آخری دانہ – The last grain
صفدر علی حیدری
قحط کا وہ سال گاؤں کی تاریخ کا سب سے کڑا سال تھا۔ چکیاں خاموش تھیں، کھلیان ویران تھے، اور ہر گھر میں بھوک نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ لوگوں کی آنکھوں سے امید کی چمک ماند پڑ چکی تھی۔
صرف بوڑھی مائی اماں کے پاس گندم کا ایک ہی دانہ بچا تھا؛ سنہری، چمکتا ہوا، جیسے امید کا آخری ذرّہ۔
اتنے میں پڑوس کی ایک ننھی بچی روتی ہوئی آ پہنچی۔
"دادی… بھوک لگی ہے۔”
مائی اماں نے خاموشی سے اپنی مٹھی کھولی۔ وہ آخری دانہ ان کی جھریوں بھری ہتھیلی پر چمک رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے خیال آیا، اگر اسے پسوا دوں تو شاید ایک چٹکی آٹا بن جائے، اس سے دلیے کا ایک گھونٹ بن جائے… مگر اس کے بعد؟
انہوں نے مسکرا کر دانہ بچی کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔
"جا بیٹی، اسے زمین میں بو دے۔”
بچی نے حیرت سے پوچھا،
"دادی! اس سے تو آج کی بھوک بھی نہیں مٹے گی۔”
مائی اماں نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور بولیں،
"بیٹی! ایک دانہ ایک وقت کی بھوک بھی نہیں مٹا سکتا، لیکن یہی دانہ اگر مٹی کے سپرد کر دیا جائے تو آنے والے برسوں کی بھوک کا علاج بن سکتا ہے۔ دانہ کھانے سے ختم ہو جاتا ہے، مگر بونے سے بڑھ جاتا ہے۔”
بچی نے خاموشی سے وہ دانہ زمین کے حوالے کر دیا۔
پانچ ماہ بعد اسی ایک دانے سے سنہری بالیاں لہلہا رہی تھیں۔ ہوا چلتی تو یوں محسوس ہوتا جیسے امید خود کھیتوں میں مسکرا رہی ہو۔
مائی اماں اس فصل کو دیکھنے کے لیے دنیا میں نہ تھیں، مگر ان کی سوچ زندہ تھی۔
اب ہر نئی فصل کے آغاز پر گاؤں کے بزرگ بچوں کو اسی کھیت کے کنارے لے جاتے اور کہتے،
"یاد رکھو! رزق صرف کھایا نہیں جاتا، کبھی کبھی اسے مستقبل کے لیے بھی بویا جاتا ہے۔”
پھر وہ خاموش ہو جاتے، اور بچوں کی نظریں لہلہاتی فصل پر جم جاتیں۔
اسی لمحے انہیں سمجھ آ جاتا کہ بعض اوقات سب سے بڑا صدقہ وہ نہیں ہوتا جو ہم آج کسی کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں، بلکہ وہ ہوتا ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے امید، خودداری اور زندگی بن کر اگتا ہے۔
کیونکہ دانے کا مقدر ختم ہونا نہیں، بڑھنا ہے—بشرطیکہ وہ خود کو مٹی کے سپرد کرنا سیکھ لے

میرا نام صفدر علی حیدری ہے ۔ پیدائش علی پور ضلع مظفر گڑھ کی ہے لیکن پلا بڑھا اوچ شریف میں ہوں اور رہائش بھی اسی شہر میں ہے ۔ایم فل اردو ہوں ایک استاد ہوں اور پچھلے تیس سال سے پڑھا رہا ہوں ۔ لکھنے کا آغاز بچپن سے کیا ۔ کالم نگاری بھی کی نامہ نگاری بھی ،پھر افسانہ نگاری اور افسانچہ نگاری کی طرف متوجہ ہوا ۔اب تک میری بارہ کتب شائع ہو چکی ہیں پچیس کتب زیر طبع ہیں شائع شدہ کتب کی تفصیل حسب ذیل ہے میری ایک کتاب کالمز پر ہے ” شہر خواب ” ایک ناول ہے ” عمران بٹہ عمران ” چار کتابیں ادب اطفال پر ہیں ” گھڑی کی ٹک ٹک ” ” ایک پہیے کی سائیکل” ” کمزور چوزا ” ” منٹو میاں ” چار افسانوں پر ہیں "مٹھی میں کائنات” ” ناقابل اشاعت ” ” من و سلویٰ ” ” الف سے یے تک ” ایک افسانچوں پر ہے ” ایک صفحے کے افسانچے ” میری تمام کتابوں پر ایم فل ، ایم اے اور بی ایس کی سطح پر کام ہو چکا ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |