ملک محمد نواز اعوان ایڈووکیٹ : علم، صحافت اور خدمتِ خلق کا روشن حوالہ
تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
زندگی کی طویل مسافت میں بعض شخصیات ایسی ملتی ہیں جو اپنے علم، کردار، عاجزی اور خدمت کے نقوش دلوں پر ثبت کر جاتی ہیں۔ وقت گزر جاتا ہے، محفلیں بکھر جاتی ہیں، مگر ایسے لوگ اپنی باتوں، اپنے عمل اور اپنی یادوں کے ذریعے زندہ رہتے ہیں۔ ملک محمد نواز اعوان ایڈووکیٹ بھی ایسی ہی شخصیت تھے۔ ان کی زندگی قانون، صحافت، تاریخ و ادب اور خدمتِ خلق سے عبارت تھی۔ مجھے ان کی قربت میں وقت گزارنے، ان سے رہنمائی لینے اور بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ آج ماضی کی طرف نگاہ کرتا ہوں تو ان کی شخصیت کے مختلف پہلو ایک مربوط داستان کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔
ملک محمد نواز اعوان کا تعلق ضلع اٹک کی تحصیل اٹک کے گاؤں بولیانوال کے ایک معزز اعوان خاندان سے تھا۔ ان کے دادا فضل داد خان تقسیمِ ہند سے قبل انعام دار اور لمبردار تھے، جب کہ ان کے والد ملک اکرم خان قانونگو ہونے کے ساتھ لمبرداری کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔ خاندانی روایت اور سماجی ذمہ داری کے اسی ماحول میں ان کی شخصیت پروان چڑھی۔ وہ خود بھی موضع بولیانوال کے لمبردار رہے اور اپنے علاقے کے لوگوں سے گہرا تعلق رکھتے تھے۔
انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور محکمۂ مال سے وابستہ ہو گئے۔ سرکاری ملازمت کے دوران اٹک، چکوال اور راولپنڈی میں خدمات انجام دیں اور ایچ وی سی ریونیو کے طور پر بھی فرائض سرانجام دیتے رہے۔ اس تجربے نے انہیں دیہی زندگی، زمینوں کے معاملات اور عام لوگوں کی مشکلات کو قریب سے سمجھنے کا موقع دیا۔ ملازمت سے سبک دوش ہونے کے بعد بھی ان کی عملی زندگی کا سفر جاری رہا۔ 1992ء میں پنجاب بار کونسل کی رکنیت حاصل کرکے انہوں نے قانون کے شعبے سے اپنا تعلق برقرار رکھا۔
صحافت ان کی شخصیت کا ایک نمایاں حوالہ تھی۔ وہ روزنامہ خبریں، روزنامہ گرفت، ہفت روزہ صدائے جمہور اور اسلام آباد سے شائع ہونے والے ہفت روزہ نکھار سمیت مختلف اخبارات و جرائد سے وابستہ رہے۔ ان کے نزدیک صحافت محض خبر کی اشاعت نہیں، بلکہ معاشرے کی ترجمانی اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کی ذمہ داری تھی۔ وہ صحافی کی اصل قدر اس کے ادارے کے نام کے بجائے اس کے کردار، دیانت اور صلاحیت میں دیکھتے تھے۔ اسی سوچ کو وہ ایک مختصر مگر جامع جملے میں بیان کرتے تھے:
’’اخبار بڑا نہیں ہوتا، صحافی بڑا ہوتا ہے۔‘‘
یہ جملہ ان کے صحافتی نظریے کا نچوڑ تھا، جس کی معنویت مجھے ان کے ساتھ پیش آنے والے ایک واقعے سے عملی طور پر سمجھنے کا موقع ملا۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نے صحافت کے میدان میں ابھی قدم رکھا تھا۔ میرا ایک ہم جماعت اور دوست آزاد کشمیر میں ملازمت کرتا تھا۔ طویل عرصے بعد چھٹی پر گھر آیا تو رات کے وقت گاڑی سے اترتے ہی پولیس اہلکاروں نے اسے روک لیا۔ تلاشی کے بہانے اس کی جیب سے پانچ ہزار روپے نکال لیے گئے اور اس کی کلائی سے قیمتی گھڑی بھی اتار لی گئی۔ اگلے روز جب مجھے اس واقعے کا علم ہوا تو دوست کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر رنجیدہ ہو کر اسے لے کر تھانے کی طرف چل پڑا۔
راستے میں ملک محمد نواز اعوان صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ ہم نے انہیں واقعہ بتایا تو وہ ہمارے ساتھ تھانے چل پڑے۔ ایس ایچ او کے دفتر میں بیٹھے ہوئے میری نظر اچانک اس کی کلائی پر پڑی۔ وہی گھڑی اس کے ہاتھ میں تھی جو میرے دوست سے چھینی گئی تھی۔ میں نے دوست کی طرف دیکھا اور اس نے بھی میری نگاہ کا جواب نگاہ سے دیا۔ دونوں سمجھ گئے کہ گھڑی وہی ہے۔
ملک صاحب نے نہ شور مچایا، نہ الزام لگایا اور نہ تلخ کلامی کی۔ انہوں نے بڑے اطمینان سے ایس ایچ او کی گھڑی کی تعریف کی اور اسے دکھانے کی فرمائش کی۔ ایس ایچ او نے گھڑی اتار کر ان کے حوالے کر دی۔ ملک صاحب نے گھڑی دیکھی اور پھر میرے دوست کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا:
’’پہن لو، یہ تم پر اچھی لگتی ہے۔‘‘
گھڑی واپس ملنے کے بعد ایس ایچ او نے چائے وغیرہ کا پوچھا تو ملک صاحب نے شائستگی سے کہا کہ اب دوسرا کام بھی مکمل کر دیجیے تاکہ ہم یہاں سے جا سکیں۔ کچھ ہی دیر بعد ایس ایچ او نے اپنی جیب سے پانچ ہزار روپے نکال کر میرے دوست کو واپس کر دیے۔ یوں بغیر کسی جھگڑے یا باقاعدہ الزام کے معاملہ حل ہو گیا۔ ملک صاحب نے نہ کسی کی تذلیل کی، نہ اپنی حیثیت کا رعب جمایا؛ ان کی معاملہ فہمی اور وقار ہی کافی ثابت ہوا۔
اس واقعے نے مجھے ان کے قول کی گہرائی سمجھا دی۔ صحافت کی اصل طاقت صرف اخبار کے نام یا قلم کی نوک میں نہیں، بلکہ اس اعتبار میں ہوتی ہے جو صحافی اپنے کردار اور طرزِ عمل سے کماتا ہے۔ اس روز میں نے دیکھا کہ ایک باوقار شخصیت کس طرح جذبات کے بجائے حکمت سے کام لے کر مسئلے کا حل نکال سکتی ہے۔
ملک محمد نواز اعوان کی یہی معاملہ فہمی اور عوام سے وابستگی ان کی سماجی خدمات میں بھی جھلکتی تھی۔ وہ مسجدوں اور درباروں کی خدمت میں حصہ لیتے، جب کہ سرکاری اداروں کے قیام کے لیے زمین کی نشاندہی اور فراہمی جیسے معاملات میں بھی تعاون کرتے رہے۔ بیواؤں، ناداروں اور ضرورت مندوں کی مدد دامے، درمے، سخنے کرتے؛ کہیں مالی تعاون سے، کہیں عملی مدد سے اور کہیں حوصلہ افزا گفتگو کے ذریعے کسی پریشان حال شخص کا سہارا بن جاتے۔ ان کے نزدیک خدمتِ خلق محض بڑے دعووں کا نام نہیں، بلکہ دوسروں کے دکھ کو محسوس کرکے اپنی استطاعت کے مطابق ان کے کام آنے کا جذبہ تھا۔
دیہی معاشرے کے مسائل سے ان کی وابستگی کا ایک اہم اظہار 1995ء میں سامنے آیا، جب انہوں نے پنجاب لمبردار ایسوسی ایشن، ضلع اٹک کی بنیاد رکھی اور بلا مقابلہ جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔ لمبرداروں کی اجتماعی نمائندگی اور ان کے مسائل کے حوالے سے یہ ایک اہم قدم تھا۔ وہ اپنے منصب اور تجربے کو ذاتی شناخت تک محدود رکھنے کے بجائے اجتماعی بہتری کے لیے استعمال کرنے کے قائل تھے۔
