اسلامی دنیا پر ابراہیم اکارڈ کے امکانی اثرات
صدر ٹرمپ نے 23 مئی کو ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے سلسلے میں 8 مسلم ممالک کے رہنماؤں کو ایک مشترکہ فون کال کر کے "ابراہیم اکارڈ” میں شمولیت کی دعوت دی تھی۔ ان ممالک میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، پاکستان، ترکی، مصر، اردن اور بحرین کے رہنما شامل ہیں۔ ستمبر 2020 سے جنوری 2021 تک چار مسلم ممالک متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے معاہدے پر دستخط کیئے تھے۔ نومبر 2025 میں قازقستان نے اس معاہدے پر سائن کیئے تو ابراہیم اکارڈ میں شامل مسلم ممالک کی کل تعداد پانچ ہو گئی تھی۔ اس کے بعد صدر ٹرمپ پوری کوشش کے باوجود کسی مسلم ملک کو اس معاہدے میں شامل نہ کر سکے۔ اس بار صدر ٹرمپ نے مسلم دنیا کو اس معاہدے میں شامل کرنے کیلیئے بلیک میل کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ اگر ایران سے معاہدہ کروانا ہے تو وہ بھی ابراہیم اکارڈ پر دستخط کریں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے فون کال کے بعد "ٹرتھ سوشل” (Truth Social) پر لکھا کہ: "یہ لازمی ہے کہ یہ تمام ممالک کم از کم بیک وقت ابراہیم اکارڈ پر دستخط کریں”۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے خاص طور پر سعودی عرب اور قطر سے فوری شمولیت کا مطالبہ کیا، اور کہا کہ باقی ممالک ان کی پیروی کریں۔ یہ کال ایران جنگ کے خاتمے کے بعد مشرق وسطیٰ میں سفارتی پیش رفت کے حصے کے طور پر کی گئی تھی لیکن صدر ٹرمپ کو اس میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابراہیم اکارڈ کا بنیادی مقصد مسلم ممالک کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال کروانا اور پھر اسے تسلیم کروانا ہے، جس میں فلسطین کا سرے سے ذکر ہی نہیں ہے۔ مسلم ممالک اسرائیل سے سفارتی تعلقات فلسطین کے علاقوں پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے اور غزہ میں اسرائیلی بربربت کی وجہ سے منقطع کیئے ہوئے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی کال پر سعودی شہزادے سلمان بن محمد نے بھی اس کی وضاحت کی اور اس معاہدے میں شمولیت کو فلسطین کے مسئلے کو حل کرنے سے مشروط کرتے ہوئے ابراہیم اکارڈ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔ اسی طرح پاکستان کے چیف مارشل نے بھی اس معاہدے کا حصہ بننے سے معذرت کر لی جس کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف نے بیان دیا کہ، "ہمارے لیئے ابراہیم اکارڈ میں شامل ہونا غیرقانونی ہے کیونک ہمارے پاسپورٹ پر لکھا ہوا ہے کہ اس پر کوئی پاکستانی اسرائیل نہیں جا سکتا ہے”۔
ابراہیم اکارڈ صدر ٹرمپ نے اپنے پچھلے دور حکومت میں جیرڈ کشنر کی تجویز پر پیش کیا تھا جو ٹرمپ کے داماد ہیں۔ جیراڈ نے ابراہیم اکارڈ کا نام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حوالے سے رکھا، کیونکہ یہودیت، عیسائیت اور اسلام تینوں مذاہب میں ابراہیم علیہ السلام مشترک مقدس ہستی ہیں۔ خود جیراڈ کرشنر آرتھوڈوکس یہودی ہیں۔ ان کی بیوی (اور ٹرمپ کی بیٹی) ایوانیکا ٹرمپ اور اس کے بچے بھی یہودی ہیں۔ جیرڈ نے معاہدے کا یہ نام ایک چھتری کے طور پر استعمال کرنے اور مسلم حکمرانوں کو دھوکہ دینے کیلیئے رکھا۔ جب جیرڈ کشنر نے 2020 میں ابراہیم اکارڈ کو تخلیق کیا تو اس وقت وہ مشرق وسطی کے لیئے صدر ٹرمپ کا اہم مشیر تھے، اس کے خطے کے مسلم ممالک پر گہرے سیاسی اثرات تھے، اور اسی کی کوششوں سے یہ 5 مسلم ممالک ابراہیم اکارڈ میں شامل ہوئے۔ گو کہ ترکی، مصر، اردن اور موریتانیہ کے بھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات تو ہیں، لیکن وہ ابراہیم اکارڈ کے فریم ورک میں شامل نہیں ہوئے ہیں۔
