مذہب اور سائنس کے طریقہ کار کا فرق؟

مذہب اور سائنس کے طریقہ کار کا فرق۔۔۔؟

dubai naama

مزہب اور سائنس کے طریقہ کار کا فرق

تحریر: جوسف علی

جدید سائنسی ترقی نے مذہب اور سائنس کے درمیان ایک غلط فہمی یہ پیدا کی ہے کہ شائد سائنس مذہب کے مقابلے میں زیادہ برتر علم ہے، حالانکہ سائنس ایک ٹیکنیکل علم ہے جس کا مذہبی علم مثلا عقائد، شریعت اور عبادات وغیرہ سے کوئی ‘لینا دینا’ یا ‘دشمنی’ ہے اور نہ ہی سائنسی علم کسی لحاظ سے مذہبی علم سے متضاد ہے۔
دراصل، 20 صدی کے بعد کی ایجادات کی وجہ سے سائنس زدہ عوام اور طلباء یہ سمجھنے لگے ہیں کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے اب مذہب (یا خدا) کی انسان کو ضرورت باقی نہیں رہی ہے۔ یہ واضح طور پر ایک مغالطہ تو ہو سکتا ہے مگر اس سے سائنس کی مذہب پر برتری ثابت نہیں ہوتی ہے، بلکہ اس سے مذہب کی سائنس پر برتری ثابت ہوتی ہے، کیونکہ مذہب کو نہ ماننے والے افراد کو اکثر یہ کہتے سنا گیا ہے کہ، “ہم خدا پر یقین نہیں رکھتے ہیں، ہم تو سائنس پر یقین رکھتے ہیں”، جس سے الٹا یہ ثابت ہوتا ہے کہ جیسے، ‘سائنس بھی ایک مذہبی فرقہ ہے’۔
ہم میں سے جس نے بھی سکول کی سطح تک دینیات اور سائنس پڑھی ہے، ہمارا واسطہ اس سوال سے ضرور پڑتا ہے کہ، ‘کائنات کو کس نے بنایا ہے؟’ اس سوال کا جواب دینیات یہ دیتی ہے کہ ‘کائنات کو خدا نے بنایا ہے؟’ اس کے بعد ہمارا واسطہ دوسرے اس منطقی سوال سے پڑتا ہے کہ، ‘کائنات کیسے بنی یا اس کی ابتداء کس طرح ہوئی؟’، تو اس سوال کا جواب ہمیں سائنس فراہم کرتی ہے کہ کائنات کا آغاز ‘بگ بینگ’ (Big Bang) سے ہوا۔
‘مذہب اور ‘سائنس’ کے درمیان فرق کو ان مزکورہ بالا دو بنیادی سوالوں کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جائے (جیسا کہ ہم نے اوپر دو سوالوں کی نوعیت اور قسم میں دیکھا)
تو پتہ چلتا ہے کہ چیزوں کی ‘حقیقت’ تک رسائی کے لئے مذہب اور سائنس میں ماسوائے علمی طریقہ کار کے دوسرا کوئی ‘فرق’ یا ‘تضاد’ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔۔۔!!!
کارل پاپر (Karal Popper) نے مذہب اور سائنس کے اسی فرق کو سمجھنے کے لئے سائنسی علم کی ایک مختلف توجیہہ پیش کی جسے تردیدیت (Ficationsim) کے نام سے جانا جاتا ہے جس کو انہوں نے اپنی شہرہ آفاق کتاب
‘The Logic of Scientific Discovery’
میں بیان کیا۔
سائنس کے اس نظریئے کے مطابق سائنس کی ابتداء مفروضات پر مبنی نظریات ہوتے ہیں جن کا مقصد ہونے والے واقعات و حوادث کی وضاحت اور پیش گوئی کرنا ہوتا ہے۔ اس نظریئے کو ماننے والے سائنس دان (بلکہ تمام سائنس دان) اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ نظریئے کے بغیر مشاہدہ ممکن نہیں، یعنی جس طرح مذہب میں پہلے ‘عقیدہ’ قائم کیا جاتا ہے اسی طرح سائنس میں پہلے مفروضہ قائم کیا جاتا ہے۔ مذہب میں عقیدہ، شریعت اور عبادت ہے جبکہ سائنس میں تشکیک، تجربات اور قوانین ہیں۔ سائنس میں مشاہدہ کسی نہ کسی مفروضے (نظریئے) کی تصدیق یا تردید کے حق میں حکم لگانے کے لئے کیا جاتا ہے جیسا کہ مذہب میں تزکیہ اور شریعہ وغیرہ سے ‘حق’ اور ‘حقیقت مطلقہ’ تک بلاواسطہ پہنچا جاتا ہے، سائنس اسی ‘سچائی’ تک تجربات اور قانون وغیرہ کے ذریعے بلواسطہ پہنچتی ہے۔