علم و تحقیق کے میدان میں ان کی سب سے نمایاں شناخت ان کی تصنیف ’’تاریخ سرزمین اٹک‘‘ تھی، جسے عام طور پر ’’سرزمین اٹک‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اس کتاب سے متعدد محققین اور اہلِ قلم نے استفادہ کیا۔ یہ تصنیف اپنی دھرتی کی تاریخ، شناخت اور تہذیبی ورثے کو محفوظ کرنے کی ان کی کوشش کا اہم ثبوت تھی۔ ان کی علمی و ادبی تصانیف میں تاریخ اسلام آباد، تذکرہ بزرگانِ چشتیہ، سفر کلیئر، بھٹو بھی پرستار تھا، پھول اور کانٹے، دین اور دنیا اور اٹک کے اعوان کے نام بھی شامل تھے ان کی دلچسپی تاریخ تک محدود نہیں تھی۔ وہ نعت گو شاعر تھے اور پنجابی شاعری سے بھی خاص لگاؤ رکھتے تھے۔ ان کی شخصیت میں محقق کی سنجیدگی، صحافی کی بیداری اور شاعر کی حساسیت یکجا تھیں۔ ان کے بعض مسودے، جن میں ’’گلدان‘‘ اور ’’گندھارا کے چالاک‘‘ شامل تھے، اشاعت کی منزل تک نہ پہنچ سکے، تاہم ان کے علمی و ادبی کام ان کی مطالعے سے محبت اور اپنے عہد کو قلم بند کرنے کی لگن کی گواہی دیتے ہیں۔
ان تمام حوالوں کے باوجود ان کی شخصیت کا سب سے دل نشیں وصف ان کی عاجزی اور درویش منشی تھا۔ علم، تجربے اور سماجی مرتبے کے باوجود ان کے مزاج میں خود نمائی نہیں تھی۔ وہ لوگوں کی بات توجہ سے سنتے، گفتگو میں شائستگی ملحوظ رکھتے اور معاملات کو حکمت سے سلجھانے کی کوشش کرتے تھے۔ مجھے ان کی صحبت میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ ان کی رہنمائی اور تجربات نے میرے ابتدائی صحافتی سفر میں اہم کردار ادا کیا، اور ان سے وابستہ یادیں آج بھی میرے لیے قیمتی سرمایہ ہیں۔
ملک محمد نواز اعوان ایڈووکیٹ کی زندگی کے مختلف پہلو دراصل ایک ہی مقصد سے جڑے ہوئے تھے: علم کو عام کرنا، معاشرے کو سمجھنا اور اپنے لوگوں کے لیے مفید ثابت ہونا۔ محکمۂ مال کے تجربے، قانون سے وابستگی، صحافتی سرگرمیوں، تاریخی تصانیف اور سماجی خدمات کے باوجود ان کی پہچان ان کی سادگی اور انسان دوستی رہی۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو اپنے عہدے سے نہیں، اپنے کردار سے پہچانے جاتے ہیں۔
آج وہ ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی تحریریں، ان کا قول، ان کی خدمت اور ان سے وابستہ واقعات یاد دلاتے ہیں کہ انسان کی اصل بڑائی شہرت یا منصب میں نہیں، بلکہ اس علم میں ہے جو وہ دوسروں تک پہنچاتا ہے، اس خدمت میں ہے جو وہ خلقِ خدا کے لیے انجام دیتا ہے اور اس کردار میں ہے جو اس کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے۔ ملک محمد نواز اعوان ایڈووکیٹ کی یاد میرے لیے ایک بزرگ نما رہنما کی صحبت، زندگی کے قیمتی سبق اور علم و خدمت سے جڑی ایک روشن روایت کی یاد ہے۔

صحافی، کالم نگار، مصنف
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