پروفیسر عبد الجبار عبد سے گفتگو

انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات شکار پور

ریٹائرڈ پروفیسر عبد الجبار عبد ، شکار پور ، سندھ

انٹرویو کنندہ : مقبول ذکی مقبول ، بھکر پنجاب پاکستان

سوال: آپ اپنا نام بتائیں۔ پیدائش اور بچپن کے بارے میں معلومات دیں ۔ ؟
جواب: میرا نام عبدالجبار سومرو ہے، جبکہ میرا ادبی نام عبدالجبار عبّد ہے۔ میرے والد بزرگوار کا نام فقیرمولوی جان محمد سومرو رح (جانن فقیر) تھا ۔ جو ایک عالم باعمل ہونے کے ساتھ ساتھ صوفی شاعر بھی تھے۔ والد بزرگوار نے پوری زندگی دین اسلام کی خدمت میں گذاری۔ وہ نماز پڑھاتے تھے۔ بچے پڑھاتے تھے اور خطیب کے فرائض انجام دیتے تھےمگر تنخواہ نہیں لیتے تھے۔ آپ نے چالیس سال تک یہ خدمت انجام دی۔
ان کو دو بار حج ادا کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ شکارپور کے نزدیک سندہ کئنال کے کنارے ”مرید گوٹھ“ نامی ایک گاؤں واقع ہے۔ اس گاؤں میں ہمارے سومرو خاندان کے بھی پانچ۔ چھ گھر ہوا کرتے تھے۔ ۲۰ دسمبر ۱۹۶۰ء میں اسی گاؤں میں میری پیدایش ہوئی۔ ناظرہ قرآن مجید اور پرائمری کی پانج جماعتیں میں نے اسی گاؤں میں ہی پڑھیں

پروفیسر عبد الجبار عبد سے گفتگو

سوال: عبد صاحب! آپ نے مزید تعلیم کہاں سے حاصل کی ۔ ؟
جواب: مقبول ذکی صاحب! میں نے مزید تعلیم میں، مٹرک، انٹر، بے اے، ایم اے وغیرہ شکارپورکے تعلیمی اداروں میں حاصل کی۔ جبکہ P.T.C اور B_Ed کی پروفیشنل ڈگریاں، سکھر کے تعلیمی اداروں سے حاصل کی۔ اسی طرح ایم۔ ایڈ کی پروفیشنل ڈگری شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کے آف کیمپس شکارپور میں حاصل کی۔

سوال: ملازمت کا سلسلہ کہاں کہاں رہا ۔ ؟
جواب: جناب ذکی صاحب! میں ۰۲ دسمبر ۱۹۷۹ء میں ایک “پرائمری استاد” کی حیثیت سے سرکاری نوکری میں آیا۔ پھر ۱۹۹۲ء میں وہاں سے ترقی کرکے بذریعہ پروموشن “ہائی اسکول ٹیچر“، بنا، جہاں سے بذریعہ پروموشن “سبجیکٹ اسپیشلسٹ” کے عھدے پر فائز ہوا، وہاں سے ترقی کرکے بذریعہ پروموشن “اسسٹنٹ پروفیسر”بنا۔ اپنی زندگی کے ۶۰سال پورا کرنے کے بعد میں دسمبر ۲۰۲۰ء میں ملازمت سے ریٹائرڈ ہوا۔ دورانِ سروس تعلقہ و ضلع شکارپور کے مختلف اسکولز میں اپنی خدمات انجام دیں۔

سوال: جناب عبد سومرو صاحب! آپ چونکہ ایک استاد رہے ہیں، آپ اپنی ملازمت کے دوران اپنے کام سے مطمئن تھے ۔ ؟
جواب: جی ہاں، میں اپنے کام سے بالکل مطمئن تھا، میں بچوں کو پڑھانے کے ساتھ ان کو “کریکیولر ایکٹوٹیز” میں بھی تیاری کرواتا تھا، اور جس ادارے میں بھی رہا اپنے اسکول کے بچوں کو کامیابی دلوائی اور میرے بچوں نے نمایاں کامیابی حاصل کرنے پر بیشمار انعامات ، حتیٰ کہ گولڈ میڈلز بھی حاصل کیے۔

سوال: آپ شعری میدان میں کس طرح وارد ہوئے ۔ ؟
جواب: چونکہ میرے والد گرامی ؒ ایک صوفی شاعر تھے، جب میں چھوٹا تھا تو اکثر والد صاحب کے ساتھ محفل مشاعرہ میں جاتا تھا، وہاں مجھے بھی شاعری کرنے کا شوق ہوا۔ اتفاق سے میں نے جو پہلی شاعری کی تھی، وہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی شان میں “سلامِ عقیدت” تھا ، وہ میں نے سندھی زبان میں نکلنے والے ایک جریدے “پیغام” کو بھیجا، تو وہ اس میں شایع ہوگیا۔ یہ “پیغام” جریدہ اسی وقت محکمہ اطلاعات سندھ کی طرف سے نکلتا تھا۔ میری پہلی ہی شاعری چونکہ ایک جریدے میں شایع ہوگئی تھی، اس لیے میری ہمت بندھ گئی اور میں شاعری کرنے لگا۔
اب جب بھی کسی مشاعرہ کی دعوت ملتی ہے تو اس میں شرکت کے لیے شاعری کرتا ہوں۔ زیادہ تر میرا رجحان نعت کی طرف ہے۔

سوال: آپ کی شعری خدمات کیا ہیں ۔ ؟
جواب: میں نے اپنی مادری زبان سندھی میں شاعری کی ہے۔ تقریباً اتنی شاعری ہوگی کہ ایک کتاب بن جائے۔ نثری یا آزاد شاعری کی کتاب علیحدہ ہے۔

سوال: آپ کی نثری خدمات کیا ہیں ۔ ؟
جواب: جناب ذکی صاحب! میں نے نثر میں بہت کام کیا ہے، میری مطبوعہ کتب کی تعداد ۷۰ کے قریب ہے، ان میں ساری کتابیں سندھی میں ہیں، جبکہ ایک کتاب اردو میں ہے۔
میری یہ کتابیں، اسلامیات، ادب، تصوف، قرآن و حدیث وغیرہ کے موضوعات پر مبنی ہیں۔ میں نے بزرگوں کی سوانح حیات اور ان کے کلام پر بھی کتابیں لکھی ہیں۔ اس میں تصنیف و تالیف کے علاوہ تراجم بھی ہیں۔ نیز میں نے بچوں اور بڑوں کے لیے کہانیاں بھی لکھی ہیں۔
بیس (۲۰) عدد چھوٹی کتابیں بچوں کے لیے کہانیوں کی طبع ہوچکی ہیں، جبکہ کہانیوں کی ایک کتاب بڑوں کے لیے بھی طبع شدہ ہے۔
میری تحاریر سندھی زبان کے معیاری جرائد و اخبارات میں شایع ہوتی رہتی ہیں۔ بچوں کے میگزین “گل پھل” اور “ساتھی” وغیرہ میں شایع ہوتا رہا ہوں۔
سوال: آپ کا ذوقِ مطالعہ ۔ ؟
جواب: جناب ویسے تو میں، ہر علمی و ادبی کتاب شوق سے پڑھتا ہوں، لیکن جو میرے پسندیدہ عنوانات ہیں، ان میں قرآنی علوم، احادیث مبارکہ، تواریخ، تصوف اور شعر و ادب. ناول اور کہانیاں بھی میں شوق سے پڑہتا ہوں۔

سوال: آپ کی کسی ادبی تنظیم سے وابستگی ۔ ؟
جواب: جناب میں کچھ ادبی تنظیمات سے منسلک رہا ہوں، جیسا کہ “ایوان ِ علم و ادب پاکستان”، “مھران ادبی سنگت شکارپور”، “بزمِ گلشن لطیف شکارپور”، “جیئے لطیف سماجی ادبی سنگت شکارپور” وغیرہ۔

