خطیب دوردادوی کی غزل ’’عیب گوئیاں‘‘
— طنز و مزاح میں لپٹی معاشرتی حقیقت
شاعر: خطیب دوردادوی (مرحوم )
تبصرہ نگار: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
کلام: عیب گوئیاں
ہمارے دشمنوں سے ہماری عیب گوئیاں
لیکن پھر بھی کم ہیں یہ ساری عیب گوئیاں
وہ بولے کیوں نہیں ہیں، وہ آئے کیوں نہیں ہیں
تمھاری عیب گوئیاں، یہ پیاری عیب گوئیاں
وہ کب باز آنے والے ہیں، وہ کب شرمانے والے ہیں
جو شادی کا مزہ دیں کنواری عیب گوئیاں
ہمارا اک مدعا ہے، اس میں کچھ نفع ہے
غزل کے قافلے میں بے چاری عیب گوئیاں
یہ چرچا ہو رہا ہے، خطیب اک آدمی ہے
ہمیں کب راس آئی ہیں ہماری عیب گوئیاں
تبصرہ
خطیب دوردادوی کی غزل ’’عیب گوئیاں‘‘ معاشرتی زندگی کے ایک ایسے رویّے کی طنزیہ عکاسی ہے جو انسانی تعلقات میں تلخی، بدگمانی اور دوریوں کو جنم دیتا ہے۔ شاعر نے عیب جوئی کی عام روش کو طنز و مزاح کے پیرائے میں پیش کرتے ہوئے انسانی نفسیات کے اس پہلو کو نمایاں کیا ہے کہ انسان دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے میں اس قدر مصروف ہو جاتا ہے کہ اسے اپنی ذات کے احتساب کی فرصت ہی نہیں ملتی۔
غزل کا اسلوب سادہ، بے تکلف اور مکالماتی ہے۔ روزمرہ زبان، سوالیہ اندازِ بیان، لفظی مناسبت اور طنز کی لطیف چاشنی کلام میں دل چسپی پیدا کرتی ہے۔ شاعر نے عیب گوئی کو محض ایک شخصی عادت کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسے معاشرتی چلن کے طور پر پیش کیا ہے جو خوشیوں کی محفلوں میں بھی اپنا رنگ دکھاتا ہے۔ خصوصاً ’’تمھاری عیب گوئیاں، یہ پیاری عیب گوئیاں‘‘ میں لفظ ’’پیاری‘‘ کا طنزیہ استعمال ایک دل چسپ تضاد پیدا کرتا ہے، جب کہ آخری شعر میں شاعر کا اپنا نام لانا کلام کو شخصی رنگ عطا کرتا ہے۔ ان خوبیوں کے باعث غزل میں ظرافت کے ساتھ معاشرتی مشاہدے کی جھلک بھی نمایاں ہوتی ہے۔
فنی اعتبار سے غزل کی اصل قوت اس کا موضوع اور اس کی بے ساختہ طنزیہ فضا ہے۔ شاعر نے ایک عام معاشرتی عادت کو شعری موضوع بنا کر اس کی مضحکہ خیزی اور تلخی دونوں کو اجاگر کیا ہے۔ بعض مقامات پر زبان و بیان کی مزید تراش خراش اور خیال کی وضاحت سے کلام کی تاثیر میں اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم اس کی بنیادی دل چسپی اس کے موضوع، سادہ طرزِ اظہار اور طنزیہ انداز میں پوشیدہ ہے۔
مجموعی طور پر ’’عیب گوئیاں‘‘ ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ دوسروں کے عیوب بیان کرنا آسان، مگر اپنی خامیوں کو تسلیم کرنا مشکل ہے۔ معاشرے کی اصلاح محض تنقید سے نہیں، بلکہ خلوص، برداشت اور خود احتسابی سے ممکن ہوتی ہے۔ انسان اگر دوسروں کے عیب گنوانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنے کی عادت اپنا لے تو بہت سی رنجشیں خود بخود مٹ سکتی ہیں۔
یاد رکھنے کی بات یہی ہے کہ دوسروں کے عیب اچھالنے سے کوئی بڑا نہیں ہوتا؛ اصل بڑائی تو اپنے عیب پہچاننے اور خود کو بہتر بنانے میں ہے۔ کیونکہ جو شخص ہر چہرے پر عیب تلاش کرتا ہے، وہ اکثر اپنے ہی کردار کا آئینہ دیکھنا بھول جاتا ہے۔

صحافی، کالم نگار، مصنف
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