27 جنوری کی تاریخی شخصیات

سعدیہ وحید
(معاون مدیرہ : شعوروادراک خان پور)

پیدائش :
٭… احمد بن علی المعروف ابویعلی الموصلی ( شیخ الاسلام، محدث، فقیہ)
27جنوری 826ء میں پیدا ہوئے ۔ احمد بن علی المعروف ابویعلی الموصلی، خلافت ِ عباسیہ سے تعلق رکھنے والے امام، حافظ ، شیخ الاسلام، محدث، فقیہ تھے۔ اُن کی وجہ شہرت اُن کی تالیف حدیث مسند ابویعلی ہے،ان کا نسب یوں ہے: احمد بن علی بن المثنی ابن یحیی بن عیسی بن ہلال التمیمی الموصلی، تمام عمر موصل میں بسر کی۔عمر کے طویل دور میں امام ابویعلی نے خلیفہ عباسی المامون سے المقتدر باللہ تک 12 ویں خلفائے عباسیہ کا دورِ حکومت دیکھا۔ (وفات: 2 مئی 926ء)

ahmad bin ali


٭… سونگ چنگ لنگ (چینی سیاست دان)
1893ء سونگ چنگ لنگ، چینی سیاست دان، سونگ چینی انقلابی اور جمہوریہ چین کے بانی سن یات سین کی دوسری بیوی تھی۔ اسے ”جدید چین کی ’’ماں‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔27 اپریل 1959ء تا 17 جنوری 1975ء (نائب صدر عوامی جمہوریہ چین)16 مئی 1981ء تا 28 مئی 1981ء( اعزازی صدر عوامی جمہوریہ چین) رہیں۔ (وفات: 1981ء)

many

٭… چودھری شجاعت حسین (پاکستانی سیاست دان )
1946ء چودھری شجاعت حسین، پاکستانی سیاستدان اور ریاستکار، نواز شریف کے پہلے دَورِ اقتدار میں (9 نومبر 1990ء تا 18 جولائی 1993ء) 28ویں وزیر داخلہ پاکستان اور نواز شریف کے دوسرے دور اقتدار میں (25 فروری 1997ء تا 12 اکتوبر 1999ء) 32ویں وزیر داخلہ پاکستان اور (30 جون 2004ء تا 20 اگست 2004ء) 14ویں وزیراعظم پاکستان رہے۔

٭… حضرت ابراہیم ؓ (حضور نبی کریم ؐ کے بیٹے )
27جنوری 632ء حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ماریہ القبطیہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے تھے۔ ان کا نام حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جدِ امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام پر رکھا گیا تھا۔ عرب کی روایات کے مطابق بچپن میں آپ پرورش و نگہداشت کے لیے اُمِ سیف رضی اللہ عنہ نامی دائی کے سپرد کر دیا گیا۔ جن کو حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ بکریاں بھی دیں۔ (ولادت: 1 مارچ 630ء)
٭… نصیر الدین محمد ہمایوں (دوسرا مغل بادشاہ، بانی مغل سلطنت)
1556ء ابوالمظفر نصیرالدین محمد ہمایوں، (26 دسمبر 1530ء تا 17 مئی 1540ء اور 22 فروری، 1555ء تا 27 جنوری 1556ء) دوسرا مغل بادشاہ، بانی مغل سلطنت ظہیرالدین بابر کا بیٹا اور جلال الدین محمد اکبر کا باپ تھا، سیڑھیوں سے گر کر ہلاک ہوا۔ (پیدائش: 4 مارچ 1508ء)

humayoun


٭… فرانس ڈریک ( فوجی افسر، سیاست دان، انجینئر)
1596ء فرانسس ڈریک، انگریز مہم جو، فوجی افسر، سیاست دان، انجینئر، پہلا انگریز جس نے دنیا کے گرد بحری سفر کیا۔ بائیس سال کی عمر میں جہاز کا کپتان بنا۔ 1577ء میں دنیا کے گرد چکر لگانے کی مہم پر روانہ ہوا۔ یہ مہم اس نے تین برس میں سر کی۔ 1579ء میں کیلے فورنیا کے ساحل پر اترا۔ اگلے برس مغرب کی راہ سے بحرالکاہل کو عبور کیا اسی سال ملکہ الزبتھ اول نے سر کا خطاب دیا۔ 1588ء میں سپین کی بندرگاہ میں گھس کر سپین کے 33 جہاز تباہ کر دیئے۔ (پیدائش: 1540ء)
٭… ڈاکٹر مفتی سید شجاعت علی قادری (اسلامی نظریاتی پاکستان کونسل کے رُکن )
1993ء جسٹس ڈاکٹر مفتی سید شجاعت علی قادری، بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والیعالم ِ دین، اسلامی نظریاتی پاکستان کونسل کے ایک رکن، اسلام علوم اور جدید سائنسز سے آراستہ ایک معروف عالم تھے۔ انہیں روایتی اور جدید عربی زبان میں گہری اور مستند مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے مختلف عہدوں پر کام کرنے کے علاوہ خود کو ایک بڑی تعداد میں تصنیف و تالیف اور اشاعت میں مصروف رکھا۔ انہوں نے اسلامی فقہ (شرعی قانونی تفسیر)، معاشیات اور وراثت پر ایک بڑی تعداد میں کتابیں تحریر کیں اور اس کے علاوہ کچھ قابل ذکر کتابوں کا عربی سے اردو میں ترجمہ بھی کیا۔ (پیدائش: جنوری 1941ء)

