دماغی نیورانز: کامیابی آپکی منتظر ہے
ہر جاندار کی زندگی اس کے جسم اور دماغ پر مشتمل ہوتی ہے۔ انسانی زندگی بھی انہی دو وجودوں کا مجموعہ ہے۔ لیکن انسان دیگر جانداروں میں اپنی جسمانی ساخت اور دماغی پیچیدگی کی وجہ سے منفرد "نوع” ہے، جس کی ساری طاقت اور ترقی کا راز براہِ راست اس کے "دماغی نیورانز” Brain Neurons کے اندر پوشیدہ ہے۔
ایک لمحہ کیلیئے سوچیں کہ جس چیز کو آپ روز نظر انداز کر دیتے ہیں، وہی چیز آپکو باقی مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے۔ آپ کا دماغ صرف 1.4 کلو کا ڈبہ نہیں، یہ پوری "کائنات” سے زیادہ قیمتی اور کارآمد چیز ہے۔
انسانی دماغ میں کم و بیش 86 ارب یعنی 86,000,000,000 نیورانز ہوتے ہیں۔ یہ تعداد فکس نہیں ہے۔ 2012ء میں ایک برازیلی نیورو سائنس دان سوزانا ہرکولانو Suzana Herculano-Houzel نے "آئسوٹروپک فریکشن” Isotropic Friction طریقے سے یہ تعداد معلوم کی تھی۔ اس سے پہلے دماغی سیلز کی تعداد "100 ارب” سے مشہور تھی، مگر اصل گنتی 86 ارب نکلی۔ مرد اور عورت کے درمیان تعداد کا یہ فرق بہت معمولی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اتنے سارے نیورانز گنے کیسے گئے؟ آئسوٹروپک فریکشن دماغ کے نیورانز گننے کا سائنسی طریقہ ہے۔ آسان لفظوں میں اسے "دماغی جوس فارمولہ” بھی کہتے ہیں، جس میں دماغ کا جوس بنا کر نیورانز گنے جاتے ہیں۔ پہلے سائنسدان مائیکروسکوپ سے دماغ کے باریک ٹکڑے کاٹ کر نیورانز گنتے تھے۔ اس میں مسئلہ یہ تھا کہ اول ڈیڑھ کلو دماغ کے کتنے ٹکڑے کرو گے؟ پھر اس میں 50 فیصد تک غلطیوں کی گنجائش تھی۔
یہ طریقہ سنہ 2005ء میں برازیلی ڈاکٹر سوزانا نے ایجاد کیا۔ آئسوٹراپک، کا مطلب ہر طرف برابر ہونا ہے۔ اس عمل میں پورے دماغ یا اس کے حصے کو لے کر ڈٹرجنٹ اور انزائم میں ڈال دیا جاتا ہے۔ دماغی سیلز کی جھلی ٹوٹ جاتی ہے جس کے بعد "نیوکلیس” Nucleus یعنی صرف خلیے کا مرکزہ بچتا ہے۔ اب پورے دماغ کا ایک "سوپ” بن جاتا ہے جس میں لاکھوں نیوکلیس تیر رہے ہوتے ہیں۔ اس سوپ میں ایک خاص رنگ یعنی ڈائی ڈالی جاتی ہے جو صرف نیورانز کے نیوکلیس کو پکڑتی ہے۔ پھر ایک اور ڈائی ڈالی جاتی ہے جو سارے خلیوں کے نیوکلیس کو رنگ دیتی ہے۔ اب نیوران والے نیوکلیس ایک رنگ کے، اور باقی سیلز والے دوسرے رنگ کے ہو جاتے ہیں۔
اگلے مرحلے میں اس سوپ سے تھوڑا سا نمونہ لے کر "نیوباور چیمبر” میں ڈالا جاتا ہے، اور "مائیکروسکوپ” کے نیچے رنگین نیوکلیس کے سیلز گن لیئے جاتے ہیں۔ اس نمونے کے سیلز کو گننے کا بھی ایک خاص فارمولہ ہے جس میں نمونے کے حجم اور پورے سوپ کے حجم کو ضرب تقسیم کیا جاتا ہے جس سے دماغی نیورانز کی اصل تعداد معلوم ہو جاتی ہے۔ چونکہ سوپ کے "آئسوٹراپک” ہر طرف برابر ہوتے ہیں، اس لیئے تھوڑے سے نمونے سے پورے دماغ کی ایکوریٹ گنتی نکل آتی ہے۔ پرانے طریقے سے نیورانز گننے میں 6 ماہ تک لگتے تھے، اس سے 2 ہفتوں میں پورے دماغ کے نیورونز گن لیئے جاتے ہیں۔ اس میں غلطی کی گنجائش 5 فیصد سے بھی کم ہے۔ اسی طریقے سے پتہ چلا ہے کہ انسان کے دماغ میں "100 ارب” نہیں، بلکہ لگ بھگ "86 ارب” نیورانز ہوتے ہیں۔ یہ طریقہ اتنا درست ہے کہ اب پرندوں، چوہوں، ہاتھی اور ڈولفن وغیرہ کے دماغی نیورانز بھی اسی طریقے سے گنے جا رہے ہیں۔
