گداز – حسین امجد کا مجوعہ کلام

گداز حسین امجد کی مجھ تک پہنچنے والی پہلی کتاب ہے اس سے پہلے مشاعروں اور نجی محافل میں سننے کا اتفاق بہرحال رہا۔ جن میں نہ صرف کلام کی روانی بلکہ خوش الحانی کا بھی تجربہ رہا لیکن فی الوقت موضوع ہے اس کا تازہ مجموعہ کلام گداز جو14 دسمبر2019 ء کو مجھے عنایت کیا گیا، اسی پر کچھ سپرد قلم کرتا ہوں اور دیر کے لیے معذرت خواہ بھی ہوں۔

گداز - حسین امجد کا مجموعہ کلام
گداز – حسین امجد کا مجموعہ کلام

حمد سے آغاز کرتا امجد مجھے کسی فقیر جیسا لگا جو سب جہات سے بے خبر بس اُسی سے لو لگائے ہوئے ہے۔ جب وہ نعتِ سرور دو جہاں صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سعادت حاصل کرتا ہے تو بالکل اسی کیفیت اور عشق میں ڈوبا ہوا ہے جسے کسی شاعر نے نفس گُم کردہ کے الفاظ سے یاد کیا تھا۔ میں جہاں اسے مولائے کائنات علی المرتضیٰ علیہ السلام کی بارگاہ اقدس کے اندر قلندرانہ وجد میں دیکھتا ہوں وہیں وہ سیدۃ النساء العالمین سلام اللہ علیھا کی چوکھٹ کے باہر سر نیہوڑائے چُپ چاپ ہاتھ جوڑے بیٹھا ہے۔ امجد حسین امجد کی اس کتاب میں اس کا یہ روپ بھی نظر آتا ہے کہ وہ جاروب کش دربار بنائے لاالہ سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام بھی ہے میں نے اسے وارفتگی میں سلام پیش کرتے دیکھاہے۔ حسین امجد ! ایک ساتھ اتنی ساری سعادتیں مبارک ہوں۔ وہ غزل کہتا ہے نظم کہتا ہے کچھ چھپانے کی کوشش کرتا ہے کچھ بتانے کو بیتاب ہے۔ سپنے بھی بنتا ہے اور حقیقتوں کو بھی کھلی آنکھوں سے نہ صرف قبول کرتا ہے بلکہ نسل آئندہ تک پہنچانے کی سعی بھی کرتا ہے۔ اہم بات یہ کہ اس کا کلام اتنا لے میں ہے جیسے سرگم پر رکھ کے موزوں کیا گیا ہو۔ امجد کو پڑھتے ہوئے کہیں مجھے ناصر کاظمی کی جھلک سی محسوس ہوئی تو کہیں عدم کی بے ساختگی اور جابجا رنگ و خوشبو تو موجود ہے ہی۔ گداز اس کے فن کی پختگی اور شعر سے لگن کا ثبوت ہے۔

حسین امجد
حسین امجد

آخری بات میں کتاب کے سرورق کے حوالے سے کرنا چاہتا ہوں ؛ بحثیت ایک مصور میں اس کی تجرید کو مکمل رد نہیں کرتاکہ وہ اپنی جگہ بہرحال قدرے اوزان میں ہے لیکن اس تخلیق کو قطعی قبول نہیں کرتا کیونکہ جو فن پارہ مصور کی بات مصور تک نہ پہنچا سکے اسے عام آدمی کیا سمجھے گا۔

مخدوم آغا سیّد جہانگیر علی نقوی البخاری

14 جمادی الاول 1441ھ

آغا جہانگیر بخاری

بانی مدیر

Next Post

دھیان ، گیان اور نروان (قسط دوم)

اتوار دسمبر 6 , 2020
دھیان کی منزل کا تقاضا ہے کہ نہ صرف ہماری آنکھیں کھلی رہیں تاکہ مشاھدے کی مدد اور رسد سے ہمارا شعور توانا ہو بلکہ ذھن پر کوئی پٹی بھی نہ بندھی ہو ، کوئی ایسا خول نہ چڑھا ہو کہ جو تاذہ ہوا کے جھونکوں کو اندر آنے سے روکے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ، کچھ پانے ، حاصل کرنے ، سوچنے اور سمجھنے کی جستجوء بھی موجود ہونی چاھئیے ۔