن کے فرائض سر انجام دیئے۔

سوال : آپ کا ادبی دنیا میں ورود کب ہوا۔۔۔۔۔؟

جواب : میں نے آٹھویں جماعت میں لکھنا اور چھپنا شروع کیا۔ میں یہ 1968ء کی بات ہے۔ تب میں اسلامیہ ہائی اسکول جھنگ میں پڑھتا تھا۔ جھنگ میں جتنے بھی بچوں کے رسائل آتے تھے۔ مثلا ”کھلونا، تعلیم و تربیت، ہمدرد، نونہال وغیرہ۔ ان میں چھپتا رہا۔ ان دنوں یہاں روزنامہ امروز، مشرق اور نوائے وقت شائع ہوا کرتے تھے (جنگ کراچی سے آتا تھا بہت بعد میں پنجاب سے چھپنا شروع ہوا)

ان میں میری شاعری اور نثر شائع ہوتی تھی ۔

جب میں گورنمنٹ کالج جھنگ میں داخل ہوا تو پروفیسر حیات خان سیال شعبہ اردو سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے مجھے کالج کے مجلہ کاروان کا ایڈیٹر منتخب کیا جس کی بنیاد یہ تھی کہ میں ایک سرکاری مقابلہ مضمون نویسی میں ضلع بھر میں اول آیا۔ اسکول کے زمانے میں ، میں نے خواجہ یونس حسن شہید پین فرینڈز کلب کی داغ بیل رکھی اور شہید کے نام سے ایک رسالہ اپنے جیب خرچ سے شائع کرتا تھا ۔

بعد میں پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد کے میگزین شاہین کی ادارت میں شامل ہوا ۔ اس کا نام بعد میں/” پرواز” رکھا گیا اس کی بھی ادارت کی۔ وہاں چناب سوسائٹی (ضلع جھنگ کے طلبہ و طالبات کی نمائندہ تنظیم) کی طرف سے رسالہ” آبشار “بھی شائع کیا ۔ میڈیکل کی مشکل تعلیم کے باوجود لکھنے کا سلسلہ جاری رہا ۔

یہاں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جھنگ میں بھی میری ادارت میں ہاسٹل گزٹ کے دو شمارے شائع ہوئے۔

پورے پاکستان میں کسی بھی ضلعی ہسپتال سے  نکلنے والا واحد رسالہ تھا ۔ تاہم حکومت کے تعاون نہ کرنے پر اسے بند کر نا پڑا ویسے بھی اس کے بجٹ کا خاصہ حصہ مجھے اپنی جیب سے بھر نا پڑ تا تھا۔

Dr. Mohsin Maghiyana

سوال : آپ کی نثری خدمات کیا ہیں۔۔۔۔۔؟

جواب : اب تک میری 21 کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان میں سے 15 اردو اور 6 پنجابی میں ہیں ۔ ان کتابوں میں سے صرف دو (فی الحال) شاعری کی باقی 19 کتابیں نثر میں ہیں۔ ان تمام کتب کی فہرست وکی پیڈیاWikipedia  (جو کہ آن لائن دنیا کا سب سے بڑا انسائیکلوپیڈیا ہے)

ہر کئی برسوں سے موجود ہے۔

نثری کتابوں کے نام درج ذیل ہیں۔

1۔ انوکھا لاڈلا (اردو آپ بیتی) طنز ومزاح

2۔ بھنبیری (لاہندی پنجابی) کہانیاں

3 ۔چھیڑ خانی (اردو) طنز ومزاح

4۔ دیسی ان ولایت (اردو) سفرنامہ برطانیہ

5۔ مسئلہ ہی کوئی نہیں(اردو) مضامین طنز و مزاح

6۔ انیندرے (لاہندی پنجابی) کہانیاں

7۔ اٹکھیلیاں (اردو)طنز و مزاح

8۔ چنتا (لاہندی پنجابی) انشائیے/سوچ پارے/ کو مرالیکھ

9۔الف(اللّٰہ) میم (محمد)(ص) اردو سفرنامہ حج

10۔ مستیاں (اردو) مضامین طنز ومزاح

11.  بھاگ ڈاکٹر بھاگ (اردو) مضامین طنز ومزاح

12۔ پنڈدی لاری (لاہندی پنجابی)ہاسے دا ادب

13. ایک پیالی چائے (اردو) انشائیے

14. آبیل مجھے لتاڑ (اردو) مضامین طنز ومزاح

15. وکھری سوچ (لاہندی پنجابی)ڈراما

16. حسنِ مصر (اردو) سفرنامہ مصر

17۔ ایک نہیں چار چار (اردو) مضامین طنز و مزاح

18. پیارا لوٹے میں(اردو) مضامین طنز و مزاح

19۔ کھیلن کو مانگے چاند (اردو) آپ بیتی

علاوہ ازیں میری پنجابی کہانیوں کی کتاب بھنبیری کے دو ترجمے ہوئے۔

 1۔ روسی ترجمہ:ورتوشکا ترجمہ کار ڈاکٹر فیض مگھیانہ، لارلسیاویزلکورا اور بلقیس فاطمہ

