ملا نصیرالدین کے لطائف اور ہمارا نظام انصاف
طنز و مزاح انسانی گفتگو کا خوبصورت اور شگفتہ انداز ہے۔ اگر یہی گفتگو کسی تمثیلی کردار میں ڈھل جائے تو اس میں مزید نکھار آ جاتا ہے۔ اس کی بہترین مثال ملا نصیرالدین طوسی ہیں۔
ہم میں سے اکثر نے ان کے قصے اور لطائف تو بہت پڑھے ہیں، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ملا کوئی افسانوی کردار نہیں بلکہ ایک حقیقی شخصیت تھے۔ وہ 1208ء میں ترکی کے صوبہ حشار کے گاؤں "حورتو” میں پیدا ہوئے۔ حاضر جوابی، ظرافت اور دانائی کی وجہ سے ان کی شہرت ترکی سے نکل کر دنیا بھر میں پھیل گئی۔ ان کے لطائف آج بھی ہنساتے بھی ہیں اور سوچنے پر مجبور بھی کرتے ہیں۔
ایک بار ملا گھر کے صحن میں بیٹھے تھے کہ ایک دوست آیا اور بولا، ملا! گدھا دے دو، پاس کے گاؤں تک سامان لے جانا ہے، شام تک لوٹا دوں گا۔ ملا گدھا دینا نہیں چاہتے تھے، اس لیے کہہ دیا کہ گدھا کوئی اور لے گیا ہے۔ ابھی بات ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ صحن سے گدھے کے رینگنے کی آواز آ گئی۔ دوست نے حیرت سے کہا، ملا گدھا تو اندر ہی موجود ہے! ملا نے بے ساختہ جواب دیا، بھائی آپ مجھ پر یقین کریں گے یا گدھے پر؟
ایک اور محفل میں لوگوں نے ملا کو پکڑ لیا کہ نصیحت فرمائیں۔ ملا اسٹیج پر آئے اور پوچھا، جو کچھ میں کہنے جا رہا ہوں کیا آپ کو معلوم ہے؟ لوگوں نے کہا، نہیں۔ ملا بولے، جب آپ جانتے ہی نہیں تو بتانے کا کیا فائدہ؟ کچھ عرصے بعد ملا پھر اسی محفل میں پکڑے گئے۔ لوگوں نے اس بار بھی وہی سوال کیا۔ لوگوں نے سبق سیکھ لیا تھا اور کہا، "ہاں معلوم ہے۔” ملا نے کہا، جب معلوم ہے تو بتانے کی کیا ضرورت ہے؟ تیسری بار پھر پکڑے گئے۔ اس بار آدھے لوگوں نے کہا ہاں، اور باقیوں نے کہا نہیں۔ ملا نے مسکرا کر کہا، جن کو معلوم ہے وہ ان کو بتا دیں جن کو معلوم نہیں۔ اور اسٹیج سے اتر گئے۔
ایک ان پڑھ زمیندار خط لے کر ملا کے پاس آیا۔ ملا نے اتفاقاً بڑی پگڑی پہن رکھی تھی، جو اس دور میں علم کی نشانی تھی۔ زمیندار نے کہا، یہ خط پڑھ دو۔ ملا نے کہا، میں خط نہیں پڑھ سکتا۔ زمیندار طعنہ دیتے ہوئے بولا، اتنی بڑی پگڑی باندھی ہے اور خط نہیں پڑھ سکتے؟ ملا نے فوراً پگڑی اتار کر اس کے سر پر رکھ دی اور کہا، لو اب پگڑی تمہارے سر پر ہے، خود ہی پڑھ لو۔
ایک دن ملا قاضی بن گئے۔ ایک شخص آیا اور پوچھا، قاضی صاحب، اگر ایک گائے دوسری گائے کو سینگ مار کر زخمی کر دے تو قانون کیا کہتا ہے؟ ملا نے کہا، یہ صورتحال پر منحصر ہے۔ وہ بولا، دراصل آپ کی گائے نے میری گائے کو مارا ہے۔ ملا نے فرمایا، گائے بے زبان جانور ہے، اس پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا، ہم افسوس ہی کر سکتے ہیں۔ وہ شخص بولا، قاضی صاحب معاف کرنا، اصل میں میری گائے نے آپ کی گائے کو سینگ مارا ہے۔
ملا کی تیوریاں بدل گئیں۔ اپنے معاون سے کہا، ذرا اوپر رکھی ہوئی کالی کتاب تو لانا، دیکھیں اس میں اس جرم کی کیا سزا لکھی ہے۔ یہی کالی کتاب کا قانون آج ہمارے معاشرے میں رائج ہے۔ طاقتور کے لیے کوئی جرم نہیں، کمزور کے لیے ہر شق موجود ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ کل روز محشر ایک اور عدالت لگنی ہے، جہاں کوئی کالی کتاب نہیں ہو گی، جہاں ہمارا اپنا جسم ہمارے خلاف گواہی دے گا، جہاں ایک ہی قانون ہو گا، جو خدائی عدل کا قانون یے۔
کاش ہمارے قانون کو وہ دن یاد رہے۔ اگر یوم حساب پر ایمان پختہ ہو جائے تو کمزور کی کمزوری اس معاشرے میں جرم نہ رہے۔ آج المیہ یہ ہے کہ یہاں ہر کمزور ہی مجرم ٹھہرتا ہے۔
بھلے زمانوں میں ملا کے لطیفے بچے بڑے سب شوق سے پڑھتے تھے۔ اب زمانہ بدل گیا ہے۔ ملا نہیں رہے یا بچے بڑے ہو گئے ہیں۔ اگر ہم آج بھی ملا نصیرالدین کی شائستہ حاضر جوابی اور طنز کو اپنا لیں تو شاید ہنسی ہنسی میں ہی ہمیں تہذیب اور انصاف دونوں مل جائیں۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں