29اپریل کی تاریخی حیثیت

29اپریل کی تاریخی حیثیت
سعدیہ وحید
(معاون مدیرہ : شعوروادراک خان پور)

٭… تاریخی واقعات :
29 اپریل1639 ء– شاہ جہاں نے لال قلعہ بنوانا شروع کیا۔
29 اپریل1661ء – چین کی منگ سلطنت نے تائیوان پر قبضہ کر لیا۔
29 اپریل1672ء – ولندیزی جنگ کے دوران فرانس نے نیدرلینڈز پر حملہ کر دیا۔
29 اپریل1945ء – دوسری جنگ ِعظیم کے دوران اطالیہ میں ڈوئچ فوج نے ہتھیار ڈال دیے۔
29 اپریل1991ء -بنگلہ دیش میں طوفان سے ایک لاکھ اُنتالیس ہزار افراد ہلاک ہوئے جبکہ ایک کروڑسے زائد بے گھر ہوئے۔
29 اپریل1986ء -امریکا کے شہر لاس اینجلس کی سینٹرل لائبریری میں آتشزدگی سے آٹھ لاکھ کتابیں جل کر خاکستر ہوئیں۔
29 اپریل1970ء- امریکی اور جنوبی ویتنامی فوجوں نے کمبوڈیا پر حملہ کیا۔
29 اپریل1945ء- ہٹلر نے اپنی دیرینہ ساتھی ایوا براؤن سے شادی کی۔یہ شادی ایک دن ہی چل سکی۔30 اپریل 1945 کو ایوا براؤن نے خودکشی کر لی تھی۔
29 اپریل1856ء -برطانیہ اور روس میں امن معاہدہ طے ہوا۔
29 اپریل1672ء -فرانس نے ہالینڈ پر حملہ کیا۔
29اپریل1984ء – پاکستان کے محکمہ ڈاک نے عوامی جمہوریہ چین کے لیے پی آئی اے کی پروازوں کے افتتاح کی بیسویں سال گرہ کے موقع پر تین روپے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پر ایک ہوائی جہاز کی تصویر بنی تھی اور20 YEARS OF PIA’S CHINA SERVICE اور 1964 اور 1984کے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن عادل صلاح الدین نے بنایا تھا۔
٭… ولادت:
29 اپریل1901ء – ہیروہیٹو، نیہون، جاپان کا شہنشاہ
29 اپریل1925ء – ایوو تاکاموٹو، امریکی کارٹونسٹ
29 اپریل 1941ء -اُردو اور ہندکو کے ممتاز مزاح گو شاعر اور ادیب نیاز سواتی کی تاریخ پیدائش ہے۔ نیاز سواتی کا اصل نام نیاز محمد خان تھا اور وہ بھوگڑ منگ ضلع مانسہرہ میں پیدا ہوئے تھے۔نیاز سواتی نے ڈگری کالج ایبٹ آباد سے بی اے اور لا کالج پشاور سے ایل ایل بی کیا جبکہ ایبٹ آباد میں بطور سینئر پاپولیشن پلاننگ آفیسر کام کرتے رہے۔ آپ اُردو اور ہند کو زبان میں طنزیہ و مزاحیہ شاعری بھی کرتے ر ہے۔ نیاز سواتی کی شاعری مختلف اخبارات ورَسائل اور عام مشاعروں کے ذریعے عوام تک پہنچی۔ اس شاعری میں انہوں نے سماجی برائیوں اور زندگی کے حقائق پر خوب نشتر زنی کی ہے۔

niaz sawati


نیاز سواتی کی نظموں میں طنز و مزاح کی کئی جہتیں بیک وقت عمل پذیر ہوتی ہیں اور وہ گہری سوچ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ وہ ہزارہ کے مشاعروں کے روحِ رواں سمجھے جاتے تھے۔ اُن کی طنز یہ و مزاحیہ شاعری عشق و محبت، صنفِ نازک اور اس کے متعلقات پر مبنی ہے جب کہ سیاسی لیڈروں اور سیاسی رجحانات پر بھی تسلسل کے ساتھ طبع آزمائی کر چکے ہیں۔نیاز سواتی کے مجموعہ کلام’’ کلیاتِ نیازاور بے باکیاں‘‘ شامل ہیں ۔
نیاز سواتی نے13 اگست 1995ء کو ہری پور ہزارہ میں ایک المناک ٹریفک حادثے میں وفات پائی۔ بھوگڑ منگ ضلع مانسہرہ میں مدفون ہیں۔
٭… وفیات:
29 اپریل1980 ء- الفرڈ ہچکاک، برطانوی نژاد امریکی فلمی ہدایتکار
29 اپریل 2011ء- اے حمید (اردو کے مشہور ناول نگار و افسانہ نگار) بمقام لاہور
29 اپریل 1976ء -پاکستان فلمی دنیا کے مشہور اور مزاحیہ اداکار منور ظریف دل کا دورہ پڑنے سے لاہور میں انتقال کر گئے۔پاکستان کے نامور مزاحیہ اداکار منور ظریف 2 فروری 1940ء کو لاہور کے گنجان آباد علاقے قلعہ گجر سنگھ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے بڑے بھائی ظریف اپنے زمانے کے معروف مزاحیہ اداکار تھے۔ مگر وہ نہایت کم عمری (صرف 34 سال کی عمر) میں 30 اکتوبر 1960ء کو وفات پاگئے تھے۔ ظریف کے انتقال کے بعد منور ظریف نے فلمی دنیا کا رخ کیا۔ بطور مزاحیہ اداکار انہیں سب سے پہلے فلم’’ اونچے محل‘‘ میں کاسٹ کیا گیا مگر’’ اونچے محل‘‘ سے پہلے 14 جون 1961ء کو منور ظریف کی ایک اور فلم ’’ڈنڈیاں‘‘ ریلیز ہوگئی اور یوں ڈنڈیاں منور ظریف کی پہلی فلم قرار پائی۔ منور ظریف ایک بہت باصلاحیت اداکار تھے۔ انہوں نے اپنی بے ساختہ اداکاری کی وجہ سے بہت جلد فلمی دنیا میں اپنا مقام بنالیا دیکھتے ہی دیکھتے وہ اُردو اور پنجابی فلموں کی ضرورت بن گئے جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اپنے 15 سالہ فلمی کیریئر میں انہوں نے 321 فلموں میں کام کیا۔ یعنی اوسطاً ہر سال ان کی21 فلمیں ریلیز ہوئیں۔ منور ظریف کی پہلی سپر ہٹ فلم ’’ہتھ جوڑی‘‘ تھی جو 4 دسمبر 1964ء کو ریلیز ہوئی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے پلٹ کر نہیں دیکھا اور اپنی ہر فلم میں اپنی جگتوں اور بے ساختہ فقروں سے لبریز اداکاری کی وجہ سے پنجابی فلموں کے سب سے بڑے مزاحیہ اداکار کے طور پر تسلیم کئے جانے لگے۔ رفتہ رفتہ ان کی شخصیت کو سامنے رکھ کر فلمیں لکھی جانے لگیں۔’’ بنارسی ٹھگ، جیرا بلیڈ، رنگیلا اور منور ظریف، نوکر ووہٹی دا، خوشیاں، شیدا پسٹل، چکر باز، میراناں پاٹے خاں، حکم دا غلام، نمک حرام،بندے دا پتر اور آج دامہینوال‘‘ ان کی ایسی ہی لاتعداد فلموں میں سے چند کے نام ہیں۔ ان کی آخری فلم’’ لہودے رشتے‘‘ تھی جو 1980ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ منور ظریف نے رنگیلا کے ساتھ بھی متعدد فلموں میں کام کیا۔ ان دونوں اداکاروں کے بے ساختہ فقرے اور جگتیں، فلم بینوں کے ذہن میں آج بھی محفوظ ہیں۔ منور ظریف نے 1971ء میں فلم عشق دیوانہ میں پہلی مرتبہ خصوصی نگار ایوارڈ حاصل کیا۔ اس کے بعد انہیں فلم ’’بہارو پھول برسائو اور زینت‘‘ میں بہترین مزاحیہ اداکار کے نگار ایوارڈ ملے۔ 29 اپریل 1976ء کو منور ظریف دنیا سے رخصت ہوئے۔ لاہور میں بی بی پاک دامناں کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
٭٭٭

سعدیہ وحید

Next Post

مرکز اسلام جامعہ حقانیہ کا 22واں سالانہ جلسہ تقسیم اسناد

جمعہ اپریل 29 , 2022
ہماری بقاء مدارس دینیہ کی وجہ سے ہے ، ان سے تعلق استوار رکھیں، علامہ سعید قادری
مرکز اسلام جامعہ حقانیہ کا 22واں سالانہ جلسہ تقسیم اسناد