اخبار فروش بدلتے زمانے کا خاموش متاثرہ طبقہ
تحریر : ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
کبھی صبح کا آغاز اخبار کی سرسراہٹ سے ہوا کرتا تھا دروازے پر اخبار گرتا تو گھر کے بزرگ اسے اٹھاتے، چائے کا کپ ہاتھ میں لیتے اور ملک و قوم کے حالات سے باخبر ہونے کے لیے صفحات پلٹنا شروع کر دیتے۔ اخبار صرف کاغذ کے چند صفحات نہیں تھا بلکہ یہ معاشرے کی آنکھ عوام کی آواز اور حالاتِ حاضرہ کا آئینہ سمجھا جاتا تھا اس پورے نظام میں ایک کردار ایسا بھی تھا جس کا ذکر شاید ہی کبھی نمایاں طور پر ہوا اخبار فروش
یہ وہ شخص ہے جو طلوعِ آفتاب سے پہلے اپنے کام پر نکلتا ہے۔ سردی کی یخ بستہ صبح ہو، گرمی کی تپتی دوپہر، بارش ہو یا دھند، وہ اخبارات کا بنڈل اٹھائے گلیوں، محلوں اور بازاروں کا رخ کرتا ہے اس کی محنت کے نتیجے میں اخبار ہمارے دروازے تک پہنچتا ہے مگر بدقسمتی سے آج یہی طبقہ پرنٹ میڈیا کے بحران کا سب سے خاموش متاثرہ فریق بن چکا ہے گزشتہ برسوں میں موبائل فون انٹرنیٹ، نیوز ویب سائٹس اور سوشل میڈیا نے خبر کی دنیا کو یکسر بدل دیا ہے۔ اب خبر اگلے دن نہیں اگلے لمحے ہمارے ہاتھ میں ہوتی ہے چند سیکنڈ میں ملکی اور عالمی واقعات ہماری اسکرین پر نمودار ہو جاتے ہیں نتیجتاً اخبارات کی مانگ اور سرکولیشن میں مسلسل کمی آئی ہے یہ تبدیلی بلاشبہ ٹیکنالوجی کے سفر کا حصہ ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اس تبدیلی کی قیمت کون ادا کر رہا ہے اس سوال کا ایک جواب اخبار فروش طبقہ بھی ہے اخبارات کی تعداد کم ہونے کا براہِ راست اثر اخبار فروش کی آمدنی پر پڑتا ہے۔ ایک طرف اخبار کی فروخت گھٹ رہی ہے اور دوسری طرف مہنگائی نے زندگی کے بنیادی اخراجات کئی گنا بڑھا دیے ہیں پٹرول، بجلی، مکان کا کرایہ، بچوں کی تعلیم اور روزمرہ ضروریات نے اس محنت کش طبقے کی کمر توڑ دی ہے
سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اخبار فروش کو عموماً ایک باقاعدہ ملازم کی حیثیت بھی حاصل نہیں ہوتی۔ نہ مناسب سماجی تحفظ، نہ مستقل پنشن، نہ صحت کی سہولت اور نہ ہی مستقبل کے لیے کوئی مضبوط معاشی ضمانت۔ وہ برسوں تک اخبارات تقسیم کرتا رہتا ہے، لیکن جب عمر ڈھلنے لگتی ہے تو اس کے سامنے یہی سوال کھڑا ہوتا ہے کہ اب گھر کیسے چلے گا
پرنٹ میڈیا کے بحران پر بہت کچھ لکھا اور کہا جاتا ہے۔ اخباری اداروں کے مالی مسائل زیرِ بحث آتے ہیں صحافیوں کے روزگار کی بات ہوتی ہے، ڈیجیٹل میڈیا کے چیلنجز پر سیمینار منعقد ہوتے ہیں، مگر اخبار فروش کی مشکلات اکثر ہماری توجہ سے اوجھل رہتی ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اخبار فروش بھی اسی میڈیا انڈسٹری کا ایک اہم ستون ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اخباری ادارے اور اخبار فروش تنظیمیں بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ایک نیا نظام تشکیل دیں۔ اخبار فروشوں کو صرف روایتی اخبارات کی تقسیم تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں ڈیجیٹل سبسکرپشن، گھر گھر سروس، میگزین اور دیگر اشاعتی مصنوعات کی ترسیل کے نظام میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ حکومت بھی ان کے لیے خصوصی فلاحی پیکیج، صحت کارڈ، حادثاتی بیمہ اور بڑھاپے کے لیے مالی تحفظ جیسے اقدامات کر سکتی ہے۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ڈیجیٹل میڈیا کی ترقی اپنی جگہ، مگر پرنٹ میڈیا کی اپنی اہمیت اب بھی موجود ہے۔ اخبار صرف خبر نہیں دیتا بلکہ خبر کو پس منظر، تجزیہ اور ترتیب کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ کتاب، اخبار اور تحریری صحافت معاشرے کے فکری ورثے کا حصہ ہیں لہٰذا پرنٹ میڈیا کے مستقبل پر بحث کرتے وقت ہمیں ان لوگوں کو نہیں بھولنا چاہیے جو دہائیوں سے اس صنعت کو اپنے خون پسینے سے چلا رہے ہیں اخبار فروش صرف اخبار نہیں بیچتا، وہ خبر کو ہمارے دروازے تک پہنچاتا ہے۔
اگر پرنٹ میڈیا کا مستقبل بدل رہا ہے تو اخبار فروش کے مستقبل کے بارے میں بھی سوچنا ہوگا۔ ٹیکنالوجی کی ترقی خوش آئند ہے، لیکن ایسی ترقی جو محنت کش انسان کو بے سہارا چھوڑ دے، اسے سماجی انصاف کے معیار پر ضرور پرکھنا چاہیے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اخبار کے آخری صفحے کے ساتھ ساتھ اس شخص کو بھی دیکھا جائے جو ہر صبح اخبار ہمارے دروازے تک پہنچاتا ہے کیونکہ اخبار شاید کاغذ کا ایک بنڈل ہو مگر اخبار فروش کے لیے یہی بنڈل اس کے گھر کا چولہا جلانے کا ذریعہ ہے۔

صحافی، کالم نگار، مصنف
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں