تنظیم کسی کی جاگیر نہیں، ایک اجتماعی امانت ہے!
تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
کسی بھی تنظیم کی بنیاد چند افراد کے نام یا عہدوں پر نہیں، بلکہ مشترکہ مقصد، باہمی اعتماد اور اجتماعی جدوجہد پر قائم ہوتی ہے۔ تنظیم ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں مختلف سوچ رکھنے والے لوگ ایک مقصد کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں، اپنی صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہیں اور مل کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر افسوس کہ آج کل بعض تنظیموں میں ایسے رویے دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں چند ذمہ داران تنظیم کو اجتماعی امانت سمجھنے کے بجائے اپنی ذاتی ملکیت تصور کرنے لگتے ہیں۔
ہر تنظیم میں دو چار ایسے عناصر ضرور موجود ہوتے ہیں جو عہدہ ملتے ہی خود کو مختارِ کل سمجھنے لگتے ہیں۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ فیصلے کرنے کا حق صرف انہی کو حاصل ہے، باقی ساتھیوں کی رائے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی۔ وہ اپنے سامنے دوسروں کو کم تر سمجھنے لگتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ عہدہ کسی کی برتری کا اعلان نہیں، بلکہ خدمت کی ایک ذمہ داری ہے۔ انسان کی اصل پہچان اس کے منصب سے نہیں، بلکہ اس کے اخلاق، ظرف اور دوسروں کو عزت دینے کے انداز سے ہوتی ہے۔
یہی سوچ اس وقت مزید تکلیف دہ ہو جاتی ہے جب تنظیم کی اجتماعی محنت کو چند افراد کی ذاتی تشہیر کا ذریعہ بنا لیا جائے۔ تنظیم کا نام سب کا، جدوجہد سب کی، قربانیاں سب کی، مگر جب کامیابی کا ذکر ہو تو چند چہرے ہی نمایاں دکھائی دیں۔ گویا تنظیم کی ساری سرگرمیاں اور تمام کامیابیاں صرف انہی کی کوششوں کا نتیجہ ہوں۔ حالانکہ کسی بھی ادارے کی ترقی میں بہت سے ایسے لوگ شامل ہوتے ہیں جو خاموشی سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں اور صلے یا شہرت کی خواہش کے بغیر تنظیم کے لیے کام کرتے رہتے ہیں۔
اسی سلسلے میں شعبۂ اطلاعات و نشریات کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ شعبہ کسی تنظیم کی آواز اور اس کی سرگرمیوں کا آئینہ ہوتا ہے۔ اس کی ذمہ داری صرف تصاویر بنانا یا خبریں جاری کرنا نہیں، بلکہ تنظیم کی کارکردگی کو درست، متوازن اور باوقار انداز میں لوگوں تک پہنچانا بھی ہے۔ جب تنظیم کے پلیٹ فارم سے کسی افسر، سربراہِ ادارہ یا کسی دوسری تنظیم کے ذمہ داران سے ملاقات ہوتی ہے تو اس ملاقات کے مقاصد، اہم نکات اور نتائج کو محفوظ کرنا اور مناسب انداز میں پیش کرنا بھی اسی ذمہ داری کا حصہ ہے۔
ایسے مواقع پر متعلقہ عہدیدار کو اعتماد میں لینا اور حسبِ ضرورت اس کی شرکت یقینی بنانا ایک اچھے تنظیمی نظام کی علامت ہے۔ اگر کسی وجہ سے اس کی شرکت ممکن نہ ہو تو اسے ملاقات کی مستند تفصیلات فراہم کرنا بھی ضروری ہے، تاکہ خبر حقائق کے مطابق جاری ہو اور تنظیم کی سرگرمیوں کا درست ریکارڈ محفوظ رہے۔ لیکن جب معلومات چند افراد تک محدود کر دی جائیں، متعلقہ شعبے کو مسلسل نظرانداز کیا جائے اور تنظیمی سرگرمیوں کو ذاتی تشہیر تک سمیٹ دیا جائے تو یہ طرزِ عمل نہ صرف باہمی اعتماد کو کمزور کرتا ہے بلکہ اجتماعی نظم و ضبط پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔
یہاں یہ بات سمجھ ضروری ہے کہ ہر ملاقات میں ہر عہدیدار کی موجودگی لازم نہیں ہوتی، لیکن کسی شعبے کی ذمہ داریوں کو تسلیم کرنا اور اس کے عہدیدار کو مناسب اہمیت دینا ضروری ہے۔ تنظیم کسی ایک شخص کی خواہشات کے مطابق نہیں، بلکہ باہمی مشاورت، طے شدہ اصولوں اور مشترکہ ذمہ داریوں کے تحت چلتی ہے۔ اختلافِ رائے کو کمزوری سمجھنے کے بجائے اسے بہتری کا ذریعہ بنانا چاہیے، کیونکہ ہر بات پر اتفاق ضروری نہیں، مگر ایک دوسرے کی رائے کا احترام ضروری ہے۔
حقیقی قیادت وہ نہیں جو ہر تصویر میں خود نمایاں ہو، بلکہ وہ ہے جو اپنے ساتھیوں کو بھی آگے بڑھنے کا موقع دے۔ اچھا قائد اپنے ساتھ کام کرنے والوں کو کمتر نہیں سمجھتا، ان کی صلاحیتوں کو پہچانتا ہے اور کامیابی کا سہرا پوری ٹیم کے سر باندھتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو دبانے سے وقتی خاموشی تو حاصل کی جا سکتی ہے، مگر دلوں میں جگہ احترام، انصاف اور اچھے کردار سے بنتی ہے۔
یاد رکھیے، تنظیمیں شخصیات کے رعب سے نہیں، اصولوں کی مضبوطی سے چلتی ہیں۔ عہدے عارضی ہوتے ہیں، مگر انسان کا کردار اور اس کے رویے دیر تک یاد رکھے جاتے ہیں۔ جو لوگ دوسروں کو کم عقل سمجھ کر خود کو عقلِ کل تصور کرتے ہیں، وہ اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ کسی ایک فرد کے پاس تمام صلاحیتیں نہیں ہوتیں۔ اجتماعی دانش، باہمی مشورہ اور ایک دوسرے پر اعتماد ہی کسی تنظیم کو مضبوط بناتے ہیں۔
تنظیم کسی کی جاگیر نہیں، ایک اجتماعی امانت ہے؛ عہدہ بادشاہت نہیں، خدمت کا وسیلہ ہے؛ اور تشہیر کسی فرد کی ذات کے لیے نہیں، پوری تنظیم کی جدوجہد کو اجاگر کرنے کے لیے ہونی چاہیے۔
آخر میں یہی عرض ہے کہ اگر ہم واقعی اپنی تنظیموں کو مضبوط، باوقار اور کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ذاتی پسند و ناپسند سے بلند ہو کر اجتماعی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔ ساتھیوں کو عزت دینا، ان کی ذمہ داریوں کو تسلیم کرنا اور انہیں اعتماد میں لینا کمزوری نہیں، بلکہ ایک اچھی قیادت کی پہچان ہے۔
کیونکہ تنہا انسان عہدہ تو سنبھال سکتا ہے، مگر مضبوط تنظیم تعمیر نہیں کر سکتا۔ تنظیمیں تب آگے بڑھتی ہیں جب چند لوگ سب پر حاوی ہونے کے بجائے سب کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ یہی اجتماعی سوچ، یہی باہمی احترام اور یہی احساسِ ذمہ داری کسی بھی تنظیم کی اصل طاقت ہے۔
Title Image by Gerd Altmann from Pixabay


صحافی، کالم نگار، مصنف
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