ہربل نیوٹراسیوٹیکل ادویات: پاکستان میں صحت و تندرستی کے نئے امکانات
تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
پاکستان میں قدرتی وسائل سے صحت کے فوائد حاصل کرنے کی روایت صدیوں پرانی ہے، مگر آج جدید سائنسی تحقیق نے ہربل ادویات اور نیوٹراسیوٹیکل مصنوعات کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ جڑی بوٹیوں، وٹامنز، منرلز اور دیگر غذائی اجزا پر مشتمل یہ مصنوعات صحت و تندرستی کے حوالے سے عوامی دلچسپی کا اہم موضوع بن چکی ہیں۔ پاکستان قدرتی نباتاتی وسائل، روایتی طبی علم اور زرعی صلاحیت سے مالا مال ہے۔ اگر ان وسائل کو جدید تحقیق، معیاری پیداوار اور مؤثر نگرانی کے ساتھ مربوط کیا جائے تو یہ شعبہ نہ صرف عوامی صحت میں معاون ثابت ہو سکتا ہے بلکہ ملکی صنعت، روزگار اور معیشت کے لیے بھی نئی راہیں ہموار کر سکتا ہے۔
ہربل مصنوعات عموماً پودوں، جڑی بوٹیوں، بیجوں، جڑوں اور دیگر نباتاتی اجزا سے تیار کی جاتی ہیں، جبکہ نیوٹراسیوٹیکل مصنوعات میں وٹامنز، منرلز، پروبائیوٹکس اور ایسے غذائی اجزا شامل ہوتے ہیں جو جسم کی ضروریات پوری کرنے اور عمومی صحت برقرار رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ ان مصنوعات کی اہمیت اس وقت بڑھ جاتی ہے جب انہیں درست ضرورت، مناسب مقدار اور قابلِ اعتماد سائنسی معلومات کی بنیاد پر استعمال کیا جائے۔ قدرتی اجزا میں موجود بعض مرکبات پر ہونے والی تحقیق صحت کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے اور مستقبل میں نئی مصنوعات تیار کرنے کے امکانات پیدا کر رہی ہے۔
پاکستان میں غیر متوازن خوراک اور بعض وٹامنز و منرلز کی کمی صحت عامہ کے اہم مسائل میں شامل ہیں۔ آئرن، وٹامن ڈی، وٹامن بی 12 اور کیلشیم جیسے غذائی اجزا جسم کے معمول کے افعال کے لیے ضروری ہیں۔ ان کی کمی کی صورت میں مناسب غذائی منصوبہ بندی اور مستند طبی مشورے کے تحت سپلیمنٹس مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ خواتین، بچوں، بزرگوں اور مخصوص بیماریوں میں مبتلا افراد کی غذائی ضروریات مختلف ہوتی ہیں، اس لیے مصنوعات کا انتخاب انفرادی ضرورت کے مطابق ہونا چاہیے۔ متوازن غذا کے ساتھ مناسب غذائی سپلیمنٹس بعض افراد کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں معاون کردار ادا کر سکتے ہیں۔
نظامِ ہاضمہ اور جسمانی صحت کے حوالے سے بھی نیوٹراسیوٹیکل مصنوعات پر توجہ بڑھ رہی ہے۔ مثال کے طور پر، بعض پروبائیوٹکس آنتوں کی صحت کے لیے مفید ہو سکتے ہیں، جبکہ مخصوص وٹامنز اور منرلز کی کمی دور کرنے سے جسمانی افعال برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ پھلوں، سبزیوں اور دیگر غذاؤں میں پائے جانے والے اینٹی آکسیڈنٹس صحت مند خوراک کا اہم حصہ ہیں۔ تاہم کسی ایک مصنوع کو تمام بیماریوں کا علاج سمجھنے کے بجائے اسے مجموعی صحت مند طرزِ زندگی کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، مناسب نیند اور صاف پانی اچھی صحت کی بنیادی ضرورتیں ہیں۔
پاکستان میں ہربل مصنوعات کی مقبولیت کا ایک اہم سبب طبِ یونانی اور روایتی علاج سے عوام کی دیرینہ وابستگی ہے۔ مقامی جڑی بوٹیوں اور نباتاتی اجزا کے استعمال کا علم نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے۔ اس علمی ورثے کو محفوظ رکھنا اور اس سے استفادہ کرنا اہم ہے، لیکن جدید دور میں اسے سائنسی تحقیق کے ساتھ مربوط کرنا بھی ضروری ہے۔ جڑی بوٹیوں کی درست شناخت، ان کے فعال اجزا کی جانچ اور ان کے فوائد کے قابلِ اعتماد شواہد حاصل کرنے سے ایسی مصنوعات کی تیاری ممکن ہو سکتی ہے جو معیار اور افادیت کے اعتبار سے بہتر ہوں۔