سوال: آپ کے ایک فرزند جو اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں، دنیائے ادب میں اپنی ایک خاص پہچان رکھتے تھے۔ ان کے فن اور شخصیت کے بارے میں کیا کہیں گے ۔ ؟
جواب: میرے اس فرزند کا نام کاشف حسین سومرو تھا۔ وہ بچپن سے ہی بہت ذہین تھا ، چھوٹی عمر میں ہی بہت ساری کامیابیاں حاصل کی تھِین۔ اس نے قومی زبان اردو میں ماسٹر کیا ہوا تھا اور اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر لیکچرر بنا تھا۔ اس نے کہانیاں لکھیں ، اُردو اور سندھی میں شاعری کی ۔ بلا کا مقرر تھا ۔ کبھی کبھار انگریزی میں بھی لکھتا تھا۔ اس کے ادبی دوستوں کا حلقہ وسیع تھا ، جناب عبدالصمد مظفر پھول بھائی جناب رانا راشد علی خان اور نور محمد جمالی وغیرہ اس کے احباب میں شامل تھے۔ اس نے اردو مقابلہءِ کہانی نویسی میں پاکستان بھر میں اول پوزیشن حاصل کی۔ اس کی اردو میں لکھی گئی ایک کتاب : “سیرت مخدوم شاہ عثمان قریشی ؒ سھروردی” کے تین ایڈیشن آچکے ہیں۔ مذکورہ کتاب کو، کاشف کی وفات کے بعدایوارڈ بھی دیا گیا ہے۔
کاشف کی وفات کے بعد مختلف لکھاریوں نے کاشف پر اپنی تحریرات قلمبند فرمائیں تھین، راقم نے ان تحریرات کو مرتب کرکے “داستان چھوڑ آئے۔۔۔” کے نام سے طبع کروایا ہے۔ جس میں کاشف کی زندگی کے مختلف زاویوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ میرا یہ لائق و فائق فرزند ۳۰ برس کی جواں سال عمر میں ، ۷ جون ۲۰۱۲ میں مجھ سے بچھڑ گیا یہی جون کا مہینہ تھا ۔ چار روز قبل ہم نے 12 وی برسی منائی ہے ۔ اللّٰہ کریم اس کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ آمین
اس کی لکھی گئی کتب کو میں آھستہ آھستہ طبع کروانے کی کوشش کر رہا ہوں، ابھی حال ہی میں، اسی کی سندھی زبان میں ترجمہ کی ہوئی ایک کتاب جو کہ صحابہ کرام ؓ کی سوانح حیات پر ہے وہ میں نے طبع کروائی ہے ۔

سوال : ضلع شکارپور میں ادبی ماحول کو کیسا پاتے ہیں ۔ ؟
جواب : شکارپور ماشاء اللّٰہ شروع سے ہی علم و ادب کا مرکز رہا ہے ۔ یہاں بڑے بڑے ادباء شعراء و علماء نے جنم لیا ہے۔ آج بھی ضلع شکارپور ، علم و ادب کا گہوارہ ہے ، سامی اور شیخ ایاز شکارپور کے بہت بڑی شاعر تھے ۔ آج بھی شکارپور میں نامور ادیب اور شاعر ہیں اور علمی و ادبی محافل سجتی ہیں۔

سوال: شکارپور کی اور کیا کیا چیزیں مشہور ہیں ۔ ؟
جواب: شکارپور شمالی سندھ کا ایک قدیم تواریخی شہر ہے۔ یہاں کچھ ایسی عمارتیں ہیں، جو آج بھی شکارپور کی تاریخی عظمت کی دلالت کرتی ہیں۔ ان عمارات میں “حضرت شاہ فقیر اللّٰہ علوی ؒ کا مقبرہ”، “راءِ بھادر اودھوداس تاراچند ہسپتال”، “گورنمینٹ ہائی اسکول نمبر ون شکارپور”، “گورنمینٹ ہائی اسکول نمبر ۲ شکارپور”، “سی اینڈ ایس ڈگری کالیج شکارپور” اور “چارپائی والا مندر” وغیرہ۔

سوال: شکارپور کی اور خاص بات ۔ ؟
جواب : شکارپور کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں کے آچار بہت مشہور اور مزیدار ہیں ۔ اور یہاں کی مٹھائی بھی مشہور ہے۔

سوال : حاصل کردہ انعامات۔ شیلڈز وغیرہ ۔؟
جواب : ۱۔ ۱۹۹۴ء میں”سندھی لینگویج اتھارٹی“ کی طرف سے بچوں کے ادب پر خاص دوسرا انعام (ایک ہزار روپیہ نقد اور سند)۔
۲۔ ”سندھ کلچرل ایسوسی ئیشن” کی جانب ”بیسٹ رائیٹر آف ۱۹۹۴ء شکارپور ایوارڈ“۔
۳۔ “دعوت اکیڈمی اسلام آباد“ کے ”شعبہ سندھی ” کی جانب ، ”کہانی نویسی کے مقابلئہ ۱۹۹۸ء میں دوئم پوزیشن۔ (دو ھزار روپے نقد اور سند”) ۔
۴۔ ” مکھڑی آرٹ سرکل شکارپور” کی طرف سے سال ۱۹۹۴ء میں ”بہترین کہانی رائیٹر” کی سند دی گئی۔
۵۔ سال ۱۹۹۹ء میں کیے گئے ادبی کام کے اعتراف میں ”عباسی کلھوڑا تنظیم سندھ “ کی جانب سے ”تنویر عباسی ایوارڈ“ سے نوازا گیا۔
۶۔ سال ۲۰۰۰ء میں کیے گئے ادبی کام کے اعتراف میں ”عباسی کلھوڑا تنظیم سندھ “ نے دوبارہ تنویر عباسی ایوارڈ دیا۔
۷۔ سال۲۰۰۴ء میں “سندھ چلڈرینس اکیڈمی خیرپور سندھ ” کی طرف سے “سندھی بچوں کے ادب کی ترقی کے لئے کی گئی خدمات کے اعتراف میں” ایوارڈ دیا گیا۔
۸۔ سال ۲۰۰۵ع میں “سندہ رائیٹرز ادبی فورم سندھ “ کی طرف سے “بچوں کے ادب” میں نمایاں خدمات پر “سندِ امتیاز ایوارڈ“ سے نوازا گیا۔
۹۔ رجب ۱۴۴۰ھ کو ”خانقاہ عالیہ مخدوم شاہ عثمان قریشی ؒ سہروردی۔ فراش“ کی جانب سے مخدوم صاحب پر دو عدد کتب لکھنے پر “حضرت مخدوم شاہ عثمان قریشی ؒ سہروردی ایوارڈ“ سے نوازا گیا۔
۱۰۔ ۲۰۱۷ء میں چار سؤسالہ جشن شکارپور کے موقعہ پر ”سندھی ادبی سنگت سندھ “ کی جانب سے ”ڈاکٹر عبدالقیوم طراز شیخ یادگار شیلڈ“ سے نوازا گیا۔
۱۱۔ ۲۰۱۷ء میں چار سو سالہ جشن شکارپور کے موقعہ پر ”مہران ادبی سنگت شکارپور“ کی طرف سے ”محقق ادیب ایوارڈ“ دیا گیا۔
سوال : آپ کی کچھ خاص مطبوعہ کتابیں ۔؟
جواب :
۱۔ ”موت جو منظر“ (موت کا منظر ترجمہ)۔
۲۔ ”عظمتِ قرآن” (ترجمہ)۔
۳۔ ”حمل فقیر ؒ “ (تالیف)۔
۴۔ حضرت خواجہ غلام فرید ؒ (تالیف)۔
۵۔ ”ظلم جو زنجیر“ (کہانیاں)۔
۶۔ ”محبوب کریم ؐ جوں وصفون” (شمائل نبوی)۔
۷۔ ”سرزمین سمرقند ۽ بخارا” (سید فیروز شاہ گیلانی کے سفرنامہ کا ترجمہ)۔
۸۔ ”پیاری پغمبر ﷺ جوں پیاریون گھر واریون” (ازواجِ مطہرات)۔
۹۔ ”حضرت بابا بلھی شاہ ؒ “ (تالیف)۔
۱۰۔ ”تصوف جی تاریخ“ (تاریخ تصوف کا سندھی ترجمہ)۔
۱۱۔ ”اسلام میں حلال و حرام“ (علامہ یوسف القرضاوی کی تالیف کا ترجمہ)۔
۱۲۔ ”صحیح ترغیب و ترھیب“(سندھی ترجمہ)۔
۱۳۔ “چل پل جو چٹکو” (سردار میر شاہ پسند چانڈیو کی سوانح و کلام)
۱۴ ”کلیات حسینی“ (حضرت پیر عبدالغفار شاہ راشدی “حسینی” کا کلام)۔

 مقبول ذکی مقبول

بھکر، پنجاب، پاکستان

مقبول ذکی مقبول

Next Post

لائیو سٹاک ڈپلومہ کورسسز کے امتحانات

منگل جون 14 , 2022
یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسزز کے زیر اہتمام دو سالہ لائیو سٹاک اسسٹنٹ ڈپلومہ کورسسز کے امتحانات 20 جون سے 25 جون تک منعقد ہونگے
لائیو سٹاک ڈپلومہ کورسسز کے امتحانات