جہنم کا کیوبیکل نمبر سات

جہنم کا کیوبیکل نمبر سات

تبصرہ نگار : پروفیسر خالدہ پروین


تعارف و تبصرہ

افسانہ نگار صبیح الحسن کا پہلا افسانوی مجموعہ “جہنم کا کیوبیکل نمبر 7” کا عنوان منفرد ہونے کے ساتھ ساتھ ناظر کو خیالات کے گھوڑے دوڑانے پر مجبور کر دیتا ہے ۔عنوان اور عکس تجسّس کو ابھارنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ خیالات میں گم قاری کتاب کھول کر صفحات کو پلٹتے ہوئے جب انتساب تک پہنچتا ہے تو ایک جملہ:
“اس ہستی کے نام جس نے ہمیشہ
میرے اندھیروں میں اجالا کیا ۔”

زندگی میں روحانی تقویت کا باعث شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا لا جواب انداز بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے ۔

جہنم کا کیوبیکل نمبر سات


فکری وفنی جائزہ


افسانے


“جہنم کا کیوبیکل نمبر 7” میں کل 14 افسانے شامل ہیں جو موضوعات اور اسلوب کے اعتبار سے افسانوی دنیا میں منفرد مقام کے حامل ہیں یہی وجہ ہے کہ ہر افسانے کا انفرادی جائزہ کے بجائے مخصوص اور غالب رنگ کے حوالے سے تجزیہ ہی حقیقی خراجِ تحسین ہے ۔ ذیل میں دیے گئے عنوانات صبیح الحسن کے افسانوں کا وہ غالب رنگ ہیں جنھیں نظر انداز کرنا قاری کے لیے ممکن ہی نہیں ۔


: افسانوں کے عنوانات :

منفرد پر تجسس اور تحیر انگیز عنوانات “بجازو” ، “پھیکی چائے” ، “بارش نہیں ہو رہی” ، “ڈائری میں چھپا ہوا خواب” ، “گھڑی میں ٹھہرا لمحہ” ، “زندگی کی موت” “نوروز” ، “تشموگول” ، “پتلے” ، “سیاہ کمرے کے مکین” ، “جہنم کا کیوبیکل نمبر 7” ، “کندھوں پر دھری لاش” ، “سراب” ، “تتلی” قاری کے تخیل کے لیے مہمیز کا کام کرتے ہوئے افسانے کی قرآت سے پہلے ہی خیال آفرینی کا باعث ٹھہرتے ہیں ۔
“بجازو’ اور “تشموگول” غرابت کی بنا پر توجہ کھینچتے ہیں تو “نوروز” سے دھیان قدیم فارس کے تہوار کی طرف چلا جاتا ہے ۔ “زندگی کی موت” ، “سیاہ کمرے کے مکین” اور کندھوں پر دھری لاش اپنے اندر تجسّس سموئے ہوئے ہیں تو “ڈائری میں چھپا خواب” اور “گھڑی میں ٹھہرا لمحہ” رومانوی رنگ لیے ہوئے ہیں ۔ “پتلے” اور “تتلی” سے ذہن کھیل تماشے کی طرف جاتا ہے تو پھیکی چائے اور سراب نفسیاتی کیفیات کی طرف توجہ مبذول کرواتے محسوس ہوتے ہیں ۔ “بارش نہیں ہو رہی” سوالات کیا ؟ اور کیوں ؟کو جنم دینے کا باعث ہے تو جہنم کا کیوبیکل نمبر 7 دوزخ کےعذاب کو مجسم کر دیتا ہے ۔
غرض معاشرے ، رویے ، مذہب ، روایت ، نفسیاتی کیفیات ، تلخ حقائق اور بےبسی کا اظہار کرتے ہوئے عنوانات قاری اور افسانے کے درمیان مقناطیس کا کردار ادا کرتے ہیں ۔


: موضوعات کا تنوع :

افسانوی مجموعے میں موضوعات کا تنوع جہاں مصنف کے وسیع مشاہدے اور زیرک نگاہی کا عکاس ہے وہیں یہ تنوعاور رنگارنگی قاری کو اکتاہٹ اور جمود کا شکار نہیں ہونے دیتی۔
1 : “بجازو”۔۔۔۔ ( گلاب کا پھول) نا خلف اولاد کی سوچ وفکر کا عکاس ہے جسے یہ تو یاد رہتا ہے کہ اس کے فلاں افسر کو یہ پھول پسند ہیں لہذا اسے بجازو کا گلدستہ دینا چاہیے لیکن یہ یاد نہیں رہتا کہ ان پودوں کو لگانے والے باپ کی قبر کا بھی ان بجازو پر حق ہے ۔ ایک ملازم کو تو یہ یاد رہتا ہے لیکن اولاد مفاد پرستی کے چکر میں اپنے فرض سے غافل دکھائی دیتی ہے ۔
2 : “پھیکی چائے”۔۔۔۔ تنہائی کی اس اذیت کا مؤثر اظہار ہے جو ملک صاحب اولاد کی جدائی میں اور اشفاق بیوی کی وفات کے بعد سہتا ہے ۔
3 : “بارش نہیں ہو رہی” ۔۔۔۔ ملک کے سیاسی حالات ، کرسی کی جنگ ، عوام سے بےخبری اور مفاد پرستی کی عکاسی ہے جس میں عام انسان بھی بالآخر انسانیت اور شعور کو نظر انداز کرتے خود غرض رویے کا مظاہرہ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔
4 : “ڈائری میں چھپا خواب”۔۔۔۔ دوسروں کی خوشی کے لیے خود حقیقی خوشی سے دور ہونے کی داستان ہے ۔
5 : “گھڑی میں ٹھہرا لمحہ”۔۔۔۔ ان تلخ معاشرتی حقائق کا عکاس ہے جن سے فرار انسان کو خیالی دنیا میں پناہ لینے پر مجبور کر دیتا ہے لیکن ان اذیت ناک یادوں سے چھٹکارا پانا ممکن نہیں ۔
6 : “زندگی کی موت” ۔۔۔۔۔ خواہش کی غلامی کرنے والے کے لیے اس کی خواہش ہی ہر نقصان کا موجب ثابت ہوتی ہے ۔ خواہش کا غلام بن کا اسے اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ کب وہ اسے بت بنا کر خدا کا درجہ دے چکا ہے ۔
7 : “نو روز”۔۔۔۔ اپنے اندر وطن کی مٹی سے محبت ، امید اور اس یقین کو سموئے ہوئے ہے جو ترقی اور خوش حالی کی ضمانت ہے ۔
8 : “تشموگول” ۔۔۔۔ علامت ہے معنویت کے حامل ، سوچ وفکر رکھنے والے ، بےجا نفرت کا شکار ہونے والوں کی جنھیں معاشرے کے اجارہ دار قابلِ گردن زدنی تصور کرتے ہیں ۔
9 : “پتلے”۔۔۔۔ مذہب کے اجارہ داروں کی ذہنی غلامی کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کے باوجود باصلاحیت لوگ مرنے کے بعد بھی مختلف روپ میں زندہ رہتے ہیں ۔
10 : “سیاہ کمرے کے مکین” ۔۔۔۔ ظاہر و باطن کے تضاد کا علامتی اظہار ہے جس میں سیاہ کمرہ ۔۔۔ باطن ، پٹڑی ۔۔۔ راستے اور الفاظ میں زندگی ۔۔۔ تخلیق کار کی علامت کے طور پر سامنے آتے ہیں ۔
11 : “جہنم کا کیوبیکل نمبر 7” ۔۔۔۔ ان بے ضمیر منافق ادیبوں پر چوٹ ہے جو مادی منفعت کے لیے حقیقت سے نظریں چراتے ہیں اور ان کا کمرہ اور کتابیں ہی ان کے لیے جہنم کی اذیت ثابت ہوتے ہیں ۔جہاں سے فرار ممکن نہیں ہو پاتا ۔


12 : “کندھوں پہ دھری لاش”۔۔۔۔ وباء کے زمانے میں ختم ہو جانے والی خودداری کی موثر عکاسی نظر آتی ہے ۔
13 : “سراب”۔۔۔۔ کامیاب فنکاروں کی کامیابی اور شہرت کا سراب جو حقیقت اور قابلیت کی موت کا نتیجہ ہے ۔

14 : “تتلی” ۔۔۔۔صنفِ نازک کو درپیش خطرات کو خوش اسلوبی سے افسانے کا حصّہ بنایا گیا ہے ۔


: علامتی انداز:

انسان کی فطرت ہے کہ وہ سیدھے سادے انداز میں بیان کی گئی حقیقت کے بجائے رمز و کنایہ اور علامتی انداز کوقابلِ غور گردانتا ہے ۔
“جہنم کا کیوبیکل نمبر 7” میں موجود تمام افسانوں کی اہم خوبی ان کا علامتی انداز ہے ۔ کچھ علامتیں عالمی حیثیت کی حامل ہیں تو کچھ مصنف کی ذاتی اختراع ہونے کے باوجود ندرت اور انفرادیت کا رنگ لیے ہوئے ہیں ۔
“بارش نہیں ہو رہی” میں بارش کی آفاقی علامت مشکلات اور مصائب کے لیے استعمال کی گئی ہے تو “تشموگول” میں معنویت کے لیے استعمال ہونے والی علامت تشموگول مصنف کی ذاتی اختراع کے علاوہ انفرادیت اور ندرتِ خیال کی حامل ہے ۔
خودداری کی موت کے لیے لاش اور ناسمجھ بچیوں کے لیے تتلی کی علامت عام فہم ہونے کے ساتھ ساتھ زندگی کے حقائق کی عمدہ عکاس ہیں ۔
افسانہ “پتلے” میں لکیر کے فقیر بے شعور افراد کے لیے پتلے کی علامت اور افسانہ “زندگی کی موت” میں خواہش کے لیے زندگی کی علامت قابلِ تعریف ہے ۔
صبیح الحسن کا علامتی انداز ان کا غالب اور نمایاں رنگ ہے جو قاری کو افسانے پر توجہ دینے ، غور کرنے اور داد دینے پر مجبور کر دیتا ہے ۔
ماہرِ نفسیات کی نظر سے دیکھیں تو علامتیں توجہ مبذول کرانے کے طریقے ہیں جن کی اہمیت اور استعمال سے مصنف بخوبی آگاہ ہیں ۔


: اساطیری فضا :

علامتی انداز اور اساطیری فضا لازم و ملزوم ہیں یہی وجہ ہے کہ صبیح الحسن کے افسانوں میں ایک داستانوی اور مافوق الفطرت ماحول نظر آتا ہے جس میں پُتلوں اور جادوگر کے کردار ملتے ہیں ، صفات مجسم ہو کر کردار کی صورت اختیار کر جاتی ہیں ، خواہش مجسم بت بنتی ہوئی ملتی ہے ، ڈائری کے ورق مجسم ہو کر باتیں کرتے نظر آتے ہیں ۔ تخیل اس قدر مضبوط ہے غائب موجود اور بے جان اشیا متحرک دکھائی دیتی ہیں ۔
“وہ ایک اونچی جگہ پر کھڑا ہو گیا اور اس نے لوگوں پر طائرانہ نظر دوڑاتے ہوئے اپنی انگلی کھڑی کر دی ۔انگلی کے کھڑے ہوتے ہی اس کے سبھی الفاظ چاہے وہ ہوا میں معلق تھے یا دلوں میں متمکن تھے ایک گرج دار آواز کے ساتھ گونجنے لگے ۔حیرت کے مارے لوگوں کی چیخیں نکل گئیں اور وہ اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونسے بھاگنے لگے لیکن اس آواز سے چھپنے کے لیے انھیں کوئی جائے پناہ نہ مل سکی ۔الفاظ تب تک گونجتے رہے جب تک جادوگر کی انگلی کھڑی رہی۔ اس رات مزید کئی لوگوں کے دلوں پر قبضہ ہو گیا ۔” ( پتلے)


: مکالمہ نگاری :

“جہنم کا کیوبیکل نمبر 7” میں موجود افسانوں کے مکالمے انتہائی چست ہیں جن میں کردار بولتے محسوس ہوتے ہیں ۔ خصوصاً جہاں کردار مجرد سے مجسم کی صورت اختیار کرتے ہیں وہاں یہ خوبی زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے ۔
کرداروں کی زبان انتہائی موزوں اور احساسات ، جذبات و نفسیاتی کیفیات کی عمدہ عکاس ہے ۔
“ورق نے ایک گہری سانس لی اور بولا ، ” چلو! جیسے تمہاری مرضی ۔ میری ایک خواہش پوری کر دو تو میں چلا جاؤں گا ۔”
“کیسی خواہش ؟”
” میں نے ڈائری میں بیٹھ کر اتنا عرصہ تمہیں کئی میدانوں میں جھنڈے گاڑتے سرخرو ہوتے دیکھا ہے لیکن تمھیں کبھی ایک کام کرتے نہیں دیکھا ۔”
( ڈائری میں چھپا خواب)


افسانچے

“جہنم کا کیوبیکل نمبر 7” میں کل 21 افسانچے بعنوان “سسکتی روشنی” ، “دانے” ، “سوال” ، “دائرے” ، “روشن کھڑکی” ، “گمشدہ “، “فراری’ ، “مکھی” ، “دستک” ، “راشن’ ، “مرگِ مسلسل” ، “اونچی مسجد کی کہانی” ، “مسئلہ” ، “اکڑی گردن” ، “آئینہ” ، “حق” ، “منزل” ، “اذان” ، “نیوز رپورٹ” ، “کفارہ” ، “روسو کا پھول” موجود ہیں ۔ ان افسانچوں میں سسکتی زندگی ، بے جا زعم ، بےبسی ، باطن کی تاریکی ، ضمیر کی کمزوری، جاہلانہ سوچ، وقت کے ساتھ بدلتے رویوں کی جھلک اور اخلاقی پیغام قاری پر گہرے اثرات مرتب کرنے کا باعث ہیں۔


نیوز رپورٹ

دورانِ نماز ایک گدھا مسجد میں گھس گیا ۔
مشتعل نمازیوں اور گدھے کے مالک کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہونے پر نو افراد ہلاک اور تیرہ زخمی ہو گئے ۔
واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ۔
گدھے کی تلاش جاری ہے ۔


آئینہ

“انسپکٹر صاحب!یہ نجانے کس نشے میں مست چلا جا رہا تھا کہ چوک میں لگے آئینے کے سامنے آ گیا ۔ چند لمحے اسے دیکھتا رہا اور اچانک پتھر مار کر اسے چکنا چور کر ڈالا ۔”
” ہمم ! شکل سے ہی غنڈہ لگتا ہے ۔ دیکھ ذرا ! کیسے سؤر کی مانند تھوتھن اٹھائے کھڑا ہے ۔ کیوں بے! کیا نام ہے تیرا ؟ “
” آئینہ۔”


اکڑی ہوئی گردن

بہت پتلا آرہا ہے ۔”
میری شکایت پر شان علی آزردہ سی شکل بناتے بولا ،” چودھری صاحب! مولا آپ کو سلامت رکھے ۔ سارے محلے میں صرف ایک آپ کے لیے سو فیصد خالص دودھ الگ ڈرمی میں لے کر آتا ہوں ۔ بس پچھلے دنوں بھینس کچھ بیمار تھی ۔ اب شکایت نہیں ہو گی مائی باپ!”
دودھ ڈلوانے کے بعد میں نے بمشکل اکڑی ہوئی گردن موڑ کر پڑوسیوں کے گھر کی جانب دیکھا تو ملک صاحب دروازے پر ہی کھڑے تھے اور ان کی گردن بھی تھوڑی سی اکڑی ہوئی تھی ۔
*
کہنہ مشق ادیب صبیح الحسن کے خیالات میں روانی اور قلم پر گرفت مضبوط ہے یہی وجہ ہے کہ موضوع معاشرتی ہو یا نفسیاتی ، اسلوب علامتی ہو یا بیانیہ ، انداز داستانوی ہو یا حقیقی ان کا قلم گُہر بکھیرتا چلا جاتا ہے ۔ کہانی متجسّس اور تہہ در تہہ انداز میں آگے بڑھتے ہوئے اختتام تک پہنچتی ہے تو نا صرف پوشیدہ پرتیں کھل جاتی ہیں بلکہ قاری چونکنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔
صبیح الحسن کو ان کی پہلی کتاب اور ادارہ پریس فار پیس کو ایک اور کامیابی پر بہت بہت مبارک ہو ۔ کتاب کی سنجیدہ مگر خوب صورت طباعت قاری میں خوش گوار احساس پیدا کرنے کا باعث ہے ۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

streamyard

Next Post

سناھی،سنداری اورسرنائی

پیر جون 19 , 2023
اس مشک نما چیز کو اٹک میں سناھی کہتے ھیں ۔ ملتان اور سندھ میں اس کو سنداری کہتے ھیں
سناھی،سنداری اورسرنائی

مزید دلچسپ تحریریں