محمد اقبال بالم سے گفتگو

انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات ، بھکر

محمد اقبال بالم صاحب ، بھکر

انٹرویو کنندہ : مقبول ذکی مقبول ، بھکر

سوال : آپ کا مختصر تعارف .؟
جواب : میرا نام محمد اقبال ہے ۔ قلمی نام محمد اقبال بالم اور چھینہ خاندان سے تعلق ہے والد کا نام فلک شیر چھینہ ہے ۔ میرا آبائی شہر منکیرہ ہے ۔ 1985 ء میں ہم بھکر نقل مکانی کر گئے تھے ۔ وجہ منکیرہ میں بے روزگاری تھی ۔ پھر 1990ء کو واپس منکیرہ آ گئے ۔ میں نے ٹیلر ماسٹر یعنی درزی کا کام کیا۔ لیکن چند سالوں میں میری قریب کی نظر کمزور ہو گئی تھی ۔ مجبوراً کام چھوڑ نا پڑ گیا فیصل آباد ٹیکسٹائل فیکٹری میں کام کرنے چلا گیا ۔ 6 سال بعد منکیرہ واپس آ کر گولی ٹافی کا کام شروع کیا مگر شومی ء قسمت چند سال چلا 2019ء میں” مرید کے” ، وحدک دیسی دوا کی فیکٹری میں کام کرنے جانا پڑ گیا ۔ اب تک وہیں ہوں ۔ اللّٰہ پاک کا شکر ہے میرا ایک بیٹا عامر اقبال دبئی میں رہتا ہے ۔ انشاءاللہ عنقریب دوسرا بیٹا عمران اقبال وہ بھی دبئی جائے گا ۔ اللّٰہ کا شکر ہے اب کچھ مالی حالات بہتر ہیں ۔ میرے کل بچے 6 ہیں 4 بیٹے 2 بیٹیاں ۔
سوال : آپ کے اندر کا شاعر کب اور کیسے بیدار ہوا ؟
جواب : جناب یہ کوئی 1987ء کی بات ہے اس وقت میری جوانی بھر پور تھی ۔ مگر بے روزگاری بھی عروج پر تھی ۔ ہر دور کی طرح معاشرتی ناانصافیاں اپنے کمال پر تھیں اور غریبی کا دور دورہ تھا۔ میں بھی غریب ہو نے کے ناطے کچھ نہ کر سکتا تھا ۔ میرے اندر کے شاعر نے آنکھ کھولی تو میں نے شاعری کے ذریعے آواز بلند کی تھی ۔ معاشرے کی اصلاح کرنے کی کوشش کی جو کہ اب تک جاری ہے ۔ ہاں ساتھ ساتھ رومانوی شاعری بھی کرتا ہوں ۔
سوال : شاعری میں اصلاح کس سے لیتے ہیں ۔ ؟
جواب : سئیں نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی سے جو بھکر کے معروف استادالشعراء ہیں ۔ اللّٰہ پاک استاد کو سلامت رکھے آمین ۔

