بڑی ذمہ داری
از: مہرو سید
اگلے دن علی وقت سے پہلے ہی آفس پہنچ گیا۔ دل میں گھبراہٹ تھی۔
چچا نے اسے کمرے میں بلایا اور بولے: "علی بیٹا! تم نے چند دن میں ہماری آن لائن دوکان سنبھال لی۔ آرڈر آنے لگے ہیں۔”
علی نے کہا: "چچا یہ سب آپ کے یقین کی وجہ سے ہے۔”
چچا نے لمبی سانس لی: "بیٹا مسئلہ یہ ہے کہ میرا بیٹا دبئی میں ہے۔ مجھے آن لائن کا کچھ نہیں آتا۔ دوکان نئی ہے اس لیے کسٹمر بھی نہیں ہیں۔ اب یہ ساری آن لائن مارکیٹنگ کی ذمہ داری میں تمہیں دیتا ہوں۔ شہر کے اندر ایڈ چلانا، ڈیلیوری والے لڑکوں سے بات کرنا، کسٹمرز کو میسج کرنا۔ سب تم کرو گے۔”
علی کی آنکھوں میں حوصلہ آیا۔ "چچا فکر نہ کریں۔ میں دن رات ایک کر دوں گا۔”
چچا مسکرائے: "اللہ کامیاب کرے۔ کام چل گیا تو تنخواہ بھی بڑھے گی۔”
اس رات علی نے ساری رات پلان بنایا۔ صبح ماں سے دعا لی اور لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھ گیا۔
اگلے کئی دن وہ گھر سے ہی کام کرتا رہا۔ فیس بک اور انسٹا پر ایڈ لگائے، کسٹمرز کو ریپلائی کیا، ڈیلیوری بوائے سے رابطہ رکھا۔ تھک جاتا تو ماں کی "اللہ کامیاب کرے” والی دعا یاد آ جاتی۔
ہفتے کے آخر میں پہلا بڑا آرڈر آیا۔ پھر دوسرا، پھر تیسرا۔
چچا نے موبائل پر سیل دیکھی تو خوشی سے بولے: "علی! تم نے کمال کر دیا۔ یہ لو 10 ہزار انعام۔”
علی نے پیسے پکڑے اور کہا "یا اللہ تیرا شکر ہے۔”
گھر آ کر جیسے ہی اس نے ماں کو پیسے دیے، موبائل پر ایک انجان نمبر سے میسج آیا…
"علی! تمہاری دوکان بند کروا دیں گے۔”
جاری ہے..
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