پاکستان کے مختلف علاقوں میں پائی جانے والی نباتاتی اقسام اور زرعی وسائل اس شعبے کی ترقی کے لیے اہم بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ جامعات، تحقیقی اداروں، طبی ماہرین، فارماسیوٹیکل کمپنیوں اور زرعی شعبے کے درمیان تعاون کے ذریعے مقامی نباتات پر تحقیق، جدید طریقۂ تیاری اور معیاری مصنوعات کی تیاری کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اس سے مقامی خام مال کی قدر میں اضافہ، نئی ملازمتوں کے مواقع اور برآمدات کی راہیں بھی کھل سکتی ہیں۔ اگر تحقیق اور صنعت کے درمیان مضبوط روابط قائم کیے جائیں تو پاکستان اپنی قدرتی دولت کو بہتر انداز میں استعمال کرتے ہوئے عالمی منڈی میں بھی جگہ بنا سکتا ہے۔
اس مقصد کے لیے معیار اور مؤثر ضابطہ بندی کو بنیادی اہمیت دینا ہوگی۔ خام جڑی بوٹیوں کی درست شناخت، آلودگی اور ملاوٹ سے پاک اجزا، مقررہ مقدار، صاف ستھرے طریقۂ تیاری، مناسب پیکجنگ اور مصنوعات کی قابلِ اعتماد جانچ صارفین کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ متعلقہ اداروں، بالخصوص ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP)، کے قابلِ اطلاق ضوابط کے مطابق مصنوعات کی تیاری، رجسٹریشن یا اندراج اور تشہیر کے تقاضوں پر عمل درآمد اس شعبے پر عوامی اعتماد بڑھا سکتا ہے۔ معیاری پیداوار اور شفاف معلومات نہ صرف صارفین کے مفاد میں ہیں بلکہ پاکستانی مصنوعات کی ساکھ بہتر بنانے کے لیے بھی ضروری ہیں۔
عوامی آگاہی بھی اس شعبے کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ صارفین کو چاہیے کہ وہ مصنوعات خریدتے وقت اجزا، خوراک، میعادِ استعمال اور تیار کرنے والے ادارے کی معلومات پر توجہ دیں۔ اگر کوئی فرد پہلے سے ادویات استعمال کر رہا ہو، حاملہ ہو، بچے کو دودھ پلا رہا ہو یا کسی دائمی بیماری میں مبتلا ہو تو ہربل یا نیوٹراسیوٹیکل مصنوعات استعمال کرنے سے پہلے مستند ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مشورہ کرنا چاہیے۔ قدرتی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مصنوع ہر شخص کے لیے موزوں ہے؛ درست انتخاب اور ذمہ دارانہ استعمال ہی اس کے ممکنہ فوائد سے بہتر طور پر مستفید ہونے کا ذریعہ ہیں۔
میڈیا، تعلیمی اداروں اور طبی ماہرین کو بھی چاہیے کہ وہ صحت سے متعلق درست اور سائنسی معلومات عام کریں۔ نیوٹراسیوٹیکل مصنوعات متوازن خوراک کا متبادل نہیں اور نہ ہی انہیں ضروری طبی علاج کی جگہ استعمال کرنا چاہیے۔ جب عوام کو مصنوعات کے حقیقی فوائد، درست استعمال اور معیار کے بارے میں واضح معلومات ملیں گی تو غیر مصدقہ دعووں کے بجائے شواہد پر مبنی انتخاب کو فروغ ملے گا۔
پاکستان کے لیے ہربل اور نیوٹراسیوٹیکل شعبہ محض ایک تجارتی امکان نہیں بلکہ قدرتی وسائل، روایتی علم اور جدید سائنس کو یکجا کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔ اگر تحقیق کو فروغ دیا جائے، معیار پر سمجھوتہ نہ کیا جائے، مقامی صنعت کو جدید سہولتیں فراہم کی جائیں اور عوام کو درست رہنمائی ملے تو پاکستان اس شعبے میں نمایاں پیش رفت کر سکتا ہے۔ اصل کامیابی صرف مصنوعات کی پیداوار بڑھانے میں نہیں، بلکہ ایسی معیاری اور قابلِ اعتماد مصنوعات تیار کرنے میں ہے جو انسانی صحت کے لیے حقیقی افادیت رکھتی ہوں۔ قدرتی دولت کو علم، تحقیق اور ذمہ داری کے ساتھ بروئے کار لا کر پاکستان صحت مند معاشرے کی تشکیل اور قومی معیشت کی مضبوطی، دونوں اہداف کی جانب بامعنی قدم بڑھا سکتا ہے۔

صحافی، کالم نگار، مصنف
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