many


٭… چارلس ہارڈ ٹائو نس (روسی نژاد امریکی ماہر طبیعیات )
2015ء چارلس ہارڈ ٹاونس، نوبل انعام برائے طبیعیات (1964ء) یافتہ روسی نژاد امریکی ماہر طبیعیات و استاد جامعہ، انہوں نے یہ انعام روسی سائنسدانوں الیکزینڈر پروکورو اور نکولے باسو کے ساتھ مشترکہ جیتا جس کی وجہ کوانٹم الیکٹرونکس سے جڑے انکے کام تھے جس کی وجہ سے اوسکیلیٹر اور ایمپلی فائیر کی تخلیق ممکن ہوئی۔ (پیدائش: 1915ء)
٭… اللہ رکھا خان (نامور سارنگی نواز )
27 جنوری 2002ء کو پاکستان کے نامور سارنگی نواز استاد اللہ رکھا خان وفات پاگئے۔ استاد اللہ رکھا خان 1932ء میں سیالکوٹ کے گائوں مظفر میں پیدا ہوئے تھے۔ بچپن ہی میں وہ امرتسر چلے گئے جہاں انہوں نے اپنے والد استاد لال دین سے سارنگی بجانی سیکھی بعدازاں انہوں نے استاد احمدی خان، استاد اللہ دیا اور استاد نتھو خان جیسے اساتذہ سے بھی استفادہ کیا۔ انہیں ایک مرتبہ قائداعظم کے سامنے بھی سارنگی بجانے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ 1948ء میں وہ پاکستان آگئے جہاں وہ1992ء تک ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے۔ 1994ء میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔
٭… ضیا سرحدی (ممتاز فلم ساز )
27 جنوری 1997ء کو پاکستان کے ممتاز فلم ساز اور ہدایت کار ضیا سرحدی اسپین کے شہر میڈرڈ میں وفات پاگئے۔ ضیا سرحدی 1912ء میں پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ گریجویشن کرنے کے بعد 1933ء میں وہ بمبئی چلے گئے جہاں انہوں نے معروف ہدایت کار محبوب کے ادارے میں کہانی نگار کی حیثیت سے فلمی زندگی کا آغاز کیا۔ ان کی اس زمانے کی فلموں میں دکن کوئن،من موہن، جاگیردار، مدھر ملن، پوسٹ مین، بھولے بھالے اور شیو راج کے نام شامل ہیں۔ 1947ء میں فلم نادان سے ان کی ہدایت کاری کے دور کا آغاز ہوا۔ بطور ہدایت کاران کی کامیاب فلموں میں انوکھی ادا، ہم لوگ، فٹ پاتھ اور آواز کے نام سرفہرست تھے۔ 1958ء میں وہ پاکستان آگئے جہاں انہوں نے رہ گزر کے نام سے ایک فلم بنائی تاہم یہ فلم کامیاب نہ ہوسکی۔ پاکستان میں انہوں نے لاکھوں میں ایک، غنڈہ، حبہ خاتون اور نیا سورج نامی فلموں کی کہانیاں تحریر کیں جن میں سے آخر الذکر دو فلمیں بوجوہ مکمل نہ ہوسکی۔ اس کے بعد وہ اسپین منتقل ہوگئے اور اپنی وفات تک وہیں قیام پذیر رہے۔ ٹیلی وژن کے مشہور فنکار خیام سرحدی ان کے فرزند ہیں جبکہ معروف موسیقار رفیق غزنوی ان کے داماد تھے۔ وہ پشاور میں آسودۂ خاک ہیں۔
٭… شاکر علی (تجریدی مصوری کے بانی، سابق پرنسپل )
27 جنوری 1975ء کو پاکستان میں تجریدی مصوری کے بانی اور نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کے سابق پرنسپل جناب شاکر علی انتقال کرگئے۔ شاکر علی 6 مارچ 1914ء کو رام پور میں پیدا ہوئے تھے۔ مصوری کی ابتدائی تعلیم جے جے اسکول آف آرٹس بمبئی سے حاصل کرنے کے بعد وہ انگلستان چلے گئے جہاں انہوں نے فن مصوری کا تین سالہ کورس مکمل کیا۔ انہیں کچھ عرصہ فرانس کے ممتاز مصور آندرے لاہوتے (Andre L’Hote) کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا۔ 1951ء میں پاکستان آگئے اور 1952ء میں میو اسکول آف آرٹس لاہور سے وابستہ ہوگئے جو بعد میں نیشنل کالج آف آرٹس کہلانے لگا۔ 1961ء میں وہ اسی کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے اور 1973ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ شاکر علی پاکستان میں تجریدی مصوری کے ساتھ ساتھ تجریدی خطاطی کے بانیوں میں بھی شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے آیات قرآنی کو تجریدی انداز میں لکھنے کی جو بنا ڈالی اسے بعد ازاں حنیف رامے‘ صادقین‘ آفتاب احمد‘ اسلم کمال‘ شفیق فاروقی‘ نیر احسان رشید‘ گل جی اور شکیل اسماعیل نے بام عروج تک پہنچا دیا۔ حکومت پاکستان نے فن مصوری میں ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر 1962ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور 1971ء میں ستارہ امتیاز عطا کیا تھا۔ پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ان کی وفات کے بعد 19 اپریل 1990ء اور 14اگست 2006ء کو ان کی مصوری اور تصویر سے مزین دو ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیے۔ شاکر علی کا انتقال 27 جنوری 1975ء کو لاہور میں ہوا۔ وہ لاہور میں گارڈن ٹائون کے قبرستان میں آسودہ? خاک ہیں۔ ان کی لوح مزار پر یہ عبارت درج ہے جو محترمہ کشور ناہید کے ذہن رسا کی تخلیق ہے: چڑیوں‘ پھول اور چاند کا مصور شاکر علی 6 مارچ 1914ء کو رام پور کے افق پر طلوع ہوا اور 27 جنوری 1975ء کو لاہور کی سرزمین میں مدفون۔
٭٭٭

saadia

سعدیہ وحید

Next Post

28جنوری ...تاریخ کے آئینے میں

جمعہ جنوری 28 , 2022
اٹھائیس جنوری ...تاریخ کے آئینے میں
28 January,by Sadia Waheed