اس ضمن میں کارل پوپر نے کہا تھا کہ منطقی اعتبار سے کسی مفروضے کو غلط تو ثابت کیا جا سکتا ہے مگر اسکی تصدیق نہیں کی جا سکتی یعنی اسے صحیح ثابت کرنا ممکن نہیں ہے، جس کی انہوں نے یہ مثال پیش کی کہ یہ مفروضہ یا نظریہ قائم کرنا کہ تمام کوے کالے ہیں، اسے غلط تو ثابت کیا جا سکتا ہے مگر اسکی تصدیق یا اسے صحیح ثابت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہزاروں لاکھوں کالے کوے دیکھ کر صرف ایک سفید کوے کو دیکھنے سے اس مفروضے کی تردید ہو جاتی ہے کہ، ‘تمام کوے کالے ہیں۔’
یوں اس بنیادی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کارل پوپر نے اپنے اس سائنسی نظریئے کے اعتبار سے بتایا کہ کسی آفاقی نظریئے کی تصدیق کرنا ممکن نہیں مگر اس کی نفی یا تردید کرنا عین ممکن ہے اور منطق کی رو سے بلکل درست بھی ہے۔ اس کی روشنی میں کارل پوپر نے اعلان کیا کہ سائنسی تحقیق اور علم کا مقصد چیزوں کو ثابت نہیں بلکہ غلط ثابت کرنا ہوتا ہے یعنی سائنس نفی کے اصول پر ترقی کرتی ہے۔ کوئی بھی نظریہ صرف اسی وقت تک سائنس دانوں کے نزدیک وقعت اور اہمیت رکھتا ہے جب تک کہ وہ غلط ثابت نہ کر دیا گیا ہو۔ چنانچہ اس بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سائنسی علم وہی نظریات بن سکتے ہیں جن کی مشاہدات و تجربات کی روشنی میں تردید کرنا ممکن ہو۔
ہم عمومی طور پر بھی جانتے ہیں کہ سائنسی علم غلطی اور اصلاح
Trial and Error
کے اصول پر ترقی کرتا ہے یعنی جس نظریئے کو جتنے زیادہ مشاہدوں سے غلط ثابت کیا جا سکتا ہے ہو وہ اتنا ہی زیادہ سائنسی علم ہونے کا استحقاق رکھتا ہے (مگر مذہب میں ایسا نہیں ہے کیونکہ یہ تشکیک کی بجائے ‘کامل یقین’ پر کھڑا ہوتا ہے) یعنی سائنس کا مقصد تصدیق نہیں بلکہ تردید کرنا ہے۔
سائنس کے نوبل پرائز گزشتہ سائنسی تھیوریز کو غلط ثابت کرنے پر دیئے جاتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ سائنس تبدیل ہو کر مسلسل ارتقاء سے گزرتی ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سائنس کے علم کی منہج ہی یہ ہے یہ متغیر پزیر علم ہے جس کی جگہ بلآخر کسی روز اس سے کسی بہتر علم نے لے لینی ہے، جبکہ مذہب ایک مستقل اور غیر متبدل علم ہے۔ مزید برآں سائنس مذہب کی ایک علمی برانچ ہے جو مزہنی عقائد و نظریات کو تجربات کی بنیاد پر ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے مثلا جیسا کہ یہ کہا جائے کہ کائنات کو خدا نے بنایا ہے اور جب کوئی یہ پوچھے کہ خدا نے کائنات کو کیسے بنایا، تو اس کی وضاحت سائنس اپنے نظریات اور انکشافات سے کرتی ہے کہ کائنات کے بننے اور کام کرنے کا یہ طریقہ کار ہے، مگر یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب سائنس کی طرح ‘مذہب’ کو بھی علم سمجھ کر اس پر تحقیق و جستجو کی جائے۔

سینئیر کالم نگار | [email protected] | تحریریں

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت" میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف" میں سب ایڈیٹر تھا۔

روزنامہ "جنگ"، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

streamyard

Next Post

رباب عائشہ کی 'سدا بہار چہرے'

منگل مئی 9 , 2023
پھر وقت نے زقند بھری۔ہم بھی زندگی میں آگے بڑھ گئے۔رباب عائشہ نے بھی جنگ کو خیرباد کہا۔اخبارات کے انداز، معیار اور ترجیحات بدل گئیں۔
رباب عائشہ کی ‘سدا بہار چہرے’

مزید دلچسپ تحریریں