2۔ انگریزی ترجمہ:ورلی فین ترجمہ کار حمید یوسفی

ایک کتاب مجھ پر لکھی گئی

بلندیوں کا مسافر: مصنفہ ڈاکٹر شاہدہ دلاور

سوال : آپ کی شعری خدمات؟

جواب:1. یہ کیسی محبت ہے (اردو)

2. موتی رولن دے (پنجابی ماہیے)

سوال : مختلف یونیورسٹیوں سے طلباء و طالبات نے ایک درجن سے سے زائد آپ کے ادبی کام پر تحقیقی مقالے لکھے جا چکے ہیں۔ اس کام پر آپ کچھ کہنا چاہیں گے۔۔۔۔۔؟

جواب :جی الحمداللہ یہ اللّٰہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ میری لکھتوں پر اتنا کام ہوا ہے۔ میں اکثر دوستوں سے کہتا ہوں کہ مجید امجد جو جھنگ، پاکستان اور پوری ادبی دنیا کا سرمایہ ہیں۔ بعد ازمرگ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے دھڑا دھڑ مقالہ جات لکھے جارہے ہیں۔ ان کی زندگی میں تو اس کی قدر نہ کی ہوئی۔ ان قبر پر انہی کا شعر لکھا ہوا ہے۔

گزری ہے عمر بہاروں کے سوگ میں امجد

میری لحد پہ کھلیں جاوداں گلاب کے پھول

اب ان کی لحد پہ جاوداں گلاب کے پھول کھل رہے ہیں۔

انہیں حکومت نے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا ہے، مگر بعد از مرگ ۔ اب اسے اسکا کیا فائدہ؟ اسے کیا معلوم کہ اب اس کی کتنی عزت ہوری ہے۔

بہرحال اس ناچیز پر جو کام ہوا توبہت حوصلہ افزائی بات ہے۔ اس سے اندر سے پھوٹنے والے ادب کے لاوے کو مہمیز ملتی ہے۔ اب تک جو مقالات لکھے جا چکے ہیں۔ ان کی تعدادحسب زیل ہے۔

ایم اے.2

 بی ایس. 2

ایم فل. 7

ابھی دو طالبات ملتان اور سیالکوٹ سے میری کتابوں پر ایم فل کررہی ہیں اور پشاور سے ایک طالبہ2000ء کے بعد لکھے جو کے سفرناموں پر پی ایچ ڈی کر رہی ہے۔ میرا حج کا سفرنامہ الف (اللّٰہ)میم (محمد)(ص) بھی اس میں شامل ہے۔ جو میرے لئے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔

mohsin baghiyana and zaki

اب تک لکھے گئے مقالات کی تفصیل وکی پیڈیا Wikipedia

 پر دیکھی جاسکتی ہیں۔ دریں اثناء میرا یوٹیوب چینل بھی میرے نام یعنیdr.moshin mighina کے ٹائٹل سے سرچ میں جا کر دیکھ اور Subscribe کیا جاسکتا ہے۔ جس سے میری ادبی اور سرجن کے طور پر تعارف آسانی سے دیکھا اور سنا جا سکتا ہے۔

 سوال : اس موجودہ دور کے تناظر میں تخلیق ادب کے سلسلہ میں آپ کس بات کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہیں۔۔۔۔۔؟

جواب : لکھاری گردوپیش کے حالات سے خوب آشنا ہوتا ہے۔

بنیادی طور پر وہ ایک بے حد حساس انسان ہوتا ہے۔ ایسا انسان جسے تخلیقی قوت ودیعت کی گئی ہوتی ہے ۔ وہ اردوگرد کے معاشرے سے کبھی علیحدہ ہو کر نہیں رہ سکتا۔ اس لئے اس کی تحریر چاہے نثر ہو یا شاعری اس میں پڑا اثر تحریریں پڑھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کس دور میں لکھی گئی تھیں۔

سوال : مختلف ادبی تنظیموں نے ایوارڈز اور اسناد سے آپ کو نوازا ہے۔ اس بارے میں کیا کہیں گے۔۔۔۔۔؟

جواب : یہ ان سب ادبی تنظیموں کی مہربانی ہے کہ ان کی اس ناچیز کے ادب پر نگاہ پڑی اور اس قابل سمجھا کہ مجھے ایوارڈ اور اسناد سے نوازا جائے۔ یہ ایوارڈز اور اسناد انسان کے قلم کو مہمیز بخشتے ہیں۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ قاری ہی آپ کا سب سے بڑا نقاد ہوتا ہے اور اس کی شاباش ہی سب سے اعلیٰ ایوارڈ ہے۔ بہت سے لکھاریوں کو درجنوں ایوارڈز ملے ہیں۔ مگر ان کی کتب کو عوامی پذیرائی نہیں ملی۔ اگر تو آپ ادب قارئین کے لئے لکھتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں تو یہ بہت بڑی بات بلکہ صدقہِ جاریہ ہے۔ اگر آپ ادب چند مخصوص لوگوں یا طبقے کے لیے لکھتے ہیں۔ تو یہ آپ کی مرضی ہے۔ میں تو سہل ممتنع میں لکھتا ہوں۔ میری کتابیں ہر وہ شخص پڑھ اور سمجھ سکتا ہے جو اور پڑھ سکتا ہے۔ چاہے وہ ریڑھی ہی کیوں نہ لگاتا ہو۔ جب تعریف کرتا ہے تو دل ہلیوں اچھلتا ہے۔ لوگوں کے خطوط پوری دنیا سے مجھ ناچیز کو آتے ہیں اور اب تو سوشل میڈیا بہت سرگرم ہے۔ اس پہ جو دوست پذیرائی دیتے ہیں وہ میرا خون گرمائے رکھتی ہے۔ پوری دنیا سے قاری فون کر کے حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ تبھی تو میں مسلسل لکھ رہا ہوں اور جب تک اللّٰہ تعالیٰ کا کرم ہے لکھتا رہوں گا۔ انشاء اللہ

سوال : آپ کا ادبی کام مقدار اور معیار کے حوالے سے کس حد تک مطمئن ہیں۔۔۔۔؟

جواب : ایک درجن سے زائد ایم اے۔ بی ایس۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات میری کتابوں پر لکھے گئے ہیں یا جا رہے ہیں۔ یہی بات مجھے حوصلہ دیتی ہے۔ یقین مانیں کہ طلباء وطالبات میرے پاس آتے ہیں کہ آپ پر میں تحقیق کررہا/رہی ہوں اور مجھے مقالے کا  یہ عنوان ملا ہے۔ تب مجھے پتہ چلتا ہے کہ یونیورسٹی کی کمیٹی نے میری تحریر کو اس قابل سمجھا ہے۔ اسی سے حوصلہ افزائی ہوتی ہے کہ میرا کام معیاری ہے۔ تھبی تو اتنا کام ہو رہا ہے۔ اتنی تحقیق ہوری ہے۔ ویسے بھی میں تو بنیادی طور پر ایک سرجن ہوں۔ تعلیمی اداروں میں میرا تعارف میری تحریریں ہیں ۔ جن کے بل بوتے اور یہ اللّٰہ کے فضل سے کام ہورہا ہے۔ مجھے تو الحمداللہ کسی کو کہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی کہ میری لکھتوں پر کام کرادیا جائے۔

سوال : ماشاءاللہ آپ کا سارا گھرانہ ڈاکٹر ہے۔ ادبی حوالے سے کیسا ماحول ہے۔۔۔۔۔؟

جواب : جی اللّٰہ کا ہم پر خاص احسان ہے۔ گھر میں سب سے بڑا ہوں پہلے میں ڈاکٹر بنا تو یہ سلسلہ دیکھتے ہی دیکھتے جاری رہا۔ ہم چھ بہن بھائیوں میں سے چار ڈاکٹر ہیں۔ ہم تین بھائی ہی میڈیکل کالج فیصل آباد کے سپوت ہیں جبکہ بہن نے روس سے ایم ڈی کی۔ میرا بیٹا ڈاکٹر جبران محسن ڈبل ایف سی پی ایس ہے ۔ بہن بھی سپشلسٹ ہے۔ ایک بیٹی ڈاکٹر سارا محسن امریکہ میں ریزیڈ سی آر پی ہے۔

چھوٹی بیٹی ملائکہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں سائیکالوجی پڑھ رہی ہے۔

بھائیوں میں سے مرحوم ڈاکٹر فیصل مگھیانہ شاعری کرتے تھے اور ہزاروں اشعار اساتذہ کے اسے ازبر یاد تھے۔ جبکہ چھوٹی بیٹی ملائکہ بھی شاعری کرتی ہے۔

سوال : آپ گستاخ بخاری مرحوم کے بارے میں کیا کہیں گے۔۔۔۔۔؟

جواب : جھنگ میں ایسے شاعر بہت کم گزرے ہیں۔ جن کے گستاخ بخاری کی طرح اتنے مجموعہ ہائے کلام شائع ہوئے ہیں۔ خاص طور پر حمد اور نعت میں ان کا بہت کام ہے۔ جو معیار کے ہر پیمانے پر فٹ آتا ہے۔ ان کی وفات کا بہت دکھ ہوا ہے۔ لیکن جس تیز رفتاری سے ان کی شاعری شائع ہوری تھی اس کی وجہ اب سمجھ آئی ہے کہ ان کے تحت الشعور میں یہ بات کہیں سے درآئی کہ ان کے پاس وقت بہت کم ہے۔ اوپر سے ان پر ذاتی مسائل کا نفسیاتی دباؤ بھی بہت زیادہ تھا۔ ان کی ہمت کی داد دینی پڑتی ہے کہ اس کے باوجود وہ ہمیں معیاری شاعری تحفہ دے کر اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین

سوال : جدید ادب کے حوالے سے آپ کی رائے۔۔۔۔۔؟

جواب :ہر دور کا اپنا ادب ہوتا ہے۔ تاہم کئی لوگ روایتی طریقے سے لکھنے کے قائل ہوتے ہیں۔ جبکہ کچھ لوگ ادب میں نئی نئی جہتوں کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ جو ادب کی ترقی کے لئے بہت ضروری ہوتا ہے ۔ محض طرز کہن پر اڑنا بھی ٹھیک نہیں ہے۔ ویسے یہ بھی عرض کروں کہ ہر دور کا جدید ادب مختلف ہوتا ہے۔ جو کچھ عرصہ بعد روایتی ادب لگنا شروع ہوتا ہے۔ تاہم نئی راہیں تلاش کرنے والے جدید ادب میں نئی نئی جہتوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ جو کہ ادب کی ترقی کے لئے جزوِ لاینفک ہے۔

سوال : جھنگ کی ادبی تاریخ کی موجودہ صورت پر آپ کیا روشنی ڈالیں گے۔۔۔۔۔؟

جواب : الحمداللہ جھنگ اب بھی ادب کا گڑھ ہے۔ چند برس پہلے الطاف حسین قریشی (اردو ڈائجسٹ والے) جھنگ ایک مشاعرے میں کریڈٹ کالج تشریف لائے تو شاعروں کا کلام سن کر گویا ہوئے۔ جس طرح اردو میں دبستان لکھنو، دبستان دہلی ہے ۔ اسی طرح سے میں سمجھتا ہوں یہ دبستان جھنگ ہے۔ ان کی طرف سے یہ اعزاز یہاں ادب کے شعراء کی شاعری کو سن کر دیا گیا۔ جو ہم سب کے لیے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔ باہر کے لوگ تصور بھی کر سکتے ہیں۔ یہاں مسلسل کتنا ادبی (وہ بھی معیاری) کام ہوں رہا ہےاور جواں نسل میں انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات، جھنگ

ڈاکٹر محسن مگھیانہ صاحب

انٹرویو کنندہ: مقبول ذکی مقبول بھکر

سوال: آپ کا مختصر تعارف۔۔۔۔۔؟

جواب : میرا ادبی نام ڈاکٹر محسن مگھیانہ ہے۔ پریکٹس میں نام ڈاکٹر نیاز علی محسن مگھیانہ ہے اور سرکاری نام ڈاکٹر نیاز علی احمد خان محسن ہے۔ بنیادی طور پر سرجن ہوں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جھنگ سے بطور چیف سرجن اور سربراہ شعبہ سرجری یکم جنوری 2016ء کو 20 ویں گریڈ میں باعزت ریٹائرہوا ہوں۔ اردو پنجابی اور انگریزی میں لکھتا ہوں۔

سوال : اعلیٰ تعلیم کہاں کہاں سے حاصل کی۔۔۔۔۔؟

جواب : گورنمنٹ کالج جھنگ سے ایف ایس سی کرنے کے بعد بی ایس سی میڈیکل کالج فیصل آباد سے ایم بی بی ایس اور بعد میں ماسٹر آف سرجری کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی ( پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ لاہور)

سوال : ملازمت کا سلسلہ کہاں کہاں رہا۔۔۔۔۔؟

جواب : پہلے پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد میں انائمی (علم اللابدان)

میں ڈیمانسٹریڑ کام کیا۔(1981ء میں ہاؤس جاب کے بعد)

بعد میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال (ڈویژنل) فیصل آباد میں اور الائیڈ ہسپتال میں رجسٹرار رہا کچھ عرصہ  لاہور میں نارتھ سرجیکل میں کام کیا۔ پھر الائیڈ ہسپتال بی ایم سی میں سینئر رجسٹرار اور اسسٹنٹ پروفیسر سرجری رہا۔ بعد میں بطور سرجن ٹوبہ ٹیک سنگھ، چنیوٹ اور پھر جھنگ کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں سرجن کے فرائض سر انجام دیئے۔

سوال : آپ کا ادبی دنیا میں ورود کب ہوا۔۔۔۔۔؟

جواب : میں نے آٹھویں جماعت میں لکھنا اور چھپنا شروع کیا۔ میں یہ 1968ء کی بات ہے۔ تب میں اسلامیہ ہائی اسکول جھنگ میں پڑھتا تھا۔ جھنگ میں جتنے بھی بچوں کے رسائل آتے تھے۔ مثلا ”کھلونا، تعلیم و تربیت، ہمدرد، نونہال وغیرہ۔ ان میں چھپتا رہا۔ ان دنوں یہاں روزنامہ امروز، مشرق اور نوائے وقت شائع ہوا کرتے تھے (جنگ کراچی سے آتا تھا بہت بعد میں پنجاب سے چھپنا شروع ہوا)

