20 ہزار کا مسئلہ… اور ایک جان کا سودا
صبح علی ماں کی رپورٹس لینے گیا۔
ڈاکٹر نے عینک ٹھیک کرتے ہوئے کہا: "دیکھیں بیٹا، آپ کی والدہ کو شوگر اور بلڈ پریشر دونوں کا مسئلہ ہے۔ شوگر لیول 300 سے اوپر ہے، اور BP کبھی بہت ہائی ہو جاتا ہے، کبھی بہت لو۔ اسی وجہ سے کل چکر آ کر بےہوش ہو گئی تھیں۔ ابھی دوائی لکھ دیتا ہوں۔ پرہیز بہت ضروری ہے۔ مہینے کی دوائی اور ٹیسٹ ملا کر تقریباً 18 سے 20 ہزار کا خرچہ آئے گا۔”
یہ سن کر علی کی سانس رک گئی۔ 20 ہزار؟ جس کے پاس نوکری ہی نہ ہو، وہ 20 ہزار کہاں سے لائے گا۔
علی پریشانی کی حالت میں ایک بینچ پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بیٹھنے کے بعد وہ آنکھوں سے آنسو پونچھتے ہوئے اٹھنے لگا، کہ تبھی اس کی نظر ایک بچے پر پڑی۔ بچے کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا تھیلا تھا، اور وہ سڑک پار کر رہا تھا۔ دوسری طرف سے تیز چلتی ہوئی گاڑی آ رہی تھی۔ گاڑی کے بریک فیل ہو چکے تھے۔ ڈرائیور کی مسلسل کوشوں کے باوجود گاڑی رک نہیں رہی تھی۔
علی دوڑا۔ اس نے بچے کو پکڑا، اور آگے کی طرف چھلانگ لگا دی۔ وہ گھومتا ہوا فٹ پاتھ تک جا پہنچا۔ بچے کو تو کچھ نہیں ہوا، پر علی کو چوٹ لگ گئی۔ لیکن اس نے اپنی فکر نہ کرتے ہوئے بچے سے پوچھا: "تم ٹھیک تو ہو؟” بچے نے ہاں میں سر ہلایا۔
علی نے اسے گلے لگا لیا، اور پھر پوچھا: "تمہارے گھر والے کہاں ہیں؟ تم اکیلے یہاں کیا کر رہے تھے؟” علی نے جیسے ہی سوال پوچھنا شروع کیے، وہ بچہ رونے لگا، اور اپنے پھٹے ہوئے تھیلے کو دیکھنے لگا۔
علی نے پوچھا: "تم رو کیوں رہے ہو؟” اس نے روتے ہوئے کپکپاتی آواز میں کہا: "میرے دادا بیمار ہیں، اور کل سے انہوں نے کچھ نہیں کھایا۔ میں نے کسی سے ادھار پیسے لے کر یہ سیب خریدے تھے۔ یہ بھی گر گئے۔”
علی نے کہا: "تم رونا بند کرو۔ میں تمہیں کچھ کھانے کا سامان خرید دیتا ہوں۔” علی نے اس بچے کا ہاتھ پکڑا، اور ایک سٹور کی طرف لے جانے لگا۔
اس سے پہلے کہ علی سٹور تک پہنچتا، پیچھے سے ایک دوڑتا ہوا شخص آیا۔ اس نے اس بچے کو پکڑ لیا، اور ایک چاقو اس بچے کی گردن پر رکھتے ہوئے علی سے کہنے لگا: "اگر تم اس بچے کی جان بچانا چاہتے ہو، تو اپنی یہ گھڑی، فون، اور جتنے بھی پیسے تمہارے پاس ہیں، مجھے دے دو۔”
جاری ہے۔۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں