سردار سلطان محمود بسملؔ کی شاعری میں حق گوئی، دردِ دل اور امیدِ سحر
انتخاب از کلیاتِ بسملؔ شاعر: سردار سلطان محمود خان بسملؔ
تبصرہ نگار: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
کلام بسمل
تسلیم مجھے اس کی ہر اک بات ہے لیکن
وہ میری ہر اک بات سے انکار کرے گا
جینا شبِ تاریک میں آسان تو نہیں ہے
کچھ اس کا مداوا دلِ بیمار کرے گا
اظہارِ حقیقت نہ ہوا آپ سے واعظ
یہ کام تو ہم سا کوئی مے خوار کرے گا
انجامِ الم مرا دیکھ کے پیارے
ہے کون جو آپ سے یوں پیار کرے گا
اک مردِ خدا مثلِ خلیل آئے گا بسملؔ
نمرود کی آتش کو جو گلزار کرے گا
تبصرہ
سردار سلطان محمود بسملؔ کے یہ اشعار انسانی نفسیات، معاشرتی رویّوں کے تضادات، حق گوئی کی دشواریوں اور محبت کے کرب کی خوب صورت ترجمانی کرتے ہیں۔ شاعر اپنے اس شعر میں انسانی تعلقات کی ایک تلخ حقیقت کو یوں آشکار کرتا ہے:
تسلیم مجھے اس کی ہر اک بات ہے
لیکن وہ میری ہر اک بات سے انکار کرے گا
یہاں ایک طرف وسعتِ قلبی اور رواداری کا جذبہ ہے، تو دوسری طرف انا، تعصب اور انکار کی وہ روش ہے جو مکالمے کے دروازے بند کر دیتی ہے۔ شاعر نے محض دو مصرعوں میں انسانی رویّوں کے اس تضاد کو نمایاں کیا ہے جہاں ایک شخص دوسرے کی بات تسلیم کرنے کو آمادہ ہوتا ہے، مگر اسے خود اپنی بات سننے اور ماننے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔ یہ کیفیت صرف انفرادی تعلقات تک محدود نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی مزاج میں بھی دکھائی دیتی ہے۔
اسی طرح شعر
’’جینا شبِ تاریک میں آسان تو نہیں ہے‘‘ میں بسملؔ زندگی کی دشواریوں، مایوسیوں اور کرب ناک حالات کا اعتراف کرتے ہیں۔ شبِ تاریک محرومیوں اور نامساعد حالات کی علامت ہے، جب کہ دلِ بیمار انسانی احساسات، داخلی اضطراب اور امید کے درمیان جاری کشمکش کی ترجمانی کرتا ہے۔ شاعر اس تاریکی کو حقیقت تسلیم کرتے ہوئے بھی اس کے مداوے کا امکان رد نہیں کرتا۔ یوں ان کے ہاں درد کے ساتھ امید اور مایوسی کے پہلو بہ پہلو عزمِ حیات کی کیفیت بھی موجود ہے۔
حق گوئی اور سماجی منافقت کے حوالے سے بسملؔ کا لہجہ مزید بے باک ہو جاتا ہے
اظہارِ حقیقت نہ ہوا آپ سے واعظ یہ کام تو ہم سا کوئی مے خوار کرے گا.اس شعر میں واعظ اور مے خوار کا تقابل خاص معنوی اہمیت رکھتا ہے۔ واعظ روایتی طور پر اخلاقی تعلیم اور نصیحت کا نمائندہ ہے، جب کہ مے خوار اردو شاعری کی علامتی روایت میں ایک ایسے کردار کے طور پر بھی سامنے آتا ہے جو معاشرتی تضادات پر بے باکی سے سوال اٹھاتا ہے۔ شاعر کا شکوہ ان لوگوں سے ہے جو صداقت کے علم بردار ہونے کے باوجود مصلحتوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ شخص، جسے معاشرہ کم تر نگاہ سے دیکھتا ہے، حقیقت بیان کرنے کی جرأت دکھا سکتا ہے۔ اس تقابل کے ذریعے بسملؔ نے قول و فعل کے تضاد اور ظاہری تقدس کے پردے میں چھپی منافقت کو بے نقاب کیا ہے۔ شعر کا اصل پیغام یہی ہے کہ سچائی کا تعلق محض دعوے یا منصب سے نہیں، بلکہ کردار کی صداقت اور اظہار کی بے باکی سے ہے
محبت کے باب میں شاعر کا لہجہ درد مندی، شکوے اور احساسِ محرومی سے لبریز دکھائی دیتا ہے:
انجامِ الم مرا دیکھ کے پیارے
ہے کون جو آپ سے یوں پیار کرے گا
ان مصرعوں میں ایک ایسے دل کی آواز سنائی دیتی ہے جو محبت کی شدت، وفا کی آزمائش اور محرومی کے کرب سے آشنا ہے۔ شاعر اپنے الم ناک انجام کو محبت کی گہرائی کے ثبوت کے طور پر پیش کرتا ہے اور محبوب کو احساس دلاتا ہے کہ ایسی بے لوث وابستگی اور ایثار ہر کسی کے حصے میں نہیں آتا۔ یہاں محبت محض جذباتی وابستگی نہیں بلکہ قربانی، برداشت اور وفا کا ایک کٹھن سفر بن جاتی ہے۔ سوالیہ انداز شعر کی تاثیر میں اضافہ کرتا ہے اور قاری کو اس حقیقت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ بعض رشتوں کی قدر کا احساس اکثر ان کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد ہوتا ہے۔
غزل کا اختتامی شعر امید، یقین اور روحانی قوت کا ایک دل نشیں استعارہ ہے:
اک مردِ خدا مثلِ خلیل آئے گا بسملؔ
نمرود کی آتش کو جو گلزار کرے گا
اس شعر میں حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ اور نمرود کی آتش کا حوالہ ایک گہرا تہذیبی اور روحانی تناظر پیدا کرتا ہے۔ نمرود ظلم، سرکشی اور جبر کی علامت ہے، جب کہ آتش آزمائشوں اور مصائب کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے مقابلے میں مردِ خدا ایمان، استقامت، حق شناسی اور اخلاقی قوت کا استعارہ بن کر ابھرتا ہے۔ شاعر ایک ایسی شخصیت کی آمد کا آرزو مند ہے جو ظلم و ستم کی آگ کو امن و سکون کے گلزار میں بدل دے۔ یہ تصور محض کسی نجات دہندہ کی آرزو نہیں، بلکہ اس یقین کی ترجمانی بھی کرتا ہے کہ حالات خواہ کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوں، حق پر ثابت قدمی اور خدا پر کامل بھروسا امید کے چراغ کو روشن رکھتا ہے۔
مجموعی طور پر سردار سلطان محمود بسملؔ کے یہ اشعار سادگیِ بیان، فکری گہرائی اور علامتی حسن کا امتزاج ہیں۔ ان کے کلام میں ذاتی کرب اجتماعی شعور سے ہم آہنگ ہو کر حق گوئی، انسانی وفا، اخلاقی جرأت اور امیدِ سحر کا پیغام دیتا ہے۔ کہیں وہ انسانی رویّوں کی ناہمواریوں پر شکوہ کرتے ہیں، کہیں مصلحت کے پردوں میں چھپی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں اور کہیں ظلمتِ حالات میں روشن مستقبل کی نوید سناتے ہیں۔ بسملؔ کے ان اشعار کی بنیادی روح یہی ہے کہ حق گوئی کی راہ دشوار سہی، محبت کا سفر کٹھن سہی اور حالات کی تاریکی گہری سہی، مگر صداقت، استقامت اور امید کی قوت انسان کو مایوسی کے حصار سے نکال کر روشنی کی سمت گامزن رکھتی ہے.

صحافی، کالم نگار، مصنف
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