عارف یار سوہلوی گجراتی سے بات چیت

انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات، گجرات

عارف یار سوہلوی گجراتی

انٹرویو کنندہ: مقبول ذکی مقبول، بھکر

سوال : آپ کا نام  سن پیدائش اور بچپن کے بارے میں معلومات دیں۔۔۔۔۔؟

جواب : میرا نام محمد عارف والد صاحب کا نام محمد صادق اور والدہ صاحبہ کا نام فاطمہ بی بی ہے۔ ہم تین بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ بڑا بھائی ظفر اقبال جو فوت ہو چکا ہے اور چھوٹا میں محمد عارف اور مجھ سے چھوٹا احسان اللّٰہ میرا سن پیدائش 1956ء ہے۔ ہمارے گاؤں کا نام سوہل کلاں اور تحصیل گجرات ہے۔ ہماری قوم جٹ اور ذات جٹ سوہل ہے ۔ میں نے پانچویں جماعت تک بھاگووال خورد میں تعلیم حاصل کی پھر جلالپور جٹاں ہائی اسکول نمبر 2 میں داخلہ لیا اور سال کے آخر میں اسکول چھوڑ دیا۔

Conversation with Arif Yar Sohlavi Gujarati

 پھر جلالپور جٹاں میں کپڑا بنانے والی فیکٹری میں کام کرنے لگا کیونکہ ہمارے گاؤں کے پچاس کے قریب لوگ یہی کام کرتے تھے۔ میرا بڑا بھائی ظفر اقبال بھی یہی کام کرتا تھا۔ میں نے جلالپور جٹاں میں اسی دوران مسجد محمدیہ میں قاری عرفان سے ناظرہ قرآن مجید پڑھا اور اسی دوران میں نے محمد بوٹے گجراتی کے پنج گنج خریدے اور سید وارث شاہ کی ہیر اس وقت 20روپے میں خریدی جو ابھی تک میرے پاس موجود ہے۔ اسی دوران ایک آدمی سے محبت بھی ہوئی جو کئی برس تک چلتی رہی اور گھر سے بھی بھاگنے کی کوشش کی پھر میں نے قرآن مجید کا ترجمہ قاری سلیمان سے پڑھنا شروع کیا اور پھر کنجاہ قصبے میں چھ ماہ تک ٹیلی فون کے محکمہ میں رہا۔ پھر جلالپور جٹاں میں کچھ عرصہ کام کیا اور پھر ریلوے ورکشاپ میں بھرتی ہوا۔

رائے ونڈ ریلوے ورکشاپ میں ایک سال تک کام کرتا رہا اور رائے ونڈ میں ہی سسی پنوں اور وفات نامہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو مکمل کیا۔ اس وقت میں نوشاہی سلسلہ میں میاں ممتاز نوشاہی کا مرید ہوا۔ پھر دوبارہ جلالپور جٹاں میں دینی تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کی مولانا جمیل احمد پھلروی سے قرآن مجید کا ترجمہ اور بخاری شریف۔ موطا امام مالک، موطا امام محمد اور کئی دوسرے علوم حاصل کیے۔ اس کے علاوہ قاری فضل وحید سے صرف پڑھی، قاری نصر اللّٰہ، قاری اشرف، مولانا خادم، اختر فتح پوری

سوال : آپ شاعری کے میدان میں کس طرح وارد ہوئے۔۔۔۔۔؟

جواب : شاعری میرا بچپن کا شوق ہے کیونکہ ہمارے کجھ بزرگوں کو شعر پڑھنے سننے کا شوق تھا۔ ایک بزرگ میرے والد کے ماموں تھے جن کا نام سردار تھا وہ میاں محمد بوٹا گجراتی کے پاس جاتے رہتے تھے۔ان کو اور بھی کئی شاعروں کا کلام یاد تھا۔ ان کے کہنے پر محمد بوٹا گجراتی کے پنج گنج خریدے تھے اور کئی ہمارے بزرگوں کو شعر پڑھنے کا شوق تھا۔ میرے چچا بہاول بخش، کریم الہیٰ کاوانوالی سرکار کے پاس جاتے تھے۔ ایک اور بزرگ تھے جن کا نام داد تھا۔ وہ شعر سخن کے استاد تھے۔ ان محفلوں نے مجھے بھی اس طرف لگا دیا۔

میں نے محمد بوٹے گجراتی کے پنج گنج اور مرزے صاحبہ اور وارث شاہ کی ہیر اور میاں محمد بخش کے سیف الملوک کا بہت گہرائی سے مطالعہ کیا اور میں بھی ان کی بحر میں شعر کہنے لگا اور آہستہ آہستہ بہت سا کلام جمع کر لیا۔ جو اب زمانے کی دست بردسے ضائع ہو چکا ہے۔

سوال : آپ نے سرکاری ملازمت کیوں نہیں کی۔۔۔۔۔؟

جواب : دل مضطر کی وجہ سے اور کچھ شاعری کے جنوں کی وجہ سے دل پابندی میں رہنا پسند نہیں کرتا تھا اور خلوت مجھے بہت پسند تھی میں اکثر جنگلوں بیابانوں میں رات کو نکل جاتا اور اپنے آپ کو سمجھنے کی کوشش کرتا اور آسمان زمین کی مخلوق پر اور رات اور دن کے آنے جانے پر غور کرتا جب سمجھ میں کچھ نہ آتا تو رونے لگ جاتا کھانا اور سونا بہت کم کردیتا جس کی وجہ سے جسم لاغر اور کمزور ہو گیا اور والدہ میری حالت دیکھ کر رونے لگ گئی اور ملازمت چھڑا دی

سوال : آپ نے محبت کے موضوع پر شاعری کی۔۔۔۔۔؟

جواب : میں نے محبت کے موضوع پر بھی بہت کچھ لکھا۔ جو اب زیادہ تر کلام ضائع ہو چکا ہے۔ علامہ ابنِ خلدون نے اپنے مقدمہ میں لکھا ہے کہ عشق اور نشہ شعر گوئی میں بڑی مدد دیتا ہے۔ میں نے عشق کے بارے میں بہت سے شاعروں کا اپنی کتابوں میں حوالہ بھی دیا ہے۔

مثلاً حضرت سلطان باہو، شاہ حسین لاہوری، مولوی غلام رسول، وارث شاہ، میاں محمد بخش، فرد فقیر، فضل شاہ، محمد بوٹا، دائم اقبال، استاد گاموں، بزدالپشوری، میر تقی میر، ولی دکنی اور علامہ اقبال وغیرہ وغیرہ

سوال : آپ کا ادبی سرمایہ۔۔۔۔۔؟

جواب : میری پانچ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔

نمبر 1

درد اولے(مارچ 2010ء)

نمبر 2

 دلاں دے سو دے (2013ء)

نمبر 3

سی حرفیاں(2013ء)

نمبر 4

راوی ریان (مئی 2016ء)

نمبر 5

غلام محمد دا فیض (2016ء)

غیر مطبوعہ کتابیں منظر اشاعت ہیں۔ جن تعداد 17 قریب ہے۔

سوال: آپ نے فروغِ ادب کے لیے کون سا منفرد کام کیا۔۔۔۔۔؟

جواب : کوئی خاص کام تو نہیں کیا لیکن ایک یہ کیا ہے کہ راوی ریان کتاب میں تقریباً دو سو چالیس پنجابی گجراتی کے شاعروں کے نام اور پتے بتائے ہیں اور اس کتاب میں سانپ بچھو کے کاٹنے کے کچھ طبی علاج سر درد جاڑھ درد اور آدمی سے جن اتار نے کے کچھ وردوظائف بھی لکھے ہیں اور درد اولے کتاب میں سات لطیفوں پر کھل کر بات کی ہے۔

پنجابی کے اکھان اور محاوروں کا کثرت سے استعمال کیا ہے۔ جو بہت کم شاعروں نے یہ کام کیا ہے۔

سوال : آپ صرف مادری زبان پنجابی میں نظمیں کہتے ہیں۔ اس کی کوئی خاص وجہ ہے۔۔۔۔۔؟

جواب : کیونکہ میں زیادہ پڑھا لکھا ہوا نہیں ہوں۔ اس لئے میں زیادہ تر میں پنجابی میں نظمیں لکھتا ہوں۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ پنجابی کلام کو پڑھے ان پڑھے بھی سمجھ لیتے ہیں۔

 کسی کتاب میں کسی شاعر کا قول میں نے پڑھا ہے کہ اس سے سوال ہوا کہ پنجابی شاعری اچھی ہے یا کہ اردو اس نے جواب دیا کہ پنجابی شاعر بہت جلدی لوگوں میں مشہور ہو جاتا ہے۔ اس لئے پنجابی شاعری اچھی ہے

Conversation with Arif Yar Sohlavi Gujarati 1

سوال : مشاعرے کے بارے میں آپ کی رائے۔۔۔۔۔؟

جواب : مشاعرے میں اگر پارٹی بازی نہ ہو تو مشاعرے خوب است۔

میں نے اکثر مشاعروں میں دیکھا ہے ۔ کام کی بنیاد پر ایوارڈ نہیں دیئے جاتے بلکہ پارٹی اور دوستی کی بنیاد پر یا اثرورسوخ پر ایوارڈ ملتے ہیں۔ اس لئے میں بہت کم مشاعروں میں جاتا ہوں۔ اگر مشاعروں میں انصاف ہو تو یہ کام بہت عمدہ ہے۔

سوال : آپ گجرات میں ادبی کام کیسا پاتے ہیں۔۔۔۔۔؟

جواب : ضلع گجرات میں بڑے بڑے ادیب شاعر دانشور قابل لوگ رہتے ہیں۔ جو ادب کے فروغ میں دن رات کوشش کر رہے ہیں۔ ضلع گجرات ان چند ضلعوں میں سے ہے جو ہمیشہ ادب میں نمایاں رہا۔

سوال : جدید ادب کے حوالے سے آپ کی رائے۔۔۔۔۔؟

جواب : میں اس بارے میں کیا رائے دے سکتا ہوں۔ آج کل لوگوں نے شاعری کو کھیل تماشہ بنا دیا ہے۔ آپ کے اس سوال کے جواب میں میاں محمد بخش رحمۃ اللّٰہ علیہ کے دو شعر سناتا ہوں۔ آپ کی تسلی ہو جائے گی

ویکھو ویکھی بیت بناون شعروں خبر نہ پاون

ایس طرح تے صفتاں سٹھاں بہتے ڈوم بناون

سخن بھلا جو دردوں بھریا بن دردوں کجھ نائیں

نڑاں کماداں فرق رہو دا کیا کانے کیا کاہیں

maqbool zaki

مقبول ذکی مقبول

بھکر

مقبول ذکی مقبول

Next Post

چھٹی قومی ادب اطفال کانفرنس لاہور

اتوار جنوری 9 , 2022
اس سارے اہتمام اور انتظام کا سہرا مرزا محمد شعیب مرزا صاحب کے سر جاتا ہے۔مرزا صاحب بچوں کے بہت بڑے محسن ہیں یہ ایک فرد نہیں ادارہ ہیں۔
6th lit conf