iqbal and maqbool


سوال : آپ سرائیکی زبان کے گیت نگار بھی ہیں ۔ گیت کی اصل روح کیا ہے ۔؟
جواب : گیت میں زیادہ تر رومان پایا جاتا ہے اور تحفے تحائف کا ذکر بھی ضروری ہے ۔ آج کل تو گلے شکوے زیادہ پائے جاتے ہیں ۔ میں تو یہی کہوں گا سرائیکی زبان میں گیت تخلیق کرنا بہت مشکل کام ہے ۔ شاید کسی گیت نگار کو میری اس بات سے اتفاق نہ ہو ۔
سوال : آپ کے قلم سے لکھے گئے گیت کون کون سے گلوکاروں نے گائے ہیں ۔ ؟
جواب :ایک طویل فہرست ہے جس میں احمد نواز چھینہ ، امجد نواز کارلو ، شہزاد شیخ ، مشتاق چھینہ ، باسط نعیمی ، رانجھا خان ارمانی ، ساجد ملتانی ، گل تری خیلوی اور اللّٰہ یار گھلو شامل ہیں ۔
سوال : علی شاہ مرحوم کے بارے میں آپ کیا کہیں گے ۔؟
جواب : آ ہ ۔۔۔!
علی شاہ ، علی شاہ مرحوم کا نام جب بھی آتا ہے تو کلیجہ منہ کو آتا ہے ۔ اللّٰہ پاک علی شاہ مرحوم کی عالم برزخ کی منازل آسان فرمائے ۔ آمین علی شاہ مرحوم علم و ادب کے حوالے سے پورے پاکستان میں مشہور تھے ۔ 9 کتابوں کے مصنف تھے ۔ علی شاہ مرحوم نے منکیرہ کے نئے قلم کاروں کو ادبی حلقوں میں متعارف کرایا ۔ اپنی کتابوں میں فن و شخصیت پر مضامین لکھ کر تاریخ ادب میں شامل کر دیا ۔ میرے پاس الفاظ نہیں علی شاہ مرحوم کو خراج تحسین پیش کیسے کروں ۔ ؟
سوال : محسن ِتھل کے نام سے آپ علی شاہ مرحوم کی فن و شخصیت پر ایک کتاب ترتیب دینا چاہتے تھے ۔ اس کا کیا بنا ۔؟
جواب : ذکی صاحب !
بات یہ ہے کہ جو بھی علی شاہ مرحوم کے دوست تھے میں نے سب سے رابطہ کیا اور کہا کہ علی شاہ مرحوم کی فن و شخصیت پر مضامین لکھ کر بھیج دیں ۔ دو چار دوستوں نے مضامین اور نظمیں بھیجیں باقی کسی نے توجہ نہ کی ۔ اس طرح یہ کام نہ ہو سکا ۔
سوال : آپ کی کسی ادبی تنظیم سے وابستگی ۔؟
جواب : بزم نذ یر منکیرہ ، اس کا بانی و صدر ہوں۔ یہ استاد سئیں نذیر احمد نیر ڈھالہ خیلوی صاحب کے نام سے ہے ۔ استاد نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی بھکر کے ہیں ۔ سرائیکی ادب کے نامور شاعر ہیں ۔ اللّٰہ پاک استاد جی کو سلامت رکھے ۔ آمین
ایف جے رائٹرز فورم پاکستان لاہور کی تنظیم کا ضلع بھکر کا صدر ہوں ۔ ایک اور ادبی تنظیم ہے ۔ انٹرنیشنل رائٹر فورم پاکستان اسلام آباد اس کا بھی ضلع بھکر کا صدر ہوں ۔
سوال : آپ کتنی زبانوں میں اشعار کہتے ہیں ۔ ؟
جواب : 4 زبانوں میں شاعری کرتا ہوں ۔ 1 سرائیکی ، 2 اردو ، 3 پنجابی ، 4 رانگڑی (ہریانوی)
سوال : کیا آپ نثر بھی لکھتے ہیں ۔؟
جواب : 6/7 کہانیاں لکھی تھی اصل میں افسانہ لکھنے کی کوشش کی لیکن بات نہ بنی
سوال : آپ کی کتابوں کے کیا نام ہیں ۔ ؟
جواب :
1 مودت دے ڈیوے ، سرائیکی نعتیہ مجموعہ ۔ صدق رنگ پبلیکشنز ملتان (2010ء)
2 تھل دے ہیرے ، مختلف شعراء کا کلام ، انتخاب ، صدق رنگ پبلیکشنز ملتان (2012ء)
3 دامنِ دل ، اردو مجموعہ غزل ، اردو سخن چوک اعظم ، لیہ (مئی 2016ء)
4 چھمکاں ، سرائیکی مجموعہ کلام ، اردو سخن چوک اعظم ، لیہ (جون 2016ء)
5 “چھلے” ، پنجابی شاعری ، اردو سخن چوک اعظم ، لیہ (مئی 2017ء)
6 نکھیڑے چنگے تاں نئیں ، سرائیکی گیتاں دی کتاب ، اردو سخن چوک اعظم لیہ (مئی 2017ء)
7 “جنت دے سردار” علیہ السلام ، سرائیکی مجموعہ منقبت ، اردو سخن چوک اعظم لیہ (جون 2021ء)
8 چشم خوابیدہ ، اردو مجموعہ غزلیات اردو سخن چوک اعظم لیہ (مئی 2022ء)
سوال : آپ کے اعزازات ۔؟
جواب :
1 ماہنامہ آداب عرض ڈائجسٹ (ملتان) کی سالانہ تقریب میں سند برائے حسن کارکردگی 15مئی 2013ء

