مشتاق عاجز کی نظم ’’کاں‘‘
شعری مجموعہ: پھلاہی
تبصرہ: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
نکے ہندیا میرے ہتھوں
کاں نے روٹی کھو لئی سی
ہنڑ تیں میرے چار چفیرے
کالیاں کانواں دا پرچھاواں
نھیرا پائی رکھدا اے
کاں کوئی ہتھوں روٹی کھوہن نوں
کاں کاں لائی رکھدا اے
اج وی جے روٹی ہتھ آوے
کالیاں کھباں لمبیاں چنجاں والے کاں آ جاندے نیں
اک برکی میں کھاناں واں تے باقی کاں کھا جاندے نیں
اودوں میری ماں جیوندی سی
میں نکا ساں بھکھ تھوڑی سی
چپہ بھورا روٹی میری بھکھ نوں بوہتی ہندی سی
نالے ماں تو دوجی روٹی لیندی سوکھی ہندی سی
اج تے رزق کماؤں کیتے
رج کے روٹی کھاؤں کیتے
کہہ کج کرنا پیندا اے
دو تن ساہواں جین نوں
سو سو واری مرنا پیندا اے
کاواں والے طور طریقے
بندیاں سکھ لئے کیہ کریئے
کیہڑا کیہڑا کاگ اڈائیے
کیہدا کیہدا ڈھڈ بھرئیے
کاں تاں ہتھوں کھوہندے سن
ایہہ منہ وی کھو لیندے نیں
ست پلیاں وچ کچی روٹی
سنگھ لیندے ٹوہ لیندے نیں
سوچ رہیا واں یا تاں
کالے کاں دی منج مروڑ دیاں
یا فر بھکھا رہنا سکھ لاں
روٹی کھانا چھوڑ دیا
تبصرہ۔۔۔۔
مشتاق عاجز کی نظم ’’کاں‘‘ بظاہر روٹی چھیننے والے ایک پرندے کا ذکر ہے، مگر اپنے باطن میں یہ بھوک، غربت، معاشی استحصال اور انسانی رویوں کی تلخ حقیقتوں کی ترجمان ہے۔ شاعر نے بچپن کے ایک معمولی واقعے کو زندگی بھر کے عدم تحفظ اور محرومی کی علامت بنا کر پیش کیا ہے۔
ماں کی محبت، روٹی کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے سے بھوک مٹ جانے کا احساس اور جوانی میں رزق کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد، نظم کو جذباتی اور فکری گہرائی عطا کرتے ہیں۔ شاعر کا یہ کہنا کہ چند سانسیں جینے کے لیے انسان کو ’’سو سو واری مرنا پیندا اے‘‘ معاشی جدوجہد کی اذیت اور زندگی کی تلخیوں کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔
نظم میں کوا محض ایک پرندہ نہیں، بلکہ خودغرضی، چھینا جھپٹی اور دوسروں کے حقوق غصب کرنے والے رویوں کی علامت بن کر سامنے آتا ہے۔ جب شاعر کہتا ہے کہ انسانوں نے بھی کوّوں کے طور طریقے سیکھ لیے ہیں تو وہ معاشرے کے اخلاقی زوال پر گہرا طنز کرتا ہے۔ اب مسئلہ صرف روٹی چھن جانے کا نہیں، بلکہ انسان کی آواز اور احتجاج کا حق سلب ہونے کا بھی ہے۔
نظم کا اختتام ایک تلخ سوال پر ہوتا ہے: کیا انسان ناانصافی کے خلاف مزاحمت کرے یا بھوک کے ساتھ سمجھوتا کرکے روٹی کھانا ہی چھوڑ دے؟ یہی سوال نظم کو انفرادی دکھ سے نکال کر اجتماعی المیے میں تبدیل کر دیتا ہے۔
فنی اعتبار سے نظم کی نمایاں خوبی اس کی سادہ، رواں اور عوامی پنجابی زبان، مقامی محاوروں اور مؤثر علامتوں کا استعمال ہے۔ مشتاق عاجز نے روٹی اور کوّے جیسے مانوس حوالوں کے ذریعے معاشرتی بے حسی اور انسانی محرومی کی ایک بھرپور تصویر پیش کی ہے۔
مجموعی طور پر ’’کاں‘‘ بھوک، معاشی استحصال اور انسانی اقدار کے زوال پر ایک مؤثر شعری اظہار ہے۔ یہ نظم ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ جب روٹی کے حصول کی جدوجہد انسان سے اس کا سکون، خودداری اور اخلاقی توازن چھیننے لگے تو معاشرے کی ترقی اور انسانیت کے دعوے کس قدر بامعنی رہ جاتے ہیں

صحافی، کالم نگار، مصنف
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