ان میں میری شاعری اور نثر شائع ہوتی تھی ۔

جب میں گورنمنٹ کالج جھنگ میں داخل ہوا تو پروفیسر حیات خان سیال شعبہ اردو سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے مجھے کالج کے مجلہ کاروان کا ایڈیٹر منتخب کیا جس کی بنیاد یہ تھی کہ میں ایک سرکاری مقابلہ مضمون نویسی میں ضلع بھر میں اول آیا۔ اسکول کے زمانے میں ، میں نے خواجہ یونس حسن شہید پین فرینڈز کلب کی داغ بیل رکھی اور شہید کے نام سے ایک رسالہ اپنے جیب خرچ سے شائع کرتا تھا ۔

بعد میں پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد کے میگزین شاہین کی ادارت میں شامل ہوا ۔ اس کا نام بعد میں/” پرواز” رکھا گیا اس کی بھی ادارت کی۔ وہاں چناب سوسائٹی (ضلع جھنگ کے طلبہ و طالبات کی نمائندہ تنظیم) کی طرف سے رسالہ” آبشار “بھی شائع کیا ۔ میڈیکل کی مشکل تعلیم کے باوجود لکھنے کا سلسلہ جاری رہا ۔

یہاں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جھنگ میں بھی میری ادارت میں ہاسٹل گزٹ کے دو شمارے شائع ہوئے۔

پورے پاکستان میں کسی بھی ضلعی ہسپتال سے  نکلنے والا واحد رسالہ تھا ۔ تاہم حکومت کے تعاون نہ کرنے پر اسے بند کر نا پڑا ویسے بھی اس کے بجٹ کا خاصہ حصہ مجھے اپنی جیب سے بھر نا پڑ تا تھا۔

سوال : آپ کی نثری خدمات کیا ہیں۔۔۔۔۔؟

جواب : اب تک میری 21 کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان میں سے 15 اردو اور 6 پنجابی میں ہیں ۔ ان کتابوں میں سے صرف دو (فی الحال) شاعری کی باقی 19 کتابیں نثر میں ہیں۔ ان تمام کتب کی فہرست وکی پیڈیاWikipedia  (جو کہ آن لائن دنیا کا سب سے بڑا انسائیکلوپیڈیا ہے)

ہر کئی برسوں سے موجود ہے۔

نثری کتابوں کے نام درج ذیل ہیں۔

1۔ انوکھا لاڈلا (اردو آپ بیتی) طنز ومزاح

2۔ بھنبیری (لاہندی پنجابی) کہانیاں

3 ۔چھیڑ خانی (اردو) طنز ومزاح

4۔ دیسی ان ولایت (اردو) سفرنامہ برطانیہ

5۔ مسئلہ ہی کوئی نہیں(اردو) مضامین طنز و مزاح

6۔ انیندرے (لاہندی پنجابی) کہانیاں

7۔ اٹکھیلیاں (اردو)طنز و مزاح

8۔ چنتا (لاہندی پنجابی) انشائیے/سوچ پارے/ کو مرالیکھ

9۔الف(اللّٰہ) میم (محمد)(ص) اردو سفرنامہ حج

10۔ مستیاں (اردو) مضامین طنز ومزاح

11.  بھاگ ڈاکٹر بھاگ (اردو) مضامین طنز ومزاح

12۔ پنڈدی لاری (لاہندی پنجابی)ہاسے دا ادب

13. ایک پیالی چائے (اردو) انشائیے

14. آبیل مجھے لتاڑ (اردو) مضامین طنز ومزاح

15. وکھری سوچ (لاہندی پنجابی)ڈراما

16. حسنِ مصر (اردو) سفرنامہ مصر

17۔ ایک نہیں چار چار (اردو) مضامین طنز و مزاح

18. پیارا لوٹے میں(اردو) مضامین طنز و مزاح

19۔ کھیلن کو مانگے چاند (اردو) آپ بیتی

علاوہ ازیں میری پنجابی کہانیوں کی کتاب بھنبیری کے دو ترجمے ہوئے۔

 1۔ روسی ترجمہ:ورتوشکا ترجمہ کار ڈاکٹر فیض مگھیانہ، لارلسیاویزلکورا اور بلقیس فاطمہ

2۔ انگریزی ترجمہ:ورلی فین ترجمہ کار حمید یوسفی

ایک کتاب مجھ پر لکھی گئی

بلندیوں کا مسافر: مصنفہ ڈاکٹر شاہدہ دلاور

سوال : آپ کی شعری خدمات؟

جواب:1. یہ کیسی محبت ہے (اردو)

2. موتی رولن دے (پنجابی ماہیے)

سوال : مختلف یونیورسٹیوں سے طلباء و طالبات نے ایک درجن سے سے زائد آپ کے ادبی کام پر تحقیقی مقالے لکھے جا چکے ہیں۔ اس کام پر آپ کچھ کہنا چاہیں گے۔۔۔۔۔؟

جواب :جی الحمداللہ یہ اللّٰہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ میری لکھتوں پر اتنا کام ہوا ہے۔ میں اکثر دوستوں سے کہتا ہوں کہ مجید امجد جو جھنگ، پاکستان اور پوری ادبی دنیا کا سرمایہ ہیں۔ بعد ازمرگ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے دھڑا دھڑ مقالہ جات لکھے جارہے ہیں۔ ان کی زندگی میں تو اس کی قدر نہ کی ہوئی۔ ان قبر پر انہی کا شعر لکھا ہوا ہے۔

گزری ہے عمر بہاروں کے سوگ میں امجد

میری لحد پہ کھلیں جاوداں گلاب کے پھول

اب ان کی لحد پہ جاوداں گلاب کے پھول کھل رہے ہیں۔

انہیں حکومت نے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا ہے، مگر بعد از مرگ ۔ اب اسے اسکا کیا فائدہ؟ اسے کیا معلوم کہ اب اس کی کتنی عزت ہوری ہے۔

بہرحال اس ناچیز پر جو کام ہوا توبہت حوصلہ افزائی بات ہے۔ اس سے اندر سے پھوٹنے والے ادب کے لاوے کو مہمیز ملتی ہے۔ اب تک جو مقالات لکھے جا چکے ہیں۔ ان کی تعدادحسب زیل ہے۔

ایم اے.2

 بی ایس. 2

ایم فل. 7

ابھی دو طالبات ملتان اور سیالکوٹ سے میری کتابوں پر ایم فل کررہی ہیں اور پشاور سے ایک طالبہ2000ء کے بعد لکھے جو کے سفرناموں پر پی ایچ ڈی کر رہی ہے۔ میرا حج کا سفرنامہ الف (اللّٰہ)میم (محمد)(ص) بھی اس میں شامل ہے۔ جو میرے لئے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔

اب تک لکھے گئے مقالات کی تفصیل وکی پیڈیا Wikipedia

 پر دیکھی جاسکتی ہیں۔ دریں اثناء میرا یوٹیوب چینل بھی میرے نام یعنیdr.moshin mighina کے ٹائٹل سے سرچ میں جا کر دیکھ اور Subscribe کیا جاسکتا ہے۔ جس سے میری ادبی اور سرجن کے طور پر تعارف آسانی سے دیکھا اور سنا جا سکتا ہے۔

 سوال : اس موجودہ دور کے تناظر میں تخلیق ادب کے سلسلہ میں آپ کس بات کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہیں۔۔۔۔۔؟

جواب : لکھاری گردوپیش کے حالات سے خوب آشنا ہوتا ہے۔

بنیادی طور پر وہ ایک بے حد حساس انسان ہوتا ہے۔ ایسا انسان جسے تخلیقی قوت ودیعت کی گئی ہوتی ہے ۔ وہ اردوگرد کے معاشرے سے کبھی علیحدہ ہو کر نہیں رہ سکتا۔ اس لئے اس کی تحریر چاہے نثر ہو یا شاعری اس میں پڑا اثر تحریریں پڑھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کس دور میں لکھی گئی تھیں۔

سوال : مختلف ادبی تنظیموں نے ایوارڈز اور اسناد سے آپ کو نوازا ہے۔ اس بارے میں کیا کہیں گے۔۔۔۔۔؟

جواب : یہ ان سب ادبی تنظیموں کی مہربانی ہے کہ ان کی اس ناچیز کے ادب پر نگاہ پڑی اور اس قابل سمجھا کہ مجھے ایوارڈ اور اسناد سے نوازا جائے۔ یہ ایوارڈز اور اسناد انسان کے قلم کو مہمیز بخشتے ہیں۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ قاری ہی آپ کا سب سے بڑا نقاد ہوتا ہے اور اس کی شاباش ہی سب سے اعلیٰ ایوارڈ ہے۔ بہت سے لکھاریوں کو درجنوں ایوارڈز ملے ہیں۔ مگر ان کی کتب کو عوامی پذیرائی نہیں ملی۔ اگر تو آپ ادب قارئین کے لئے لکھتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں تو یہ بہت بڑی بات بلکہ صدقہِ جاریہ ہے۔ اگر آپ ادب چند مخصوص لوگوں یا طبقے کے لیے لکھتے ہیں۔ تو یہ آپ کی مرضی ہے۔ میں تو سہل ممتنع میں لکھتا ہوں۔ میری کتابیں ہر وہ شخص پڑھ اور سمجھ سکتا ہے جو اور پڑھ سکتا ہے۔ چاہے وہ ریڑھی ہی کیوں نہ لگاتا ہو۔ جب تعریف کرتا ہے تو دل ہلیوں اچھلتا ہے۔ لوگوں کے خطوط پوری دنیا سے مجھ ناچیز کو آتے ہیں اور اب تو سوشل میڈیا بہت سرگرم ہے۔ اس پہ جو دوست پذیرائی دیتے ہیں وہ میرا خون گرمائے رکھتی ہے۔ پوری دنیا سے قاری فون کر کے حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ تبھی تو میں مسلسل لکھ رہا ہوں اور جب تک اللّٰہ تعالیٰ کا کرم ہے لکھتا رہوں گا۔ انشاء اللہ

