پنجاب کا لاوارث ضلع اٹک

تحریر ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
پنجاب کا قدیم ضلع اٹک جس میں معدنیات تیل و گیس کے ذخائر موجود ہیں ضلع کے کئی علاقوں میں آئل فیلڈ کام کر رہے ہیں اس کے علاؤہ ایرونا ئیٹیکل کمپلیکس کامرہ کینٹ پاکستان آرڈینس فیکٹری سنجوال پاک فوج کا آرٹلری سنٹر آزاد کشمیر رجمنٹل سنٹر غازی بروتھہ پاور ہاؤس ریلوے نظام بھی اسی ضلع میں واقع ہیں جس کے لیئے اس ضلع کے باسیوں نے اپنی قیمتی زرعی زمینوں کی قربانیاں دی ہیں اور اپنے ذریعہ معاش زراعت کو ختم کر کے ملک و قوم کی خاطر اپنے یہ رقبہ جات پیش کیے ہیں اصولی و قانونی طور پر تو جس علاقہ میں ایسے پراجیکٹ شروع کیے جاتے ہیں وہاں کے افراد کو ملازمت کے مواقع بھی مہیا کیے جاتے ہیں جس کی مثالیں دنیا بھر میں موجود ہیں ان پراجیکٹ والے علاقوں میں مقامی افراد کے لیئے ترجیع بنیادوں پر نوکریوں میں کوٹہ مختص کیا جاتا ھے مگر بد قسمتی سے ضلع اٹک کے باسیوں کو ضلع میں قائم پراجیکٹ میں ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا اورغیر مقامی افراد کو مقامی باشندوں کے لیئے مختص آسامیوں پر روزگار کی سہولیات دی گئی جو سرا سرا نا انصافی اور ظلم ھے ضلع اٹک میں قد اور سیاسی شخصیات موجود ہیں جو ہر دور میں ایوان اقتدار میں براجمان رہتی ہیں اور پارلیمان میں ہمیشہ یہ نمائندگان کافی اثرورسوخ کے حامل رہے ہیں کچھ اراکین حکومتی بینچوں پر تو کچھ اپوزیشن میں موجود ھونے کے باوجود کسی نے ھی اس مسلہ پر کوئی زور دار آواز بلند نہیں کی اور ضلع کے پڑھے لکھے افراد کو مقامی اداروں میں بھرتی کے لیئے نظر انداز کیے جانے کا عمل آج بھی جاری ھے حالیہ دنوں میں بروتھہ پاور ہاؤس کے افسران نے گزشتہ کئی سالوں سے کنٹریکٹ پر کام کرنے والے درجہ۔چہارم کے 36 ملازمین کو یک جنبش قلم نوکریوں سے نکال کر اخبار میں مقامی افراد کے لیئے بھرتی کا اشتہار شائع کرنے کے باوجود غیر مقامی افراد کو بھرتی کے لیٹر جاری کر دئیے اور ضلع اٹک کے ڈومیسائل رکھنے والے افراد کی درخوستیں ردی کی ٹوکری کی نظر کر دی گئ اس سے قبل محکمہ ریلوے میں بھی ڈی ایس پشاور کی طرف سے گینگ مین کی بھرتی کے لیئے ضلع اٹک کے کوٹہ پر مقامی افراد سے انٹرویو لینے کے باوجود ایسے افراد کو تعینات کر دیا جن کا تعلق ضلع اٹک تو درکنار صوبہ پنجاب سے بھی نہ تھا اور یہ افراد بھرتی کے لیئے انٹرویو میں بھی شامل نہیں تھے اسی طرح دیگر اھم بڑے وفاقی اداروں میں جو ضلع اٹک میں کام کر رہے ہیں چور دروازے سے اور ظاہری طور پر بھی بھرتیوں کا عمل جاری رہتا ھے اور مقامی افراد کو کانوں کان خبر نہیں ھوتی مقامی افراد کو نظر انداز کر کے افسران دوسرے صوبوں کے افراد کو ان آسامیوں پر بھرتی کر دیتے ہیں جن میں سے اکثر ان کے عزیز و اقارب یا ان تک رسائی والے ھوتے ہیں ضلع اٹک کے سیاستدان ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف ہیں ان کو ضلع بھر میں بڑھتی ھوئی بیروزگاری کے سیلاب کہ شاید اندازہ بھی نہیں کہ ہماری نوجوان نسل ڈگریاں ہاتھوں میں اٹھائے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ھے میری اٹک کے سیاستدانوں سے اپیل ھے کہ ضلع اٹک میں قائم اداروں میں مقامی افراد کے لیئے بھرتی کے مختص کوٹہ کو سامنے لائیں اس کوٹہ میں اضافہ کروائیں تمام آسامیوں کو واضع طور پر مشتہر کروا کر ان پر نظر رکھیں تاکہ ان مخصوص شدہ آسامیوں پر صرف مقامی افراد بھرتی ھوں اور ان اداروں سے رائلٹی لینے کے لیئے بھی آواز بلند کریں کیونکہ ضلع کے باسیوں نے اپنی قیمتی اراضی کی قربانیاں دے کر ان اداروں کی بنیاد رکھی ھے ان پر ضلع باسیوں کا حق ھے مقامی افراد کے لیئے مختص بھرتی کے کوٹہ پر کسی کو ڈاکہ نہ ڈالنے دیں چور دروازے سے بھرتیوں کے عمل کے آگے رکاوٹ بنیں اسے ہمیشہ کے لیئے بند کروائیں ضلع اٹک کے عوام کا یہ حق ھے اور ساڈا۔حق اتھے۔رکھ کا نعرہ بلند کریں عوام ان کے ساتھ ہیں

Nuskha

پنجاب کا لاوارث ضلع اٹک

Cover Photo By Musab Umair

ڈاکٹر شجاع اختر اعوان

Next Post

اور اب 2023 کی کہانی

اتوار جنوری 1 , 2023
برصغیر پاک و ہند میں اسے انڈسٹری کا درجہ دیا جاسکتا ہے کیونکہ یہاں اگر کالی بلی راستہ کاٹ جائے یعنی آگے سے گزر جائے تو گھر واپس آجاتے ہیں ۔
اور اب 2023 کی کہانی

مزید دلچسپ تحریریں