میانوالی کےادبی منظر نامہ کی منظوم جھلک
(عاصم بخاری کی شاعری میں)
تجزیہ کار
(راحت امیر نیازی میانوالی)
عاصم بخاری کی شاعری کا اختصاص یہ بھی ہے کہ انھوں نے ہر موضوع کو اپنی شاعری میں کامیابی سے عنوان بنایا ہے۔جہاں انھوں نے سیاسی ، سماجی ، اقتصادی اور معاشرتی موضوعات پر قلم کشائی کی ہے وہاں انھوں نے اپنی مقامیت یعنی میانوالی کے ادبی منظر نامہ کو بھی منظوم کر کے ادبی تاریخ کی جھلک کا ایک باب بھی رقم کیا ہے۔عاصم بخاری کی جہاں عصری مسائل پر نظر ہے وہاں میانوالی کی ادبی سرگرمیاں بھی قلم کشائی کی طرف راغب کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
ارتقائی حوالے سے دیکھا جائے تو فارق روکھڑی کی ادبی خدمات کو کچھ اس نداز میں خراج ِ تحسین پیش کرتے ہیں
قطعہ
شہرت ہوئی نصیب جنہیں زندگی میں ہی
شاعر بھی کیا کمال تھے فاروق روکھڑی
اسی طرح بابائے تھل فاروق روکھڑی کی شخصیت اور اس کے دیگر سماجی و اخلاقی پہلو کا تذکرہ یوں کرتے ہیں۔
قطعہ
مہماں نواز تھے بڑے حق مغفرت کرے
اک زندہ دل ادیب تھے فاروق روکھڑی
بابائے تھل کا پایا لقب شہرتیں ملیں
کتنے ہی خوش نصیب تھے فاروق روکھڑی
معاصر ادبی منظر نامے پر اردو کے ساتھ ساتھ ماں بولی میں ادبی خدمات سرانجام دینے والوں شعرا کے بھی معترف دکھائی دیتے ہیں۔ غلام حسین مجبور عیسیٰ خیلوی کا ذکر کچھ اس منظوم انداز میں کرتے ہیں۔
شعر
آپ اپنی مثال ہیں عاصم
گیت مجبور کے زمانے میں
اسی طرح دونوں ہم عصر شعرا مجبور عیسیٰ خیلوی اور فاروق روکھڑی کا ایک ساتھ منظوم تذکرہ یوں کرتے ہیں
فاروق روکھڑی اور مجبور عیسیٰ خیلوی کے نام
۔
ایک نظم
فاروق بھی میاں والی سے مجبور بھی میاں والی سے
پہچان ادب میں آپ اپنی ماں بولی میں، قومی میں بھی
فاروق بھی میاں والی سے مجبور بھی میاں والی سے
اک چہکے عاصم محفل میں اور دوجے کا دھیما لہجہ
فاروق بھی میاں والی سے مجبور بھی میاں والی سے
قدرت نے” لالے” کی سُر میں ہے ہر جا کیسے منوایا
فاروق بھی میاں والی سے مجبور بھی میاں والی سے
سچ تو ہے یہ ہی جذبے سے پرچار کیا ماں بولی کا
فاروق بھی میاں والی سے مجبور بھی میاں والی سے
مجبور عیسیٰ خیلوی کے ہم عصر پروفیسر منور علی ملک صاحب جن کی اردو سرائیکی انگریزی تینوں زبانوں مییں خدمات کوں قطعہ میں یوں بیان کرتے ہیں
قطعہ
میاں والی کا ناز اعزاز تم
ہر اک کہہ رہا ہے منور علی
ترا رنگ ِ تحریر سچ تو ہے یہ
کہ سب سے جدا ہے منور علی
منور علی ملک صاحب کے ساتھ ساتھ پروفیسر سرور نیازی کی علمی و ادبی خدمات اور شخصیت کی کچھ ان لفظوں میں تصویر کشی کرتے ہیں۔
ایک شعر
ادب سادگی ہو کہ یاروں کی محفل
ہیں پہچان آپ اپنی سرور نیازی
پروفیسر موصوف کی ادبی شخصیت کی منظر کشی ایک اور زاویے سے یوں کرتے ہیں۔
شعر
تمہاری قابلیت ، سادگی کا
زمانہ معترف ، سرور نیازی
پروفیسر رئیس احمد خان عرشی صاحب زبان و ادب کی خدمت کے حوالے سے نمایاں ادبی شخصیت ہیں۔نظم و نثر دونوں میں ان کی خدمات لائق ِ تحسین ہیں
قطعہ
باریکیوں سے خوب جو سچ تو یہ باخبر
تب ہی تو احترام ہے نظم اور نثر میں
اردو زباں کا ایک حوالہ ہے معتبر
عرشی کا اک مقام ہے نظم اور نثر میں
نظم کے ساتھ ساتھ میانوالی کی نثر نگاری پر بھی عاصم بخاری کی منظوم نظر ہے۔محمد حامدسراج مرحوم کی افسانہ نگاری کے برِ صغیر تک کے چرچوں کا حوالہ یوں دیتے ہیں۔
شعر
افسانوی ادب کی اگر بات میں کروں
پہچان اپنی آپ ہی حامد سراج تھے
خورشید شاہ سرائیکی دوہڑے میں ایک بہت بڑا نام۔گزرا ہے۔اسے یوں خراج ِ تحسین پیش کرتے ہیں۔۔
قطعہ
ہر اک کا دل ربا تھا خورشید شہ بخاری
کب فرد ، قافلہ تھا خورشید شہ بخاری
جس نے کمال لکھا اپنی زباں میں عاصم
دُہڑے کا بادشہ تھا، خورشید شہ بخاری
۔
محمد محمود احمد
تری پہچان دنیاۓ ادب میں
لب و لہجہ ترا محمود احمد
بہت جلدی ہمیں چھوڑا ہے تو نے
یہی تجھ سے گلہ محمود احمد
عاصم بخاری کی ایک اور نظم محمود ہاشمی کے نام
کچھ منفرد ہی کر کے گزر جانا چاہیے
عاصم بخاری کہتا تھا محمود ہاشمی
لہجے میں بات کرتا تھا سوچیں نئی نئی
زرخیز ذہن رکھتا تھا محمود ہاشمی
۔
دنیا تُو چھوڑ جائے گا عالم شباب میں
قسمت میں ایسے لکھا تھا محمود ہاشمی
۔
اپنی تو بس دعا یہی حق مغفرت کرئے
اکثر درود پڑھتا تھا محمود ہاشمی
شعرو ادب کی دنیا میں عاصم ہے سچ تو یہ
تازہ ہوا کا جھونکا تھا محمود ہاشمی
۔
نذیر یاد اردو سرائیکی کے حوالے سے ایک سرمایہ ہیں ۔خصوصا”ان کی سرائیکی نظم گوئی کا کوئی ثانی نہیں۔جس کے حوالے سے یوں منظوم اعتراف کرتے ہیں
مشہور تم بھی شہر میں مقبول آج کل
تم بھی نذیر یاد کی ہو نظم کی طرح
مظہر نیازی
مظہر یازی کی بھی اردو سرائیکی نظم اور نثر دونوں میں بہت خدمات ہیں۔علاوہ ازیں قدرت نے انہیں ترنم بھی عطا کیا ہے۔
قطعہ
راس آیا تمہیں ترنم بھی
حصے لفظوں کی دولتیں آئیں
تم کہ وہ خوش نصیب ہو مظہر
گیتوں غزلوں سے شہرتیں پائیں
میانوالی کے شاعروں میں ایک توانا آواز اور نام۔خالد ندیم شانی کا ہے۔عاصم بخاری ان کی شخصیت ، شاعری اور طرزِ ادا سے خاصے متاثر نظر آتے ہیں جس کا برملا اظہار بھی ان کے ہاں شعری صورت میں مختلف زاویوں سے ملتا ہے۔
فردیات
شاعر تو بہت اچھے ہیں وطن ِعزیز میں
خالد ندیم۔شانی کا لیکن یہ دور ہے
بخاری صاحب شاعر ِ موصوف کی اک اور ادا سے بھی متاثر اور معترف نظر آتے ہیں۔
شعر
ہنس کے جینے کا ہے ہنر سیکھا
میں نے خالد ندیم ، شانی سے
قطعہ
مانا ہوں گے ہزار ، دنیا میں
اسکاثانی نہ خوش بیانی میں
ولولہ جوش زندگی پائی
میں نے خالد ندیم شانی میں
یہ تھی میانوالی کے ادبی منظر نامہ کی ایک جھلک۔ ابھی بہت سے ہمالہ قد ادبی نام اور کام باقی ہیں جن میں اساتذہ کے حوالے لکھنا بھی باقی ہے اور آج کے جدید شعرا پر بات بھی باقی ہےلیکن مضمون کی طوالت کے باعث فی الحال اتنا ہی ، مزید ان شااللہ اگلے مضمون میں حیات باقی ، ملاقات باقی
***

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |