محمد طاہر: سچ کا مسافر اور اٹک کی ادبی فضا کا امین
کچھ لوگ وقت کے ساتھ صرف عمر نہیں گزارتے، اپنے کردار پر زندگی کی داستان بھی رقم کرتے ہیں۔ ان کے چہروں پر مسکراہٹ ہوتی ہے، مگر دل میں زمانے کے کئی موسم دفن ہوتے ہیں؛ ان کی محفلیں قہقہوں سے آباد رہتی ہیں، مگر ان کی خاموشی میں دکھوں کی طویل مسافتیں سانس لیتی ہیں۔ ایسے لوگ رشتوں کو ضرورت نہیں، امانت سمجھتے ہیں؛ دوستی کو رسم نہیں، عہد جانتے ہیں؛ اور سچ کو سہولت نہیں، ایمانِ کردار بناتے ہیں۔ محمد طاہر اسی قبیل کے انسان ہیں۔ درویش منش طبیعت، بے باک گفتار، کشادہ دل اور یار باش مزاج کے حامل محمد طاہر نے زندگی کی خوشیوں کے ساتھ ایسے صدمے بھی سہے جن کا بوجھ انسان کے اندر بہت کچھ بدل دیتا ہے، مگر ان کے ہاں محفل کی رونق، دوستوں سے محبت اور سچ پر قائم رہنے کا حوصلہ آج بھی زندہ ہے۔ اٹک کی ادبی فضا میں ان کی پہچان محض ایک صاحبِ ذوق شخص کی نہیں، بلکہ ایسے انسان کی ہے جس نے رفاقت کو اپنا اثاثہ، لفظ کو اپنا وسیلہ اور سچائی کو اپنی شناخت بنا رکھا ہے۔
محمد طاہر 7 اپریل 1963ء کو تھٹہ، تحصیل جنڈ، ضلع اٹک میں پیدا ہوئے۔ ہائی اسکول بسال سے میٹرک کیا۔ طالب علمی ہی سے تقریر، نظامت اور اظہارِ خیال کا شوق تھا۔ اسکول کی ادبی انجمن کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے ان کے اندر ادبی ذوق نے نمو پائی اور لفظوں سے تعلق مضبوط ہوا۔ میٹرک کے بعد گورنمنٹ بوائز کالج جنڈ میں داخلہ لیا، جہاں طلبہ یونین قائم کی اور اس کے صدر منتخب ہوئے۔ یہ کامیابی ان کی تنظیمی صلاحیت اور ساتھیوں میں مقبولیت کا مظہر تھی۔
چھوٹے بھائیوں کی تعلیم کے سلسلے میں اٹک شہر منتقل ہونے کے بعد ان کی سماجی سرگرمیوں کو وسعت ملی۔ وہ تحریک منہاج القرآن اٹک یوتھ لیگ کے صدر رہے اور تحریک منہاج القرآن کا پہلا دفتر قائم کرنے میں بھی کردار ادا کیا۔ ملازمت کے دوران مسلم کمرشل بینک (ایم سی بی) سے وابستہ رہے، تاہم روزگار کی مصروفیات ان کے ادبی ذوق کو کبھی پس منظر میں نہ دھکیل سکیں۔
شعر و ادب سے ان کی دلچسپی نے انہیں ادبی بیٹھکوں کے انعقاد کی طرف مائل کیا۔ ان کی شخصیت کا خاص وصف یہ ہے کہ وہ جہاں رہیں، دوستوں اور اہلِ ذوق کو جمع کرکے محفل آباد کر لیتے ہیں۔ گزشتہ تقریباً پانچ برس سے ریلوے اسٹیشن پر رات کے وقت سجنے والی نشستوں سے لے کر اب بیوٹیشن ایریا میں ہونے والی محفلوں تک، وہ اس روایت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان مجالس میں شعر و سخن، بے تکلف گفتگو اور رفاقت کی فضا قائم رہتی ہے۔ اٹک کی ادبی زندگی میں ان کا کردار اسی محفل آرائی اور اہلِ ذوق کو یکجا رکھنے کی کوشش سے نمایاں ہے۔ ان کے لیے ادبی بیٹھک محض وقت گزاری نہیں، بلکہ دلوں کو قریب لانے اور لفظوں کی شمع روشن رکھنے کا وسیلہ ہے۔
چاند سا چہرہ، سرخ و سفید رنگت اور بے تکلف انداز ان کی ظاہری شناخت ہیں، مگر ان کی اصل پہچان باطن کی کشادگی ہے۔ سخاوت، یار باشی اور صاف گوئی ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف ہیں۔ انہیں جھوٹ، بزدلی اور منافقت سے سخت نفرت ہے۔ وہ سچ بولنے کو زندگی کا اصول سمجھتے ہیں، خواہ اس کی قیمت ناراضی یا نقصان کی صورت میں ادا کرنا پڑے۔ ان کے نزدیک مصلحت کے نام پر حق چھپانے سے بہتر ہے کہ انسان اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہے۔ ان کی بے باکی کبھی گفتگو میں تلخی پیدا کر سکتی ہے، لیکن اس کے پس منظر میں سچ سے وابستگی اور منافقت سے بیزاری کارفرما ہے۔
تصوف اور درویشی سے لگاؤ بھی ان کے مزاج کا اہم حصہ ہے۔ وہ درویشی کو ظاہری وضع قطع کے بجائے باطن کی صفائی، انا سے بے نیازی اور اخلاص کی کیفیت سمجھتے ہیں۔ عشقِ رسول ﷺ ان کے قلبی احساسات کا مرکز ہے اور ان کی روحانی وابستگی کو معنویت عطا کرتا ہے۔ ان کے نزدیک محبت کا اصل اظہار دعووں سے زیادہ کردار، وفا اور عمل میں ہوتا ہے۔
خاندانی زندگی میں وہ اپنے دونوں بیٹوں، محمد علی طاہر اور عمر علی طاہر، سے والد ہونے کے ساتھ دوستوں جیسا تعلق رکھتے ہیں۔ محمد علی طاہر ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنگ فرم میں ایگزیکٹو اور ٹیکس کنسلٹنٹ ہیں، جبکہ عمر علی طاہر الیکٹریکل انجینئرنگ کے فارغ التحصیل ہیں۔ دونوں کے ساتھ ان کا رشتہ شفقت، بے تکلفی اور باہمی اعتماد پر قائم ہے۔ وہ اولاد کے ساتھ محبت کو محض والدانہ ذمہ داری نہیں، بلکہ دوستی اور رفاقت کی صورت میں بھی نبھاتے ہیں۔
اپنے محسنوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ اپنے ماموں سسر بابو منظور کو خصوصی احترام سے یاد کرتے ہیں۔ انہیں اپنا سرپرست، رہنما اور محسن مانتے ہیں اور اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ زندگی میں آج وہ جس مقام پر ہیں، اس میں ان کے ماموں سسر بابو منظور کی سرپرستی، تربیت اور رہنمائی کا بنیادی حصہ ہے۔ اپنے محسن کے احسانات کو یاد رکھنا ان کی احسان شناسی کا ثبوت ہے۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو زندگی کے سفر میں ملنے والی رہنمائی کو بھولتے نہیں، بلکہ اسے اپنی شخصیت کی تعمیر کا اہم حوالہ سمجھتے ہیں۔
ان کی زندگی کا ایک نہایت دردناک باب 10 دسمبر 1994ء کا سانحہ ہے، جب ایک خاندانی حادثے میں ان کی والدہ، اہلیہ، ساس، سالا اور سالے کی بیٹی انتقال کر گئے۔ ایک ہی واقعے میں کئی عزیز رشتوں کا بچھڑ جانا ایسا صدمہ تھا جسے الفاظ میں سمیٹنا ممکن نہیں۔ بعض غم بیان سے ماورا ہوتے ہیں؛ وہ انسان کے باطن میں خاموشی سے جگہ بنا لیتے ہیں اور عمر بھر اس کی یادوں کا حصہ رہتے ہیں۔ محمد طاہر کی زندگی کا یہ سانحہ ان کے سفر کا ایک ایسا باب ہے جسے بیان کرتے ہوئے بھی دل پر اداسی اتر آتی ہے۔
ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو دیکھا جائے تو ایک ایسا شخص سامنے آتا ہے جس نے تعلیم، سماجی سرگرمیوں، ملازمت، روحانی رجحان اور ادبی وابستگی کے درمیان اپنی الگ شناخت قائم کی۔ ان کی طبیعت میں محفل کی کشش ہے اور تعلق نبھانے کا سلیقہ؛ ان کے مزاج میں بے باکی ہے اور دل میں محبت کی گنجائش۔ وہ ادب کو محض کتابوں میں محفوظ لفظ نہیں سمجھتے، بلکہ اسے زندہ انسانوں کے درمیان مکالمے، احساس اور رفاقت کی صورت میں دیکھتے ہیں۔
محمد طاہر کی اصل پہچان کسی ایک منصب یا کامیابی میں محدود نہیں۔ ان کی زندگی کا حاصل ان کی صاف گوئی، درویشانہ طبیعت، اپنے بچوں سے محبت، محسنوں سے وفاداری اور اہلِ ادب سے مسلسل وابستگی میں جھلکتا ہے۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی اہمیت محفل کے اختتام کے ساتھ ختم نہیں ہوتی، کیونکہ ان کی اپنائیت دلوں میں باقی رہتی ہے۔ اٹک کی ادبی فضا میں ان کا مقام اسی لیے اہم ہے کہ وہ دوستوں کو جوڑتے، شعر و سخن کی روایت کو زندہ رکھتے اور اپنی موجودگی سے ادبی ماحول میں گرم جوشی پیدا کرتے ہیں۔
زندگی کی اصل کامیابی شاید یہی ہے کہ انسان اپنے حصے کے دکھ سہنے کے باوجود محبت سے دست بردار نہ ہو، اپنے اصولوں پر قائم رہے اور دوسروں کے لیے آسانی، اپنائیت اور رفاقت کا سبب بنے۔ محمد طاہر نے سچ کو اپنا اصول، دوستی کو اپنی متاع اور ادب کو اپنی زندگی کا مستقل حوالہ بنایا ہے۔ یہی اوصاف انہیں محض ایک فرد نہیں، بلکہ اٹک کی ادبی زندگی کا ایک زندہ حوالہ بناتے ہیں۔
محمد طاہر کا ارادہ ہے کہ وہ ’’اے طاہر لاہوتی‘‘ کے نام سے اپنی زندگی کے واقعات اور شاعری پر مشتمل کتاب شائع کریں، تاکہ ان کے تجربات، احساسات، یادیں اور شعری اظہار کتابی صورت میں محفوظ ہو سکیں۔ یہ کتاب ان کی زندگی کے نشیب و فراز، رفاقتوں، صدمات، روحانی رجحانات اور ادبی سفر کی عکاس ہوگی۔ امید ہے کہ ان کی یہ کاوش قارئین کو ایک ایسی شخصیت سے متعارف کرائے گی جس نے زندگی کے دکھوں کے باوجود محبت، دوستی اور سچائی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔

صحافی، کالم نگار، مصنف
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