اس معاہدے کو صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ کی سفارتی تاریخ میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے تھے لیکن 28 فروری کو جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو یہ معاہدہ امریکہ کے اتنا کام نہ آ سکا جتنی وہ توقع کر رہے تھے۔ بڑی عید سے پہلے عرب ممالک ہی نے امریکہ کو ایران پر حملہ کرنے سے باز رکھا۔ چند روز پہلے جب صدر ٹرمپ نے 7 مسلم ممالک کو مشترکہ فون کال پر ابراہیم اکارڈ میں شمولیت کی دعوت دی تو سعودی شہزادے نے صرف چار گھنٹے بعد ہی اس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا، قطر اور پاکستان نے بھی ٹرمپ کو جواب دے دیا۔ یوں سات مسلم ممالک میں ٹرمپ کسی ایک مسلم ملک کو بھی اس میں شامل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ امریکی صدر کی اس ناکامی سے جہاں عرب دنیا میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کا رجحان محدود ہوا یے وہاں امریکی صدر اور انکے داماد جیرڈ کی بدنیتی بھی ظاہر ہوئی ہے کہ مسئلہ فلسطین خطے میں فساد کی بنیادی جڑ ہے جسے ابراہیم اکارڈ میں شامل ہی نہیں کیا گیا ہے۔
اب جبکہ اس معاہدے کو پانچ سال گزر چکے ہیں، یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ ابراہیم اکارڈ نے مسلم دنیا پر کیا اثرات مرتب کیئے ہیں اور مستقبل میں یہ کیا سمت اختیار کریں گے۔ ابراہیم اکارڈ میں معاشی پہلو پر نظر ڈالی جائے تو ابراہیم اکارڈ نے اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کے نئے دروازے تو کھولے ہیں جس سے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان دو طرفہ تجارت 2024 تک 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی تھی۔ دفاعی ٹیکنالوجی، زراعت، پانی کے انتظام اور سائبر سیکیورٹی کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھا یے۔ بحرین میں بھی اسرائیلی کمپنیاں توانائی اور فنانس کے منصوبوں میں داخل ہوئی ہیں لیکن اس دوران غزہ میں اسرائیل کی مسلم کشی کے خلاف اس معاہدے نے کوئی کردار ادا نہیں کیا ہے۔ روایتی طور پر مسئلہ فلسطین مسلم دنیا کے اتحاد کا محور رہا ہے۔ او آئی سی کے پلیٹ فارم پر اسرائیل کی مذمت بھی ایک مشترکہ مسلم ایجنڈا ہے۔ ابراہیم اکارڈ اس مسلم کاز کے برخلاف ایک متضاد معاہدہ ہے۔ آبنائے ہرمز میں ایران امریکی کشیدگی نے خطے میں نئی سیاسی صف بندیوں کو جنم دیا ہے۔ سعودی عرب نے ابھی تک باضابطہ طور پر اسرائیل سے سفارتی تعلقات کو معمول پر لائے کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے۔ پاکستان، انڈونیشیا اور ملائیشیا جیسے ممالک نے بھی تاحال اسرائیل کو تسلیم کرنے سے واضع انکار کر رکھا ہے۔ ابراہیم اکارڈ کو مسلم دنیا اب فلسطینی کاز سے غداری سمجھنے لگی ہے۔ ابراہیم اکارڈ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ براہ راست بات چیت سے فلسطینیوں کو زیادہ فائدہ ہو گا، کیونکہ اب عرب ممالک کے پاس اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے سفارتی چینل میسر آ جائے گا۔ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ اس معاہدے کے بعد ہی اسرائیل نے مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع تیز کی تھی جس سے فلسطینی کاز بین الاقوامی سطح پر کمزور پڑا ہے۔
پاکستان کیلیئے یہ صورتحال دوہرا چیلنج بنا ہوا ہے۔ ایک طرف پاکستان کا روایتی اتحادی یو اے ای اسرائیل کے قریب جا رہا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد کشمیر اور فلسطین کے مشترکہ بیانیئے پر قائم ہے۔ اگر پاکستان ابراہیم اکارڈ میں شامل ہوتا ہے تو اسے اندرونی طور پر شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر شامل نہیں ہوتا تو خلیجی سرمایہ کاری اور سفارتی حمایت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیئے پاکستان نے اب تک "پہلے فلسطین” کا مؤقف برقرار رکھا ہے، لیکن پس پردہ امریکہ اور خلیجی ممالک کے ساتھ بھی رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |