حج ، کرونا ، خدشات اور وبائی تاریخ

یہ مضمون میں نے 2020ء کے اوائل میں کرونا کے پہلے لاک ڈاؤن کے دوران لکھا تھا۔

آغا جہانگیر بخاری

کرونا وائرس نے جو دنیا میں دہشت پھیلائی تو اس کے اثرات تجارتی، سماجی اور طبی جہات سے ہوتے ہوئے مذہبی عبادات و رسومات پر بھی وارد ہوئے نتیجتاً سعودی حکومت نے عمرہ زائرین پر پابندی لگادی جس کی وجہ سے کئی روز تک مسجد الحرام کو بند رکھا گیا اور جمعہ 11 رجب 1441 ھ بمطابق 4 مارچ 2020 ء کو مسجد الحرام کو دوبارہ کھولا گیا۔ اسی تسلسل میں ان شکوک کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ شاید اس سال حج کی عبادت بھی اس سے متاثر ہو۔ اور خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ اگر حج کو موقوف نہ بھی کیا گیا تو عین ممکن ہے کہ بعض ممالک کے زائرین پر پابندی لگادی جائے اور حجاج کی تعداد انتہائی کم ہو۔

kaaba
Image by alymo from Pixabay

آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا حج کی اب تک کی تاریخ میں کبھی حج موقوف بھی ہوا؟

مورخین اور علماء نے تاریخ اسلام کے چالیس ایسے برسوں کا ذکر کیا ہے جن میں سیاسی حالات ، جنگی واقعات، قدرتی آفات، مالی مشکلات ، راہزنی و غیر محفوظ راہ سفر ، وبائی امراض اور دیگر وجوہات کی بنا پر حج موقوف رہا ، کچھ اقوام شریک نہ ہوسکیں یا کچھ جزوی بندشیں رہیں۔ لیکن سب سے زیادہ جانی نقصان اور موقوفیت وبائی امراض کی وجہ سے ہوئی۔

ان مذکورہ برسوں میں سے کچھ پر نظر کرتے ہیں کہ کب اور کیوں حج مکمل یا جزوی موقوف ہوا ، قلت زائرین رہی اور کیا آفات و امراض اس کا سبب بنیں۔

251 ھ عرفات کا قتل عام
سنہ 251 ھ / 865 عیسوی اسماعیل بن یوسف العلوی نے عرفات پر حملہ کردیا اور حجاج کی ایک کثیر تعداد کو قتل کردیا تھا۔

317 ھ قرامطہ کا حجر اسود چوری کرنا
سنہ 317 ھ/930 عیسوی قرامطہ نے مسجد الحرام پر حملہ کر دیا اور اس کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے حجر اسود کو چوری کر لیا اور وہاں موجود افراد کو قتل کردیا۔ حجر اسود 22 برس تک اپنی جگہ پر موجود نہ تھا تاوقتیکہ کہ سنہ 339ھ کو أبو محمد شنبر بن الحسن اسے واپس لایا۔ قرامطہ کا خیال تھا کہ یہاں حج نعوذباللہ اصنام پرستی اور شعائر جاہلیت میں سے ہے۔

اُس سال یعنی 317 ھ کے یوم ترویہ کو جب لوگ حالت احرام میں تھے ، قرامطہ کے سردار اور بحرین کے بادشاہ أبو طاهرالجنابی القرمطي نے حملہ کردیا اور حجر اسود کو اس کی جگہ سے اکھاڑ لیا، اور اسے ھَجرَ ( موجودہ قطیف) بھیج دیا۔ اور بعد ازاں اسے بحرین منتقل کردیا گیا۔ اس نے لگ بھگ 30 ہزار حجاج کو قتل کر دیا۔ وہ مقام ابراہیم کو بھی شہید کرنا چاہتا تھا مگر اس میں کامیاب نہ ہوسکا۔

ایک روایت یہ بھی ہے کہ انہوں نے حجر اسود کو قطیف کے ایک قریہ جش میں ایک بڑی عمارت میں رکھ دیا اور اس جگہ کو حج کا مقام قرار دیتے ہوئے حکم جاری کیا کہ یہاں حج کیا جائے اس پر لوگوں نے ان احکامات کو ماننے سے انکار کردیا جس کی پاداش میں بے شمار لوگ قتل کر دیے گئے۔

372 ھ بني العباس وبني عبيد کے اختلافات
سن 372 ھ / 983 ء کے بارے میں روایت ہے کہ اس سال سے لیکر 380 ھ تک بغداد کے خلفاءِ بنی عباس اور مصر کے خلفاءِ بنی عبید کے مابین مخالفت اور فتنوں کی وجہ سے کوئی بھی شخص عراق سے حج کے لیے نہ جاسکا تھا۔

428 ھ صرف مصری حجاج
ایک روایت کے مطابق 428 ھ/ 1037ء کو عراق سے کوئی بھی فرد حج کے لئے نہ جاسکا تھا اور صرف مصری زائرین نے شرکت کی جبکہ ایک دوسری روایت کے مطابق مصری اور چند دیگر علاقوں کے زائرین حج کے لئے پہنچ سکے تھے۔

650 ھ بغدادی زائرین دس برس بعد حرم پہنچے
سن 650ھ/1253 ء کو خلیفہ المستنصر کی وفات کے بعد عراقی زائرین دس سال بعد حج کے لئے حجاز پہنچے۔

655 ھ حجاز سے کسی نے حج نہ کیا
655 ھ/1257ء کو حجاز میں سے کسی نے حج نہ کیا، نہ ہی کسی بادشاہ کا کوئی وفد شریک ہوا

1230 ھ طاعون کی وبا
سن 1230ھ/1814ء کو حجاز مین طاعون کی وبا پھیل گئی جس سے 8 ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

1246 ھ ہندوستانی وبا سے ہلاکتیں
سال 1246 ھ/ 1831 ء کو حج کے موسم کے دوران اچانک ایک وبا پھوت پڑی جس سے تقریبا 75 فیصد حجاج جاں بحق ہوگئے۔ اس وبا کے بارے میں گمان یہ تھا کہ یہ ہندوستان سے آئی ہے۔

1253 ھ کی وبائیں
1253 ھ/1837ء میں مختلف وبائیں پھوٹنا شروع ہوگئیں اور یہ سلسلہ 1256 ھ/ 1840 ء تک جاری رہا۔
1263 ھ کالرا کی وبا
سال 1263 ھ/1846 ء کو کالرا کی وبا حجاج کے درمیان پھیل گئی اور یہ وبا 1850ء تک جاری رہی۔ یہی وبا 1863ء اور 1883 میں دوبارہ پھیلی۔

1281 ھ روزانہ ایک ہزار حجاج کی وفات
سن 1281 ھ/1864ء میں ایک ایسی خطرناک وبا موسم حج کے دوران پھوٹ پڑی جس سے روزانہ ایک ہزار حجاج لقمہ اجل بننے لگے ۔ اسی طرح 1871ء میں ایک ایسی ہی وبا مدینہ منورہ میں پھوٹ پڑی جس پر مصر سے طبیب آئے اور ایک مرکز قرنطینی قائم کیا گیا۔

1310 ھ لاشوں کے انبار
سال 1310ھ/1892ء کو ایک بار پھر کالرا کی وبا پھوٹ پڑی اور اس بار اس کا حملہ بہت شدید تھا جس سے ہلاکتوں کی تعداد اسقدر بڑھی کہ انہیں دفنانے تک کا موقع نہ مل سکا عرفات اور منٰی میں لاشوں کے انبار تھے۔

1313ھ ٹائیفائیڈ کی وبا
سن 1313ھ/1895ء کو مدینہ سے آنے والے ایک قافلے میں ٹائیفائید کی وبا پھوٹ پڑی، جو کسی قدر میدان عرفات تک جا پہنچی لیکن مزید نہ پھیلی اور کچھ حجاج کو منیٰ میں متاثر کرنے کے بعد ختم ہوگئی۔

1408ھ کا گردن توڑ بخار
سال 1408ھ/1987ء کے موسم حج میں گردن توڑ بخار کی وبا پھیلی جس سے تقریبا 10،000 حجاج متاثر ہوئے۔

دوران حج حرمین شریفین اور خطہ حجاز میں وبائی امراض کے پھوٹ پڑنے کے بیشمار واقعات تاریخ میں موجود ہیں، جن کی بڑی وجہ مختلف خطہ ہائے ارض سے مختلف المزاج و رواج اقوام کا یہاں پر جمع ہونا ہے۔

اس موسم حج کے دوران خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ سانس کے ذریعے پھیلنے والی دیگر وبائی امراض مثلا انفلوئنزا، گردن توڑ بخار کے ساتھ کرونا وائرس کا حملہ بھی ہو سکتا ہے۔

کتاب ” حج سو سال پہلے” میں ایک روسی حاجی اور سیاح عبدالعزيز دولتشين جو 1898ء اور 1899ء کے دوران حجاز مقدس آیا تھا،کے تاثرات اس طرح درج ہیں؛ کوئی بھی وبا عرفات سے اٹھتی ہے اور منیٰ تک پھیل جاتی ہے، اگر آپ عرفات میں کوئی وبا نہیں دیکھتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس موسم حج میں کوئی بیماری نہیں پھیلے گی”۔

کل کیا ہو گا یہ تو کوئی نہیں جانتا لیکن ہماری دعا ہے کہ اس سال کرونا کے بارے میں یہ سارے خدشات غلط ثابت ہوں اور حج موقوف نہ ہو۔ آمین
آغابخاری

۳ شعبان المعظم ۱۴۴۱ ھ

مآخذات
1۔ الحج توقف 40 مرۃ عبر التاریخ( پی ڈی ایف کتاب) از ابراھیم محمد
2۔«الدارة» تكشف أسباب إلغاء الحج 40 مرة.. بعد تفشي «كورونا الجديد» از عبد العزیز الزھرانی
3۔ مش أول مرة.. حوادث تاريخية تسببت فى إخلاء الحرم المكى وإيقاف الحج.. از محمد تھامی زکی
4۔الحج | توقف عبر التاريخ أكثر من 40 مرة .. فهل يتوقف مرة أخرى بسبب فايروس كورونا؟ از أريج الدجاني
5۔ 40 مرة توقف فيها الحج عبر التاريخ.. أمراض منعت الحجاج من زيارة بيت الله الحرام..
از محمود ضاحی

( میرا یہ مضمون سہماہی ادبی شمارے ذوق کی تازہ اشاعت میں شامل ہوا ہے )

آغا جہانگیر بخاری

آغا جہانگیر بخاری

بانی مدیر و چیف ایگزیکٹو

آغا جہانگیر بخاری

بانی مدیر و چیف ایگزیکیٹو

Next Post

کیمبل پور سے اٹک تک - 12

منگل جولائی 13 , 2021
قلعے کے دروازے میں لگی کھڑکی کھولی تو اپنے وقت کی مشھور اور خوفناک رائفل 303 (تھری ناٹ تھری) کی بیرل نے ہمارا استقبال کیا
fort

مزید دلچسپ تحریریں