انسانی دماغ میں نیورانز کے علاوہ تقریباً اتنے ہی "گلائل سیلز” Glial Cells بھی ہوتے ہیں، جنہیں نیورانز کو سہارا دینے والے سیلز بھی کہتے ہیں، جس سے دماغی سیلز کی کل تعداد 172 ارب کے لگ بھگ بن جاتی ہے۔ دماغی سائنس دان بتاتے ہیں کہ صرف دماغ کے چھوٹے سے حصے "سیریبلم” Cerebellum میں 69 ارب نیورانز ہوتے ہیں جو توازن، چلنے اور عادات وغیرہ کو سنبھالتے ہیں، جبکہ 16 ارب نیورانز "سیریبرل کارٹیکس” Cerebral Cortex میں ہوتے ہیں جو سوچنے، بولنے اور یاداشت وغیرہ کو سنبھالتے ہیں۔
انسانی دماغ کی طاقت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ہر نیوران دوسرے 1,000 سے 10,000 نیورانز سے جُڑا ہوتا ہے۔ اسے "سائناپس” Synapse کہتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ دماغ کے کل کنکشنز تقریباً 100 کھرب سے 1,000 کھرب تک ہوتے ہیں۔ یہ انسانی دماغ کے اتنے زیادہ کنکشنز ہیں جتنے ہماری کہکشاں میں ستارے ہیں۔ اور یہ سب آپ کے سر کے 1.4 کلو کے وزنی ڈبے میں بند ہیں، جس کا سارا کنٹرول صرف آپکے ہاتھ میں ہے۔
نیورو سائنس دانوں کا دعویٰ ہے کہ انسانی دماغ کے یہ نیورانز جو دنیا اور ہر لمحے کائنات سے رابطے یا تعاملات Connections بناتے ہیں، وہ اتنے زیادہ ہیں کہ ان کی تعداد کائنات کے تمام ستاروں اور سیاروں میں موجود "ایٹمز” Atoms سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
اس میں سبق آموز موٹیویشن یہ ہے کہ انسانی دماغ قدرت کی انتہائی پیچیدہ "ہستی” Being ہے، جس کے صرف 86 ارب نیورانز اور 100 کھرب کنکشنز کو دیکھا جائے تو ایک عام انسان بھی حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ نئے دماغی نیورانز پیدا بھی ہوتے ہیں اور مرتے بھی ہیں۔ اس عمل کو "نیوروجینیسس” کہتے ہیں۔ یعنی سیکھنے، پڑھنے، نئی مہارت اپنانے سے آپکے دماغ میں نئے نیورانز اور ان کے نئے راستے بنتے ہیں، جس سے آپکے ترقی کرنے کے چانسز اور بڑھ جاتے ہیں۔
ہماری تمام ترین سرگرمیاں اور کامیابیاں انہی نیورانز کی مرہونِ منت ہیں۔ جسے آج آپ "ناممکن” چیز سمجھ رہے ہیں، وہ کل آپکے نیورانز کے نئے کنکشنز کی بدولت "ممکن” بن جائے گی۔ کچھ نیورانز ایسے بھی ہیں جو بیدار ہو جائیں تو ممکن ہے کہ آپ بغیر کسی مادی وسیلے کے اپنی سوچ کی طاقت ہی سے اپنی تقدیر بدل لیں۔
یاد رکھیں، آپکے دماغ میں کامیاب ہونے کی 86 ارب وجوہات ہیں۔ آپ کمزور نہیں ہیں، آپ صرف اپنے دماغ کو استعمال کرنا سیکھیں۔ ہر بار جب آپ کتاب کھولتے ہیں، کوئی نئی چیز سیکھتے ہیں، کوئی مشکل حل کرتے ہیں، کسی مسئلے پر غور کرتے ہیں، آپ اصل میں اپنے دماغ میں 1000 نئے "سائناپس” بنا رہے ہوتے ہو۔ آپ کبھی ناکام ہوں یا تھکاوٹ محسوس کریں، تو اپنے 86 ارب نیورانز کو یاد کریں اور مسکرا کر کہنا سیکھیں: "ابھی تو شروعات ہے۔” مایوس نہ ہوں۔ سوچیں۔ دوبارہ کوشش کریں۔ کامیابی آپکی منتظر ہے۔ انشاءاللہ تعالی !

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