سوال : آپ کا ادبی کام مقدار اور معیار کے حوالے سے کس حد تک مطمئن ہیں۔۔۔۔؟

جواب : ایک درجن سے زائد ایم اے۔ بی ایس۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات میری کتابوں پر لکھے گئے ہیں یا جا رہے ہیں۔ یہی بات مجھے حوصلہ دیتی ہے۔ یقین مانیں کہ طلباء وطالبات میرے پاس آتے ہیں کہ آپ پر میں تحقیق کررہا/رہی ہوں اور مجھے مقالے کا  یہ عنوان ملا ہے۔ تب مجھے پتہ چلتا ہے کہ یونیورسٹی کی کمیٹی نے میری تحریر کو اس قابل سمجھا ہے۔ اسی سے حوصلہ افزائی ہوتی ہے کہ میرا کام معیاری ہے۔ تھبی تو اتنا کام ہو رہا ہے۔ اتنی تحقیق ہوری ہے۔ ویسے بھی میں تو بنیادی طور پر ایک سرجن ہوں۔ تعلیمی اداروں میں میرا تعارف میری تحریریں ہیں ۔ جن کے بل بوتے اور یہ اللّٰہ کے فضل سے کام ہورہا ہے۔ مجھے تو الحمداللہ کسی کو کہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی کہ میری لکھتوں پر کام کرادیا جائے۔

سوال : ماشاءاللہ آپ کا سارا گھرانہ ڈاکٹر ہے۔ ادبی حوالے سے کیسا ماحول ہے۔۔۔۔۔؟

جواب : جی اللّٰہ کا ہم پر خاص احسان ہے۔ گھر میں سب سے بڑا ہوں پہلے میں ڈاکٹر بنا تو یہ سلسلہ دیکھتے ہی دیکھتے جاری رہا۔ ہم چھ بہن بھائیوں میں سے چار ڈاکٹر ہیں۔ ہم تین بھائی ہی میڈیکل کالج فیصل آباد کے سپوت ہیں جبکہ بہن نے روس سے ایم ڈی کی۔ میرا بیٹا ڈاکٹر جبران محسن ڈبل ایف سی پی ایس ہے ۔ بہن بھی سپشلسٹ ہے۔ ایک بیٹی ڈاکٹر سارا محسن امریکہ میں ریزیڈ سی آر پی ہے۔

چھوٹی بیٹی ملائکہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں سائیکالوجی پڑھ رہی ہے۔

بھائیوں میں سے مرحوم ڈاکٹر فیصل مگھیانہ شاعری کرتے تھے اور ہزاروں اشعار اساتذہ کے اسے ازبر یاد تھے۔ جبکہ چھوٹی بیٹی ملائکہ بھی شاعری کرتی ہے۔

سوال : آپ گستاخ بخاری مرحوم کے بارے میں کیا کہیں گے۔۔۔۔۔؟

جواب : جھنگ میں ایسے شاعر بہت کم گزرے ہیں۔ جن کے گستاخ بخاری کی طرح اتنے مجموعہ ہائے کلام شائع ہوئے ہیں۔ خاص طور پر حمد اور نعت میں ان کا بہت کام ہے۔ جو معیار کے ہر پیمانے پر فٹ آتا ہے۔ ان کی وفات کا بہت دکھ ہوا ہے۔ لیکن جس تیز رفتاری سے ان کی شاعری شائع ہوری تھی اس کی وجہ اب سمجھ آئی ہے کہ ان کے تحت الشعور میں یہ بات کہیں سے درآئی کہ ان کے پاس وقت بہت کم ہے۔ اوپر سے ان پر ذاتی مسائل کا نفسیاتی دباؤ بھی بہت زیادہ تھا۔ ان کی ہمت کی داد دینی پڑتی ہے کہ اس کے باوجود وہ ہمیں معیاری شاعری تحفہ دے کر اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین

