سیاحت کے فروغ میں شگوری کلب کا کردار
تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
دنیا کے نقشے پر شاید ہی کوئی ایسا خطہ ہو جہاں قدرت نے اتنے متنوع رنگ ایک ساتھ سمیٹ دیے ہوں جتنے پاکستان کے حصے میں آئے ہیں۔ برف پوش پہاڑوں سے سرسبز وادیوں، دریاؤں اور جھیلوں سے صحراؤں، ساحلوں سے تاریخی آثار اور ثقافتی روایات تک پاکستان سیاحت کے بے پناہ امکانات رکھتا ہے۔ 27 ستمبر کو دنیا بھر میں ورلڈ ٹورازم ڈے منایا جاتا ہے اور یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سیاحت محض تفریح نہیں بلکہ روزگار، مقامی معیشت، ثقافتی روابط، قدرتی حسن کے تحفظ اور ملک کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کا اہم ذریعہ بھی ہے۔ اگر پاکستان کے سیاحتی مقامات تک رسائی آسان بنائی جائے، بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، مقامی آبادی کو اس عمل میں شریک کیا جائے اور دنیا بھر میں پاکستان کے سیاحتی حسن کو مؤثر انداز میں متعارف کرایا جائے تو سیاحت ملکی معیشت کے لیے ایک اہم شعبہ بن سکتی ہے اور غیر ملکی سیاحوں کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں ضلع اٹک سے تعلق رکھنے والے طارق شگوری اور شگوری کلب کی تین عشروں پر محیط خدمات قابلِ ذکر ہیں۔ اٹک کے سادہ مزاج اور ملنسار طارق فراز نے سیاحت سے اپنی گہری وابستگی کے اظہار کے لیے کے ٹو کے قدیم نام ’’شگوری‘‘ کو اپنے نام کا حصہ بنایا اور طارق شگوری کے نام سے معروف ہوئے۔ انہوں نے سیاحت کو محض ذاتی شوق تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک خدمت اور مشن کے طور پر اپنایا۔ بالخصوص ضلع اٹک کے متعدد قدرتی اور تاریخی مقامات کو متعارف کرانے میں ان کا کردار اہم ہے، جہاں مقامی لوگ محدود وسائل اور کم اخراجات کے ساتھ قدرت کے حسین مناظر سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ اٹک قلعہ، اٹک خورد، دریائے سندھ اور دریائے کابل کا سنگم اور دیگر مقامات قدرتی حسن اور تاریخی اہمیت کا حسین امتزاج ہیں، جنہیں بہتر تشہیر اور بنیادی سہولیات کے ذریعے ایک نمایاں سیاحتی مرکز بنایا جا سکتا ہے۔ طارق شگوری کی خدمات کا نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ وہ ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو بلا معاوضہ رہنمائی فراہم کرتے ہیں اور مختلف سیاحتی مقامات، راستوں اور جغرافیائی معلومات سے آگاہ کرتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے شمالی علاقوں اور دیگر سیاحتی مقامات کے حوالے سے ایک جامع نقشے کی تیاری بھی کی، جس میں مختلف مقامات اور راستوں کی معلومات کو یکجا کرنے کی کوشش کی گئی، جو سیاحوں کے لیے ایک مفید معلوماتی ذریعہ بن سکتی ہے۔ راقم الحروف کو بھی دوستوں کے ہمراہ طارق شگوری کی رہنمائی میں متعدد سیاحتی مقامات کے سفر کا موقع ملا اور ہر سفر ان کی معلومات، رہنمائی اور خوش مزاجی کے باعث ایک یادگار تجربہ ثابت ہوا۔ ان کے ساتھ سفر کے دوران یہ احساس مزید پختہ ہوا کہ پاکستان کو سیاحت کے اعتبار سے کسی تعارف کی ضرورت نہیں، اصل ضرورت اس کے پوشیدہ حسن کو دریافت کرنے، اس کے بارے میں درست معلومات عام کرنے اور سفر کو آسان بنانے کی ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بے شمار سیاحتی مقامات موجود ہیں۔ پنجاب میں مری، ٹیکسلا، قلعہ روہتاس، کٹاس راج، کھیوڑہ، سالٹ رینج اور اٹک، خیبر پختونخوا میں سوات، کالام، مالم جبہ، ناران، کاغان، کمراٹ، چترال اور کیلاش، بلوچستان میں زیارت، ہنگول، گوادر، کنڈ ملیر اور مولا چٹوک، سندھ میں موئن جو دڑو، مکلی، رنی کوٹ، کینجھر جھیل، گورکھ ہل، تھر اور ساحلی علاقے، گلگت بلتستان میں ہنزہ، سکردو، شگر، دیوسائی، استور، نلتر، فیری میڈوز، خنجراب اور عطاآباد جھیل جبکہ آزاد کشمیر میں نیلم ویلی، شاردہ، کیل، رتی گلی، مظفرآباد اور بنجوسہ جیسے مقامات ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لیے خصوصی کشش رکھتے ہیں۔
تاہم سیاحت کے حقیقی فروغ کے لیے خوب صورت مقامات کی موجودگی کافی نہیں، بلکہ ان تک رسائی، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر و مرمت، پبلک ٹرانسپورٹ، ہوائی رابطوں، ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز، ریسٹ ہاؤسز، ریستورانوں، عوامی بیت الخلاؤں، پارکنگ، صاف پانی، طبی امداد اور ریسکیو کی سہولیات کو بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح موبائل اور انٹرنیٹ کی دستیابی، سیاحتی معلوماتی مراکز، آن لائن نقشے اور بکنگ کی سہولت، واضح سائن بورڈز، غیر ملکی سیاحوں کے لیے آسان اور شفاف ویزا و سفری مراحل اور عالمی سطح پر پاکستان کی مؤثر تشہیر بھی ناگزیر ہے۔ سیاحت کے فروغ کے ساتھ ماحول، مقامی ثقافت، روایات اور قدرتی وسائل کا تحفظ بھی ہماری ترجیح ہونا چاہیے۔ شگوری کلب اٹک جیسے مقامی پلیٹ فارم اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، کیونکہ ایسے ادارے لوگوں کو سیاحتی مقامات سے متعارف کرانے، سفر کو منظم کرنے، معلومات عام کرنے اور نوجوان نسل میں قدرتی و تاریخی ورثے کے تحفظ کا شعور پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ سیاحت کے فروغ کے لیے کام کرنے والے مقامی اداروں اور تنظیموں کی حوصلہ افزائی کرے اور شفاف طریقۂ کار کے تحت انہیں مالی، تکنیکی اور انتظامی معاونت فراہم کرے۔ طارق شگوری کی تین عشروں پر محیط سیاحتی خدمات، مقامی مقامات کو اجاگر کرنے کی کوششیں، سیاحوں کو بلا معاوضہ رہنمائی، جامع سیاحتی نقشے کی تیاری اور مسلسل سرگرمیاں قابلِ تحسین ہیں۔ اگر متعلقہ قواعد و ضوابط اور مقررہ معیار کے مطابق ان کی خدمات قومی اعزاز کے لیے موزوں قرار پائیں تو متعلقہ حکام ان کے نام کو صدارتی ایوارڈ اور تمغۂ حسنِ کارکردگی کے لیے نامزد کرنے پر غور کر سکتے ہیں، جبکہ شگوری کلب کو بھی مناسب سرکاری سرپرستی فراہم کی جانی چاہیے تاکہ اس کی سرگرمیوں کو مزید منظم اور وسیع کیا جا سکے۔ پاکستان کا قدرتی، تاریخی اور ثقافتی حسن ہمارا قومی اثاثہ ہے۔ ورلڈ ٹورازم ڈے کے موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم نہ صرف اس حسن کو خود دریافت کریں گے بلکہ اسے آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بھی رکھیں گے۔ حکومت، نجی شعبے، مقامی آبادی اور سیاحتی تنظیمیں باہمی تعاون سے کام کریں تو پاکستان میں سیاحت کو ایک مضبوط معاشی، سماجی اور ثقافتی شعبے کے طور پر ترقی دی جا سکتی ہے۔ طارق شگوری اور شگوری کلب کی کوششیں اس بات کی مثال ہیں کہ اخلاص، معلومات اور مسلسل محنت کے ذریعے اپنے ملک کے پوشیدہ حسن کو عوام اور دنیا کے سامنے لایا جا سکتا ہے۔

صحافی، کالم نگار، مصنف
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں