ویلڈن اٹک پولیس – Weldon Attock Police
کالم نگار: سید حبدار قائم
محرم الحرام کا مقدس مہینہ جہاں عقیدت، محبت اور قربانی کا پیامبر ہوتا ہے، وہیں امن و امان کے حوالے سے ایک بڑا امتحان بھی بن جاتا ہے۔ ایسے حساس موقع پر اٹک پولیس نے جس پیشہ ورانہ انداز، مستعدی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، وہ یقیناً قابلِ تحسین ہے
اس بار اٹک کی فضا میں ایک عجیب سا سکون اور اطمینان محسوس ہوا۔ جلوسوں کی گزرگاہیں ہوں یا مجالس کے مقامات، ہر جگہ پولیس کی موجودگی ایک مضبوط حصار کی مانند دکھائی دی۔ جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیمروں کی تنصیب کی گئی، واک تھرو گیٹس لگائے گئے اور چیکنگ کے نظام کو نہایت مؤثر بنایا گیا پٹرولنگ پولیس مسلسل گشت میں مصروف رہی، جبکہ ایلیٹ فورس کی خصوصی نگرانی نے سیکیورٹی کو مزید مضبوط کیا۔
ایس ایچ او سجاد حیدر کی متحرک قیادت اور عقابی نظر نے اس پورے عمل کو ایک نئی جہت دی۔ ان کی دبنگ موجودگی، سخت چیکنگ اور ہر مقام پر فوری رسائی نے عوام میں اعتماد کو بڑھایا۔ میں نے جہاں بھی دیکھا تو مجھے ایس ایچ او سجاد حیدر متحرک نظر آۓ اور پولیس کے جوانوں کو ہدایات دیتے نظر آۓ اور خود بھی جلوس میں اور جلوس سے باہر نگرانی کرتے نظر آۓ
پولیس افسران کی ذاتی دلچسپی اور نگرانی نے فورس کے حوصلے بلند رکھے، جبکہ چست و پھرتیلا عملہ ہر لمحہ اپنی ذمہ داریوں میں مصروف رہا
داخلی راستوں کی بندش، مشکوک عناصر پر کڑی نظر اور فرقہ پرستوں کے خلاف سخت اقدامات نے امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایمبولینس سروس کی موجودگی نے انتظامات کو مکمل بنا دیا
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ڈی سی راو عاطف رضا اور ڈی پی او سردار موارہن کی خصوصی توجہ اور حکمتِ عملی اس کامیابی کے پیچھے ایک مضبوط ستون ثابت ہوئی۔ پولیس اور انتظامیہ کے درمیان بہترین ہم آہنگی نے ایک مثالی ماحول پیدا کیا، جس کے باعث محرم نہایت پرامن انداز میں گزرا
اس کے ساتھ ساتھ دیگر اداروں کی خدمات بھی قابلِ ذکر ہیں۔ مریم نواز کی صفائی ٹیم نے صفائی کے بہترین انتظامات کیے، جبکہ میونسپل کمیٹی نے پانی کی سبیلیں لگا کر عزاداروں کی خدمت کا حق ادا کیا۔ ریسکیو 1122 نے ہمیشہ کی طرح مثالی کردار ادا کیا
پولیس کے بانیانِ مجالس کے ساتھ بھرپور تعاون نے اس اجتماعی کوشش کو مزید مؤثر بنا دیا
درحقیقت یہ سب ایک مربوط حکمتِ عملی، اخلاصِ نیت اور فرض شناسی کا نتیجہ ہے۔ اٹک پولیس نے ثابت کیا کہ اگر نیت درست اور ارادہ مضبوط ہو تو بڑے سے بڑا چیلنج بھی آسانی سے سر کیا جا سکتا ہے
اگر ہم مجموعی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس سال محرم کے ایام میں اٹک ایک منظم اور مربوط حکمتِ عملی کی عملی تصویر بنا رہا۔ ہر ادارہ اپنی اپنی جگہ متحرک نظر آیا، مگر پولیس کا کردار ایک ایسے محافظ کی مانند تھا جو نہ صرف جاگ رہا تھا بلکہ دوسروں کو بھی احساسِ تحفظ فراہم کر رہا تھا
جلوسوں کے راستوں پر کھڑے اہلکار فقط ڈیوٹی نہیں دے رہے تھے بلکہ وہ اپنے فرائض کو عبادت کا درجہ دیتے دکھائی دیے۔ ان کے چہروں پر سنجیدگی، آنکھوں میں حفاظتی اقدامات اور رویے میں نرمی ایک ایسا امتزاج تھا جو عوام کے دلوں میں احترام پیدا کر رہا تھا۔ یہی وہ رویہ ہے جو پولیس اور عوام کے درمیان فاصلے کم کرتا ہے اور اعتماد کی فضا کو پروان چڑھاتا ہے
خاص طور پر نوجوان اہلکاروں کی پھرتی اور مستعدی قابلِ دید رہی۔ شدید گرمی، طویل ڈیوٹیاں اور مسلسل دباؤ کے باوجود ان کے حوصلے پست نہ ہوئے۔ یہ وہ جذبہ ہے جو کسی بھی فورس کو محض ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک قوت بنا دیتا ہے
مزید برآں، عوام کا تعاون بھی اس کامیابی کا ایک اہم جزو رہا۔ شہریوں نے پولیس کے ساتھ بھرپور تعاون کیا، چیکنگ کے مراحل میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور نظم و ضبط کو برقرار رکھا۔ یہی باہمی ہم آہنگی کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت ہوتی ہے۔
اگر ہم اس پورے عمل کو ایک وسیع تناظر میں دیکھیں تو یہ صرف چند دنوں کی کامیاب سیکیورٹی نہیں بلکہ ایک مثبت روایت کا آغاز ہے۔ ایسی روایت جس میں قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عوام ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔
یہ بھی امید کی جا سکتی ہے کہ اٹک پولیس آئندہ بھی اسی جذبے، لگن اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیتی رہے گی اور دیگر اضلاع کے لیے بھی ایک مثال قائم کرے گی
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ
امن صرف اقدامات سے نہیں بلکہ نیتوں، محنتوں اور مشترکہ کاوش سے قائم ہوتا ہے اور اٹک نے اس کی ایک خوبصورت مثال پیش کی ہے
اٹک پولیس کی اس شاندار کارکردگی پر دل سے یہی صدا بلند ہوتی ہے:
ویلڈن، اٹک پولیس، آپ نے اپنا فرض نہایت احسن طریقے سے نبھایا
Photo Courtesy Attock Police
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |