سر انور پرویز کی کامیابی کا پہلا قدم
پاکستان کے گوجر خان کی مٹی سے اٹھنے والے محمد انور پرویز آج برطانیہ کی سب سے بڑی پاکستانی نژاد کاروباری شخصیت ہیں۔ وہ "بیسٹ وے گروپ آف کمپنیز” (Best Way Group of Companies) کے بانی ہیں۔ برطانیہ کے امیر ترین لوگوں کی "سنڈے ٹائمز رچ لسٹ” کے مطابق ان کی دولت 2.95 بلین برطانوی پاؤنڈ یعنی 3.8 بلین امریکی ڈالر ہے۔ حیرت کی بات یہ کہ ان کے اثاثے برطانوی شاہی خاندان کی ملکیتی دولت سے بھی زیادہ ہیں۔ آج وہ برطانیہ کے امیر ترین افراد میں شامل ہیں۔
لیکن یہ کسی شاہی محل کا قصہ نہیں، ایک بس ڈرائیور کی محنت کی داستان ہے۔ سنہ 1956ء میں جب 21 سالہ انور پرویز صرف 10 پاؤنڈ جیب میں ڈال کر برطانیہ پہنچے تو ان کے پاس نہ کوئی تعلق تھا، نہ کوئی سرمایہ اور نہ ہی کوئی ڈگری۔ ان کی ملکیت میں صرف دو چیزیں تھیں ایک محنت کرنے کا حوصلہ اور دوسرا ہار نہ ماننے کا عزم۔ انہوں نے لندن کی سڑکوں پر بس چلا کر رزق حلال کمانے کا آغاز کیا۔ وہ ساری رات ڈرائیونگ اور دن کو نیند پوری کرتے تھے لیکن ان کا دماغ ہمیشہ بڑا ہی سوچتا تھا۔
انہوں نے کسی ساتھی کے ساتھ مل کر ایک چھوٹی سی گروسری شاپ کھولی۔ کچھ عرصے کے بعد انہوں نے دوسرا قدم یہ اٹھایا کہ اسی دکان کے ساتھ "کیش اینڈ کیری” (Cash & Carry) کا آغاز کیا۔ پھر وہی چھوٹا سا کاروبار ‘عالمی بیسٹ وے گروپ آف کمپنیز’ بن گیا۔ آج ان کی کمپنی میں دنیا بھر میں 50,000 سے زائد ملازمین ہیں، جن میں 15,000 صرف برطانیہ میں کام کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی ان کی "بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری” اور "یو بی ایل بینک” جیسے بڑے ادارے ہیں۔
انہیں کامیابی نے مغرور اور متکبر نہیں کیا۔ سنہ 2001ء میں بیرسٹر سلیم قریشی صاحب کے ساتھ مجھے ان کے ہیڈ آفس "لندن پارک رائل ایبے روڈ” پر ان کا انٹرویو کرنے کا موقع ملا۔ اس وقت انکی عمر 66 برس تھی، وہ خود ہمیں چائے پیش کر رہے تھے، اور خود نیچے گاڑی تک چھوڑنے آئے۔ سیکریٹری اور گارڈز کے ہوتے ہوئے بھی انہوں نے دوڑ کر ہماری گاڑی کا دروازہ کھولا۔ یہی عاجزی ان کی اصل طاقت بنی تھی۔
محنت کا پھل میٹھا ہوتا ہے اور ملتا بھی ضرور ہے۔ برطانیہ نے ان کی معیشت اور فلاحی خدمات کے اعتراف میں پہلے 1992ء میں انہیں "او بی ای” (OBE) کا اعزاز دیا، پھر 1999ء میں "نائٹ ہڈ” دے کر "سر” کا خطاب عطا کیا۔ حکومتِ پاکستان نے بھی 2000ء میں "ہلالِ پاکستان” اور 2006ء میں زلزلہ متاثرین کی خدمت پر "ستارہِ پاکستان” سے نوازا۔
سر انور پرویز کی زندگی سے سبق سیکھنے کی ہمیں تین باتیں ملتی ہیں: پہلی بات یہ کہ ڈگری سے زیادہ نیت بڑی ہوتی ہے۔ ان کے پاس آکسفورڈ کی ڈگری نہیں تھی، لیکن لگن آکسفورڈ سے بڑی تھی۔ دوسری بات یہ کہ کوئی چھوٹا کام بھی کرو تو کسی بڑے خواب کے ساتھ کرو۔ بس چلانا ذلت نہیں، انور پرویز کے لیئے سلطنت کی پہلی سیڑھی تھی۔ تیسری بات یہ کہ عاجزی کامیابی کا لباس ہے۔ 3.8 بلین ڈالر کا مالک ہو کر بھی جو شخص اپنے مہمان کی گاڑی کا دروازہ خود کھولتا یے، اصل "سر” کہلانے کا وہی حقدار ہے۔
آج وہ 91 سال کے ہو گئے ہیں مگر وہ پھر بھی چاق و چوبند ہیں اور روزانہ خود کاروبار دیکھتے ہیں۔ یہ عمر نہیں، جنون ہے۔ تو میرے دوستو! اگر آپکے پاس سرمایہ نہیں تو کیا ہوا؟ انور پرویز کے پاس بھی نہیں تھا۔ اگر آپکے پاس سفارش نہیں تو کیا ہوا؟ انور پرویز کے پاس بھی نہیں تھی۔ آپکے پاس دن اور رات کے 24 گھنٹے ہیں، وہی ان کے پاس بھی تھے۔ آپ میں اور ان میں فرق صرف "مستقل مزاجی” کا ہے۔ ایک کام پکڑو، روز تھوڑا تھوڑا آگے بڑھو، ہار ماننا بند کرو۔ ایک دن آپ بھی اپنی "بزنس ایمپائر” کھڑی کر دو گے۔
یاد رکھو، گوجر خان سے لندن تک کا سفر پیدل نہیں ہوتا، قدم بہ قدم ہوتا ہے۔ ایک محاورہ مشہور ہے کہ "اربوں میل کا سفر بھی ایک قدم کے اٹھانے سے شروع ہوتا ہے”، یعنی آپ بھی بس "پہلا قدم” اٹھانا سیکھو، پھر دیکھو کہ آپ کیلیئے کامیابیوں کے رستے کیسے کھلتے ہیں:
"Millions of Miles Journey is Started with a Single Step”۔
ڈیڑھ سال پہلے انہوں نے بیسٹ وے کے چیئرمین کی روزمرہ ذمہ داریاں چھوڑ کر "چیئرمین ایمریٹس” کا عہدہ سنبھال لیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر 89 سال تھی۔ انہوں نے خود کہا تھا: "میں اب 89 سال کا ہوں اور 70 سال سے کام کر رہا ہوں، اب سوچا ہے کہ نئی نسل کو موقع دوں”۔ اب بیسٹ وے کے چیئرمین ان کے بھتیجے لارڈ ضمیر چودھری ہیں۔ برطانیہ کے بزنس حلقوں میں بھی ان کی ایکٹیویٹی کی خبریں آتی رہتی ہیں، اس ریٹائرمنٹ کی عمر میں بھی وہ متحرک زندگی گزار رہے ہیں۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |