دشمنوں کو دی شکست حوصلے تدبیر سے
تو نے جیتا ملک یہ عزم کی شمشیر سے
تھا تدبر کا دھنی تو ،غنی تھا فہم میں
روشنی لی ہم نے تیری سوچ کی تنویر سے
کام اور کام بس یہ ضابطہ تھا روز کا
اورتھی نفرت اُنھیں جھوٹ سے،تشہیر سے
کیا خبر اب نسلِ نو کو تازگی ملنے لگے
فوقِ تدبر کی مِثال عزم کے شِہتیر سے
ہم میں تھا تو جب تلک تو رہنما تھا قوم کا
پیار ہے ہر دل میں اب تیری ہی تصویر سے
قوم کو ہے والہانہ ،عشق اے قائد میرے
تیری ہر تحریر سے تیری ہر تقریر سے
سوچ تیری ہے راہنما، ہر قدم ہر گھڑی
کرنی ہے تعمیرِ وطن تیرے افکار کی توقیر سے
شاعر-عمران اسدؔ
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