سعد رفیق اور ندیم افضل چن کے ہاتھوں نظام کا پوسٹ مارٹم
تحریر : ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
پاکستانی سیاست میں آج کل سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ نظام بیمار ہے یا نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہر شخص بیماری کی تشخیص کرنے والا ڈاکٹر ہے، مگر علاج کی ذمہ داری لینے کو کوئی تیار نہیں۔ لاہور کی ایک تقریب میں خواجہ سعد رفیق اور ندیم افضل چن نے جب گڈ گورننس اور نظام کی تعمیرِ نو پر گفتگو کی تو محسوس ہوا کہ اس بار تقریر نہیں، ملکی سیاست کا باقاعدہ پوسٹمارٹم ہو رہا ہے۔ سعد رفیق نے سیاسی جماعتوں کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے اپنی اصلاح نہ کی تو ’’کاکروچ باہر آئیں گے‘‘۔ سیاسی میدان میں شیر، تیر، بلا اور پتنگ کے بعد کاکروچ کی آمد نے یقیناً منظر کو دلچسپ بنا دیا، مگر سوال یہ ہے کہ اگر سیاسی جماعتیں عوام کا اعتماد کھوتی رہیں تو پھر خالی میدان میں کون آئے گا؟ سعد رفیق نے چاپلوسی ختم کرنے، عوام کے فیصلے کو تسلیم کرنے، انتخابات میں مداخلت روکنے اور پڑھے لکھے مڈل کلاس لوگوں کو آگے لانے کی بات کی۔ بات تلخ ضرور ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سیاسی دفاتر میں اختلافِ رائے اکثر باہر کھڑا رہتا ہے اور خوشامد کو پروٹوکول کے ساتھ اندر داخل کیا جاتا ہے۔ پھر ندیم افضل چن نے اس پوسٹمارٹم کو مزید گہرا کرتے ہوئے کہا کہ ’’سسٹم کولیپس ہوچکا ہے‘‘ اور ایک طاقتور ’’رولنگ کلب‘‘ کا ذکر کیا، جس میں ان کے مطابق جرنیل، سیاست دان، بیوروکریٹس، میڈیا ٹائیکونز اور بعض مذہبی علما شامل ہیں۔
گویا ملک ایک ایسے کلب میں تبدیل ہو گیا ہے جہاں ممبر بہت ہیں، مگر عام آدمی صرف بل ادا کرنے کے لیے موجود ہے۔ چن نے شفاف انتخابات، عدل اور سب کے احتساب کی بات کی اور خود کو بھی احتساب کے لیے پیش کرنے کا مؤقف اختیار کیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اصل سوال پیدا ہوتا ہے: اگر سب احتساب چاہتے ہیں تو پھر احتساب سے بچتا کون ہے؟ سعد رفیق نے سیاسی جماعتوں کی کمزوریوں کی نشاندہی کی اور ندیم افضل چن نے پورے نظام کی ساخت پر سوال اٹھایا۔ دونوں کی گفتگو کا خلاصہ یہی ہے کہ مسئلہ صرف حکومت بدلنے کا نہیں، حکمرانی کا انداز بدلنے کا ہے۔ عوام اب تقریریں نہیں، نتائج چاہتے ہیں؛ انہیں یہ نہیں جاننا کہ کس نے کتنے خوبصورت الفاظ میں نظام کی بیماری بیان کی، انہیں یہ جاننا ہے کہ علاج کب شروع ہوگا۔ کیونکہ عوام کے لیے جمہوریت کا مطلب صرف ووٹ ڈالنا نہیں، بلکہ ووٹ کی عزت، روزگار، تعلیم، علاج، انصاف اور محفوظ مستقبل بھی ہے۔ نظام کا پوسٹمارٹم کر دیا، اب اصل سوال یہ ہے کہ علاج کون کرے گا؟

صحافی، کالم نگار، مصنف
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