2 ایوارڈ برائے حسن کارکردگی ۔اردو ڈاٹ کام چوک اعظم( لیہ) ۔9 اگست ،،2016ء

3 ایوارڈ و سند ۔ بہترین۔ کتاب۔(دامنِ دل ) بھیل ادبی سنگت انٹرنیشنل (ننکانہ صاحب) 3 اگست 2020 ء

4 سند امتیاز کتاب (چھلے ) بھیل ادبی سنگت انٹرنیشنل( ننکانہ صاحب) 28 مارچ 20،21ء

5 ایوارڈز و سند امتیاز بہترین تصنیف (دامن دل ) انٹرنیشنل رائٹرز فورم پاکستان (راولپنڈی) 26 جولائی 2021ء

6 . گولڈ میڈل سند کیش اور دیگر تحائف منجانب تنظیم کارخیر (گوجرانوالہ) 21 نومبر 2021ء

7 . ایوارڈز و سند برائے حسن کارکردگی انٹرنیشنل رائٹر فورم پاکستان( راولپنڈی )27 نومبر 2021ء

،8 میڈل برائے حسن کارکردگی سند اعزازی ادبی خدمات و اتھارٹی لیٹرز ضلع (بھکر ) برائے تربیتی ورکشاپ انٹرنیشنل رائٹرز فارم پاکستان (راولپنڈی )25 دسمبر 2021ء

9 ایوارڈ برائے حسن کارکردگی منجانب ماہنامہ اُوج ڈائجسٹ (ملتان) 16 جنوری 2022ء

10 انٹرنیشنل ایوارڈز پروگرام ومشاعرہ ۔حسن کارکردگی سند بھلوال (سرگودھا) 28 فروری 2022ء

11 . سردار ادبی ایوارڈز اور امتیاز منجانب زوقِ ادب جامکے چیمہ( سیالکوٹ) 13 مارچ 2020 ء

12 ایف جے رائٹرز فورم پاکستان (لاہور) ایوارڈز برائے بہترین تصنیف( جنت دے سردار ) 26 مارچ 2012 ء

13 بھیل ادبی ایوارڈ وسند کتب کے تحائف منجانب بھیل ادبی سنگت انٹرنیشنل( ننکانہ صاحب ) 27 مارچ 2022 ء

،14 . الوکیل کتب ایوارڈز وسند حسن کارکردگی کتب (جنت کے سردار ) (حاصل پور ) 15 مئی 2022 ء
سوال : کوئی ایسا واقعہ جو آپ بھلا نہ پاۓ ہوں ۔؟
جواب : واقعات تو بہت سے ہیں ۔ جو بھلائے نہیں جاسکتے ۔ مگر ایک واقعہ جب مجھے یاد آتا ہے تو آنسو نکل آتے ہیں ۔ ہوا یوں کہ برف گولے والے اکثر محلوں میں آتے ہیں ۔ پرانہ لوہا ، پلاسٹک ، نائیلون ، ردی ، کاپی کتابیں وغیرہ لیتے ہیں اور بچوں کو برف کے گولے ، پتیسہ ، چھوارے ، پتاسے وغیرہ دیتے ہیں ۔ یہی مئی کا مہینہ تھا ۔ برف گولے کھانے کی غرض سے میرے بچوں نے کتابیں کاپیاں دیں تو میرے کلام والے مسودے بھی ساتھ دے دیئے ۔ ان کو پتا نہیں تھا ۔ جب میں گھر آیا تو مسودے غائب تھے ۔ بچوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا اس نے گولے والے کو دیئے ہیں ۔ اس نے کہا اس نے دیئے ہیں ۔ بہرکیف میں بہت پریشان ہوا ۔ سائیکل نکا لی گولے والے کو گلیوں میں ڈھونڈ تا رہا مگر نہ ملا ۔ آخر کباڑ والے کے پاس گیا اس نے کہا بھائی یہاں تو ردی بیچنے والے بہت آتے ہیں ۔ دیکھ لیں بھائی تمھارے مسودے پڑے ہیں تو اٹھا لو میں نے بورے کھولے گرمی بھی بہت تھی ، بہت کوشش کی مگر مسودے نہ ملے اس واقعہ کو کبھی بھی نہیں بھولوں گا ۔ جب بھی یاد آتا ہے تو آنسو نکل آتے ہیں ۔

