ڈاکٹر سکندر حیات کرکٹ سٹیڈ یم

کھیلیں کھلاڑی کے کردارکو بلند کرنے میں اہم کردار اداکرتی ہیں کھلاڑیوں میں اتفاق، قوتِ برداشت اور اطاعت کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔ تفریحی مقابلے اور کھیل جسمانی طاقت کے ساتھ ساتھ مہارت اور صحت مندانہ سرگرمیوں کے فروغ کا باعث بنتے ہیں۔ کھلاڑیوں کاجسم سمارٹ، خوبصورت اور مضبوط دکھائی دیتا ہے وہ نشہ آور اشیاء سے پرہیز کرتا ہے اپنی روزمرہ خوراک کا خیال رکھتا ہے وقت پر کھاتا اور سوتا ہے، یہ کھیل ہی ہے جو کھلاڑی کو بری عادتوں سے باز رکھتی ہے۔ کھلاڑیوں کو حکومتیں اور نجی ادارے سہولتیں فراہم کرتے ہیں کھلاڑی دوسرے ملکوں کے کھلاڑیوں کو دیکھ کر اپنے کھیل میں مزید جدت لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ہم بڑے شہروں کا ذکر کریں تو وہاں کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لئے گرائونڈز کی سہولتیں دستیاب ہیں وہاں نوجوان کھلاڑیوں کی فٹنس، تربیت اور رہنمائی کے لئے سپورٹس کلب بھی موجود ہیں جبکہ ملک کی 70%آبادی جہاں ایک سے بڑھ کر ایک ہیرا موجود ہے لیکن انہیں بد قسمتی سے کھیلنے کے میدان میسر نہیں چنانچہ وہ گلی محلے اور کھیتوں کھیلانوں میں کرکٹ، فٹ بال، باسکٹ بال، کبڈی و دیگر کھیل کھیل کر اپنے شوق اور جذبوں کو تسکین پہنچانے پر مجبور ہیں۔ حکومتی نمائندے نوجوانوں سے وعدے تو کرتے ہیں لیکن وہ زبانی کلامی اسٹیج کے وعدے ہی ہوتے ہیں اگر ہم اپنے شہرِ بے مثال حسن ابدال کی بات کریں تو یہاں بھی نامور کھلاڑی پیدا ہوئے ہیں مگر وہ قومی یا صوبائی سطح پر محض اس وجہ سے اپنی شناخت نہ منوا سکے کہ مناسب تربیت نہ ہونا اور وسائل کی عدم دستیابی ان کے پائوں کی زنجیر بن گئی ماضی کے ان ناموں میں ڈاکٹر افضال مرحوم، ڈاکٹر شاہد حفیظ مرحوم اور خالد نعیم مرحوم قابل ذکر ہیں ان کے علاوہ بھی بیشمار ایسے کھلاڑی موجود ہیں جو اپنے اندر خدادادصلاحیتوں کے بل بوتے پر اپنے سینے پر سبز ہلالی پرچم سجانے کے جذبے سے سرشار ہیں ۔
رمضان المبارک کے آغاز سے قبل تحصیل حسن ابدال میں ملٹی آرچرڈ ہائوسنگ سکیم کے ایم ڈی چوہدری عبدالمجید نے80کنال اراضی رقبہ پر محیط ایک خوبصورت سٹیڈیم کا افتتاح کیا اور اسٹیڈیم کا نام علاقہ کے ممتاز معالج اور سیاسی و سماجی شخصیت ڈاکٹر سکندر حیات خان کے نام پر رکھا ۔ ڈاکٹر صاحب کا شمار پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی ارکان میں ہوتا ہے وہ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے ابتدائی ساتھیوں میں گنے جاتے ہیں اٹک کانام جب بھی آتا ہے تو ملک حاکمین خان کے بعد ڈاکٹر سکندر حیات کا نام ضرور لیا جاتا ہے وہ پارٹی کے وفادار ساتھی مانے جاتے ہیں ان کی بھٹو اور بی بی شہید کے ساتھ عقیدت و محبت بے مثال ہے ۔ یہ وہی شخصیت ہیں جس نے2004ء میں آمر مشرف کے دور میں اس کے نامزد وزیراعظم شوکت عزیز کے مقابلے میں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا اور پارٹی اور اپنے چاہنے والوں میں اپنا قد کاٹھ مزید بڑھایا تب اپوزیشن کے نامی گرامی راہنما بھی ڈکٹیٹر کا مقابلہ کرنے سے گھبراتے تھے لیکن اس مردِ مجاہد نے ناصرف ڈکٹیٹر کے آمرانہ ہتھکنڈوں کو مردانہ وار سہا بلکہ تحصیل حسن ابدال کے عوام نے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور انہیں کامیابی دلائی، بدلے میں انہیں تختۂ مشق بھی بنایا گیا ۔ ڈاکٹر سکندر حیات کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ اب ان کی تیسری نسل بھی بھٹو کی پارٹی کا ترنگا سینے سے لگائے میدانِ سیاست میں پوری طرح سرگرم عمل ہے ۔ عاجز کو یاد ہے کہ1986ء میں جب بے نظیر بھٹو برطانیہ سے لاہور تشریف لائی تھیں تو اس وقت ڈاکٹر سکندر حیات کے صاحبزادے اشعر حیات خان طالبعلم تھے اور پی ایس ایف کے سرگرم لیڈر تھے انہوں نے لاہور میں بی بی شہید کا استقبال کیا تھا آج وہ عملی سیاست میں والد کے جانشین کے طور پر سرگرم ہیں اور پیپلزپارٹی ضلع اٹک کے صدر بھی ہیں جبکہ ان کے چھوٹے بھائی سردار ذولفقار حیات ایڈووکیٹ نے2018ء میں پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا انتخاب بھی لڑا ہے ۔ ڈاکٹر صاحب کے بڑے بیٹے اخترحیات عرف جانی خان سماجی شخصیت ہیں وہ کئی عشروں سے علامہ اقبالؒ اور ٹیپو سلطانؒ کے ایام پر تقاریب منعقد کررہے ہیں جس میں ملک بھر سے نامور علمی، ادبی، سیاسی، سول و عسکری شخصیات شرکت فرما کر اظہار خیال کرتی ہیں۔ جبکہ ڈاکٹر صاحب کے ایک اور بیٹے ڈاکٹر وسیم حیات ملک کے ممتاز سرجن ہیں وہ کچھ عرصہ سعودی عرب میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں ۔ بلاشبہ یہ خاندان انسانی خدمت پر یقین رکھنے والا خاندان ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ قومی و صوبائی سیاست میں انہیں بوجوہ مواقع نہیں دئیے گئے جو ایک المیہ ہے ورنہ اس خاندان سے زیادہ پارٹی کا وفادار اور کون ہو سکتا ہے!!!
چند سال پیشتر چوہدری عبدالمجید نے ایک نجی تقریب کے دوران ڈاکٹر سکندر حیات اور ان کے خاندان سے متعلق ایک قومی پارٹی کے ساتھ وفا کی کہانی سنی تو انہوں نے وہاں اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی ہائوسنگ سوسائٹی میں ان کی خدمات کے اعتراف میں ایک کرکٹ سٹیڈیم تعمیر کریں گے ۔ چنانچہ انہوں نے اپنا وعدہ نبھایا، سردار اشعر حیات اس سوسائٹی میں ان کے بزنس پارٹنر بھی ہیں اس لئے جہاں زمین سوسائٹی نے مہیا کی وہاں تعمیرات کے اخراجات اشعر حیات اور ذوالفقار حیات اور ان کے خاندان نے برداشت کیے اور اب یہ کھیل کا میدان نوجوانوں کے لئے کھول دیا گیا ہے تاکہ وہ اس سے استفادہ کر کے غیر صحت مندانہ سرگرمیوں سے نکل کر اپنی صلا حیتوں کالوہا منوائیں۔ یقینا اتنا بڑا کام کوئی اہلِ دل ہی کر سکتا ہے یہ کھیل کا میدان ناصرف حسن ابدال بلکہ واہ کینٹ، ٹیکسلا، اٹک ، فتح جنگ اور دیگر گردونواح کے نوجوانوں کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ اس سے نوجوان خوب استفادہ اٹھائیں گے اور کرکٹ کے کھیل میں اپنی صلاحیتوں میں نکھار لائیں گے ۔ ڈاکٹر سکندر حیات شدید علالت کے باوجود اس تقریب میں موجود تھے تاہم ان کی آنکھوں میں نوجوانوں جیسی چمک تھی کہ وہ مستقبل میں ملک کا نام روشن کرنے والے نوجوانوں کے چہروں پر پھیلی حقیقی خوشی دیکھ کر شاد ہو رہے تھے۔ ان دنوں اس گرائونڈ میں فلڈ لائٹ کرکٹ ٹورنامنٹ جاری ہے۔ دعا ہے ان کی تقلید میں دیگر مخیر حضرات بھی کھیلوں کے میدان آباد کریں تاکہ ہسپتالوں سے رش کو کم کرنے میں مدد مل سکے۔

Shahid-Bla-Ta-Amul

شاہد اعوان

Next Post

13اپریل ...تاریخ کے آئینے میں

بدھ اپریل 13 , 2022
13اپریل ...تاریخ کے آئینے میں
13اپریل …تاریخ کے آئینے میں