سوال : جدید ادب کے حوالے سے آپ کی رائے۔۔۔۔۔؟

جواب :ہر دور کا اپنا ادب ہوتا ہے۔ تاہم کئی لوگ روایتی طریقے سے لکھنے کے قائل ہوتے ہیں۔ جبکہ کچھ لوگ ادب میں نئی نئی جہتوں کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ جو ادب کی ترقی کے لئے بہت ضروری ہوتا ہے ۔ محض طرز کہن پر اڑنا بھی ٹھیک نہیں ہے۔ ویسے یہ بھی عرض کروں کہ ہر دور کا جدید ادب مختلف ہوتا ہے۔ جو کچھ عرصہ بعد روایتی ادب لگنا شروع ہوتا ہے۔ تاہم نئی راہیں تلاش کرنے والے جدید ادب میں نئی نئی جہتوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ جو کہ ادب کی ترقی کے لئے جزوِ لاینفک ہے۔

سوال : جھنگ کی ادبی تاریخ کی موجودہ صورت پر آپ کیا روشنی ڈالیں گے۔۔۔۔۔؟

جواب : الحمداللہ جھنگ اب بھی ادب کا گڑھ ہے۔ چند برس پہلے الطاف حسین قریشی (اردو ڈائجسٹ والے) جھنگ ایک مشاعرے میں کریڈٹ کالج تشریف لائے تو شاعروں کا کلام سن کر گویا ہوئے۔ جس طرح اردو میں دبستان لکھنو، دبستان دہلی ہے ۔ اسی طرح سے میں سمجھتا ہوں یہ دبستان جھنگ ہے۔ ان کی طرف سے یہ اعزاز یہاں ادب کے شعراء کی شاعری کو سن کر دیا گیا۔ جو ہم سب کے لیے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔ باہر کے لوگ تصور بھی کر سکتے ہیں۔ یہاں مسلسل کتنا ادبی (وہ بھی معیاری) کام ہوں رہا ہےاور جواں نسل میں کیسے کیسے ادبی ہیرے اپنی چمک دمک کے ساتھ سامنے آرہے ہیں۔ یہاں ہمیں مشاعرہ کروانے کے وقت سب سے بڑا چیلنج یہی ہوتا ہے کہ کس کو بلائیں اور کس کو چھوڑیں۔ میری تنظیم اکیڈمی آف آرٹس اینڈ سائنسز، اردو اکادمی کے ساتھ مل کر عرصہ دراز سے ادبی محفلیں منعقد کراتی آرہی ہے۔ میں نے تو اپنی تنظیم جھنگ آنے پر 1990ء میں تشکیل دی تھی ہم چند دوست عامرعبداللہ، مدثر حبیب جامی، طاہر شیرازی، عاصم اعجاز اور شفقت اللّٰہ شفی اکثر دوسرے دوستوں کے ساتھ نشیتں بر پاکرتے رہے ہیں۔ بلکہ اب ایک بہت عرصہ کےجمود کے بعد اردو میں” رقص بسمل” اور پنجابی میں لوک “وراگ “جیسے مجلے شائع ہو رہے ہیں۔ جب کہ گورنمنٹ کالج جھنگ مسلسل تقریباً ایک صدی سے ادبی محافل کا گڑھ رہا ہے۔ دوسرے کا لجز بھی ادبی مجلے شائع کررہے ہیں اور نئی نسل کی ادبی تربیت فرمارہے ہیں۔کیسے کیسے ادبی ہیرے اپنی چمک دمک کے ساتھ سامنے آرہے ہیں۔ یہاں ہمیں مشاعرہ کروانے کے وقت سب سے بڑا چیلنج یہی ہوتا ہے کہ کس کو بلائیں اور کس کو چھوڑیں۔ میری تنظیم اکیڈمی آف آرٹس اینڈ سائنسز، اردو اکادمی کے ساتھ مل کر عرصہ دراز سے ادبی محفلیں منعقد کراتی آرہی ہے۔ میں نے تو اپنی تنظیم جھنگ آنے پر 1990ء میں تشکیل دی تھی ہم چند دوست عامرعبداللہ، مدثر حبیب جامی، طاہر شیرازی، عاصم اعجاز اور شفقت اللّٰہ شفی اکثر دوسرے دوستوں کے ساتھ نشیتں بر پاکرتے رہے ہیں۔ بلکہ اب ایک بہت عرصہ کےجمود کے بعد اردو میں” رقص بسمل” اور پنجابی میں لوک “وراگ “جیسے مجلے شائع ہو رہے ہیں۔ جب کہ گورنمنٹ کالج جھنگ مسلسل تقریباً ایک صدی سے ادبی محافل کا گڑھ رہا ہے۔ دوسرے کا لجز بھی ادبی مجلے شائع کررہے ہیں اور نئی نسل کی ادبی تربیت فرمارہے ہیں۔

maqbool zaki

مقبول ذکی مقبول

مقبول ذکی مقبول

Next Post

قیس فریدی ...شخصیت و فن

پیر دسمبر 13 , 2021
میرا خاندان پتن منارا سے ہجرت کرکے مختلف علاقوں میں تھوڑا تھوڑا عرصہ مقیم رہا ۔ بستی سوائے آہنہ ( کھائی خیر شاہ ) میں آکر مستقل سکونت اختیار کر لی
Qais Fareedi