maqbool and iqbal


سوال : کیا آپ کو اکادمی ادبیات اسلام آباد کی طرف سے وظیفہ مل رہا ہے ۔؟
جواب : کوشش تو میں نے جاری رکھی ہوئی ہے کہ مل جائے 3/4 چکر بھی مجھے اسلام آباد کے لگانے پڑ گئے تھے ۔ لیکن ابھی تک وظیفہ نہیں شروع ہوا ۔ امید ہے وظیفہ ملنا شروع ہو جائے گا ۔ 2/3 ادبی دوستوں نے بھی کوشش کی ہے کہ وظیفہ جاری ہو جائے ۔ باقی اللّٰہ پاک کرم کرے گا ۔
سوال : آپ کو مشاعرہ پڑھنے کا کہاں کہاں اتفاق ہوا ۔؟
جواب : اپنے علاقہ میں تو شروع سے مشاعرے پڑھتا رہا ہوں ۔ منکیرہ شہر ، دلیوالہ ، مسلم کوٹ ، بھکر ، سرائے مہاجر ، فاضل ، جنجوں شریف اور خاص طور پر گوھر والا ، جو گوھر والا کا مشاعرہ ہے پاکستان کا سب سے بڑا سرائیکی مشاعرہ ہے ۔ ہر سال کو اکتوبر میں ہوتا ہے ۔ ذکی صاحب تو بات رہی باہر کے مشاعروں کی تو اس میں میں تو آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے متعارف کرایا ۔ فتح پور ، لیہ ، چوک اعظم ، ملتان ، اسلام آباد ، لاہور ، اور سرگودھا ۔ آپ مجھے بھی ساتھ لے کے جاتے تھے اور خاص کر لاہور میں مشاعرہ کی دعوت جو آپ کو ملتی تھی ۔ آپ مجھے فون کرتے کہ ایک ساتھ شرکت کریں گے۔ ۔ بزمِ نزیر منکیرہ کےزیر اہتمام منکیرہ میں بہت سے مشاعرے کرائے ہیں ۔ آپ بھی ساتھ ہوتے تھے اور عارف سہوانی بھی ۔ اس سے پہلے تھل ادبی سجوگ ہوا کرتی تھی ۔ وہ بھی مشاعرے کراتی تھی ۔ ان ادبی تنظیموں سے پہلے بھی منکیرہ شہر میں مشاعرے ہوا کرتے تھے ۔ ان مشاعروں کا مجھے ایک یہ بھی فائدہ ہوا کہ علاقے کا ہر نئے شاعر کی اصلاح و راہ نمائی اور حوصلہ افزائی کا اعزاز میرے حصے آتا۔۔ ایک پروگرام بطور مہمان شاعر” روہی” ٹیلی ویژن ملتان وہاں بھی پروگرام کرنے گیا تھا ۔
سوال : آپ قارئین کو ایک غزل عطا کریں ۔؟
جواب : غزل
اک طرف تُو ۔۔۔۔۔ دوسرے تنہائیاں
پھر کھڑی ہیں تاک میں رسوائیاں

جو تھی غالب درد جوش و میر میں
اب کہاں وہ شعر میں گہرائیاں

کھو گئے ہیں ٹھمریاں اور دادرے
گائیکی میں وہ کہاں استائیاں

وصل عشق الفت محبت اور پیار
ہم کو اب تک یہ نہیں راس آئیاں

دل بھی اب ہے چڑچڑا سا ہو گیا
اِس پہ کس کی پڑ گئی پرچھائیاں

روز کی فاقہ کشی اور مفلسی
یہ تو بالم ہیں مری ماں جائیاں

maqbool zaki

مقبول ذکی مقبول

Next Post

پولیس وین حادثے کا شکار ڈی سی اٹک نے زخمیوں کی عیادت کی

بدھ مئی 25 , 2022
ذراٸع کے مطابق 02 پولیس اہلکار شہید اور 34 کے قریب زخمی ہو گٸے
پولیس وین حادثے کا شکار ڈی سی اٹک نے زخمیوں کی عیادت کی