ٹریفک حادثات: ناقص قوانین بدلنے کی ضرورت
تحریر: شجاع اختر اعوان
ٹریفک حادثات میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہمارے معاشرے کا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ روزانہ ہونے والے حادثات کئی خاندانوں کی خوشیاں اجاڑ دیتے ہیں۔ کہیں والدین اپنے بچوں سے محروم ہو جاتے ہیں تو کہیں بچے یتیمی کا دکھ سہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بعض افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جبکہ کئی لوگ شدید زخمی ہو کر مستقل معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ان حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کے بجائے اکثر واقعات کو معمول کی خبر سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ٹریفک حادثات کی بڑی وجوہات میں تیز رفتاری، غفلت، لاپرواہی، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور ڈرائیونگ کے دوران غیر ذمہ دارانہ رویہ شامل ہیں۔ بڑی گاڑیوں کے ڈرائیور ہوں، پبلک ٹرانسپورٹ چلانے والے ہوں یا موٹر سائیکل سوار، قانون کی پابندی سب پر لازم ہے۔ لیکن جب ڈرائیوروں کے اندر قانون اور سزا کا خوف ختم ہو جائے تو سڑکیں حادثات کی آماج گاہ بن جاتی ہیں۔
اکثر حادثات کے بعد یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ ’’گاڑی کے نیچے آ کر کوئی مر بھی جائے تو قانون کچھ نہیں کر سکتا۔‘‘ یہ سوچ ہمارے قانونی نظام اور معاشرتی رویوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ قانون کا مقصد کسی بے گناہ کو سزا دینا نہیں، بلکہ جرم کے مرتکب شخص کو شواہد اور قانونی تقاضوں کے مطابق جواب دہ بنانا ہے۔ اگر کوئی ڈرائیور غفلت، تیز رفتاری یا قوانین کی خلاف ورزی کے نتیجے میں کسی کی جان لے لیتا ہے تو اس واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور ذمہ داری کا تعین ہونا چاہیے، جبکہ قصور ثابت ہونے پر قانون کے مطابق سزا دی جانی چاہیے۔
اس ضمن میں پولیس اور عدلیہ کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ٹریفک حادثات کے مقدمات میں غیر ضروری تاخیر متاثرین کے لیے انصاف کا حصول مشکل بنا دیتی ہے۔ کئی خاندان اپنے پیاروں کو کھونے کے بعد برسوں عدالتوں کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے ٹریفک حادثات کے مقدمات جلد نمٹانے کی غرض سے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں، جہاں ایسے مقدمات کی ترجیحی بنیادوں پر سماعت ہو اور شواہد کی روشنی میں بروقت فیصلے کیے جائیں۔ اس سے متاثرین کو انصاف کی فراہمی میں مدد ملے گی اور ڈرائیوروں میں قانون کی پابندی کا احساس بھی مضبوط ہوگا۔ تاہم ہر مقدمے میں منصفانہ سماعت اور قانونی تقاضوں کی تکمیل یقینی بنانا ضروری ہے۔
شہری علاقوں میں حادثات کی ایک اہم وجہ بڑی گاڑیوں کی غیر ضروری آمدورفت بھی ہے۔ تعمیراتی مٹیریل فراہم کرنے والے ٹرک، ڈمپرز، ٹرالیاں اور دیگر بھاری گاڑیاں جب دن کے مصروف اوقات میں شہر کی سڑکوں پر آتی ہیں تو ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے اور حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ان گاڑیوں کی جسامت اور محدود نقل و حرکت کے باعث موٹر سائیکل سواروں، پیدل چلنے والوں، طلبہ اور چھوٹی گاڑیوں میں سفر کرنے والوں کو خاص طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
لہٰذا شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے دن کے اوقات میں شہروں کے اندر بڑی گاڑیوں، ڈمپرز، مٹیریل سپلائی کرنے والے ٹرکوں اور ٹرالیوں کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ سامان کی ترسیل کے لیے رات کے اوقات مقرر کیے جائیں اور بھاری گاڑیوں کو شہر سے باہر مخصوص متبادل راستے فراہم کیے جائیں۔ اس پابندی پر مؤثر عمل درآمد کرایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ اس کے ساتھ خطرناک مقامات کی نشاندہی، سڑکوں کی بہتری اور ٹریفک کی مؤثر نگرانی پر بھی توجہ دی جائے۔
حادثات میں زخمی ہونے والے افراد کی مشکلات بھی کسی المیے سے کم نہیں۔ ایسے واقعات میں ہڈیاں ٹوٹنے، پٹھوں اور جسم کے اہم اعضا کو نقصان پہنچنے کے باعث بعض افراد طویل عرصے تک بستر تک محدود رہتے ہیں، جبکہ کچھ مستقل معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ علاج، آپریشن، ادویات اور بحالی کے اخراجات متاثرہ خاندانوں کو معاشی مشکلات میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ اگر زخمی ہونے والا شخص خاندان کا واحد کفیل ہو تو پورا گھر مالی بحران کا شکار ہو جاتا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ حادثات کے متاثرین کے لیے مؤثر امدادی نظام قائم کرے، جس کے تحت ضرورت مند زخمیوں کو بروقت طبی سہولت، علاج معالجے کے اخراجات میں معاونت اور بحالی کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ ہنگامی طبی امداد کے نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ حادثے کے بعد زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال پہنچایا جا سکے۔ ڈرائیوروں کی پیشہ ورانہ تربیت، ڈرائیونگ لائسنس کی تصدیق، گاڑیوں کی فٹنس اور رفتار کی نگرانی بھی یقینی بنائی جائے۔ موٹر سائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ کے استعمال اور شہریوں میں ٹریفک قوانین سے متعلق آگاہی کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔
یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہیے کہ محض سخت قوانین بنا دینا کافی نہیں، ان پر بلاامتیاز عمل درآمد بھی ناگزیر ہے۔ ٹریفک پولیس اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرے، متعلقہ ادارے خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں اور شہری بھی قانون کی پابندی کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔ سڑک پر چند منٹ بچانے کے لیے اپنی یا کسی دوسرے انسان کی زندگی خطرے میں ڈالنا کسی صورت دانش مندی نہیں۔
حکومت سے مطالبہ ہے کہ ٹریفک قوانین میں موجود خامیوں کو دور کرکے انہیں مؤثر بنایا جائے، سنگین خلاف ورزیوں پر جرم کی نوعیت کے مطابق سزاؤں کو یقینی بنایا جائے، حادثات کے مقدمات کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں اور شہری علاقوں میں دن کے وقت بھاری گاڑیوں کے داخلے پر پابندی نافذ کی جائے۔ اس کے ساتھ متاثرین کے علاج اور بحالی کے لیے حکومتی معاونت کا نظام قائم کیا جائے، ڈرائیوروں کی تربیت بہتر بنائی جائے اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کی باقاعدہ نگرانی کی جائے۔
ان اقدامات کی کامیابی کے لیے متعلقہ اداروں کی ذمہ داریاں واضح کرنا اور ان کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لینا بھی ضروری ہے، تاکہ فیصلے صرف اعلانات تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کے عملی نتائج سامنے آئیں۔
یاد رکھیے، انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ایک حادثہ صرف ایک فرد کو متاثر نہیں کرتا بلکہ پورے خاندان کی زندگی بدل دیتا ہے۔ کسی ماں کی گود اجڑ جاتی ہے، کسی بچے کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ جاتا ہے اور کوئی خاندان اپنے واحد کفیل سے محروم ہو جاتا ہے۔ ان سانحات کو قسمت کا لکھا سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جب ان کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات ممکن ہوں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت عملی اقدامات کرے، قانون کی بالادستی یقینی بنائے اور انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دے۔ محفوظ سڑکیں، فوری انصاف اور حادثات کے متاثرین کی کفالت ایک ذمہ دار معاشرے کی بنیادی ضرورت ہیں۔

صحافی، کالم نگار، مصنف
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