سٹیفن ہاکنگ کی خطرناک پیش گوئیاں
سائنس کی تاریخ میں چند نام ایسے بھی ہیں جنہوں نے صرف سائنسی ایجادات یا تھیوریز ہی پیش نہیں کیں، بلکہ انہوں نے انسانی مستقبل کے لیے خطرناک وارننگز بھی جاری کیں۔ برطانوی سائنسدان سٹیفن ہاکنگ کا شمار انہی ناموں میں ہوتا ہے جنہیں "انسانی مستقبل کا مفکر” کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ انہوں نے پوری زندگی ویل چیئر پر گزاری۔ ان کا جسم معذور اور کمزور ضرور تھا لیکن انہیں دنیا کا "دوسرا سب سے بڑا دماغ” کہا جاتا ہے۔
ہاکنگ نے اپنی پوری زندگی میں کائنات کے راز کھولے، لیکن ساتھ ہی انسان کے مستقبل کے بارے میں چند ایسی پیش گوئیاں بھی کیں جنہیں سن کر عام انسان گھبرا جاتا ہے۔
ہاکنگ کی سب سے خطرناک پیش گوئی "سپر ہیومن” Super Human کی نسل کے بارے میں تھی۔ ان کے مطابق جینیاتی سائنس میں ہونے والی بے لگام ترقی ایک دن ایسے انسان پیدا کر دے گی جو جسمانی اور ذہنی طور پر عام انسان سے کہیں زیادہ طاقتور ہوں گے۔ یہ "الٹرا ذہین انسان” Ultra Intelligent Human اپنی مرضی سے اپنے ڈی این اے DNA میں ردوبدل کریں گے۔ امیر طبقہ پہلے اپنے بچوں کا جینیاتی کوڈ Genetical Code بہتر بنائے گا۔ پھر وہ آنے والی نسلوں کو بیماریوں، کمزوریوں اور یہاں تک کہ جذبات سے بھی پاک کر دے گا، جس سے ایک ایسا طبقہ پیدا ہو گا جو خود کو "اعلیٰ نسل” سمجھے گا اور باقی انسانوں کو کیڑے مکوڑے۔
سٹیفن ہانگ کی ان ہیش گوئیوں کو مدنظر رکھ کر "ہالی وڈ” اس موضوع پر درجنوں فلمیں بنا چکا ہے۔ لیکن ہاکنگ نے یہ پیش گوئیاں سائنس فکشن کی فلموں کے لیے نہیں کی تھیں، ان پیش گوئیوں کی بنیاد ان کی سائنسی تھیوریز تھیں۔ ان کا ماننا تھا کہ جب انسان سائنس اور ٹیکنالوجی میں بغیر اخلاقیات کے آگے بڑھے گا تو وہ خود اپنی تباہی کا سامان پیدا کرے گا۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ انسان بحیثیت مجموعی دن بدن ہمدردی، رحم اور انسانی اقدار سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ ٹیکنالوجی نے ہمیں ذہنی طور پر تو تیز کر دیا ہے مگر ہم آئے روز جذبات سے عاری "مشینی انسان” بنتے جا رہے ہیں۔
سٹیفن ہاکنگ نے صرف سپر ہیومن کا خطرہ نہیں بتایا۔ انہوں نے 4 بڑے خطرات گنوائے تھے۔
پہلا، "مصنوعی ذہانت” Artificial Intelligence، ان کے الفاظ تھے کہ جس دن اے آئی AI خود کو بہتر بنانے لگ گئی، اس دن انسان اس کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔ انہون نے انسان کی سائنسی ترقی کا دوسرا خطرناک پہلو "خوفناک روبوٹس” Dangerous Robots بتائے تھے۔ انسان ایسی جنگی مشینیں ایجاد کرے گا جو ایک دن اس کے کنٹرول سے باہر ہو جائیں گی۔ تیسرا، انہوں نے خلائی مخلوق کی تلاش Search for Space Creature کو خطرناک قرار دیا تھا۔ ہاکنگ کہتے تھے کہ کائنات میں کسی اور کو ڈھونڈنا ایسا ہی ہے جیسے امریکہ کو کولمبس نے دریافت کیا تھا۔ تب مقامی لوگوں کا کیا بنا تھا، یہ ہم سب جانتے ہیں۔ چوتھا خطرہ انہوں نے "گلوبل وارمنگ” Global Warming کا بتایا تھا۔ انہوں نے پیش گوئی کی تھی کہ ایک دن زمین کا درجہ حرارت بڑھ کر اسے ناقابلِ رہائش بنا دے گا۔
یہ چاروں پیش گوئیاں آج ایک ایک کر کے سچ ثابت ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ چیٹ جی پی ٹی سے لے کر خودکار ڈرون تک، برف کے پگھلنے سے لے کر "جیمز ویب ٹیلی سکوپ” تک سب انسانی محفوظ مستقبل کے لئے خطرہ بنتے جا رہے ہیں
سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ سپر ہیومن کا تصور اب سائنس فکشن نہیں رہا۔ دنیا بھر کی لیبارٹریوں میں "سی آر آئی ایس پی آر” CRISPR جیسی ٹیکنالوجی سے انسانی ایمبریو کا DNA ایڈٹ کیا جا رہا ہے۔ چین میں 2018 میں پہلے "جینیاتی طور پر تبدیل شدہ بچے” پیدا کیے جانے کی خبر نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ہاکنگ نے اپنی آخری کتاب "بڑے سوالوں کے مختصر جوابات” Brief Answers to the Big Questions میں صاف لکھا تھا: "مجھے یقین ہے کہ آنے والے وقت میں امیر لوگ اپنے ڈی این اے کو بہتر بنائیں گے جس سے ایک ایسی نسل پیدا ہو جائے گی جو عام انسانوں سے بہت آگے نکل جائے گی۔”
سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس دوڑ کو روک سکتے ہیں؟ سائنس خود بری نہیں۔ مسئلہ نیت کا ہے۔ جب سائنس اخلاقیات سے جدا ہو جائے تو وہ ہتھیار بن جاتی ہے۔ ہاکنگ خود ایک مثال تھے۔ وہ جسمانی طور پر مفلوج، مگر ذہنی طور پر آزاد تھے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ انسان کی اصل طاقت دماغ اور دل کے ملاپ میں ہے، جینز کی ترمیم میں نہیں۔
آج ہمیں فیصلہ کرنا ہے۔ کیا ہم ایسی دنیا چاہتے ہیں جہاں چند "سپر ہیومن” حکمران ہوں اور باقی غلام ہوں؟ یا ہم وہ دنیا چاہتے ہیں جہاں سائنس انسان کی خدمت کرے، مگر اسے تباہ نہ کرے؟
سٹیفن ہاکنگ دنیا سے چلے گئے ہیں، لیکن ان کی وارننگز آج بھی موجود ہیں۔ اگر ہم نے ان خطرات کے بارے آج نہیں سوچا تو کل بہت دیر ہو جائے گی۔ کیونکہ جب سپر ہیومن کی نسل آئے گی، تو جس دنیا کو ہم جانتے ہیں وہ واقعی ملیا میٹ ہو چکی ہو گی۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں